زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے حیدرآباد میں جنوبی ریاستوں کی علاقائی زرعی کانفرنس سے خطاب کیا، کسانوں کی آمدنی اور زرعی ترقی پر توجہ
ملک سب سے پہلے، ریاست میں حکومت کس کی ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا: جناب شیوراج سنگھ چوہان
اگر پرانے قوانین اور طریقہ کار میں تبدیلی کی ضرورت ہے تو ریاستیں تجاویز کے ساتھ آگے آئیں: جناب شیوراج سنگھ چوہان
جناب وزیر اعظم مودی نے کہا ہے، حکومت صرف فائلوں میں نہیں بلکہ لوگوں کی زندگی میں نظر آنی چاہیے: جناب شیوراج سنگھ چوہان
مشینیں روٹی بنا سکتی ہیں، لیکن گندم نہیں اگا سکتیں؛ زراعت کے بغیر دنیا نہیں چل سکتی: جناب شیوراج سنگھ چوہان
ہر ریاست کے حالات مختلف ہیں، اس لیے علاقائی زرعی کانفرنسیں ضروری ہیں: جناب شیوراج سنگھ چوہان
غذائی تحفظ، کسانوں کی روزی روٹی اور غذائیت کا تحفظ زراعت کے 3 اہم مقاصد ہیں: جناب شیوراج سنگھ چوہان
جنوبی ہندوستان میں باغبانی کے بہت زیادہ امکانات ہیں؛ ناریل اور کاجو کے کسانوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے پر توجہ دی جائے: جناب شیوراج سنگھ چوہان
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 SEP 2026 6:29PM by PIB Delhi
زراعت و کسانوں کی فلاح و بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے آج حیدرآباد میں جنوبی ریاستوں کے لیے منعقدہ علاقائی زرعی کانفرنس سے خطاب کیا۔ کانفرنس میں خطے کو درپیش زراعت سے متعلق اہم چیلنجوں اور مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کانفرنس میں ال نینو کے اثرات، فصلوں میں تنوع اور آئندہ ربیع کے موسم کے لیے ضروری اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ جناب چوہان نے کہا کہ یہ غور و خوض صرف بحث تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد کسانوں کی زندگی میں حقیقی بہتری لانا، ہندوستان کے غذائی تحفظ کو مضبوط کرنا، زراعت کے ذریعے روزگار کے مواقع کو بڑھانا اور زرعی شعبے کے ذریعے معیشت کو نئی رفتار دینا ہے۔ جناب چوہان نے کہا کہ ’ملک سب سے پہلے‘ حکومت کا رہنما اصول ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کسی ریاست میں اقتدار میں موجود سیاسی جماعت کی بنیاد پر زرعی مسائل سے نمٹنے کا طریقہ طے نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ توجہ ایسے حل تلاش کرنے پر ہے جو وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں کسانوں کی زندگی کو بہتر بنا سکیں۔
مشینیں روٹی بنا سکتی ہیں، لیکن گندم نہیں اگا سکتیں
جناب چوہان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، روبوٹکس اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز سمیت تکنیکی ترقی دنیا کو مسلسل تبدیل کرتی رہے گی، لیکن زراعت ناگزیر رہے گی۔ انہوں نے کہا، ’’پھل، سبزیاں اور اناج صرف کھیت سے ہی حاصل ہو سکتے ہیں اور کسان ہی انہیں پیدا کرتے ہیں۔ زراعت کے بغیر دنیا نہیں چل سکتی۔‘ انہوں نے کہا کہ ایک مشین روٹی تو بنا سکتی ہے، لیکن گندم پیدا نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا، ’’اناج ہمیشہ کھیت میں ہی اگانا پڑے گا۔ اسی لیے کسان صرف ’ان داتا‘ ہی نہیں بلکہ ’جیون داتا‘ بھی ہے۔‘‘ جناب چوہان نے کہا کہ کسانوں کی خدمت کرنا ان کے لیے خدا کی خدمت کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ زراعت انسانی زندگی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے ہندوستانی زراعت کے 3 اہم مقاصد بیان کیے۔ پہلا مقصد 140 کروڑ سے زیادہ کی آبادی کے لیے غذا کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ اور بھی زیادہ اہم ہو گیا ہے اور ہندوستان اپنی غذائی ضروریات کے لیے دنیا پر منحصر رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ دوسرا مقصد کسانوں کی روزی روٹی کو محفوظ بنانا ہے۔ جو کسان ملک کو خوراک فراہم کرتا ہے، اسے بھی محفوظ اور خوشحال زندگی گزارنی چاہیے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ایک اہم ترجیح برقرار رہنی چاہیے۔ تیسرا مقصد غذائیت کا تحفظ ہے۔ اس بات کو یقینی بنانا کہ لوگوں کو صرف خوراک ہی نہیں بلکہ غذائیت سے بھرپور خوراک بھی دستیاب ہو، زرعی پالیسی کا اہم حصہ ہونا چاہیے۔ جناب چوہان نے جنوبی ہندوستان میں باغبانی کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا، خاص طور پر مصالحہ جات، کافی، کاجو، کوکو، صندل کی لکڑی اور دیگر فصلوں میں۔ انہوں نے کہا کہ غذائیت کے تحفظ کو مضبوط بنانے میں بھی ان شعبوں کا اہم کردار ہے۔
