کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے 3 لاکھ روپے تک کی برآمدی کھیپ کے لیے آر سی ایم سی کی شرط میں نرمی کی ہے


آر سی ایم سی سے استثنا نے ایم ایس ایم ایز اور پہلی بار برآمد کرنے والوں کے لیے داخلے کی رکاوٹیں کم کیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 SEP 2026 2:45PM by PIB Delhi

حکومت نے 3 لاکھ روپے تک کی کم مالیت والی برآمدی کھیپ کے لیے رجسٹریشن-کم-ممبرشپ سرٹیفکیٹ)آر سی ایم سی(یا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی شرط سے چھوٹ دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نئے اور چھوٹے برآمد کنندگان پر تعمیلی تقاضوں کا بوجھ کم کرنا اور ڈاک، کوریئر اور دیگر ابھرتے ہوئے ذرائع کے ذریعے برآمدات کو آسان بنانا ہے۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ-غیر ملکی تجارت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل )ڈی جی ایف ٹی) نے غیر ملکی تجارتی پالیسی، 2023 کی شق 2.57 میں ترمیم کی ہے، جس کے تحت جہاں غیر ملکی تجارتی پالیسی کے مطابق مذکورہ سرٹیفکیٹ درکار ہو، وہاں 3 لاکھ روپے تک کی فری آن بورڈ(ایف اوبی) مالیت والی برآمدی کھیپ کے لیے آر سی ایم سی یا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ درکار نہیں ہوگا۔ 3 لاکھ روپے سے زائد مالیت والی برآمدی کھیپ کے لیے، جہاں قابل اطلاق ہو، درست آر سی ایم سی یا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ بدستور درکار ہوگا۔

گزشتہ پانچ برسوں (2021-22 سے 2025-26) کے تاریخی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم مالیت کی برآمدات شیپنگ بلوں کا ایک نمایاں حصہ ہیں، تاہم مجموعی برآمدی مالیت میں ان کا حصہ بہت کم ہے۔ مثال کے طور پر، 3,000 امریکی ڈالر تک کی کھیپیں شپنگ بلوں کا 43 فیصد ہیں، لیکن بھارت کی مجموعی اشیائی برآمدی مالیت میں ان کا حصہ صرف 0.86 فیصد ہے۔ لہٰذا توقع ہے کہ اس چھوٹ سے کم مالیت کے برآمدی لین دین کی ایک بڑی تعداد کا احاطہ ہوگا، جبکہ مجموعی برآمدی مالیت پر اس کا اثر معمولی رہے گا۔

اس وقت برآمد کنندگان کے لیے عموماً متعلقہ برآمد فروغ کونسل یا کموڈیٹی بورڈ سے آر سی ایم سی یا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے، جہاں غیر ملکی تجارتی پالیسی کے تحت یہ قابل اطلاق ہو۔ نئے یا کبھی کبھار برآمدات کرنے والے برآمد کنندگان کے لیے، جو کم مالیت کی کھیپیں بھیجتے ہیں، اس میں ایک اضافی تعمیلی مرحلہ شامل ہوتا ہے، جس کے تحت متعلقہ رجسٹریشن ادارے کی شناخت، مقررہ دستاویزات جمع کرانا اور برآمدات شروع کرنے سے پہلے رجسٹریشن کا عمل مکمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

اس اقدام سے ایم ایس ایم ایز، دستکاروں، چھوٹے کاروباری اداروں اور پہلی بار برآمدات کرنے والوں کو بین الاقوامی منڈیوں میں داخلے کا ایک آسان راستہ فراہم ہوگا، کیونکہ اہل کم مالیت کی کھیپوں کے لیے پہلے سے آر سی ایم سی حاصل کرنے کی شرط ختم کردی گئی ہے۔ اس سے نئے ابھرنے والے برآمد کنندگان کم ابتدائی تعمیلی تقاضوں کے ساتھ بیرون ملک منڈیوں کو آزمانے اور اپنی برآمدی سرگرمیوں کا ریکارڈ قائم کرنے کے قابل ہوں گے۔

