ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
جناب بھوپیندریادو نے بھُج میں تغدر (بسٹرڈ) کے تحفظ، گھاس زاروں کی بحالی اور پروجیکٹ چیتا کی پیش رفت کا جائزہ لیا؛ صحرائی پرندہ تغدر کے تحفظ کے لیے گجرات ایکشن پلان جاری کیا
ماحولیاتی تحفظ اسی وقت کامیاب ہوتا ہے ،جب ہم صرف الگ الگ انواع نہیں بلکہ پورے قدرتی ماحول کو بحال کریں: مرکزی وزیر ماحولیات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 SEP 2026 8:51PM by PIB Delhi
ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے آج گجرات کے کچھ علاقہ کے بھُج میں اہم پروگراموں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ میں مشہور ہندوستانی پرندہ تغدر( گریٹ انڈین بسٹرڈ) کے تحفظ کی صورتحال، گھاس کے میدانوں کی بحالی اور پروجیکٹ چیتا سمیت مختلف اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔ اس جائزہ اجلاس میں گجرات حکومت میں جنگلات و ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور سائنس و ٹیکنالوجی کے کابینی وزیر جناب ارجن مودھواڈیا نے بھی شرکت کی۔اس کے علاوہ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی مرکزی وزارت، گجرات محکمہ جنگلات، وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا اور نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی کے سینئر افسران بھی میٹنگ میں موجود تھے۔
اس موقع پر مرکزی وزیر نے زور دے کر کہا کہ تحفظ کی کوششیں صرف کسی ایک نوع تک محدود نہیں رہنی چاہئیں ،بلکہ پورے قدرتی ماحول اور اس سے وابستہ علاقوں کی بحالی پر توجہ دینی چاہیے۔ اس کے لیے سائنسی بنیادوں پر انتظام، رہائش کے قدرتی مقام کی بحالی اور مقامی برادری کی شمولیت کو یکجا کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان پورے قدرتی خطوں کی سطح پر تحفظ کے معاملے میں عالمی معیار قائم کرنے کی سمت میں کام کر رہا ہے۔
جناب یادو نے گجرات میں انتہائی خطرے سے دوچار صحرائی پرندہ گریٹ انڈین بسٹرڈ یعنی تغدر (جی آئی بی) کے تحفظ کے لیے کی جانے والی نئی کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ خطہ گریٹ انڈین بسٹرڈ کی ایک اہم ،لیکن محدود اور الگ تھلگ آبادی کا مسکن ہے۔ وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا نے گجرات محکمہ جنگلات کے تعاون سےمشہور ہندوستانی صحرائی پرندہ تغدر کے تحفظ کے لیے گجرات ایکشن پلان تیار کیا ہے، جسے جاری کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ اس میں سائنسی بنیادوں پر ایک ایسا لائحہ عمل پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد کم از کم 30 پرندوں کی قابل بقا آبادی قائم کرنا اور 200 سے 500 مربع کلومیٹر پر محیط محفوظ اور مسلسل قدرتی مسکن کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوری طور پر تقریباً 200 مربع کلومیٹر پر محیط لالہ-راوا قدرتی خطے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ اس کے تحت قدرتی مسکن کی بحالی، مویشیوں کی چرائی کا بہتر انتظام، نقصان دہ بیرونی پودوں کا خاتمہ، شکاری جانوروں کا انتظام اور بنیادی ڈھانچے سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کرنے جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
