وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان مضبوطی، استقامت، جدت، جامع ترقی اور ہمدردی کے ساتھ وکست بھارت@2047 کے وژن کی جانب تیزی سےگامزن: وزیر دفاع

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 SEP 2026 3:29PM by PIB Delhi

وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ حکومت وکست بھارت@2047 کے وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے شہریوں میں استقامت، عزم، ہمدردی، جدت، طاقت، جامع ترقی اور مضبوط قومی شناخت کے جذبے کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ کے ساتھ ملک کی خدمت کر رہی ہے۔18 ستمبر 2026 کو کیرالہ کے کوچی میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان ترقی کی راہ پرگامزن ہے۔ یہ ترقی ہندوستان کی صدیوں پرانےاقدار سے تحریک حاصل کرتے ہوئے ہو رہی ہے، جن میں ثابت قدم رہنے کا حوصلہ، شہریوں کی سلامتی اور تحفظ، خدمت کا جذبہ، اہداف کے حصول کا عزم، ہمدردی، آنے والی نسلوں کو تحریک دینا، قومی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور جامع ترقی و عالمی قیادت کو یقینی بنانا شامل ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ 2014 سے قبل ہندوستان کو بدعنوانی اور ناقص حکمرانی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا تھا، جن کے باعث عوام کے حوصلے پست ہوئے تھے۔ گزشتہ 12 برسوں میں ملک کی ترقی کا سفر اس صلاحیت سے تشکیل پایا ہے کہ ہندوستان نے مشکلات کا اعتماد کے ساتھ سامنا کیا اور چیلنجز کو مواقع میں تبدیل کیا۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران دنیا نے کووڈ-19 جیسی عالمی وبا کا سامنا کیا اور کئی جنگیں بھی دیکھیں، جن کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ عالمی چیلنجز کے باوجود ہم خود کفیل اور ترقی یافتہ ملک بننے کی راہ پر مستقل طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/PIC1(5)_20260918153012_a34d5f.jpeg

دشمن اور شیطان طاقتوں سے شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ آپریشن سندور اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان ملک کی خودمختاری اور سالمیت کو خطرہ لاحق کرنے والوں کے خاتمے کے لیے سرحد پار کارروائی کرنےسے بھی گریز نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نکسلزم کا بھی خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

ملکی دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط بنانے کے حکومت کے عزم کے حوالے سے وزیر دفاع نے بتایا کہ 2014 میں ملک کی دفاعی پیداوار محض 40 ہزار کروڑ روپے کی تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 1.80 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی برآمدات بھی تقریباً 600 کروڑ روپے سے بڑھ کر تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے ہو گئی ہیں، جبکہ ہندوستانی دفاعی سازوسامان تقریباً 100 ممالک تک پہنچ رہا ہے۔

ملک کے اہداف کے حصول کے لیے ہمت اور عزم کے ساتھ انتھک محنت کرنے کے قومی عزم کا اظہار کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے نوجوانوں کو ملک کی سب سے بڑی طاقت قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے نوجوان اسٹارٹ اپ قائم کر رہے ہیں، یونی کارن کمپنیاں تشکیل دے رہے ہیں، ڈرون تیار کر رہے ہیں، ہائیڈروجن ٹرینیں بنا رہے ہیں اور راکٹ و سیٹلائٹ تیار کر رہے ہیں۔ وہ ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔‘‘

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ہمدردی کے جذبے سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے حکومت عوام کے معیاری زندگی کو ہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 10 سے 12 برسوں کے دوران 25 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو غربت سے  باہرنکالا گیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ چاہے ہندوستان کی جمہوریت کی کامیابی ہو یا اس کی فلاحی اسکیموں کی کامیابی، آج ہندوستان دنیا کے لیےباعث تحریک ہے۔ انہوں نے یو پی آئی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا بروقت ادائیگی کا کا نظام ہے، جسے 11 سے زیادہ ممالک نے اپنایا ہے۔انہوں نے پی ایم شری، آیوشمان بھارت، لکھ پتی دیدی، پردھان منتری آواس یوجنا، جل جیون مشن اور اجولا یوجنا جیسی اسکیموں کا بھی ذکر کیا، جس نے ترقی کو مزید جامع اور سب کی شمولیت والی بنایا ہے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان دنیا کے لیے امید کی کرن بن گیا ہے، کیونکہ اس نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مقرر کیے گئے کئی اہداف مقررہ مدت سے پہلے ہی حاصل کر لیے ہیں۔ کووڈ-19 کے دوران ہندوستان نے ملک کے عوام کو مفت ویکسین فراہم کیں اور 100 ممالک کو 30 کروڑ سے زیادہ ویکسین بھی بھیجیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان ایک تہذیبی رہنما کے طور پر ابھرا ہے، کیونکہ آج دنیا بھر میں عالمی یوم یوگا منایا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اب بین الاقوامی شمسی اتحاد اور عالمی حیاتیاتی ایندھن اتحاد جیسی پہل کے ذریعے دنیا کو قیادت فراہم کر رہا ہے۔

وزیر دفاع نے واضح کیا کہ ہندوستان کی ترقی کا سفر صرف معاشی ترقی تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں قومی اعتماد کو مضبوط بنانا اور نوآبادیاتی ذہنیت سے آگے بڑھنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان ایک ثقافتی اور تہذیبی نشاۃ ثانیہ کا مشاہدہ کر رہا ہے۔

تہذیبی اور ثقافتی ورثے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی جدید کاری اس کی ثقافتی روایات کی قدر و اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’سرو دھرم سمبھاو‘‘ یعنی تمام مذاہب کے لیے یکساں احترام ہمیشہ سے ہماری تہذیبی اقدار کا بنیادی حصہ رہا ہے۔ اس کے باوجود مغربی سیکولرازم کی وجہ سے ہمارے دھرم کو فرقہ واریت، روایت کو پسماندگی، عقیدے کو جنون اور ایمان کو توہم پرستی کے طور پر پیش کیا گیا۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے نوجوان نسل کو ہندوستان کی تاریخ، ثقافت اور ورثے سے زیادہ باخبر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں زیادہ بیداری سے قومی شعور مزید مضبوط ہوگا اور دنیا میں ہندوستان کے مقام کے حوالے سے اعتماد پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے نوجوانوں سے ہندوستان کی معاشی، سماجی اور تکنیکی تبدیلی میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایک پراعتماد، باصلاحیت اور سماجی طور پر جامع ہندوستان ایک ترقی یافتہ ملک کے طور پر ابھر سکتا ہے اور دنیا کے مستقبل کی تشکیل میں زیادہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

آج کے دور میں میڈیا کے اہم کردار پر بات کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ صحافت کو بجا طور پر جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ انہوں نے آزاد اور غیر جانب دار صحافت کی جواب دہی یقینی بنانے کے لیے مضبوط ترین ذرائع میں سے ایک قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ میڈیا کا کردار محض خبریں پہنچانے تک محدود نہیں ہے۔ اس کا کام مشکل سوالات اٹھانا، عوام کے سامنے سچائی کو پیش کرنا اور اقتدار میں موجود افراد کو جواب دہ بنانا بھی ہے۔

 

*****

ش ح۔ م ع ن۔ت ع

U.No. 3795


(ریلیز آئی ڈی: 2312094) وزیٹر کاؤنٹر : 5