زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت میں پہلی بار مٹی میں کاربن کے عوض ادائیگی، کسانوں کو تخلیقی اور پائیدار زراعت کا مرکز بنایا گیاہے


پنجاب اور ہریانہ کے 2500 سے زیادہ کسانوں کو 2.9 کروڑ روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی جائے گی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 SEP 2026 12:09PM by PIB Delhi

بھارت کی زرعی کاربن منڈی پالیسی کی سطح سے نکل کر کھیتوں تک پہنچ گئی ہے۔ پنجاب اور ہریانہ کے 2500 سے زیادہ چھوٹے اور معمولی درجے کے کسانوں کو تخلیقی اور پائیدار زرعی طریقے اپنانے کے عوض ڈیجیٹل ادائیگی کی جائے گی۔ پہلی ادائیگیاں پنجاب زرعی یونیورسٹی (پی اے یو)، لدھیانہ میں منعقدہ ایک پروگرام میں جاری کی گئیں، جس سے پائیدار زرعی طریقوں اور کسانوں کی اضافی آمدنی کے درمیان ایک نئی کڑی قائم ہوئی ہے۔ زرعی تحقیق و تعلیم کا محکمہ(ڈی اے آر ای) کے سکریٹری اور انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم ایل جاٹ نے پنجاب اور ہریانہ کے 2550 کسانوں کے لیے براہ راست فائدہ کی منتقلی( ڈی بی ٹی) کے ذریعے ادائیگی کا آغاز کیا۔

1a.jpg

یہ ادائیگیاں ’آدی‘ پروگرام کا حصہ ہیں، جو گرو  انڈیگو کا کسانوں کے لیے کاربن پروگرام ہے اور اسے 2019 میں آئی سی اے آر کی تکنیکی رہنمائی میں شروع کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت کسانوں نے 2019 سے 2022 کے دوران براہ راست بیج والی چاول کی کاشت (ڈی ایس آر)، کم جوتائی اور فصل کی باقیات کے بہتر انتظام و انصرام جیسے طریقے اپنائے۔ اس کے نتیجے میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی اور مٹی میں کاربن کی مقدار میں اضافے کی پیمائش کی گئی اور کاربن کریڈٹ جاری کرنے سے پہلے ان کی آزادانہ طور پر تصدیق کی گئی۔ یہ پروگرام سات ریاستوں میں 20 لاکھ ایکڑ سے زیادہ رقبے اور ایک لاکھ سے زائد کسانوں کا احاطہ کرتا ہے اور ویرا کی وی ایم0042 طریقہ کار کے تحت زرعی کاربن کریڈٹ جاری کر چکا ہے۔

یہ پروگرام پنجاب اور ہریانہ میں تخلیقی اور پائیدار زراعت کی جانب وسیع تر منتقلی کی بنیاد پر آگے بڑھ رہا ہے، جس میں فصلوں کی باقیات کا انتظام، پانی کا تحفظ اور ایسے زرعی نظام شامل ہیں جن کا مقصد مٹی کی صحت بہتر بنانا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں زرعی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ آئی سی اے آر کے اداروں نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے حساب، فصلوں کی نقل کاری، مٹی کے نمونے لینے کے طریقہ کار، آلات کی توثیق، فیلڈ ٹیموں کی تربیت اور سیٹلائٹ و ریموٹ سینسنگ کے طریقوں سمیت مختلف شعبوں میں سائنسی اور زمینی سطح کی مہارت فراہم کی ہے۔ نئی دہلی میں واقع آئی سی اے آراورانڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی اے آر آئی) نے ان کارروائیوں میں اپنا تعاون دیا ہے، جبکہ گرو  انڈیگو تخلیقی اور پائیدار زراعت کو فروغ دینے کے لیے آئی سی اے آراورایگریکلچرل ٹیکنالوجی ایپلی کیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اے ٹی اے آر آئی)، زون 1 کے ساتھ بھی کام کر رہا ہے۔

