سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

گرین ہائی وے منصوبے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 JUL 2026 5:48PM by PIB Delhi

گرین ہائی وے (شجرکاری، ٹرانسپلانٹیشن، خوبصورتی اور دیکھ بھال) پالیسی 2015 کے تحت حکومت انڈین روڈ کانگریس (آئی آر سی): ایس پی:21 کے رہنما خطوط کے مطابق قومی شاہراہوں کے منصوبوں کے حصے کے طور پر یا آزادانہ طور پر ملک میں مختلف قومی شاہراہوں کے رائٹ آف وے (آر او ڈبلیو) میں دستیاب اضافی درمیانی حصوں اور سڑک کے کنارے کی زمین پر شجرکاری کرتی ہے۔ گزشتہ پانچ برس کے دوران ملک میں تقریباً 1.32 لاکھ کلومیٹر قومی شاہراہوں پر 3.61 کروڑ سے زائد پودے لگائے گئے ہیں۔

گزشتہ پانچ برس کے دوران قومی شاہراہوں کے کنارے کی گئی شجرکاری کی ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لحاظ سے تفصیلات ضمیمے میں دی گئی ہیں۔

شجرکاری اور ماحولیاتی تلافی کی سرگرمیوں کی لاگت عام طور پر متعلقہ قومی شاہراہ منصوبوں کی مجموعی لاگت میں شامل ہوتی ہے اور اس کا خرچ قومی شاہراہوں کی ترقی اور دیکھ بھال کے لئے ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے/ایجنسی کے لحاظ سے مختص مجموعی فنڈ سے پورا کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ، جب شجرکاری کا کام آزادانہ طور پر کیا جاتا ہے، تو اس کا خرچ قومی شاہراہوں کے کاموں کے لیے مختص مجموعی فنڈ سے پورا کیا جاتا ہے۔

حکومت نے قومی شاہراہوں کے منصوبوں کی تعمیر اور دیکھ بھال میں دوبارہ استعمال شدہ مواد، فضلہ مصنوعات اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے کئی پالیسی اصلاحات اور اقدامات کیے ہیں۔ یہ پالیسی فریم ورک پائیدار تعمیراتی طریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور جہاں بھی تکنیکی طور پر ممکن ہو، منصوبوں میں دوبارہ استعمال شدہ اور فضلے سے تیار کردہ مواد کے استعمال کو فروغ دیتا ہے۔ رہنما خطوط، مشاورتی ہدایات اور تکنیکی ترقی کے ذریعے مسلسل کیے جانے والے اقدامات نے ان مواد کے وسیع پیمانے پر استعمال کے لیے سازگار ماحول تیار کیا ہے، جس سے تعمیراتی کاموں میں دوبارہ استعمال شدہ مواد کی افادیت اور قبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

تکنیکی وضاحت کے مطابق موزوں شاہراہوں کے کاموں میں مختلف پائیدار اور دوبارہ استعمال شدہ مواد جیسے بانس سے بنے کریش بیریئر، پشتوں اور تعمیراتی کاموں میں فلائی ایش/پونڈ ایش کا استعمال، بٹومینس کی پرتوں میں دوبارہ حاصل کیا گیا اسفالٹ پیومنٹ (آر اے پی)، نیز تعمیراتی اور انہدام کے فضلے (سی اینڈ ڈی) سے حاصل شدہ دوبارہ استعمال شدہ ایگریگیٹس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے اور سڑکوں کی مضبوطی بہتر بنانے کے لیے اسفالٹ کے آمیزے میں پلاسٹک کے کچرے کا استعمال، قدرتی جیو ٹیکسٹائلز (جیسے جوٹ/کوئر وغیرہ)، سلیگ، بایو بٹومین/شیرہ، کرمب ربڑ جیسی دیگر پائیدار اشیا، سڑک کی تعمیر میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) کے صاف کیے گئے پانی کا استعمال اور دیگر دوبارہ استعمال شدہ یا صنعتی ضمنی مصنوعات کے استعمال کو بھی عملی امکانات اور رہنما خطوط کے مطابق فروغ دیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ، ماحول دوست پائیدار ترقی کے ایک حصے کے طور پر قومی شاہراہوں کے منصوبوں میں شجرکاری اور کاربن کے اخراج کی تلافی کے اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ شجرکاری کا کام قومی شاہراہوں کے منصوبوں کے ساتھ لازمی طور پر کیا جاتا ہے اور الگ سے مہمات کی صورت میں بھی انجام دیا جاتا ہے۔ قومی شاہراہوں کے کنارے سبزہ بڑھانے کے لیے میاواکی طریقہ کار سے شجرکاری اور ڈرون کے ذریعے پودوں کی نگرانی بھی شروع کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، جہاں بھی شاہراہ کی تعمیر کے لیے درخت کاٹنا ضروری ہوتا ہے، وہاں متبادل شجرکاری اور درختوں کی منتقلی کی جاتی ہے۔

سبز اقدامات، توانائی کی بچت والی تعمیراتی تکنیکوں، ڈیجیٹل نگرانی کے نظام اور جدید ماحولیاتی انتظامی طریقوں کو اپنانے سے سڑکوں کی تعمیر کے دوران اخراج میں کمی، قدرتی وسائل کے تحفظ اور ماحول پر پڑنے والے اثرات کو کم سے کم کرنے میں مدد ملی ہے۔

ضمیمہ

گزشتہ پانچ برس کے دوران قومی شاہراہوں کے کنارے کی گئی شجرکاری کی ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لحاظ سے تفصیلات: -

لگائے گئے پودوں کی تعداد لاکھ میں

نمبر شمار

ریاست

مالی سال 22-2021

مالی سال 23-2022

مالی سال 24-2023

مالی سال 25-2024

مالی سال 26-2025

1

آندھرا پردیش

2.08

1.63

1.21

2.85

6.16

2

اروناچل پردیش

0.00

0.00

0.00

0.10

0.31

3

آسام

1.73

0.94

2.74

1.94

2.43

4

بہار

2.03

2.12

2.38

3.85

2.42

5

چھتیس گڑھ

1.02

1.33

1.17

1.10

2.43

6

گوا

0.04

0.01

0.00

0.60

0.49

7

گجرات

2.38

4.51

3.71

6.08

6.05

8

ہریانہ

1.59

2.19

2.98

5.59

4.34

9

ہماچل پردیش

0.71

0.82

0.32

0.64

0.64

10

جھارکھنڈ

2.53

1.07

0.92

1.01

1.23

11

کرناٹک

3.73

2.86

2.23

2.91

2.31

12

کیرالہ

0.24

0.16

0.18

0.02

0.06

13

مدھیہ پردیش

6.31

10.46

7.81

8.88

5.80

14

مہاراشٹر

9.45

8.51

7.36

6.37

5.25

15

منی پور

0.05

0.09

0.10

0.17

0.09

16

میگھالیہ

0.00

0.00

0.00

0.00

0.02

17

ناگالینڈ

0.15

0.26

0.27

0.47

0.33

18

اوڈیشہ

3.78

3.72

2.88

3.19

3.44

19

پنجاب

2.99

2.71

2.34

4.45

4.55

20

راجستھان

9.50

12.46

8.13

4.53

4.06

21

سکم

0.03

0.03

0.00

0.01

1.16

22

تمل ناڈو

2.91

2.81

2.72

4.51

3.40

23

تلنگانہ

2.29

2.80

0.89

0.94

2.23

24

تریپورہ

0.04

0.00

0.06

0.01

0.04

25

اتر پردیش

5.44

6.42

5.03

4.21

4.59

26

اتراکھنڈ

2.12

1.24

0.56

0.39

0.31

27

مغربی بنگال

3.25

2.38

1.95

1.42

1.09

28

انڈمان اور نکوبار جزائر

0.01

0.00

0.00

0.01

0.01

29

دہلی

9.50

3.44

3.60

8.95

3.80

30

جموں و کشمیر

0.47

0.87

0.86

1.27

1.80

یہ معلومات سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر  جناب نتن گڈکری نےآج  راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔

***

ش ح۔ ک ا۔    ن ع

U.NO.3414

 


(ریلیز آئی ڈی: 2310061) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil