ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
عالمی سرکلر اکانومی فورم 2026 گاندھی نگر میں جامع اور بڑے پیمانے پر نافذ کیے جانے والے سرکلر اکانومی کے حل کو تیزی سے اپنانے کی اپیل کے ساتھ اختتام پذیر ہوا،کولمبیا یونیورسٹی (امریکہ) ڈبلیو سی ای ایف 2027 کی میزبانی کرے گی
سرکلر حل کے لیے نچلی سطح پر تعاون کا ہی حقیقی اثر ہوتا ہے؛ عزم سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے: گجرات کے وزیر مملکت (ماحولیات) جناب پروین بھائی مالی
ڈبلیو سی ای ایف 2026 نے تبدیلی کے عمل میں شمولیت اور لوگوں کی شرکت کی اہمیت پر زور دیا؛ سرکلر حل کے لیے عملی شراکت داری، کاروباری تعاون، اختراعات اور سرمایہ کاری پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا: فن لینڈ کی کابینی وزیر محترمہ ساری ملتالا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 SEP 2026 7:14PM by PIB Delhi
ورلڈ سرکلر اکانومی فورم 2026 (ڈبلیو سی ای ایف 2026) آج گاندھی نگر، گجرات میں اختتام پذیر ہوا۔ دو روزہ تقریب کے دوران سرکلر اکانومی کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس فورم میں 60 سے زائد ممالک سے تقریباً 2,700 مندوبین اور 260 مقررین نے شرکت کی، جنہوں نے حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں، صنعت، اسٹارٹ اپس، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کی نمائندگی کی۔

اختتامی اجلاس میں گجرات حکومت کے وزیر مملکت برائے جنگلات و ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ٹرانسپورٹ جناب پروین بھائی مالی اور فن لینڈ کی کابینی وزیر برائے موسمیات و ماحولیات محترمہ ساری ملتالا نے شرکت کی۔ ایس آئی ٹی آر اے کے صدر جناب اٹے جاسکیلائنن، ہندوستان اور گجرات کی حکومتوں کے سینئر عہدیداروں کے ہمراہ، بھی موجود تھے۔ ڈبلیو سی ای ایف 2026 کی اہم فلم دکھائی گئی اور ایکومارک لوگو کا اجرا کیا گیا۔

اپنے کلیدی خطاب میں جناب پروین بھائی مالی نے فورم کے گزشتہ دو دنوں کے دوران ہونے والی وسیع اور بامعنی گفتگو کے لیے شرکاء کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ اس تقریب کا حقیقی اثر سرکلر حل کے لیے نچلی سطح پر تعاون میں نظر آتا ہے اور عزم سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرکلر اکانومی محض ایک ماحولیاتی ایجنڈا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اقتصادی موقع، سماجی ذمہ داری، طرزِ زندگی اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ اور پائیدار مستقبل کو یقینی بنانے کا ایک راستہ بھی ہے۔
اپنے خطاب میں محترمہ ساری ملتالانے ڈبلیو سی ای ایف 2026 کی کامیاب میزبانی پر ہندوستان کو مبارکباد دی اور کہا کہ ہندوستان نے نہ صرف اس فورم کی میزبانی کی ہے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکلر اکانومی محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ اقتصادی اور ترقی کا ایک موقع ہے۔ یہ اب مستقبل کا کوئی امکان نہیں، بلکہ ایسی حقیقت ہے جو پوری دنیا میں پہلے ہی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈبلیو سی ای ایف 2026 میں شمولیت اور تبدیلی میں لوگوں کے کردار پر خصوصی زور دیا گیا، جبکہ عملی شراکت داری، کاروباری تعاون، اختراعات اور سرکلر حل میں سرمایہ کاری پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام اس بات پر زور دیتے ہوئے کیا کہ خیالات کو سرمایہ کاری میں تبدیل کیا جانا چاہیے اور کامیاب اختراعات کو تیزی سے نافذ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر اپنایا جانا چاہیے۔

اس سے قبل، اختتامی اجلاس کے افتتاحی کلمات میں ڈاکٹر امندیپ گرگ، ایڈیشنل سکریٹری (ایم او ای ایف سی سی) اور چیئرمین (سی پی سی بی) نے سامعین کو بتایا کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران فورم میں چار مکمل اجلاس اور 16 متوازی اجلاس منعقد ہوئے، جن میں سرکلر اکانومی کے مالی، تکنیکی، سماجی اور اقتصادی پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ روزگار، شمولیت، صنفی مساوات، مستقبل کے چیلنجز اور مناسب مالی امداد کی ضرورت جیسے موضوعات پر بھی گفتگو کی گئی۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ فورم کے نتائج کو اجتماعی طور پر اور مؤثر انداز میں نچلی سطح پر نافذ کریں۔
چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ مکمل اجلاسوں میں قومی اور ریاستی سطح کے اقدامات، کاروباری جدت طرازی اور صنعتی حکمت عملی کے ذریعے سرکلر اکانومی کو آگے بڑھانے کے ہندوستان کے وژن اور قیادت کو اجاگر کیا گیا۔ ان اجلاسوں میں معاون پالیسیوں، مادی تحفظ، جدت طرازی، کاروباریت اور مہارتوں کی ترقی کی اہمیت پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ان وسیع اصولوں کو بعد ازاں مختلف کچرے کے سلسلوں سے متعلق متوازی اجلاسوں کے ذریعے عملی اور شعبہ جاتی سفارشات میں تبدیل کیا گیا، جن میں دوبارہ مہارت حاصل کرنے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، مالی اعانت، ویلیو چین میں شمولیت اور بڑے پیمانے پر سرکلر حل نافذ کرنے میں شہریوں کی شرکت کے کردار کی توثیق کی گئی۔

یہ بھی بتایا گیا کہ فورم کے ساتھ منعقدہ نمائش میں 135 قومی اور بین الاقوامی نمائش کنندگان نے شرکت کی۔ نمائش میں زمینی سطح پر سرکلر حل کے نفاذ کو پیش کیا گیا اور عملی چیلنجوں اور تعاون کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔ فورم کے دوران سامنے آنے والے خیالات کو آگے بڑھانے اور انہیں عملی نقطۂ نظر میں تبدیل کرنے کے لیے 17 اور 18 ستمبر 2026 کو مختلف شراکت داروں کی جانب سے 80 ایکسلریٹر سیشنز منعقد کیے جائیں گے۔ فورم نے ادارہ جاتی ہم آہنگی، صلاحیت سازی اور تمام سطحوں پر فیصلہ سازی میں سرکلر اصولوں کو شامل کرکے جامع اور بڑے پیمانے پر نافذ کیے جانے والے سرکلر اکانومی کے حل کی ترقی کو تیز کرنے پر زور دیا۔
اختتامی تقریب کا اختتام انٹرنیشنل پروگرامز (ایس آئی ٹی آر اے) کے ڈائریکٹر جناب کرسٹو لیہٹنن کی جانب سے ڈبلیو سی ای ایف 2027 کی میزبانی کی ذمہ داری کولمبیا یونیورسٹی، امریکہ کے سپرد کیے جانے کے ساتھ ہوا۔
***
UR-3675
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2311166)
وزیٹر کاؤنٹر : 8