علاقائی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کے لیے علاقائی زرعی کانفرنسیں ضروری
جناب چوہان نے کہا کہ ہندوستان کے زرعی منظرنامے میں نمایاں تنوع پایا جاتا ہے۔ پہلے ملک میں صرف ایک ربیع کانفرنس منعقد ہوتی تھی، لیکن مختلف ریاستوں میں زرعی آب و ہوا کے علاقے، وسائل، پانی کی دستیابی اور مٹی کی صورتحال مختلف ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ایک جگہ بیٹھ کر ایک دن میں پورے ملک کے لیے ربیع یا خریف کا مشترکہ منصوبہ تیار کرنا ممکن نہیں ہے۔‘‘ اسی لیے ربیع کانفرنس کو ایک دن سے بڑھا کر 2 دن کا کر دیا گیا ہے، تاکہ ہر ریاست کو اپنے خدشات، چیلنجوں اور تجاویز پیش کرنے کا زیادہ موقع مل سکے۔ مرکز بھی ریاستوں کے سامنے اپنی توقعات رکھ سکتا ہے اور مل کر زرعی لائحہ عمل تیار کرنے کی سمت میں کام کر سکتا ہے۔ جناب چوہان نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے بھی علاقائی کانفرنسوں کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر، گجرات یا شمال مشرقی ریاستوں کو درپیش چیلنج ضروری نہیں کہ آندھرا پردیش یا تلنگانہ کے چیلنجوں جیسے ہی ہوں۔ مختلف جغرافیائی اور موسمی حالات کے لیے کھیتی باڑی کے مختلف طریقے اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جنوبی علاقائی زرعی کانفرنس اسی سمجھ کے ساتھ منعقد کی گئی ہے، تاکہ خطے کی مخصوص ضروریات کے مطابق حل تیار کیے جا سکیں۔
قوانین لوگوں کی خدمت کے لیے ہوں، ان پر بوجھ نہ بنیں
جناب چوہان نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اصلاحات پر خاص زور دیا ہے اور ایسے قوانین، ضوابط اور طریقہ کار کا جائزہ لینے کی بات کہی ہے جن میں تبدیلی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’قوانین لوگوں کے لیے بنائے گئے ہیں، لوگ قوانین کے لیے نہیں ہیں۔‘‘ انہوں نے ریاستی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ پرانے قوانین اور طریقہ کار کا جائزہ لیں اور جہاں ضرورت ہو وہاں تبدیلیاں کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی مسئلے کے لیے حکومت ہند کی سطح پر مداخلت کی ضرورت ہو تو ریاستیں اس سے کھل کر مرکز کو آگاہ کریں۔ جناب چوہان نے کہا کہ وزیر اعظم نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومت لوگوں کی زندگی میں نظر آنی چاہیے اور صرف فائلوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہو، ریاستوں کو اپنی تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔ مرکز اپنی سطح پر ضروری اصلاحات کرے گا، جبکہ ریاستوں کو اپنے دائرہ اختیار میں تبدیلیاں کرنی چاہئیں، تاکہ شہریوں کو زیادہ راحت فراہم کی جا سکے۔
ریاستیں بہترین طریقوں سے سیکھیں اور مل کر زرعی لائحہ عمل تیار کریں
جناب چوہان نے کہا کہ کانفرنس میں زراعت سے متعلق مختلف مسائل پر پیش کشیں اور تبادلہ خیال کیا جائے گا، جس کے بعد کسانوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ بات چیت کرکے ان کی تجاویز حاصل کی جائیں گی۔ مختلف ریاستوں کے بہترین طریقے بھی پیش کیے جائیں گے، تاکہ ایک ریاست میں کامیاب اقدامات کو دوسری ریاستیں بھی اپنا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستوں نے زراعت اور باغبانی کے شعبے میں نمایاں کام کیا ہے اور ان کی کامیابیوں پر انہیں مبارکباد دی، تاہم اس بات پر بھی زور دیا کہ مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا، ’’حکومت ہند ریاستوں کو پوری طاقت کے ساتھ تعاون فراہم کرے گی۔ زمین ریاستوں کے پاس ہے، کسان ریاستوں میں ہیں اور مرکز ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ دونوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔‘‘ ’ملک سب سے پہلے‘ کے اصول کو دہراتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ زراعت کو آگے لے جانے کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان تعاون ضروری ہے اور یہی ان اہم وجوہات میں سے ایک ہے جن کی وجہ سے علاقائی کانفرنسیں اہم ہیں۔
