وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان میں ایف ایم ڈی سے پاک زون کے قیام سے متعلق ڈبلیو او اے ایچ ، پی وی ایس-پی پی پی کا ہدف پر مبنی معاونتی ورکشاپ اختتام پذیر، ریاستی ایکشن پلانز اور سرکاری و نجی شراکت داری کو مضبوط بنانے پر زور

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 SEP 2026 3:56PM by PIB Delhi

حکومت ہند کی ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کے محکمہ مویشی پروری و ڈیری نے مویشیوں کی صحت سے متعلق عالمی ادارہ(ڈبلیو او اے ایچ) کے اشتراک سے ’’ہندوستان میں ایف ایم ڈی کی بیماری سے پاک زون کے قیام‘‘ کے موضوع پر تین روزہ پی وی ایس–پی پی پی ہدفی معاونتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ یہ ورکشاپ 15 سے 17 ستمبر 2026 تک  نئی دہلی کے نیشنل ایگریکلچرل سائنس کمپلیکس میں منعقد ہوئی۔ورکشاپ میں محکمہ مویشی پروری و ڈیری، 12 ریاستوں کے محکمہ مویشی پروری ، پیرس میں قائم مویشی کی صحت سے متعلق عالمی ادارہ کے ماہرین، سی ڈی ڈی ایل/آر ڈی ڈی ایل، نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ، انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کے تحقیقی اداروں، صنعت، مویشیوں کی ویلیو چین سے وابستہ متعلقہ فریقوں اور تکنیکی ماہرین نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد ہندوستان میں منہ کھر(ایف ایم ڈی) کی بیماری سے پاک زونز اور کمپارٹمنٹس کے قیام کی جانب پیش رفت کو مزید مستحکم کرنا تھا۔

ورکشاپ کا مقصد قومی اور ریاستی سطح کے متعلقہ فریقوں کو تکنیکی تجزیے، باہمی تجربات کے تبادلے، سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری (پی پی پی) کے مؤثر ڈھانچے کی تشکیل، اور ڈبلیو او اے ایچ کے معیارات و سرکاری منظوری کے تقاضوں سے ہم آہنگی کے ذریعے منہ کھر کی بیماری سے پاک خطوں اور کمپارٹمنٹس کے ایکشن پلانز کو بہتر بنانے اور مزید مضبوط کرنے میں معاونت فراہم کرنا تھا۔

افتتاحی اجلاس میں جناب نریش پال گنگوار، سکریٹری، محکمۂ مویشی پروری و ڈیری اور ہندوستان کے ڈبلیو او اے ایچ مندوب نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر نوینا بی۔ مہیشورپا،میویشی پروری کے کمشنر، ڈی اے ایچ ڈی، ڈاکٹر دیواکر ہیمادری، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (جانوروں کی صحت)،آئی سی اے آر، نئی دہلی اور محترمہ باربرا الیسنڈرینی، سربراہ، استعداد کار میں اضافہ سے متعلق محکمۂ، ڈبلیو او اے ایچ ، پیرس بھی موجود تھیں۔

محکمہ مویشی پروری و ڈیری کے سکریٹری جناب نریش پال گنگوار نے اپنے خطاب میں ہندوستان میں منہ کھر کی بیماری (ایف ایم ڈی) پر قابو پانے کی کوششوں کے سفر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ جانوروں کی صحت اور بیماریوں پر قابو پانے سے متعلق لائیو اسٹاک ہیلتھ اینڈ ڈیزیز کنٹرول پروگرام کے تحت  ہندوستان نے منہ کھر کی بیماری پر قابو پانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔

حکومت کے اس اہم پروگرام کے تحت ملک میں بڑے پیمانے پرٹیکہ کاری، جانوروں کی شناخت، بیماری کی نگرانی، لیبارٹریوں کو مستحکم بنانے اور بیماریوں کی رپورٹنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لائیو اسٹاک ہیلتھ اینڈ ڈیزیز کنٹرول پروگرام کے تحت مویشی پروری اور ڈیری کے محکمہ کا مقصد منہ کھر کی بیماری پر قابو پانا اور بالآخر 2030 تک ہندوستان کو اس بیماری سے پاک قرار دلوانا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک 147.16 کروڑ سے زائد منہ کھر کی بیماری کی ویکسین کی خوراکیں دی جا چکی ہیں، جس سے تقریباً 8.04 کروڑ کسان مستفید ہوئے ہیں۔ اسی طرح منہ کھر کی بیماری کے پھیلنے کے واقعات کی تعداد 2019 میں 132 سے گھٹ کر 2025 میں 40 رہ گئی، جبکہ اگست 2026 تک یہ تعداد مزید کم ہو کر 20 ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ 2025 میں این ایس پی اینٹی باڈی پازیٹوٹی کی شرح بھی کم ہو کر 8.1 فیصد رہ گئی، جسے بیماری پر قابو پانے کی کوششوں میں حاصل ہونے والی اہم پیش رفت کے طور پر اجاگر کیا گیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image001_20260918155801_af5a2d.jpg

