وزارتِ تعلیم
اساتذہ کی خالی اسامیاں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 JUL 2026 6:19PM by PIB Delhi
تعلیم آئین کی مشترکہ فہرست میں شامل ہے، اس لیے ملک کے بیشتر اسکول متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے انتظامی کنٹرول میں آتے ہیں۔ اسی کے مطابق، اساتذہ کی بھرتی، ملازمت کی شرائط اور تعیناتی متعلقہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے انتظامی دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ اساتذہ کی خالی اسامیاں وقتاً فوقتاً ریٹائرمنٹ، استعفیٰ، نئی اسامیوں کی تخلیق، اساتذہ کی تعیناتی کی تنظیم نو اور طلبہ کے داخلوں میں تبدیلی جیسے مختلف عوامل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، جن میں دیہی، قبائلی اور خواہش مند اضلاع بھی شامل ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی منظور شدہ اسامیوں، منظور شدہ اسامیوں پر تعینات اساتذہ، اساتذہ کی خالی اسامیوں اور ایسی خالی اسامیوں کی وجوہات سے متعلق ریاست وار اعداد و شمار، جن میں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی ریاستیں بھی شامل ہیں، سال 2024 سے 2026 کی مدت کے لیے متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کی جانب سے مرتب کیے جاتے ہیں۔
یو ڈی آئی ایس ای+ 2026-2025 کے مطابق، سال 2024-2023، 2025-2024 اور 2026-2025 کے دوران ملک بھر کے اسکولوں میں تعینات اساتذہ کی ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقہ وار تفصیلات ضمیمہ-I میں دی گئی ہیں۔
اساتذہ کی بھرتی ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے، جسے متعلقہ ریاستی حکومتیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ اپنے بھرتی کے قواعد اور طریقہ کار کے مطابق انجام دیتی ہیں۔ ریٹائرمنٹ، استعفیٰ، طلبہ کی تعداد میں اضافے کے باعث نئی اسامیوں کی تخلیق اور نئے اسکولوں کے قیام جیسی وجوہات کی بنا پر وقتاً فوقتاً خالی اسامیاں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ایسی خالی اسامیوں کو پُر کرنے کی مدت بھی متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کی جانب سے طے کی جاتی ہے۔
مرکزی حکومت وقتاً فوقتاً ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مشورہ دیتی ہے کہ خالی اسامیوں کو شفاف اور اہلیت پر مبنی بھرتی کے عمل کے ذریعے پُر کیا جائے، جس میں خود مختار اساتذہ بھرتی بورڈ یا اسی طرح کے طریقہ کار شامل ہیں۔ باقاعدہ اجلاسوں اور مشاورت کے ذریعے بھرتی کی پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے، جس میں مسابقتی انتخاب، یکسانیت اور ٹیکنالوجی پر مبنی اساتذہ کی ضرورت کی منصوبہ بندی اور پیش گوئی پر زور دیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ، مرکزی حکومت ‘سمگر شکشا’ کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مالی امداد فراہم کرتی ہے، تاکہ بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کے حق (آر ٹی ای) ایکٹ، 2009‘ کے اصولوں کے مطابق اسکولی تعلیم کی مختلف سطحوں پر طلبہ-اساتذہ تناسب (پی ٹی آر) برقرار رکھا جا سکے۔
قومی تعلیمی پالیسی (این پی ای)، 2020 کی شق 2.3 میں ہر اسکول میں طلبہ-اساتذہ تناسب (پی ٹی آر) 30:1 سے کم اور سماجی و اقتصادی طور پر پسماندہ طلبہ کی زیادہ تعداد والے علاقوں میں 25:1 سے کم رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ یو ڈی آئی ایس ای+ 2026-2025 کے مطابق، قومی سطح پر پی ٹی آر فاؤنڈیشنل مرحلے میں 10، ابتدائی مرحلے میں 12، درمیانی مرحلے میں 17 اور ثانوی مرحلے میں 21 ہے۔ تلنگانہ ریاست میں متعلقہ پی ٹی آر بالترتیب 11، 10، 11 اور 14 ہے، جبکہ آندھرا پردیش ریاست میں یہ بالترتیب 11، 12، 16 اور 15 ہے؛ یہ اعداد و شمار این پی ای 2020 کے تحت مقررہ اصولوں کے مطابق ہیں۔
تعلیم آئین کی مشترکہ فہرست میں شامل ہے، اور اسکولوں کا قیام، انضمام، بند کرنا، یکجا کرنا اور معقول بنانا متعلقہ ریاستی حکومت اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، جو ‘بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کے حق (آر ٹی ای) ایکٹ، 2009’کے تحت مجاز حکومتیں ہیں۔
یو ڈی آئی ایس ای+ کے مطابق، سال 2024-2023، 2025-2024 اور 2026-2025 کے لیے ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقہ وار سرکاری اسکولوں کی تعداد ضمیمہ-II میں دی گئی ہے۔
’سمگر شکشا’ کی مربوط مرکزی معاونت والی اسکیم کے تحت، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو سینئر سیکنڈری سطح تک نئے اسکول کھولنے یا موجودہ اسکولوں کو بہتر بنانے، نیز اسکول کی عمارتوں اور اضافی کلاس رومز کی تعمیر کے لیے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔
یہ اطلاع مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم جناب جینت چودھری نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
***
ش ح۔ ک ا۔ ن ع
U.NO.3426
(ریلیز آئی ڈی: 2310185)
وزیٹر کاؤنٹر : 2