جناب یادو نے بتایا کہ اس آبادی کے تحفظ کے لیے زمینی سطح پر پہلے ہی کئی اہم اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نالیا میں حملہ آور پودے پروسوپس جولی فلورا سے متاثر تقریباً 11 مربع کلومیٹر گھاس کے میدان کو بحال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 15 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط علاقے کو 30 کلومیٹر طویل شکاری جانوروں سے محفوظ باڑ لگا کر محفوظ بنایا گیا ہے اور گھونسلوں کو نقصان پہنچانے والے شکاری جانوروں کے خلاف بھی خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ جناب یادو نے مزید زور دیا کہ مشہور ہندوستانی تلور کا تحفظ دراصل کچھ کے کھلے قدرتی ماحولیاتی نظام کے تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہ قدرتی نظام لیسر فلوریکن، چنکارا، صحرائی بلیوں، شکاری پرندوں، گدھوں اور دیگر مخصوص جنگلی حیات کے لیے بھی اہم مسکن فراہم کرتے ہیں۔
جنگل میں موجود مادہ گریٹ انڈین بسٹرڈ یعنی تغدر کے ذریعے دیے گئے ناقابل افزائش(بانجھ) انڈوں کو تحفظ اور افزائش کے پروگرام کے تحت حاصل کیے گئے قابل بقا انڈوں سے تبدیل کرنے کی ایک منفرد اور ابتدائی مداخلت کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ اس کوشش کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ گریٹ انڈین بسٹرڈ کا دوسرا بچہ ہے، جو جنگل میں رہتے ہوئے پہلے تین ماہ کے انتہائی نازک مرحلے سے آگے زندہ رہا ہے۔ انہوں نے اسے گجرات میں اس نوع کی بحالی کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نالیا کے قریب گریٹ انڈین بسٹرڈ کے لیے ایک سافٹ ریلیز سینٹر قائم کیا گیا ہے، جہاں راجستھان سے لائے جانے والے پنجرے میں افزائش کیے گئے پرندوں کو رکھا جائے گا اور انہیں قدرتی ماحول سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ مناسب طریقہ کار اور قدرتی مسکن کے حالات سازگار ہونے کے بعد انہیں بتدریج جنگل میں چھوڑا جائے گا۔
گھاس کے میدانوں کی بحالی کے حوالے سے جناب یادو نے ان کی ماحولیاتی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ گھاس کے میدان ہندوستان کے تقریباً 24 فیصد رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ ملک کے سب سے زیادہ متاثر اور کم محفوظ سمجھے جانے والے قدرتی ماحولیاتی نظاموں میں شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا، انڈین کونسل آف فاریسٹری ریسرچ اینڈ ایجوکیشن اور فاریسٹ سروے آف انڈیا کے تعاون سے نیشنل کیمپا کی مدد سے پانچ سالہ قومی جائزہ لینے کی تجویز ہے۔ اس جائزے سے گھاس کے میدانوں کے انتظام کے لیے قومی سطح کا ایک فریم ورک تیار کرنے کے لیے سائنسی بنیاد فراہم ہوگی۔ اس میں کھلے قدرتی ماحولیاتی نظاموں کی نقشہ سازی، ماحولیاتی جائزہ، بحالی اور بہتر انتظام پر توجہ دی جائے گی، جس میں گجرات کے بنی گھاس کے میدان بھی شامل ہیں۔
پروجیکٹ چیتا کا جائزہ لیتے ہوئے وزیر نے بتایا کہ ہندوستان میں ابتدا میں لائے گئے 29 چیتوں سے اب ان کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب مجموعی تعداد 52 ہو گئی ہے، جن میں ہندوستان میں پیدا ہونے والے 49 بچے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کونو میں چیتے کے بچوں کے زندہ رہنے کی شرح تقریباً 68 فیصد ہے، جو مناسب ماحولیاتی حالات میں چیتوں کی کامیاب آبادی قائم کرنے کی نمایاں صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ جناب یادو نے مزید بتایا کہ کونو نیشنل پارک اور گاندھی ساگر کے مربوط انتظام کے ذریعے چیتوں کے لیے محفوظ قدرتی مسکن کو بڑھا کر 3428 مربع کلومیٹر کر دیا گیا ہے۔ گجرات کے بنی گھاس کے میدانوں اور مدھیہ پردیش کی نوریادھی وائلڈ لائف سینکچری کو مستقبل میں چیتوں کو چھوڑنے کے مقامات کے طور پر بھی نشان زد کیا گیا ہے۔ وزیر نے کہا کہ یہ پروگرام اب بتدریج پورے قدرتی خطے کی سطح پر انتظام کی جانب بڑھ رہا ہے، تاکہ چیتوں کی طویل مدتی بحالی کے لیے مناسب قدرتی مسکن، کافی شکار اور مختلف علاقوں کے درمیان قدرتی رابطے کو یقینی بنایا جا سکے۔
*****
ش ح۔ م ع ن ۔ص ج
U.No.3398
(ریلیز آئی ڈی: 2309971)
وزیٹر کاؤنٹر : 5