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ ورکشاپ 2025 میں ہندوستان میں منعقد ہونے والی مویشی کی صحت سے متعلق  عالمی ادارہ (ڈبلیو او اے ایچ)کی پی وی ایس–پی پی پی ہدفی معاونت کا تسلسل ہے۔ انہوں نے پی وی ایس–پی پی پی ہدفی معاونت پروگرام کے ذریعے مسلسل شراکت داری اور تکنیکی تعاون فراہم کرنے پر ڈبلیو او اے ایچ کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ نے متعلقہ فریقوں کے ساتھ وسیع پیمانے پر مشاورت کے بعد ہندوستان میں منہ کھر(ایف ایم ڈی) کی بیماری سے پاک مراکز کے قیام کے لیے رہنما خطوط تیار کیے ہیں۔ اس کے علاوہ محکمہ نے 2025 میں پہلی مرتبہ ہندوستان میں مویشی پروری سے متعلق بنیادی ڈھانچے کے کم از کم معیارات بھی وضع کیے ہیں۔ محکمہ ریاستوں کی جانب سے نشان زد کیے گئے بنیادی ڈھانچے اور نظام کی تیاری سے متعلق خلا کو دور کرنے کے لیے ’’سرمایہ کاری کے لیے ریاستوں کو معاونت‘‘ یعنی ایس اے ایس سی آئی فریم ورک کے تحت ریاستوں کو تعاون فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے منہ کھر کی بیماری کے ایس اے ٹی سیرو ٹائپس سے پیدا ہونے والے ابھرتے ہوئے خطرے پر بھی تبادلہ خیال کرنے پر زور دیا اور ایسے غیر مانوس سیرو ٹائپس سے نمٹنے کے لیے ہندوستان کی تیاری کو اجاگر کیا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے منہ کھر کی بیماری پر قابو پانے کے لیے مسلسل قومی سطح پر مؤثر اقدامات کیے ہیں اور اب اگلا قدم متعین آبادیوں میں اس بیماری سے پاک ہونے کا ثبوت پیش کرنا اور اس حیثیت کو برقرار رکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ مویشیوں کی صحت سے متعلق عالمی ادارہ(ڈبلیو او اے ایچ) کی تکنیکی رہنمائی اور ریاستوں، ویٹرنری خدمات، لیبارٹریوں، صنعت اور برآمد کنندگان کی مشترکہ کوششوں سے ہم ایسے منہ کھر کی بیماری سے پاک زونز اور کمپارٹمنٹس قائم کر سکتے ہیں جو سائنسی اعتبار سے قابل اعتماد، عملی طور پر پائیدار، ڈیجیٹل طور پر قابل سراغ اور زیادہ اعتماد اور تجارت کو فروغ دینے میں معاون ہوں۔

ورک شاپ کےپہلےدن ڈبلیو او اے ایچ کے ماہرین نے مویشیوں کی طبی خدمات کی کارکردگی (پی وی ایس) کے راستے اور پی وی ایس–پی پی پی طریقہ کار کا جائزہ پیش کیا۔ اس کے علاوہ ایف یم ڈی بیماری سے پاک زونز کی منظوری کے لیے ڈبلیو او اے ایچ  کی ضروریات، نگرانی اور ویکسینیشن کے بعد کی نگرانی، برازیل کے بین الاقوامی تجربات اور سرکاری و نجی شعبے کے درمیان تعاون کے مواقع پر بھی تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔

ورکشاپ کا ایک اہم حصہ نو ترجیحی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے سرکاری اور نجی شعبے کے متعلقہ فریقوں پر مشتمل عملی گروپ مشقوں کا سلسلہ تھا۔ دوسرے روز شناخت کیے گئے مسائل اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مشترکہ طور پر حل تیار کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس دوران ٹیکہ کاری کے نظام اور ٹیکہ تیار کرنے والی صنعت کے ساتھ تعاون، بیماریوں کی نگرانی اور تشخیصی خدمات کے لیے شراکت داری، جانوروں کی شناخت اور ان کی نقل و حرکت کا قابل سراغ ریکارڈ، مویشی پروری کی تنظیموں اور ویلیو چین کے انضمام کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری اور مالی اعانت کے ماڈلز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

