کوئلے کی وزارت
تجارتی کوئلے کی کانوں کی نیلامی: شفافیت کے ذریعے آتم نربھر بھارت کی تعمیر کو مستحکم کرنا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 SEP 2026 11:19AM by PIB Delhi
بھارت میں کوئلے کے بلاکس کی تقسیم کے طریقہ کار میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران بڑی تبدیلی آئی ہے۔ 2014 میں سپریم کورٹ کی جانب سے 204 کوئلے کے بلاکس کی منسوخی کے بعد بلاکس کی تقسیم کا عمل شفاف اور مقررہ قواعد کے مطابق کیا جانے لگا۔ 18 جون 2020 کو وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے تجارتی کوئلے کی کانوں کی نیلامی کا آغاز کیا، جو اس سمت میں ایک اور اہم قدم تھا۔ چھ برس کے دوران یہ نظام کان کنی کے شعبے میں ہونے والی اہم اصلاحات میں شامل ہوگیا ہے۔ اس کے ذریعے صنعت، سرکاری خزانے اور کوئلہ پیدا کرنے والے علاقوں میں رہنے والی آبادی کو شفاف طریقے سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔
نیلامی کے پورے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔ نیلامی کا عمل ایم ایس ٹی سی پلیٹ فارم پر دو مرحلوں میں آن لائن ہوتا ہے۔ نیلامی کے دستاویزات کو بولی دہندگان کے سامنے ہی کھولا جاتا ہے۔ کوئلے کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں ہے اور خودکار طریقے سے 100 فیصد براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت ہے۔ اس کے علاوہ، پیشگی ادائیگی کی رقم بھی کم رکھی گئی ہے اور اسے مستقبل میں حاصل ہونے والی آمدنی کے حصے کے مقابلے میں ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس سے چھوٹی اور نئی کمپنیوں کے لیے بھی اس عمل میں حصہ لینے کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ اس پالیسی کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک 147 کوئلے کی کانوں کی نیلامی ہو چکی ہے اور 44 نئی کمپنیوں نے کوئلے کی کانیں حاصل کی ہیں۔ اس پالیسی سے صرف نجی کمپنیوں ہی کو فائدہ نہیں ہوا بلکہ روایتی سرکاری کوئلہ کمپنیوں نے بھی نیلامی میں حصہ لینا شروع کردیا ہے۔ کول انڈیا کی ذیلی کمپنیاں ویسٹرن کول فیلڈز لمیٹڈ (ڈبلیو سی ایل) اور ناردرن کول فیلڈز لمیٹڈ (این سی ایل) جو اب تک بنیادی طور پر کوئلے کی پیداوار اور فروخت کا کام کرتی رہی ہیں، حالیہ نیلامیوں میں خود بھی کوئلے کے بلاکس کے لیے بولی لگا رہی ہیں۔ وہ نجی کمپنیوں کے ساتھ یکساں شرائط پر مقابلہ کر رہی ہیں۔
نیلام کیے گئے ہر کوئلے کے بلاک سے ریاستوں کو مختلف ذرائع سے آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ اس میں بولی کے ذریعے طے ہونے والا آمدنی کا حصہ، رائلٹی، ضلع معدنی فاؤنڈیشن (ڈی ایم ایف) کی شراکت، نیشنل منرل ایکسپلوریشن ٹرسٹ (این ایم ای ٹی) کی شراکت اور جی ایس ٹی شامل ہیں۔ ڈی ایم ایف کی رقم پی ایم کے کے کے وائی کے ذریعے کان کنی والے اضلاع کی ترقی پر خرچ کی جاتی ہے، جبکہ این ایم ای ٹی کی رقم مستقبل میں معدنیات کی تلاش کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ 2020 سے اب تک نو ریاستوں میں 147 کوئلے کے بلاکس کی نیلامی کی جا چکی ہے۔ ان بلاکس سے ہر سال تقریباً 47,500 کروڑ روپے کی آمدنی، 55,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور 4.9 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا اندازہ ہے۔ مالی سال26-2025میں تجارتی کانوں سے پیشگی ادائیگی اور پریمیم کی مد میں تقریباً 3,090 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی۔
آمدنی میں اضافے کے ساتھ کوئلے کی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صرف تجارتی کانوں سے کوئلے کی پیداوار مالی سال24-2023میں 12.55 ملین ٹن تھی، جو مالی سال25-2024 میں بڑھ کر 23.51 ملین ٹن ہوگئی۔ مالی سال26-2025 میں کیپٹیو اور تجارتی بلاکس سے مجموعی طور پر تقریباً 210 ملین ٹن کوئلہ پیدا ہوا، جو پہلی بار 200 ملین ٹن کی حد سے زیادہ ہے۔ ایک دہائی پہلے یہی پیداوار صرف 28.8 ملین ٹن تھی۔ اس طرح اس عرصے میں کوئلے کی پیداوار میں سالانہ اوسطاً تقریباً 22 فیصد کی مرکب شرح سے اضافہ ہوا۔ ملک میں کوئلے کا ہر اضافی ٹن پیدا ہونے کا مطلب ہے کہ اتنی مقدار میں کوئلہ درآمد کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس طرح یہ نظام کوئلے کے شعبے میں بھارت کو خود کفیل بنانے کی کوششوں کو براہ راست مضبوط کر رہا ہے۔
شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی بولی کا نظام، نئے شرکا کے لیے کھلے مواقع، سرکاری اور نجی کمپنیوں کے لیے یکساں شرائط پر مقابلے کا میدان اور رائلٹی، پریمیم، ڈی ایم ایف اور این ایم ای ٹی کو آمدنی کے ایک جامع نظام میں شامل کرنا، ان تمام اقدامات نے تجارتی کوئلے کی کانوں کی نیلامی کو ایک کامیاب اور سب کے لیے فائدہ مند نظام بنا دیا ہے۔ اس سے ریاستوں کو زیادہ آمدنی، صنعت کو نئے مواقع، مقامی برادریوں کو فائدہ اور ملک کی توانائی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے میں مدد مل رہی ہے۔
********
(ش ح ۔ش ت ۔ت ا )
U. No. 3402
(ریلیز آئی ڈی: 2309975)
وزیٹر کاؤنٹر : 9