وکست کرشی سنکلپ ابھیان کے تحت پنجاب کے اپنے دوروں اور اس کے بعد کسانوں اور زرعی اداروں کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے دوران زراعت اور کسانوں کی  بہبود کےمرکزی وزیرجناب شیوراج سنگھ چوہان نے کسانوں پر مرکوز زرعی تحقیق اور پائیدار ٹیکنالوجی کو زمینی سطح پر اپنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے براہ راست بیجا والے چاول اور فصلوں کی باقیات کے انتظام کے طریقوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ جون 2025 میں پنجاب کے اپنے دورے کے دوران انہوں نے کسانوں سے بات چیت کی اور مہم کے تحت زرعی طریقوں کا جائزہ لیا۔

a2.jpg

زرعی تحقیق و تعلیم کےمحکمہ(ڈی اے آر ای) کے سکریٹری اور انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم ایل جاٹ نے کہا کہ یہ پہل ظاہر کرتی ہے کہ سائنسی جائزے اور سخت جانچ پڑتال پر مبنی موسمیاتی لحاظ سے موزوں زرعی طریقے چھوٹے اور معمولی درجے کے کسانوں کے لیے اضافی آمدنی کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ پانی کے تحفظ اور ہوا کے معیار کو بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے پروگرام میں شامل کسانوں کو مبارک باد دی اور اس پہل کے لیے سائنسی بنیاد فراہم کرنے میں آئی سی اے آر کے اداروں کے تعاون کو سراہا۔

کاربن کی مد میں ہونے والی ادائیگیاں ایسے زرعی طریقوں کے لیے معاشی ترغیب فراہم کرتی ہیں جن سے ماحولیاتی فوائد بھی حاصل ہوسکتے ہیں۔ روایتی طریقے سے  روپائی کی منتقلی کے مقابلے میں براہ راست بیج والے چاول کی کاشت سے آب پاشی کی ضرورت کم ہوسکتی ہے، جبکہ فصلوں کی باقیات کے بہتر انتظام سے پرالی جلانے اور اس سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ 2019 سے 2022 کے دوران پروگرام میں شامل کھیتوں کے بارے میں اندازہ ہے کہ 45 ارب لیٹر پانی کی بچت ہوئی اور دو لاکھ ٹن سے زیادہ فصلوں کی باقیات کو جلنے سے بچایا گیا، جس کے نتیجے میں اندازے کے مطابق 1000 ٹن پی ایم2.5 اخراج سے بچاؤ ہوا۔

کسانوں کو ان کے کھیتوں سے پیدا ہونے والے کاربن کریڈٹ میں ان کے حصے کے مطابق ادائیگی کی گئی۔ گرو  انڈیگو نے کاربن کریڈٹ کی مکمل فروخت سے پہلے اپنی رقم سے یہ ادائیگیاں ڈیجیٹل طریقے سے جاری کیں، جس سے کسانوں کو فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا انتظار کیے بغیر ادائیگی مل گئی۔ کسانوں کو دو اختیارات دیے گئے تھے۔یقینی پیشگی ادائیگی حاصل کرنا یا کریڈٹ فروخت ہونے کے بعد خالص کاربن آمدنی کا 75 فیصد حاصل کرنا۔ پہلے مرحلے میں تقریباً 30 ہزار ایکڑ رقبے سے متعلق کاربن کریڈٹ جاری کیے گئے، جن کی تعداد 50 ہزار سے زیادہ تھی، اور حصہ لینے والے کسانوں کو تقریباً 3000 سے 15000 روپے تک کی رقم ملی۔

یہ ادائیگیاں پیمائش اور آزادانہ طور پر جانچ پڑتال کے کئی سالہ عمل کے بعد کی گئی ہیں۔ 2022 کے بعد پروگرام میں شامل ہونے والے کسان اگلے نگرانی کے مرحلے کا حصہ ہیں اور ان کے کاربن کریڈٹ جاری ہونے کے ساتھ انہیں ادائیگیاں کی جائیں گی۔

گرو  انڈیگو کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر اوشا باروالے زہر نے اس ادائیگی کو بھارت میں مٹی میں ذخیرہ شدہ کاربن کے عوض کسانوں کو ادائیگی کیے جانے کی پہلی مثال قرار دیا اور سائنسی جائزے اور تصدیق کے عمل کے دوران حصہ لینے والے کسانوں کے اعتماد اور صبر کو سراہا۔ لدھیانہ کے نورپور بیٹ کے کسان ہریندر جیت گل اور سنگرور کی کسان امن دیپ کور نے بھی اپنے تجربات بیان کیے اور تخلیقی و پائیدار زرعی طریقوں کو جاری رکھنے اور فصلوں کی باقیات جلانے سے گریز  کرنےکے معاشی اور ماحولیاتی فوائد کو اجاگر کیا۔

