بجلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

امریکہ میں جی- 20 توانائی کی وافر دستیابی سے متعلق وزارتی اجلاس میں ہندوستان نے محفوظ، سستی اور قابل اعتماد توانائی کی ضرورت پر زور دیا


جی- 20 نے صاف ستھری کھانا پکانے کی سہولت، اجازت ناموں کے عمل اور اہم معدنیات سے متعلق اہم نتائج پر پیش رفت کی

 مرکزی وزیر جناب منوہر لال نے مؤثر ضابطہ کاری اور اہم معدنیات کی محفوظ فراہمی کی مضبوط زنجیروں کے ذریعے ایک مضبوط اور مستقبل کی ضروریات کے لئے تیار توانائی نظام تشکیل دینے کے  ہندوستان کے عزم کو اجاگر کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 SEP 2026 11:43AM by PIB Delhi

بجلی اور ہاؤسنگ و شہری امور کے مرکزی وزیر جناب منوہر لال نے امریکی جی- 20 صدارت کے تحت 14 سے 16 ستمبر-  2026 تک امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں منعقدہ جی- 20 توانائی کی وافر دستیابی سے متعلق وزارتی اجلاس میں  ہندوستانی وفد کی قیادت کی۔ انہوں نے تین موضوعاتی ستونوں کے تحت ہونے والی بات چیت میں شرکت کی: توانائی کا تحفظ اور سستی بنیادی توانائی، اجازت ناموں کا عمل اور ضابطہ کاری کی کارکردگی اور اہم معدنیات و مضبوط اور لچکدار سپلائی چینز۔

مرکزی وزیر نے اپنی گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ محفوظ، سستی اور قابل اعتماد توانائی ترقی کے لیے ضروری ہے، خصوصاً ترقی پذیر معیشتوں کے لیے۔ انہوں نے مشترکہ بھلائی کو آگے بڑھانے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور ممالک کے درمیان موجود باہمی تکمیلات سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ مختلف قومی حالات اور ترقیاتی ترجیحات کا احترام کرنے کی ضرورت بھی اجاگر کی۔

انہوں نے بتایا کہ  ہندوستان ایک مضبوط اور مستقبل کی ضروریات کے لیے تیار توانائی نظام تشکیل دے رہا ہے، جو بتدریج زیادہ ڈجیٹل، غیر مرکزی اور صارف پر مرکوز ہو رہا ہے۔ انہوں نے بجلی کے شعبے میں  ہندوستان  کی نمایاں پیش رفت کو بھی اجاگر کیا۔ ملک میں بجلی پیدا کرنے کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 552 گیگاواٹ تک پہنچ گئی ہے، جس میں نصف سے زیادہ صلاحیت غیر فوسل ایندھن کے ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ  ہندوستان  نے اپنے قومی سطح پر مقرر کردہ تعاون (این ڈی سی) کے اہم اہداف مقررہ مدت سے پہلے حاصل کر لیے ہیں اور 2070 تک نیٹ زیرو حاصل کرنے کا طویل مدتی ہدف مقرر کیا ہے۔

مرکزی وزیر نے ضابطہ کاری کی کارکردگی مضبوط بنانے، مسابقت کو فروغ دینے اور توانائی کے شعبے میں وسیع تر شرکت اور سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے  ہندوستان کی جانب سے کی گئی مختلف اصلاحات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے نیشنل سنگل ونڈو سسٹم، پریویش اور پی ایم گتی شکتی جیسی پہلوں کا ذکر کیا، جن سے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے منظوری کے عمل کو زیادہ قابل پیش گوئی اور منظم بنانے میں مدد ملی ہے۔

اہم معدنیات کے حوالے سے مرکزی وزیر نے محفوظ، مضبوط اور متنوع سپلائی چینز کی اہمیت پر زور دیا اور ترقی پذیر ممالک میں وسائل کے دوبارہ استعمال اور ان سے مزید قدر پیدا کرنے کی ضرورت اجاگر کی۔ انہوں نے  ہندوستان کے نیشنل کریٹیکل منرل مشن کا بھی ذکر کیا، جو تلاش سے لے کر ری- سائیکلنگ تک پوری قدر کی زنجیر کا احاطہ کرتا ہے، اور ری - سائیکلنگ، وسائل کی بازیابی اور سپلائی کے ذرائع میں تنوع کے لیے جی-  20 ممالک کے درمیان تعاون کی اپیل کی۔