آخری روز ریاستی سطح کے ایکشن پلانز کی توثیق پر توجہ مرکوز کی گئی۔ نو ترجیحی ریاستوں کے نمائندوں نے اپنے مجوزہ ایکشن پلانز پیش کیے، جس کے بعد مویشیوں کی صحت سے متعلق عالمی ادارہ(ڈبلیو او اے ایچ)کے ماہرین اور دیگر ماہرین نے تکنیکی آرا پیش کیں۔ ان پیشکشوں کے ذریعے بیماریوں کی نگرانی، ٹیکہ کاری، لیبارٹری کی تیاری، قابل سراغ ریکارڈ، حیاتیاتی تحفظ، جانوروں کی نقل و حرکت پر کنٹرول، میویشیوں کی طبی نگرانی کے بنیادی ڈھانچے اور سرکاری و نجی شراکت داری سے متعلق اقدامات کو مزید بہتر بنانے کا موقع ملا۔

ورکشاپ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سرکاری و نجی شراکت داری(پی پی پی) محض مالی تعاون تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ اس میں جانوروں کی صحت سے متعلق مکمل ویلیو چین کو شامل کیا جانا چاہیے، جس میں ٹیکہ کی فراہمی اور تقسیم، تشخیصی خدمات، جانوروں کی شناخت اور قابل سراغ ریکارڈ، مویشی پالنے والوں کی تنظیمیں، ڈیری اور مویشیوں کی ویلیو چین، ویٹرنری خدمات کی فراہمی اور خطرات سے متعلق معلومات کی فراہمی شامل ہیں۔ اس طریقہ کار کا مقصد منہ کھر(ایف ایم ڈی) کی بیماری سے پاک زون کے اقدامات میں زیادہ مضبوط شراکت، جواب دہی اور پائیداری کو یقینی بنانا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image002_20260918155812_19c9bc.jpg

 

تین روزہ غور و خوض کے اختتام پر ریاستی ایکشن پلانز کو مزید بہتر بنایا گیا اور منہ کھر کی بیماری (ایف ایم ڈی) سے پاک زونز اور کمپارٹمنٹس کے قیام کے لیے ترجیحی تکنیکی اقدامات اور سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری (پی پی پی) کے مواقع کی نشاندہی کی گئی۔اختتامی اجلاس میں ڈاکٹر نوینا بی۔ مہیشورپا، مویشی پروری کے کمشنر نے ڈبلیو او اے ایچ کے ماہرین کی ٹیم کی جانب سے فراہم کردہ قیمتی تکنیکی رہنمائی پر اظہارِ تشکر پیش کیا۔ انہوں نے ریاستوں کے محکمہ مویشی پروری اور دیگر متعلقہ فریقوں کی فعال شرکت اور تعمیری تعاون کو بھی سراہا۔

ڈاکٹر مہیشورپا نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ریاستیں ورکشاپ کے نتائج کو واضح، شواہد پر مبنی اور مقررہ مدت کے مطابق ایکشن پلانز میں ڈھالیں گی، تاکہ منہ کھر کی بیماری (ایف ایم ڈی) سے پاک زونز اور کمپارٹمنٹس کی مرحلہ وار ترقی ممکن ہو سکے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور نجی شعبے کی بامعنی شمولیت پر بھی زور دیا۔

یہ اقدام 2030 تک ہندوستان کو منہ کھر(ایف ایم ڈی) کی بیماری سے پاک ملک بنانے کے قومی ہدف کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ڈبلیو او اے ایچ کے معیارات سے ہم آہنگ اور موزوں انداز میں تشکیل دی گئی سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری کے تعاون سے مضبوط کیے گئے ریاستی ایکشن پلانز ہندوستان  میں منہ کھر کی بیماری سے پاک زونز اور کمپارٹمنٹس کی مرحلہ وار ترقی، برقرار رکھنے اور بالآخر سرکاری منظوری کے حصول کے لیے ایک منظم راستہ فراہم کرنے کی توقع ہے۔

*****

ش ح۔ م ع ن۔ت ع

U.No. 3798


(ریلیز آئی ڈی: 2312139) وزیٹر کاؤنٹر : 7
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी