PIB Backgrounder
ڈیجیٹل دور کے لیے ہندوستان میں ڈیٹا سینٹرز کا بنیادی ڈھانچہ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 SEP 2026 11:05AM by PIB Delhi
ڈیٹا سینٹرز ہندوستان کی ڈیجیٹل لائف کو چلانے والے نظر نہیں آنے والے وہ مراکز ہیں، جو ہر لمحہ بینکنگ، ای-گورننس اور آن لائن خدمات کو سہارا دیتے ہیں۔ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیزکے باعث ڈیٹا میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے حکومت سازگار پالیسی نظام تشکیل دے رہی ہے۔ بنیادی ڈھانچے کا درجہ، مالی مراعات اور صاف توانائی کے استعمال سےہندوستان کے ڈیٹا سینٹر کے نظام کو مزید بہتر اورمضبوط بنایا جا رہا ہے۔
|
ڈیٹا سینٹرز کے ذریعے ہندوستان کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا
ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت تیز رفتار ترقی اور تکنیکی تبدیلی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن مختلف شعبوں میں پیداواریت، مسابقت اور خدمات کی فراہمی کے طریقہ کار کو تبدیل کر رہی ہے۔ ڈیجیٹل خدمات کے دائرہ کار میں توسیع کے ساتھ کمپیوٹنگ کی صلاحیت، ڈیٹا محفوظ کرنے کی گنجائش اور تیز رفتار رابطے کی طلب میں بے مثال اضافہ ہو رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی اس طلب کو پورا کرنے کے لیے ایسے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے جو مسلسل، محفوظ اور بڑے پیمانے پر خدمات فراہم کر سکے۔ ڈیٹا سینٹرز اسی اہم بنیادی ڈھانچے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں اور ان ڈیجیٹل خدمات کو توانائی اور سہولت فراہم کرتے ہیں جو ہندوستان کی معیشت اور حکمرانی کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہیں۔
ڈیٹا سینٹر ایک محفوظ مرکز ہوتا ہے، جہاں کمپیوٹنگ، ڈیٹا محفوظ کرنے اور نیٹ ورک سے متعلق آلات نصب ہوتے ہیں۔ یہ بڑی تعداد میں موجود ڈیجیٹل معلومات کو محفوظ رکھنے، اس پر کارروائی کرنے، اس کا انتظام کرنے اور اسے مختلف مقامات تک پہنچانے کا کام کرتا ہے۔ یہ سہولیات آن لائن بینکنگ، ای-گورننس، ڈیجیٹل ادائیگیوں، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے اہم بنیاد فراہم کرتی ہیں۔
ڈیٹا سینٹر آسان الفاظ میں
ڈیٹا سینٹر کو ایک بہت بڑے ڈیجیٹل گودام کے طور پر سمجھیں، جہاں ہزاروں انتہائی تیز رفتار کمپیوٹر موجود ہوتے ہیں۔ جس طرح ایک عام گودام میں سامان رکھا جاتا ہے، اسی طرح ڈیٹا سینٹر میں ڈیجیٹل معلومات محفوظ کی جاتی ہیں۔ جب بھی آپ یو پی آئی کے ذریعے ادائیگی کرتے ہیں، اپنے بینک اکاؤنٹ کی معلومات دیکھتے ہیں یا کوئی ویڈیو چلاتے ہیں، تو یہ کمپیوٹر پس منظر میں مسلسل کام کرتے ہیں اور آپ کی درخواست پوری کرتے ہیں۔
|
جدید ڈیٹا سینٹرز میں کمپیوٹنگ، نیٹ ورکنگ، بجلی، کولنگ، سیکورٹی اور انتظامی نظام کو مربوط کیا جاتا ہے۔ یہ تمام نظام مسلسل کام کرتے ہیں تاکہ قابل اعتماد آپریشن، ڈیٹا کی سیکورٹی اور بلا تعطل ڈیجیٹل خدمات کو یقینی بنایا جا سکے۔ ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت کے پھیلاؤ کے ساتھ، مضبوط اور لچکدار ڈیٹا سینٹرز جدت، مسابقت اور مسلسل ڈیجیٹل ترقی کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک بنیادی ڈھانچہ بنتے جا رہے ہیں۔
ڈیٹا سینٹر کے اندر: ڈیجیٹل خدمات کومضبوطی فراہم کرنے والی ٹیکنالوجیز