یہ پہل آئی سی اے آر، زرعی یونیورسٹیوں، کرشی وگیان کیندروں (کے وی کے ایس) اور ریاستی اداروں کے تعاون سے جاری وسیع تر زرعی تبدیلی کا حصہ ہے۔ زمینی سطح کے تجربات فصلوں کی باقیات کو کھیت میں برقرار رکھنے، مٹی میں کم سے کم خلل ڈالنے، براہ راست بیج والے چاول کی کاشت (ڈی ایس آر)، مختلف فصلوں کی کاشت، مٹی کی حیاتیاتی صحت بہتر بنانے اور پانی کے مؤثر استعمال جیسے طریقوں کو وسیع پیمانے پر اپنانے کی بنیاد فراہم کر رہے ہیں، جس کا مقصد زرعی نظام میں پائیداری اور پیداواریت کو یکجا کرنا ہے۔

پنجاب میں کھیتوں میں آگ لگانے کے واقعات میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق، پنجاب میں 2025 کے دھان کی کٹائی کے موسم کے دوران کھیتوں میں آگ لگانے کے 5114 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو موجودہ نگرانی کے نظام کے تحت ریکارڈ کیے جانے کے آغاز کے بعد سب سے کم تعداد ہے۔ یہ 2021 کے مقابلے میں 93 فیصد اور 2022 کے مقابلے میں 90 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ موگا کے رنسنہ کلاں ماڈل سے بھی فصلوں کی باقیات کے مستقل انتظام کی صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے، جہاں گاؤں نے مسلسل چھ برس تک 1310 ایکڑ رقبے پر فصلوں کی باقیات جلانے سے مکمل طور پر پاک حیثیت برقرار رکھی ہے۔

ان پیش رفتوں کی اہمیت بین الاقوامی زرعی تعاون تک بھی پھیلتی ہے۔ جون 2026 میں بھارت کی صدارت میں اندور میں منعقدہ 16ویں برکس وزرائے زراعت کی میٹنگ میں موسمیاتی لچک اور پیداواریت کے لیے زرعی ماحولیات اور تخلیقی و پائیدار زراعت سے متعلق مراکز برائے عمدگی کا برکس نیٹ ورک قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس نیٹ ورک کی ابتدائی ہم آہنگی کی ذمہ داری آئی سی اے آر-انڈین انسٹی ٹیوٹ آف فارمنگ سسٹم ریسرچ (آئی آئی ایف ایس آر)، مودی پورم کو دی گئی ہے۔ ستمبر 2026 میں منظور کیے گئے برکس نئی دہلی اعلامیے میں بعد ازاں اس نیٹ ورک کے ذریعے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا خیر مقدم کیا گیا۔

لدھیانہ کی یہ پہل بھارت کی زرعی تبدیلی کے تین باہم مربوط پہلوؤں کو یکجا کرتی ہے۔ کسانوں پر مرکوز اور زمینی سطح پر مبنی زرعی تحقیق؛ اپنے تحقیقی اداروں، اے ٹی اے آر آئیز اور کے وی کیز کے ذریعے آئی سی اے آر کا ’لیب سے زمین تک‘ طریقہ کار؛ اور پائیدار زرعی طریقوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے اور وسیع پیمانے پر رائج کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون۔ مٹی میں ذخیرہ شدہ کاربن کے عوض پہلی ادائیگیاں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ سائنسی طور پر ناپے گئے ماحولیاتی نتائج کو کسانوں کے لیے معاشی ترغیبات سے کس طرح جوڑا جاسکتا ہے، جبکہ اس سے وسائل کے تحفظ، موسمیاتی لچک اور پائیدار زرعی پیداوار میں بھی مدد ملتی ہے۔

*****

 ش ح۔م م ع ۔ش ا

Urdu No-3695


(ریلیز آئی ڈی: 2311277) وزیٹر کاؤنٹر : 16
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati