محنت اور روزگار کی وزارت
کابینہ نے ای پی ایف او کی اجرت کی حد بڑھا کر 25,000 روپے کرنے کی منظوری دی، لازمی شمولیت کا دائرہ وسیع ہوگا
یہ فیصلہ 17 ستمبر 2026 کو وشوکرما جینتی اور سیوا دیوس سےنافذ العمل ہوگا
ای پی ایف او کی اجرت کی حد میں اضافہ سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم: ڈاکٹر مانڈویا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 SEP 2026 6:00PM by PIB Delhi
ملازمین کے پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن (ای پی ایف او) کے تحت لازمی شمولیت کے لیے ماہانہ اجرت کی حد 15,000 روپے سے بڑھا کر 25,000 روپے کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ 17 ستمبر 2026 کو وشوکرما جینتی اور سیوا دیوس سے نافذ العمل ہوگا۔ اس کا اعلان آج ایک پریس بریفنگ میں مرکزی وزیر محنت و روزگار اور نوجوانوں کے امور او رکھیل- کود ڈاکٹر منسکھ مانڈویا نے کیا۔ مرکزی کابینہ نے آج ہی اس فیصلے کی منظوری دی ہے، جس سے بڑی تعداد میں مزید ملازمین کے لیے ای پی ایف او کی لازمی شمولیت کا دائرہ وسیع ہونے اور قانونی سماجی تحفظ تک ان کی رسائی بڑھنے کی توقع ہے۔
میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے کہا کہ ای پی ایف او کے تحت لازمی شمولیت کے لیے قانونی اجرت کی حد کو ماہانہ 15,000 روپے سے بڑھا کر 25,000 روپے کرنا، کارکنوں کے سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ نئی اجرت کی حد 17 ستمبر 2026 کو وشوکرما جینتی اور سیوا دیوس کے موقع پر نافذ ہوگی۔ اس سے زیادہ تعداد میں ملازمین کو ای پی ایف او کی متعلقہ اسکیموں کے تحت پروویڈنٹ فنڈ کی بچت، پنشن اور بیمہ تحفظ سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔
ڈاکٹر مانڈویا نے کہا کہ یہ فیصلہ لیبر کوڈز کے تحت تمام کارکنوں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کے حکومت کے عزم کو مزید آگے بڑھائے گا اور روزگار کو باقاعدہ بنانے کے عمل کو بھی تقویت دے گا۔ انہوں نے کہا کہ اجرت کی حد میں ستمبر 2014 سے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی، حالاں کہ اس عرصے میں اجرتوں، کم از کم اجرت اور زندگی گزارنے کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت 15,000 روپے ماہانہ سے زیادہ اجرت پر کسی ادارے میں ملازمت اختیار کرنے والے ملازمین، قابل اطلاق قانونی دفعات کے تابع، لازمی ای پی ایف کے دائرے میں خودکار طور پر شامل نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ نظرثانی شدہ اجرت کی حد کے تحت 15,000 سے 25,000 روپے ماہانہ اجرت حاصل کرنے والے ملازمین لازمی شمولیت کے اہل ہو جائیں گے، جس سے باقاعدہ سماجی تحفظ کا دائرہ مزید وسیع ہوگا۔
اس دائرہ کار میں توسیع کے نتیجے میں قابل اطلاق قانونی دفعات اور متعلقہ اسکیموں کی شرائط کے مطابق، ملازمین کو ای پی ایف او کے زیر انتظام تین اہم اجزا—ملازمین کا پروویڈنٹ فنڈ (ای پی ایف)، ملازمین کی پنشن اسکیم (ای پی ایس) اور ملازمین کی ڈپازٹ لنکڈ انشورنس اسکیم (ای ڈی ایل آئی)—تک رسائی حاصل ہوگی۔ اس سے کارکنوں کے ایک بڑے طبقے کے لیے ریٹائرمنٹ کی بچت، پنشن کا تحفظ اور بیمہ سے منسلک سماجی تحفظ مزید مضبوط ہوگا۔
اس فیصلے سے کارکنوں کو ملازمت میں برقرار رہنے اور افرادی قوت کے استحکام کو بھی تقویت ملنے کی توقع ہے، جبکہ ملازمین کو زیادہ مالی تحفظ حاصل ہوگا۔ آجروں کے لیے بھی زیادہ محفوظ افرادی قوت کو ملازمت میں برقرار رکھنے، افرادی قوت کے استحکام اور حوصلے میں بہتری کا باعث بن سکتی ہے، جس سے مستقبل کے تقاضوں کے لیے زیادہ تیار افرادی قوت تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔
اس تجویز پر بین وزارتی سطح پر تفصیلی صلاح و مشورہ کیا گیا اور 16 جون 2026 کو منعقدہ اجلاس میں اخراجات سے متعلق مالیاتی کمیٹی (ای ایف سی) نے اس کی سفارش کی۔ اجرت کی حد میں اضافے کے نتیجے میں حکومت پر سالانہ تقریباً 11,339 کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑنے کا اندازہ ہے، جبکہ موجودہ سالانہ بجٹ میں تقریباً 10,250 کروڑ روپے کی امداد مختص ہے۔ پانچ سال کی مدت کے دوران متوقع اخراجات تقریباً 56,696 کروڑ روپے ہوں گے۔
یہ فیصلہ ایک جامع، مستحکم اور مستقبل کے تقاضوں کے لیے تیار سماجی تحفظ کا نظام تشکیل دینے کی سمت میں ایک اور اہم قدم ہے۔ اس کے ذریعے اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ معاشی ترقی اور باقاعدہ روزگار کے بڑھتے ہوئے مواقع کے ساتھ سماجی تحفظ بھی مزید مضبوط ہو، کیونکہ ہندوستان وکست بھارت@2047 کے ہدف کی جانب آگے بڑھ رہا ہے۔
وزارتِ محنت و روزگار اور ای پی ایف او اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ضروری قانونی اور انتظامی اقدامات کریں گے۔
*****
ش ح۔ م ش ۔ ص ج
U. N-3651
(ریلیز آئی ڈی: 2311034)
وزیٹر کاؤنٹر : 32