ڈیٹا سینٹر کے لیے قابل اعتماد بجلی کا بنیادی ڈھانچہ ضروری ہوتا ہے تاکہ اہم آلات بلا تعطل کام کرتے رہیں۔ ڈیٹا سینٹر کے کمپیوٹر کبھی بند نہیں ہو سکتے، ایک ملی سیکنڈ کے لیے بھی نہیں۔ بجلی کی فراہمی میں رکاوٹ کے دوران بلاتعطل بجلی کی فراہمی کے نظام(یو پی ایس) فوری طور پر متبادل بجلی فراہم کرتے ہیں۔ طویل عرصے تک بجلی کی بندش کی صورت میں بیک اپ جنریٹر اور بجلی کی تقسیم کے نظام مزید بہتراورمضبوط متبادل فراہم کرتے ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر مسلسل کام جاری رکھنے کے لیے کولنگ سسٹم بھی ضروری ہوتے ہیں تاکہ کمپیوٹنگ آلات کے لیے موزوں درجہ حرارت برقرار رکھا جا سکے۔ ہیٹنگ، وینٹی لیشن اور ایئر کنڈیشننگ(ایچ وی اے سی) نظام مرکز کے اندر درجہ حرارت اور ہوا کومنظم کرتے ہیں۔ ہوا کے آنےجانے کو بہتر طریقے سے منظم کرنے والے جدید نظام اور مائع کولنگ سے حرارت کے اخراج کی کارکردگی اور قابل اعتماد کارکردگی مزید بہتر ہوتی ہے۔
اس کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی(آئی ٹی) کا بنیادی ڈھانچہ کمپیوٹنگ کے اہم کام انجام دیتا ہے۔ سرورز معلومات کو پراسیس کرتے اور ڈیجیٹل ایپلی کیشنز چلاتے ہیں۔ اسٹوریج سسٹم ہارڈ ڈسک ڈرائیوز(ایچ ڈی ڈیز) اور سالڈ اسٹیٹ ڈرائیوز (ایس ایس ڈیز) کے ذریعے بڑی تعداد میں ڈیٹا کو محفوظ رکھتے ہیں۔ سکیورٹی سسٹم آلات، نیٹ ورک اور ڈیٹا کو فزیکلی اور ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھتے ہیں۔
روٹرز اور تیز رفتار سوئچز سمیت نیٹ ورکنگ آلات ڈیٹا سینٹر کے اندر اور اس سے باہر ڈیٹا کے تبادلے کو ممکن بناتے ہیں۔ فائبر آپٹک کنکشن ڈیٹا سینٹر اور بیرونی نیٹ ورک کے درمیان تیز رفتار مواصلات فراہم کرتے ہیں۔
آخر میں مینجمنٹ سافٹ ویئر ان تمام نظاموں کی نگرانی کرتا ہے اور کمپیوٹنگ وسائل کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ ورچوئلائزیشن کے ذریعے ایک ہی فزیکل سرور پر متعدد ورچوئل مشینیں چلائی جا سکتی ہیں، جس سے وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہوتا ہے۔ اسے اس طرح سمجھیں کہ ایک بڑے گھر کو کئی الگ الگ فلیٹوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ ورچوئلائزیشن ایک ہی فزیکل کمپیوٹر کے اندر متعدد ورچوئل ’’چھوٹے کمپیوٹر‘‘ چلانے کی سہولت فراہم کرتی ہے، جس سے وسائل کا زیادہ سے زیادہ مؤثر استعمال ممکن ہوتا ہے۔ آٹومیشن ٹولز کام کے بوجھ کو منظم کرتے ہیں، دیکھ بھال میں مدد فراہم کرتے ہیں اور کام کے دوران پیدا ہونے والی خرابیوں کی نشاندہی کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔
آپ کے ایک کلک سے جواب ملنے تک: ڈیٹا سینٹر آپ کی درخواست پر کیسے کام کرتا ہے

ہر ڈیجیٹل درخواست کا آغاز کسی سادہ عمل سے ہوتا ہے، جیسے کوئی ایپ کھولنا، بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم دیکھنا یا کسی دستاویز تک رسائی حاصل کرنا۔ ہمیں جو جواب فوری طور پر موصول ہوتا ہے، اس کے پیچھے یہ درخواست ایک نیٹ ورک کے ذریعے ڈیٹا سینٹر تک پہنچتی ہے، جہاں متعدد نظام مل کر اس پر محفوظ اور مؤثر طریقے سے کارروائی کرتے ہیں۔
سب سے پہلے سیکورٹی کی سطح درخواست کی جانچ کرتی ہے اور نظام کو سائبر خطرات سے محفوظ رکھتی ہے۔ اس کے بعد لوڈ بیلنسر درخواست کو دستیاب سرور کی جانب بھیجتا ہے، جس سے کام کا بوجھ مؤثر انداز میں مختلف سرورز میں تقسیم ہو جاتا ہے۔
ایپلی کیشن سرور درخواست پر کارروائی کرتا ہے اور یہ طے کرتا ہے کہ کس معلومات یا خدمت کی ضرورت ہے۔ ضرورت پڑنے پر یہ ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئی) کے ذریعے دیگر ایپلی کیشنز یا خدمات سے رابطہ کرتا ہے۔
اس کے بعد ڈیٹا بیس سرور مطلوبہ معلومات حاصل کرکے اسے ایپلی کیشن سرور کو واپس بھیج دیتا ہے۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد یہ معلومات دوبارہ نیٹ ورک کے ذریعے سفر کرتے ہوئے صارف کے آلے تک پہنچ جاتی ہیں۔
یہ پورا عمل صرف 1 سے 2 سیکنڈ میں مکمل ہو سکتا ہے، جس سے تیز رفتار اور بلارکاوٹ ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنا ممکن ہوتا ہے۔ باہم مربوط یہ سلسلہ — کنیکٹ → وصول کریں → نیٹ ورک → کارروائی کریں → محفوظ کریں → تحفظ فراہم کریں → جواب دیں — کلاؤڈ خدمات، ای گورننس پلیٹ فارم اور مصنوعی ذہانت(اے آئی) پر مبنی ایپلی کیشنز کو قابل اعتماد انداز میں بڑے پیمانے پر معلومات فراہم کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جدید ڈیٹا سینٹر محض معلومات محفوظ کرنے کی جگہیں نہیں ہیں، بلکہ یہ وہ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ ہیں جو روزمرہ کی آن لائن خدمات کو ممکن بناتا ہے۔
سادہ الفاظ میں: پردے کے پیچھے کام کرنے والی ٹیم
- نیٹ ورک = کوریڈورز اور انٹرکام، یعنی اندرونی راہداریاں اور رابطے کا نظام، جو پوری ٹیم کو آپس میں جوڑتے ہیں تاکہ وہ ایک دوسرے تک معلومات فوری طور پر پہنچا سکیں۔
- سکیورٹی کی سطح = سکیورٹی گارڈ، جو آپ کی درخواست کو داخلے کے وقت محفوظ ہونے کے لیے جانچتا ہے۔
- لوڈ بیلنسر = ٹریفک پولیس، جو آنے والی ڈیجیٹل درخواستوں کی سمت متعین کرتا ہے تاکہ کسی ایک سرور پر کام کا ضرورت سے زیادہ بوجھ نہ پڑے۔
- ایپلی کیشن سرور = باورچی، جو آپ کی درخواست وصول کرتا ہے اور یہ طے کرتا ہے کہ کون سی معلومات یا کون سا طریقہ درکار ہے۔
- اے پی آئی= ویٹر، جو ایک پیغام رساں کے طور پر کام کرتا ہے اور مختلف نظاموں کے درمیان معلومات پہنچاتا ہے۔
- ڈیٹا بیس سرور = ڈیجیٹل خزانہ، جہاں معلومات محفوظ رکھی جاتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر حاصل کی جاتی ہیں۔
|
ہندوستان میں ڈیٹا سینٹرز کی صورتحال
ہندوستان میں ڈیٹا سینٹرز کا سفر ای حکمرانی اور ڈیجیٹل خدمات کے تیزی سے پھیلاؤ کے ساتھ آگے بڑھا ہے۔ آن لائن خدمات کے حوالے سے شہریوں کی بڑھتی ہوئی توقعات کے باعث مضبوط ڈیٹا سینٹر بنیادی ڈھانچے کی ضرورت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نیشنل انفارمیٹکس سینٹر (این آئی سی) نے ملک بھر میں جدید ترین قومی ڈیٹا سینٹرز قائم کیے ہیں۔ ان میں این آئی سی ہیڈکوارٹر، دہلی، پونے، حیدرآباد اور بھونیشور میں قائم مراکز شامل ہیں۔ این آئی سی نے مختلف ریاستی دارالحکومتوں میں 37 چھوٹے ڈیٹا سینٹرز بھی قائم کیے ہیں۔ یہ مراکز مختلف سطحوں پر سرکاری اداروں کو قابل اعتماد ڈیجیٹل خدمات فراہم کرتے ہیں۔ یہ مراکز چوبیس گھنٹے کام کرنے، نظام کے انتظام اور موقع پر موجود ماہر عملے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔

ہندوستان کی تیزی سے پھیلتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت محفوظ اور قابل اعتماد ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی ضرورت میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ ڈیٹا سینٹرز کی نصب شدہ بجلی کی گنجائش 2020 میں تقریباً 375 میگاواٹ تھی، جو اگست 2026 تک بڑھ کر 1.57 گیگاواٹ ہو گئی ہے۔ اندازہ ہے کہ 2030 تک یہ گنجائش مزید بڑھ کر تقریباً 8 گیگاواٹ ہو جائے گی۔ ہندوستان کے ڈیٹا سینٹر شعبے میں تقریباً 70 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری پہلے ہی جاری ہے، جبکہ مزید 90 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری سے متعلق منصوبوں کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس شعبے میں توسیع کے وسیع پیمانے کو ظاہر کرتے ہیں اور سرمایہ کاروں کے مضبوط اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔
ڈیٹا سینٹرز کے لیے سازگار پالیسی ماحول
حکومت نے ہدف پر مبنی پالیسی اور مالیاتی اقدامات کے ذریعے ڈیٹا سینٹرز کے ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط کیا ہے۔ مرکزی بجٹ23-2022 میں ڈیٹا سینٹرز کو ہارمونائزڈ لسٹ آف انفراسٹرکچر میں شامل کیا گیا۔ اس کے ذریعے ڈیٹا سینٹرز کو بنیادی ڈھانچے کا درجہ دیا گیا، جس سے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے لیے قرض تک زیادہ آسان رسائی ممکن ہوئی۔ اس اقدام سے ہندوستان میں ڈیٹا سینٹرز کی صلاحیت بڑھانے اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملا۔
بنیادی ڈھانچے کا درجہ: آسان الفاظ میں
ڈیٹا سینٹرز کو ’بنیادی ڈھانچے کا درجہ‘ دینے کا مطلب ہے کہ انہیں قومی شاہراہوں، ہوائی اڈوں اور بجلی کے گرڈ جیسے اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے برابر سمجھا جائے، جس سے انہیں طویل مدتی قرض آسانی سے اور کم شرح پر حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
مرکزی بجٹ27-2026 میں اہل غیر ملکی کلاؤڈ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے 2047 تک ٹیکس میں چھوٹ کی سہولت بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ یہ ترغیبی سہولت ہندوستان میں قائم ڈیٹا سینٹر کے بنیادی ڈھانچے کو استعمال کرتے ہوئے عالمی سطح پر خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں پر نافذ ہوگی۔ اس کا اطلاق مطلع کردہ غیر ملکی کمپنیوں کے لیے ٹیکس سال 27-2026 سے47-2046 تک ہوگا۔ ان اقدامات سے ڈیٹا سینٹرز اور کلاؤڈ بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں ہندوستان کے سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
ڈیٹا سینٹرز کی ترقی میں معاون متعلقہ اسکیموں کا مربوط نظام
- سیمی کن انڈیا پروگرام کے دوسرے مرحلے (سیمی کن 2.0) کو مرکزی کابینہ نے 15.07.2026 کو منظوری دی۔ انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن (آئی ایس ایم)کے تحت اس کے لیے 1,27,500 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کا مقصد ملک میں ایک جامع، قابل اعتماد اور مضبوط سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام تیار کرنا ہے۔
- انڈیا اے آئی مشن کو ملک میں ایک جامع مصنوعی ذہانت کا ماحولیاتی نظام تیار کرنے کے لیے 10,371.92 کروڑ روپے کے مجموعی بجٹ کے ساتھ منظوری دی گئی ہے۔ اس مشن کے تحت فروغ پانے والا اے آئی ماحولیاتی نظام ہندوستان میں ڈیٹا سینٹرز کی ترقی کا ایک اہم محرک ہے۔
- الیکٹرانکس کمپوننٹس مینوفیکچرنگ اسکیم(ای سی ایم ایس) کے لیے بھی مالی مدد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے لیے مختص رقم 22,000 کروڑ روپے سے بڑھا کر 40,000 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔
- حکومت ہند نے آئی ٹی ہارڈویئر کے لیے پی ایل آئی اسکیم 2.0 بھی شروع کی ہے، جس کا مقصد آئی ٹی ہارڈویئر، جیسے سرورز، کے لیے ایک مضبوط گھریلو مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام تیار کرنا، بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو راغب کرنا، درآمدات پر انحصار کم کرنا اورہندوستان کو عالمی سطح پر ایک قابل اعتماد سپلائی چین مرکز بنانا ہے۔
ڈیٹا سینٹر کےشعبے کو پائیدار بنانا: توانائی اور پانی کی منصوبہ بندی
ڈیٹا سینٹرز کی گنجائش تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے باعث توانائی اور وسائل کے مؤثر استعمال کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ڈیٹا سینٹرز کو مسلسل کام کرنے کے لیے قابل اعتماد بجلی اور مؤثر کولنگ سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے۔ بجلی کی وزارت کے تحت مرکزی بجلی اتھارٹی(سی ای اے) کے مطابق، 32-2031تک بجلی کی طلب 17 گیگاواٹ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس شعبے کے پھیلاؤ کے ساتھ حکومت پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے صاف ستھری توانائی اور وسائل کے مؤثر استعمال کو بھی فروغ دے رہی ہے۔
قابل تجدید اور صاف توانائی
__________________________________________________________________
حکومت کئی اہم اقدامات کے ذریعے قابل تجدید توانائی کو فروغ دے رہی ہے۔ ان میں گرین انرجی اوپن ایکسس رولز، گرین انرجی کوریڈور اسکیم اور نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن شامل ہیں۔ اعلیٰ کارکردگی والے سولر پی وی ماڈیولز سے متعلق قومی پروگرام اور سولر پارک اسکیم بھی صاف توانائی کے استعمال کو فروغ دے رہی ہیں۔ ان اقدامات سے توانائی کی زیادہ کھپت والے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے لیے زیادہ صاف اور قابل اعتماد بجلی تک رسائی بہتر ہوتی ہے۔
ایس ایچ اے این ٹی آئی(شانتی) ایکٹ اور صاف توانائی
__________________________________________________________________
ہندوستان میں جوہری توانائی کے پائیدار استعمال اور ترقی سے متعلق شانتی ایکٹ (Sustainable Harnessing and Advancement of Nuclear Energy for Transforming India – SHANTI Act) صاف توانائی کے نظام کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز سمیت ابھرتے ہوئے شعبوں کے لیے قابل اعتماد جوہری توانائی کی فراہمی میں معاون ہے۔ یہ قانونی ڈھانچہ مستقبل میں سمال ماڈیولر ری ایکٹرز اور مائیکرو نیوکلیئر ری ایکٹرز کے استعمال کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔
ڈیٹا سینٹرز کے لیے بی آئی ایس کے معیارات
_________________________________________________________________________________
بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (بی آئی ایس) نے ڈیٹا سینٹرز کی کارکردگی اور وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے معیارات وضع کیے ہیں۔ اس کی تکنیکی کمیٹی ایل آئی ٹی ڈی-31 کلاؤڈ کمپیوٹنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیٹا سینٹرز سے متعلق امور کا احاطہ کرتی ہے۔ بی آئی ایس نے پاور یوزیج ایفیکٹیو نیس (پی یو ای) اور کاربن یوزیج ایفیکٹیو نیس (سی یو ای) سے متعلق معیارات جاری کیے ہیں۔ ان معیارات میں کولنگ ایفیشنسی ریشو(سی ای آر) اور واٹر یوزیج ایفیکٹیو نیس(ڈبلیو یو ای) بھی شامل ہیں۔
سادہ الفاظ میں
پی یو ای اورڈبلیو یو ای — یہ ایسے ماحولیاتی کارکردگی کے پیمانے ہیں جو بتاتے ہیں کہ کوئی مرکز بجلی اور پانی کا کتنے مؤثر انداز میں استعمال کرتا ہے۔
سی یو ای — یہ بتاتا ہے کہ ڈیٹا سینٹر کے کمپیوٹر جتنی بجلی استعمال کرتے ہیں، اس کے مقابلے میں ڈیٹا سینٹر سے کتنی کاربن آلودگی خارج ہوتی ہے۔
سی ای آر — یہ بتاتا ہے کہ کولنگ سسٹم، جیسے پنکھے، ٹھنڈے پانی کی پائپیں یا مائع کولنٹ، جتنی بجلی استعمال کرتے ہیں، اس کے مقابلے میں پیدا ہونے والی حرارت کو کتنی مؤثر طریقے سے دور کرتے ہیں۔
توانائی اور پانی کے مؤثر استعمال کے معیارات
بیورو آف انرجی ایفیشنسی(بی ای ای) نے انرجی کنزرویشن بلڈنگ کوڈ(ای سی بی سی)2017 کو وضع کیا ہے۔ اس کے علاوہ انرجی کنزرویشن اینڈ سسٹین ایبل بلڈنگ کوڈ(ای سی ایس بی سی) 2024 بھی مطلع کیا گیا ہے۔ ان ضابطوں میں عمارتوں کے لیے توانائی کے مؤثر استعمال اور پانی کے تحفظ کے اصول مقرر کیے گئے ہیں۔ ان میں ڈیٹا سینٹر کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق دفعات بھی شامل ہیں۔
جدید کولنگ اور پانی کا انتظام
ڈیٹا سینٹرز میں پانی کی ضرورت وہاں استعمال کی جانے والی کولنگ ٹیکنالوجی پر منحصر ہوتی ہے۔ صنعتی مقاصد سمیت زیر زمین پانی کے اخراج کو جل شکتی کی وزارت کی جانب سے جاری کردہ رہنما اصولوں کے تحت منظم کیا جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے ڈیٹا سینٹرز میں جدید کولنگ ٹیکنالوجیز کے استعمال کو فروغ مل رہا ہے۔ ان میں ڈائریکٹ ٹو چپ لیکوئڈ کولنگ، ایڈیابیٹک کولنگ اور امَرجن کولنگ شامل ہیں۔ کلوزڈ لوپ لیکوئڈ کولنگ سسٹم بھی وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے ایک بہتر حل کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
مستقل کے لیے لائحہ عمل
ہندوستان میں ڈیٹا سینٹرز کی ترقی مضبوط اور خودمختار ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی سمت میں مسلسل پالیسی پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ ڈیٹا کی خودمختاری، ڈیجیٹل اعتماد، معاشی مسابقت اور تکنیکی خود انحصاری کے لیے تیزی سے اہم ہوتے جا رہے ہیں۔ کلاؤڈ اور مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے جدت اور معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ تاہم اس ترقی کے لیے ڈیٹا، ٹیکنالوجی، توانائی اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے ذمہ دارانہ انتظام کی بھی ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی کے نظم و نسق کا ایک مؤثر طریقہ کار جدت اور سیکورٹی، پائیداری، جواب دہی اور عوامی مفاد کے درمیان توازن قائم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ اس کے لیے مضبوط معیارات، مؤثر سائبر سیکورٹی، ذمہ دارانہ ڈیٹا طریقہ کار اور وسائل کے مؤثر انتظام کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز، توانائی اور اہم ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں ملکی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا بھی ضروری ہے۔ 2047 تک وکست بھارت کے ہدف کی جانب ہندوستان کی پیش رفت کے ساتھ ڈیٹا سینٹرز ڈیجیٹل معیشت کی بنیادی سطح کے طور پر اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
حوالہ جات:
نیتی آیوگ
الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
وزارت خزانہ
وزارت مواصلات
پریس انفارمیشن بیورو
دیگر
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
*****
ش ح۔ م ع ن ۔ص ج
U.No.3401
(ریلیز آئی ڈی: 2310005)
وزیٹر کاؤنٹر : 6