وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
پی ایم ایم ایس وائی کے تحت تمل ناڈو کے لیےمختض فنڈز
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 JUL 2026 3:54PM by PIB Delhi
(a): حکومت ہند کی ماہی پروری کی وزارت نے تمل ناڈو میں پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت 21-2020 سے 2025-26 کے دوران منصوبوں کے نفاذ کے لیے انتظامی منظوری دی ہے، جس کے لیے کل 1,240.5778 کروڑ روپے کی رقم منظور کی گئی ہے۔ اس میں 480.0906 کروڑ روپے کا مرکزی حصہ، 455.6139 کروڑ روپے کا ریاستی حصہ اور 272.8488 کروڑ روپے کی مستفیدین کی شراکت شامل ہے، جس میں مستفیدین اور غیر مستفیدین، دونوں شامل ہیں۔منظور شدہ منصوبوں کی لاگت سے مراد پوری اسکیم کی مدت کے لیے مختص کی گئی مجموعی مالی رقم ہے، جبکہ مرکزی حصہ حکومت ہند کی ماہی پروری کی وزارت کی جانب سے منصوبوں پر عمل درآمد کی پیش رفت، اخراجات کے سرٹیفکیٹ جمع کرانے اور اسکیم کے رہنما خطوط کی تعمیل وغیرہ کی بنیاد پر مرحلہ وار جاری کیا جاتا ہے۔ اسی کے مطابق مرکزی امداد وقتاً فوقتاً جاری کی جاتی ہے اور اسے منظور شدہ منصوبوں کی مجموعی لاگت میں کسی کمی کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
(b): گزشتہ تین برسوں (24-2023 سے26-2025) کے دوران تمل ناڈو کو پی ایم ایم ایس وائی کے تحت جاری کیے گئے مرکزی فنڈز کی سال وار تفصیلات اور تمل ناڈو کے ترونیل ویلی ضلع میں پی ایم ایم ایس وائی کے تحت جاری کیے گئے مرکزی فنڈز کی تفصیلات ضمیمہ میں فراہم کی گئی ہیں۔ سبسڈی کی رقم الیکٹرانک کلیئرنگ سروس (ای سی ایس) کے ذریعے براہ راست مستفیدین کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جاتی ہے۔
(c): خصوصی اقتصادی زون (ای ای زیڈ) میں گہرے سمندر میں ماہی گیری کو فروغ دینے کے لیے حکومت ہند کی ماہی پروری کی وزارت نے 2015 سے 2020 تک نافذ کی گئی مرکزی معاونت والی اسکیم ’بلیو ریوولوشن‘ کے تحت ’’گہرے سمندر میں ماہی گیری کے لیے امداد‘‘ کے نام سے ایک ذیلی جزو اور ’’ٹرالرز کو مخصوص وسائل کے لیے گہرے سمندر میں ماہی گیری کرنے والے جہازوں میں تبدیل کرنے‘‘ کے نام سے ایک اور جزو متعارف کرایا تھا۔ ان ذیلی اجزا کا مقصد تمل ناڈو سمیت ساحلی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں گہرے سمندر میں ماہی گیری کو فروغ دینے کے لیے روایتی ماہی گیروں کو مالی امداد فراہم کرنا تھا۔ گہرے سمندر میں ماہی گیری کرنے والے جہازوں (ڈی ایس ایف وی) کی خریداری کے لیے روایتی ماہی گیروں کو مالی امداد پی ایم ایم ایس وائی کے تحت بھی جاری رکھی گئی ہے۔ جس میں عام زمرے کے مستفیدین کے لیے 40 فیصد اور ایس سی، ایس ٹی اور خواتین مستفیدین کے لیے 60 فیصد سبسڈی فراہم کی جاتی ہے۔ حکومت ہند کی ماہی پروری کی وزارت کی جانب سے ماہی پروری اور آبی زراعت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے فنڈ (ایف آئی ڈی ایف) کے تحت بھی ڈی ایس ایف وی کے لیے امداد فراہم کی جاتی ہے۔پی ایم ایم ایس وائی کے تحت روایتی ماہی گیروں کو گہرے سمندر میں ماہی گیری کرنے والے جہازوں (ڈی ایس ایف وی) کی خریداری کے ساتھ ساتھ برآمدی معیار کے مطابق موجودہ ماہی گیری کے جہازوں کو بہتر بنانے کے لیے بھی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ بلیو ریوولوشن، پی ایم ایم ایس وائی اور ایف آئی ڈی ایف کے تحت روایتی ماہی گیروں، جن میں تمل ناڈو کے ماہی گیر بھی شامل ہیں، کے لیے 1,205 گہرے سمندر میں ماہی گیری کرنے والے جہازوں کی خریداری سے متعلق 1,314.81 کروڑ روپے کی مالیت کے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔حکومت ہند کی ماہی پروری کی وزارت کی جانب سے نافذ کی جانے والی اسکیموں کے تحت بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور جدید کاری کو اعلی ترجیح دی گئی ہے۔ تمل ناڈو میں بلیو ریوولوشن اسکیم کے تحت 187.9 کروڑ روپے مالیت کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے، جن میں موکائی یور میں ماہی گیری بندرگاہ اور کنٹھوکل میں مچھلی اتارنے کا مرکز شامل ہیں۔ تمل ناڈو میں پی ایم ایم ایس وائی کے تحت 155.57 کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ جن میں ماہی گیری کی تین بندرگاہوں کے منصوبے، یعنی چنئی ماہی گیری بندرگاہ کی جدید کاری، پازھیار ماہی گیری بندرگاہ کی بہتری اور کولاشیل ماہی گیری بندرگاہ میں دیکھ بھال کے لیے ڈریجنگ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مچھلی اتارنے کے چار مراکز، یعنی نیتوکپم، تھازن کوپم، ارنگن کوپم اور گونن کوپم میں مچھلی اتارنے کے مراکز کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ ماہی پروری اور آبی زراعت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے فنڈ (ایف آئی ڈی ایف) اسکیم کے تحت تمل ناڈو میں مجموعی طور پر 1,988.35 کروڑ روپے کی منصوبہ جاتی لاگت سے 16 ماہی گیری بندرگاہوں اور 57 مچھلی اتارنے کے مراکز کے منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔
(d): ماہی گیروں کو ایندھن پر سبسڈی یا رعایت متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے فراہم کی جاتی ہے، کیونکہ ماہی پروری کے شعبے کے لیے اپنی ٹیکس اور فلاحی پالیسیاں وضع کرنے کا اختیار انہی کے پاس ہے۔ تمل ناڈو کی ریاستی حکومت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ماہی گیروں کی کشتیوں کے آپریشنل اخراجات کم کرنے کے لیے حکومت انہیں سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ ڈیزل فراہم کر رہی ہے۔ اس میں مشینی ماہی گیری کی کشتیاں اور موٹر سے چلنے والی روایتی کشتیاں دونوں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تھوتھوکڈی، ترونیل ویلی اور کنیا کماری اضلاع میں چلنے والی موٹر سے چلنے والی روایتی کشتیوں کے لیے رعایتی صنعتی مٹی کا تیل بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔
ان اسکیموں کے تحت تمل ناڈو حکومت 4,500 مشینی ماہی گیری کی کشتیوں کو فی کشتی سالانہ 19,000 لیٹر سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ ڈیزل، 13,500 موٹر سے چلنے والی روایتی کشتیوں کو فی کشتی سالانہ 4,400 لیٹر سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ ڈیزل اور تقریباً 7,500 موٹر سے چلنے والی روایتی کشتیوں کو فی کشتی سالانہ 3,700 لیٹر رعایتی صنعتی مٹی کا تیل فراہم کر رہی ہے۔
ضمیمہ
پی ایم ایم ایس وائی کے تحت تمل ناڈو کے لیے فنڈز کی تخصیص سے متعلق بیان
گزشتہ تین برسوں (24-2023 سے 26-2025) کے دوران تمل ناڈو کو پی ایم ایم ایس وائی کے تحت جاری کیے گئے مرکزی فنڈز کی تفصیلات
روپے (کروڑوں میں)
|
سال
|
پروجیکٹ کی کل منظور شدہ لاگت
|
حکومت ہند کا کل حصہ منظور شدہ
|
کل جی او آئی شیئر جاری کیا گیا
|
|
2023-24
|
116.1055
|
37.2046
|
30.5646
|
|
2024-25
|
152.1927
|
29.5485
|
27.8199
|
|
2025-26
|
74.3031
|
24.7677
|
24.7677
|
|
کل مجموعی
|
342.6013
|
91.5208
|
83.1522
|
- تمل ناڈو کے ترونیل ویلی ضلع میں پی ایم ایم ایس وائی کے تحت جاری کیے گئے مرکزی فنڈز کی تفصیلات
|
سال
|
اسکیم کا نام
|
زمرہ
|
مستفید ہونے والوں کی تعداد
|
حکومتی حصہ
(لاکھ روپے میں)
|
مرکزی حصہ
(لاکھ روپے میں)
|
|
2021-22
|
انسولیٹڈ گاڑی
|
عام
|
6
|
14.35
|
8.61
|
|
2021-22
|
انسولیٹڈ گاڑی
|
خواتین
|
5
|
30.33
|
18.20
|
|
2022-23
|
انسولیٹڈ گاڑی
|
عام
|
2
|
14.05
|
8.43
|
|
2023-24
|
انسولیٹڈ گاڑی
|
عام
|
4
|
25.42
|
15.25
|
|
2021-22
|
لوازمات کے ساتھ ایف آر پی کشتی کی تعمیر
|
عام
|
47
|
94.00
|
56.40
|
|
2020-21
|
لوازمات کے ساتھ ایف آر پی کشتی کی تعمیر
|
عام
|
30
|
60.00
|
36.00
|
|
2020-21
|
آئس باکس والی دو پہیہ گاڑی
|
عام
|
14
|
4.13
|
2.48
|
|
2023-24
|
آئس باکس والی دو پہیہ گاڑی
|
عام
|
10
|
3.00
|
1.80
|
|
2020-21
|
آئس باکس والی تین پہیہ گاڑی
|
عام
|
1
|
1.20
|
0.72
|
|
کل
|
119
|
246.48
|
147.888
|
ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں یہ معلومات فراہم کیں۔
*****
ش ح۔ م ح۔ش ت
U.No.3424
(ریلیز آئی ڈی: 2310195)
وزیٹر کاؤنٹر : 4