وزارتی اجلاس کے نتیجے میں تینوں موضوعاتی ستونوں کے تحت متعدد اہم نتائج سامنے آئے، جن میں شامل ہیں:

(i) صاف ستھری کھانا پکانے کی سہولت تک رسائی: صاف ستھری کھانا پکانے کی سہولت تک رسائی کو فروغ دینے سے متعلق جی- 20 بیان میں سب کے لیے صاف ستھری کھانا پکانے کی سہولت تک رسائی پر زور دیا گیا اور ٹیکنالوجی سے غیر جانب دار اور قومی حالات کے مطابق طریق کار کو فروغ دیا گیا۔ اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ تمام ممالک کی متنوع ضروریات پوری کرنے کے لیے کوئی ایک حل کافی نہیں ہو سکتا۔ ایل پی جی کو صاف ستھری کھانا پکانے کی جانب ایک اہم ذریعہ قرار دیا گیا، بالخصوص ترقی پذیر ممالک کے لیےاور ایل پی جی سے متعلق منصوبوں سمیت صاف ستھری کھانا پکانے کے تمام حلوں کے لیے مالی وسائل تک مساوی رسائی کی اپیل کی گئی۔

(ii) اجازت ناموں اور ضابطہ کاری کی کارکردگی: جی 20 کے اجازت ناموں اور ضابطہ کاری کی کارکردگی سے متعلق مذاکرے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں سہولت کے لیے مؤثر اور آسان اجازت ناموں اور ضابطہ کاری کے عمل کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا۔ اس کے ساتھ رضاکارانہ طور پر معلومات کے تبادلے، صلاحیت سازی اور ڈجیٹل و مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ٹولز کے ذریعے تعاون کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

(iii) پانی کا دوبارہ استعمال: جی- 20 پانی کے دوبارہ استعمال کی پہل کو ایک رضاکارانہ فریم ورک کے طور پر آگے بڑھایا گیا، جس کا مقصد قومی پالیسیوں کے مطابق سائنسی اور شواہد پر مبنی، کم لاگت اور ضرورت کے مطابق پانی کے دوبارہ استعمال کو فروغ دینا ہے۔ پانی کے تحفظ اور مضبوطی کو بہتر بنانے کے لیے تعاون اور بہترین طریق کار کے تبادلے کی حوصلہ افزائی کی گئی، جبکہ اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ تمام حالات کے لیے ایک ہی طریق کار موزوں نہیں ہو سکتا۔

(iv) اہم معدنیات: جی- 20 اہم معدنیات سے متعلق اجلاس کے اعلامیہ میں توانائی کے تحفظ، ڈجیٹل بنیادی ڈھانچے، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور اقتصادی ترقی کے لیے اہم معدنیات کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا۔ قومی خودمختاری اور مختلف ملکی راستوں کا احترام کرتے ہوئے باہمی اور رضاکارانہ تعاون پر زور دیا گیا۔ اس کے ساتھ سپلائی چینز میں تنوع، قدر میں اضافے اور مضبوطی کے لیے جدت، وسائل کے دوبارہ استعمال، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔

وزارتی اجلاس کے موقع پر مرکزی وزیر نے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کیں، جن میں امریکی محکمہ توانائی کے سکریٹری جناب کرس رائٹ، امریکی محکمہ داخلہ کے سکریٹری جناب ڈگ برگم اور کینیڈا کے وزیر توانائی و قدرتی وسائل کے پارلیمانی سکریٹری جناب کوری ہوگن شامل تھے۔ ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں مضبوط اور لچکدار توانائی بنیادی ڈھانچہ اور سپلائی چینز، بجلی کے شعبہ میں تبدیلی اور  ہندوستان  کی ڈجیٹل معیشت کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔

جی- 20 توانائی کی وافر دستیابی سے متعلق وزارتی اجلاس میں مرکزی وزیر کی شرکت عالمی توانائی سے متعلق مباحثے میں  ہندوستان  کے تعمیری کردار اور سب کے لیے محفوظ، پائیدار، سستی اور جامع توانائی کے مستقبل کی تعمیر کے تئیں اس کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

 

*****

 ش ح – ظ الف – ش  ہ ب  

UR No. 3694


(ریلیز آئی ڈی: 2311278) وزیٹر کاؤنٹر : 9