وزارتِ تعلیم
اسکولوں میں خالی اسامیاں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 JUL 2026 6:29PM by PIB Delhi
تعلیم آئین کی مشترکہ فہرست کا موضوع ہے، اس لئے ملک کے بیشتر اسکول متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے انتظامی کنٹرول میں ہیں۔ اسی مناسبت سے، اساتذہ کی بھرتی، ملازمت کی شرائط اور تعیناتی متعلقہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامی ذمہ داری کے دائرے میں آتی ہے۔ ریٹائرمنٹ، استعفیٰ، نئی اسامیوں کی تخلیق، اساتذہ کی تعیناتی کو معقول بنانا اور طلبہ کے داخلوں میں تبدیلی جیسے عوامل کی وجہ سے وقتاً فوقتاً اساتذہ کی اسامیاں خالی ہوتی رہتی ہیں، جن میں دیہی، قبائلی اور خواہش مند اضلاع بھی شامل ہیں۔ پرائمری، اعلیٰ پرائمری، ثانوی اور اعلیٰ ثانوی سطح پر سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی منظور شدہ تعداد، تعینات اساتذہ کی تعداد اور خالی اسامیوں سے متعلق اعداد و شمار متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کی جانب سے ریاست وار مرتب کیے جاتے ہیں۔
یو ڈی آئی ایس ای+ 2025-26 کے مطابق، ملک بھر کے سرکاری اسکولوں میں تعینات اساتذہ کی ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقہ وار تفصیلات ضمیمہ-I میں دی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ، یو ڈی آئی ایس ای+ 2026-2025 کے مطابق، ملک میں یک رکنی اساتذہ والے اسکولوں کی ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقہ وار تفصیلات ضمیمہ-II میں دی گئی ہیں۔
مرکزی حکومت وقتاً فوقتاً ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ شفاف اور اہلیت پر مبنی بھرتی کے عمل، جیسے خود مختار اساتذہ بھرتی بورڈ یا اسی طرح کے طریقہ کار کے ذریعے خالی اسامیوں کو پُر کریں۔ بھرتی کی پیش رفت کا باقاعدگی سے اجلاسوں اور مشاورت کے ذریعے جائزہ لیا جاتا ہے، جس میں مسابقتی انتخاب، یکسانیت اور ٹیکنالوجی پر مبنی اساتذہ کی ضرورت کی منصوبہ بندی اور پیش گوئی پر زور دیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ، مرکزی حکومت سمگر شکشا کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مالی امداد فراہم کرتی ہے، تاکہ اسکولی تعلیم کی مختلف سطحوں پر بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کے حق (آر ٹی ای) ایکٹ، 2009 کے تحت مقررہ اصولوں کے مطابق مناسب طلبہ-اساتذہ تناسب (پی ٹی آر) برقرار رکھا جا سکے۔
قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی)، 2020 کی شق 2.3 میں ہر اسکول میں 30:1 سے کم اور سماجی و اقتصادی طور پر پسماندہ طلبہ کی زیادہ تعداد والے علاقوں میں 25:1 سے کم طلبہ-اساتذہ تناسب برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔ یو ڈی آئی ایس ای+ 2025-26 کی رپورٹ کے مطابق، قومی سطح پر طلبہ-اساتذہ تناسب پرائمری سطح پر 19، اعلیٰ پرائمری سطح پر 17، ثانوی سطح پر 15 اور اعلیٰ ثانوی سطح پر 23 ہے، جو این ای پی 2020 کے تحت مقررہ اصولوں کے دائرے میں ہے۔
اس کے علاوہ، وزارت تعلیم ’نیشنل انیشی ایٹو فار اسکول ہیڈز اینڈ ٹیچرز ہولسٹک ایڈوانسمنٹ‘ (نشٹھا) نامی مربوط اساتذہ تربیتی پروگرام کے ذریعے اسکولی تعلیم کی سطح پر تعلیمی نتائج کو بہتر بنانے کے لیے ایک قومی مشن نافذ کر رہی ہے۔ نشٹھا کے تحت پرائمری، اعلیٰ پرائمری، فاؤنڈیشنل لٹریسی اینڈ نیومریسی (ایف ایل این)، ارلی چائلڈ ہڈ کیئر اینڈ ایجوکیشن (ای سی سی ای) اور تعلیمی ٹیکنالوجی کے لیے نصاب تیار کرکے نافذ کیے گئے ہیں۔ یہ کورس این سی ای آر ٹی کی جانب سے دیکشا پلیٹ فارم پر اعلیٰ معیار کے پیشہ ورانہ طور پر تیار کردہ ای-مواد کے ذریعے آن لائن دستیاب کرائے جاتے ہیں۔
یہ اطلاع وزیر مملکت برائے تعلیم جناب جینت چودھری نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
ضمیمہ-I