جیسے جیسے برآمد کنندگان اپنی سرگرمیوں کو وسعت دیں گے اور ان کی کھیپیں 3 لاکھ روپے کی حد سے تجاوز کریں گی، وہ متعلقہ برآمد فروغ کونسل یا کموڈیٹی بورڈ کی رکنیت حاصل کرسکتے ہیں اور برآمدات کے فروغ، منڈی تک رسائی اور دیگر ادارہ جاتی معاونتی خدمات تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

اس اقدام سے نئے برآمد کنندگان کے لیے داخلے کی رکاوٹیں کم ہوں گی، جس سے پہلی بار اور کبھی کبھار برآمدات کرنے والے افراد آر سی ایم سی پہلے سے حاصل کیے بغیر اہل کم مالیت کی برآمدات کر سکیں گے۔ یہ خاص طور پر ایم ایس ایم ایز اور چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے مفید ہوگا، کیونکہ چھوٹے صنعت کار، دستکار، کاروباری افراد اور ابھرنے والے برآمد کنندگان کم ابتدائی تعمیلی تقاضوں کے ساتھ بیرون ملک منڈیوں کو آزما سکیں گے اور اپنی برآمدی سرگرمیوں کا ریکارڈ قائم کر سکیں گے۔

اس چھوٹ سے ای-کامرس اور دیگر ابھرتے ہوئے برآمدی ذرائع کو بھی فروغ ملے گا۔ توقع ہے کہ اس سے ڈاک، کوریئر اور دیگر ابھرتے ہوئے ذرائع کے ذریعے کم مالیت کی برآمدات کو سہولت ملے گی، جو کاروباری اداروں کو بین الاقوامی صارفین تک پہنچنے کے مواقع تیزی سے فراہم کر رہے ہیں۔

اس اقدام سے ابھرنے والے برآمد کنندگان کو بتدریج عالمی منڈیوں سے جوڑنے میں مدد ملے گی۔ جیسے جیسے برآمد کنندگان اپنی سرگرمیوں کو وسعت دیں گے اور زیادہ مالیت کی کھیپیں برآمد کریں گے، وہ آر سی ایم سی کی رکنیت حاصل کر سکیں گے اور برآمد فروغ کونسلوں اور دیگر مقررہ اداروں کے ذریعے فراہم کی جانے والی برآمدات کے فروغ اور وسیع تر ادارہ جاتی معاونت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

ساتھ ہی، بڑی مالیت کی برآمدات کے لیے موجودہ نظام میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ یہ چھوٹ صرف کم مالیت کی کھیپوں تک محدود ہے، جبکہ 3 لاکھ روپے سے زیادہ مالیت کی کھیپوں کے لیے، جہاں دیگر صورتوں میں قابل اطلاق ہو، آر سی ایم سی یا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کی شرط بدستور برقرار رہے گی۔

اس اقدام سے برآمد فروغ کونسلوں اور کموڈیٹی بورڈز کی بنیاد کو بھی وسیع کرنے میں مدد ملے گی، کیونکہ اس سے ایم ایس ایم ایز کی برآمدات میں زیادہ سے زیادہ شرکت کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ ابتدائی تعمیلی رکاوٹ کم ہونے سے مزید ایم ایس ایم ایز بین الاقوامی منڈیوں میں داخل ہو سکیں گے اور جب ان کی برآمدی سرگرمیاں 3 لاکھ روپے کی حد سے تجاوز کریں گی تو وہ آر سی ایم سی حاصل کرکے متعلقہ برآمد فروغ کونسلوں یا کموڈیٹی بورڈز کے رکن بن سکیں گے، جس سے انہیں برآمدات کے فروغ کی سرگرمیوں، منڈی تک رسائی کی پہل اور دیگر ادارہ جاتی معاونت سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔

یہ اقدام تعمیلی بوجھ کم کرنے، برآمدات میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت کو فروغ دینے اور ایم ایس ایم ایز، پہلی بار برآمدات کرنے والوں اور ابھرتے ہوئے کاروباری اداروں کے لیے بین الاقوامی تجارت کو مزید قابل رسائی بنانے کے حکومت کے عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

********

 (ش ح ۔م م ع  ۔ت ا )

U. No.3630


(ریلیز آئی ڈی: 2310907) وزیٹر کاؤنٹر : 4