ناریل کی برآمدات ایک سال میں 62 فیصد بڑھیں
ناریل کے شعبے کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ ہندوستان کی ناریل کی برآمدات ایک سال میں 4,349 کروڑ روپے سے بڑھ کر 7,038 کروڑ روپے ہو گئی ہیں، جس میں 62 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ناریل کے فروغ کے لیے ایک نئی اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے اور اب اسے نافذ کیا جانے والا ہے۔ چونکہ جنوبی ریاستیں ملک میں ناریل کی پیداوار میں سب سے آگے ہیں، اس لیے انہیں اس نئی پہل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے۔ انہوں نے پرانے ناریل کے باغات کو دوبارہ بہتر بنانے کے لیے حکمت عملی تیار کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ 60-70 سال پرانے ناریل کے درخت اکثر کم ناریل پیدا کرتے ہیں اور ان سے مطلوبہ معیار بھی حاصل نہیں ہو پاتا۔ اس لیے ریاستوں کو مرحلہ وار پرانے درختوں کی جگہ نئے پودے لگانے پر غور کرنا چاہیے۔ جناب چوہان نے ریاستوں پر یہ بھی زور دیا کہ وہ کاجو اور کوکو کے فروغ کی اسکیموں کے لیے پیشگی تیاری کریں، تاکہ ان شعبوں سے وابستہ کسان زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکیں۔
آزاد تجارتی معاہدوں سے عالمی بازاروں میں ہندوستانی کسانوں کے لیے نئے مواقع
جناب چوہان نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ کئی آزاد تجارتی معاہدے کیے ہیں۔ ان معاہدوں سے پھل، سبزیاں اور اناج سمیت متعدد زرعی مصنوعات کے لیے عالمی بازاروں تک رسائی آسان ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں کا تفصیلی مطالعہ کیا جانا چاہیے، تاکہ بین الاقوامی بازاروں میں جن مصنوعات کی مانگ ہے، ان کی شناخت کی جا سکے اور اسی کے مطابق ملک میں پیداوار کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو ایسے پھل، سبزیاں اور اناج پیدا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے جو بین الاقوامی معیار پر پورے اترتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے سلسلے میں بین الاقوامی معیار اپنایا جانا چاہیے، تاکہ ہندوستانی کسان عالمی بازاروں میں بڑھتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔ جناب چوہان نے کہا، ’’دنیا کے بازار ہندوستان کے لیے کھل رہے ہیں اور یہ کسانوں کے لیے ایک موقع ہے۔‘‘ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ ربیع کے موسم اور زراعت سے متعلق دیگر مسائل پر سنجیدگی سے غور و خوض کریں۔
تلنگانہ کو پی ایم اے وائی-جی کے تحت 2 لاکھ مکانات ملیں گے
جناب چوہان نے کہا کہ موجودہ ریاستی حکومت نے اس سلسلے میں پہل کی ہے اور 2 لاکھ مکانات کی تعمیر کے لیے حکومت ہند کی جانب سے پہلی قسط تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے حوالے کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان 2 لاکھ مکانات کی تعمیر شروع کی جائے گی۔ جناب چوہان نے مزید کہا کہ ایسے مستحقین، جن کے مکانات اب بھی کچے ہیں اور جن کی شناخت سروے کے ذریعے کی گئی ہے، انہیں بھی بعد کے مراحل میں اس اسکیم کے دائرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مرکز تلنگانہ کو مختلف شعبوں میں اپنا مکمل تعاون جاری رکھے گا۔ جنوبی علاقائی زرعی کانفرنس میں مرکز، جنوبی ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے، زرعی ماہرین، ہندوستانی زرعی تحقیقاتی کونسل (آئی سی اے آر) کے ادارے، ترقی پسند کسان اور دیگر متعلقہ فریق ایک جگہ جمع ہوتے ہیں، تاکہ خطے کی مخصوص زرعی ترجیحات پر غور و خوض کیا جا سکے اور پائیدار اور مضبوط زراعت کے لیے باہمی تال میل کو مستحکم کیا جا سکے۔
*****
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 3812 )
(ریلیز آئی ڈی: 2312233)
وزیٹر کاؤنٹر : 6