راجیہ سبھا کے غیر ستارہ دار سوال نمبر 1165 (جس کا جواب 29/07/2026 کو دیا گیا تھا اور جسے معزز رکن پارلیمنٹ جناب رندیپ سنگھ سرجے والا نے ‘‘اسکولوں میں خالی اسامیوں’’ کے بارے میں پوچھا تھا)کے حصوں (اے) سے (ڈی) کے جواب میں مذکور ضمیمہ۔
سرکاری اسکولوں میں تقرر شدہ اساتذہ (2026-2025(
|
ریاست
|
سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کل تعداد 2026-2025
|
|
ابتدائی
|
بالائی ابتدائی
|
ثانوی
|
اعلیٰ ثانوی
|
|
انڈمان اور نیکوبار جزائر
|
877
|
799
|
893
|
2189
|
|
آندھرا پردیش
|
74616
|
7254
|
87545
|
31710
|
|
اروناچل پردیش
|
3001
|
6576
|
3123
|
3588
|
|
آسام
|
95731
|
40479
|
40954
|
39552
|
|
بہار
|
164481
|
242606
|
635
|
128339
|
|
چنڈی گڑھ
|
43
|
284
|
2270
|
2921
|
|
چھتیس گڑھ
|
74645
|
53452
|
10282
|
47760
|
|
دادرا اور نگر حویلی اور دامن اور دیو
|
546
|
1656
|
271
|
791
|
|
دہلی
|
18287
|
319
|
2343
|
62435
|
|
گوا
|
1997
|
321
|
999
|
488
|
|
گجرات
|
27386
|
153108
|
3747
|
10438
|
|
ہریانہ
|
32256
|
10378
|
7120
|
51215
|
|
ہماچل پردیش
|
19080
|
5243
|
7270
|
34674
|
|
جموں و کشمیر
|
18748
|
38988
|
17578
|
16255
|
|
جھارکھنڈ
|
35945
|
45188
|
16322
|
18917
|
|
کرناٹک
|
34830
|
95197
|
43325
|
20292
|
|
کیرالہ
|
16294
|
15626
|
6447
|
44234
|
|
لداخ
|
734
|
2426
|
1054
|
1075
|
|
لکشدویپ
|
179
|
192
|
|
358
|
|
مدھیہ پردیش
|
128006
|
122807
|
43375
|
105782
|
|
مہاراشٹر
|
91352
|
108297
|
15092
|
8946
|
|
منی پور
|
6615
|
2944
|
3896
|
3515
|
|
میگھالیہ
|
9964
|
7587
|
1054
|
1692
|
|
میزورم
|
5378
|
5560
|
2148
|
1153
|
|
ناگالینڈ
|
5791
|
5968
|
4231
|
2205
|
|
اوڈیشہ
|
60916
|
78991
|
58487
|
14771
|
|
پڈوچیری
|
1513
|
551
|
1064
|
1831
|
|
پنجاب
|
51471
|
8217
|
17558
|
45567
|
|
راجستھان
|
63341
|
116481
|
966
|
260282
|
|
سکم
|
2038
|
2220
|
2485
|
4190
|
|
تملناڈو
|
56778
|
47102
|
29931
|
87640
|
|
تلنگانہ
|
43867
|
14336
|
60283
|
37692
|
|
تریپورہ
|
4862
|
5840
|
5926
|
10253
|
|
اتر پردیش
|
340103
|
259477
|
7025
|
20519
|
|
اتراکھنڈ
|
22738
|
7270
|
5810
|
23583
|
|
مغربی بنگال
|
239882
|
18261
|
27315
|
162655
|
|
انڈیا
|
1754291
|
1532001
|
538824
|
1309507
|
(ماخذ: یو ڈی آئی ایس ای+ 2026-2025)
ضمیمہ-II
معزز رکن پارلیمنٹ جناب رندیپ سنگھ سرجے والا کی جانب سے ‘‘اسکولوں میں خالی اسامیوں’’ کے سلسلے میں پوچھے گئے راجیہ سبھا کے غیر ستارہ دار سوال نمبر 1165 (جس کا جواب 29/07/2026 کو دیا گیا تھا) کے حصوں (اے) سے (ڈی) کے جواب میں مذکور ضمیمہ۔
سال 2026-2025 کے لئے تمام اقسام کے انتظامی نظام والے یک رکنی اساتذہ کے اسکول
|
ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقہ
|
سال 2026-2025 کے لئے تمام اقسام کے انتظامی نظام والے یک رکنی اساتذہ کے اسکول
|
|
انڈمان اور نیکوبار جزائر
|
1
|
|
آندھرا پردیش
|
16357
|
|
اروناچل پردیش
|
473
|
|
آسام
|
3159
|
|
بہار
|
2006
|
|
چھتیس گڑھ
|
2461
|
|
دہلی
|
7
|
|
گجرات
|
2335
|
|
ہریانہ
|
1278
|
|
ہماچل پردیش
|
3128
|
|
جموں و کشمیر
|
1544
|
|
جھارکھنڈ
|
9827
|
|
کرناٹک
|
8042
|
|
کیرالہ
|
67
|
|
لداخ
|
28
|
|
مدھیہ پردیش
|
2269
|
|
مہاراشٹر
|
9269
|
|
منی پور
|
446
|
|
میگھالیہ
|
1124
|
|
میزورم
|
125
|
|
ناگالینڈ
|
35
|
|
اڈیشہ
|
1458
|
|
پنجاب
|
1749
|
|
راجستھان
|
7200
|
|
سکم
|
31
|
|
تمل ناڈو
|
3957
|
|
تلنگانہ
|
4793
|
|
تریپورہ
|
376
|
|
اتر پردیش
|
7874
|
|
اتراکھنڈ
|
2655
|
|
مغربی بنگال
|
6769
|
|
انڈیا
|
100843
|
(ماخذ: یو ڈی آئی ایس ای+ 2025-26)
***
ش ح۔ ک ا۔ ن ع
U.NO.3425
(ریلیز آئی ڈی: 2310170)
وزیٹر کاؤنٹر : 10