سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان حجم کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ویکسین تیار کرنے والا اور عالمی سپلائر ہے: مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ


ہندوستان میں بیماریوں کا تنوع ویکسین کی تحقیق اور وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری کے لیے ایک منفرد برتری فراہم کرتا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری کے معاملے میں ہندوستان ایک دہائی پہلے کی حدود سے کہیں آگے نکل چکا ہے اور مستقبل کی وبائی امراض کے لیے عالمی تیاری میں اپنا تعاون دینے کی صلاحیت رکھتا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ہندوستان ابھرتے ہوئے صحت کے خطرات کے لیے بایومیڈیکل(حیاتیاتی طبی) حل کے عالمی ذخیرے میں حصہ ڈال سکتا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

ہندوستان-سی ای پی آئی شراکت داری نئی نسل کی ویکسین اور عالمی صحت کے تحفظ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 SEP 2026 3:23PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) نیز وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او)، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ حالیہ برسوں میں ہندوستان حجم کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ویکسین تیار کرنے والے اور عالمی سپلائر کے طور پر ابھرا ہے۔ مزید برآں، ہندوستان میں مختلف بیماریوں کی صورتحال اور اس کی بڑھتی ہوئی سائنسی صلاحیتیں ویکسین کی تحقیق، وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری اور عالمی صحت کے لیے حیاتیاتی طبی حل تیار کرنے کے سلسلے میں ایک منفرد پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندوستان نے وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری کے میدان میں ایک دہائی قبل موجود حدود کو عبور کر لیا ہے۔ ملک نے ایک متحرک حیاتیاتی معیشت، ویکسین کی تیاری کی مضبوط صلاحیتیں اور ایسا سائنسی ماحولیاتی نظام تیار کیا ہے جو مستقبل میں وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے عالمی تیاری میں اپنا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ’کولیشن فار ایپیڈیمک پریپرڈنس انوویشنز‘ (سی ای پی آئی) کے بورڈ اور سرمایہ کار کونسل کے لیے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی شام کے استقبالیے سے خطاب کر رہے تھے، جس کا مشترکہ طور پر حکومت ہند کے محکمہ بایوٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) اور سی ای پی آئی نے اہتمام کیا تھا۔ استقبالیے میں سی ای پی آئی کی قیادت، بورڈ اور سرمایہ کار کونسل کے اراکین، پالیسی سازوں، سائنس دانوں، صنعت کے نمائندوں اور ویکسین کی تیاری اور وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری سے وابستہ دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔ نئی دہلی میں سی ای پی آئی کے بورڈ اور سرمایہ کار کونسل کی میٹنگیں ہندوستان میں آخری گورننس میٹنگ کے ایک دہائی بعد منعقد ہو رہی ہیں، جو ہندوستان-سی ای پی آئی شراکت داری کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہیں۔

اس موقع پر سی ای پی آئی اور اس کے شراکت داروں کو مبارک باد دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کے سی ای پی آئی کے ساتھ تعلقات اس کے ابتدائی دور سے ہی قائم ہیں، اور ہندوستان اس کا بانی رکن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دیرینہ اسٹریٹجک شراکت دار بھی ہے۔ انہوں نے ان سائنس دانوں اور اداروں کے تعاون کو بھی سراہا جنہوں نے ہندوستان کی ویکسین اور حیاتیاتی طبی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں مدد کی ہے، جن میں ڈاکٹر راجیش گوکھلے جیسے سینئر سائنسی رہنماؤں کی قیادت میں کام کرنے والی ٹیمیں اور وسیع تر سائنسی برادری شامل ہیں۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان نے وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری اور بایوٹیکنالوجی، دونوں شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک ایک متحرک حیاتیاتی معیشت بن چکا ہے اور اب اس کی صلاحیتوں کو محض ویکسین کی تیاری کے نقطۂ نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ملکی سطح پر تحقیق، مینوفیکچرنگ اور طبی صلاحیتوں کے ساتھ ہندوستان اب ویکسین کی جدید ٹیکنالوجیز اور پیچیدہ حیاتیاتی مصنوعات کے میدان میں بھی پیش رفت کر چکا ہے۔

ہندوستان کی حیاتیاتی معیشت 2025 میں 195.3 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جس میں سالانہ 18 فیصد کی شرح سے اضافہ درج کیا گیا ہے۔ ملک کا بایوٹیک اسٹارٹ اَپ ایکو سسٹم بھی وسعت اختیار کرتے ہوئے 11,855 اسٹارٹ اَپس تک پہنچ گیا ہے، جن میں صرف 2025 میں 1,780 نئے اسٹارٹ اَپس شامل ہوئے۔ بایوفارما شعبہ ہندوستان کی حیاتیاتی معیشت میں تقریباً 30 فیصد کا حصہ رکھتا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کی تبدیلی خاص طور پر ویکسین کے شعبے میں نمایاں ہے۔ پہلے بنیادی طور پر سستی ویکسین تیار کرنے والے ملک کے طور پر معروف ہندوستان نے اب تحقیق اور اختراع سے لے کر جدید حیاتیاتی ٹیکنالوجی(جدید بایو ٹیکنالوجی) اور بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ تک پوری ویلیو چین میں صلاحیتیں پیدا کر لی ہیں۔ ہندوستان 100 سے زیادہ ممالک کو ویکسین فراہم کرتا ہے، دنیا کی تقریباً 60 فیصد ویکسین تیار کرتا ہے اور عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کی ضروریات میں 65 فیصد سے زیادہ حصہ پورا کرتا ہے۔

کووڈ-19 کے تجربے کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے نہ صرف بہت کم وقت میں ویکسین تیار کیں بلکہ انہیں دیگر ممالک اور شراکت داروں تک بھی پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ اس سفر نے ہندوستان کی سائنسی اور تکنیکی صلاحیتوں کے بارے میں دنیا کے تصور میں بڑی تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ ملک کی طاقت صرف اس کی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت اور بڑے پیمانے پر پیداوار میں ہی نہیں، بلکہ بیماریوں کے متنوع بوجھ سے پیدا ہونے والے منفرد سائنسی مواقع میں بھی مضمر ہے۔ ہندوستان کو متعدی بیماریوں کی ایک وسیع رینج کا سامنا ہے، جبکہ غیر متعدی اور میٹابولک امراض کا بڑھتا ہوا بوجھ بھی ایک چیلنج ہے۔ یہ صورتحال وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری کے لیے دوہرا چیلنج پیش کرتی ہے، لیکن ساتھ ہی پیتھوجینز، بیماریوں کے نمونوں اور متعدی و میٹابولک امراض کے درمیان باہمی تعلق کو سمجھنے کے لیے ایک بھرپور سائنسی ماحول بھی فراہم کرتی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یاد کیا کہ بین الاقوامی محققین پہلے ہندوستان کا دورہ اس لیے کیا کرتے تھے تاکہ ان وائرس، بیکٹیریا اور بیماریوں کا مطالعہ کر سکیں جو ان کے اپنے ممالک میں آسانی سے دستیاب نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنوع اب ہندوستان کے لیے ایک اسٹریٹجک سائنسی فائدہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ پیتھوجین تحقیق، ویکسین کی تیاری و ترقی اور وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری کے شعبوں میں جدید صلاحیتوں کو فروغ دینے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔

ڈاکٹر سنگھ نے کہا، ’’بھارت تحقیق کے لیے ایک انتہائی دلچسپ مقام ہے، کیونکہ یہاں مختلف اقسام کے جرثومے موجود ہیں اور ان کا مطالعہ کرنے کے لیے وافر سائنسی صلاحیت بھی موجود ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے پاس نہ صرف اپنی تیاری کو بہتر بنانے بلکہ عالمی علمی ذخیرے اور حیاتیاتی طبی حل کو مزید تقویت دینے میں بھی اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ہے۔

ڈی بی ٹی-بی آئی آر اے سی-سی ای پی آئی شراکت داری اس سائنسی صلاحیت کو ویکسین اور دیگر حیاتیاتی طبی حل میں تبدیل کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ ڈی بی ٹی اور بی آئی آر اے سی، سی ای پی آئی کے ساتھ مل کر، تین فریقی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد مستقبل میں وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری کو مضبوط بنانا اور نئی متعدی بیماریوں کے لیے ویکسین کے شعبے میں ہندوستان کی تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کی صلاحیتوں کو وسعت دینا ہے۔ اس حکمت عملی کو پہلی بار اکتوبر 2019 میں نافذ کیا گیا تھا اور ستمبر 2025 میں اسے مزید پانچ سال کے لیے توسیع دی گئی۔

آئی این ڈی-سی ای پی آئی، بی آر آئی سی-ٹی ایچ ایس ٹی آئی اور بی آئی آر اے سی کے ذریعے نافذ کیا جانے والا ہندوستان پر مرکوز سی ای پی آئی مشن پہلے ہی اہم نتائج دے چکا ہے۔ ان میں ہندوستان کی پہلی ایم آر این اے کووڈ-19 ویکسین، جیم کوو ویک-19، بھی شامل ہے، جسے ہنگامی استعمال کی منظوری حاصل ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ ایک غیر فعال چکن گونیا ویکسین امیدوار بھی شامل ہے، جو اس وقت مرحلہ II/III کے آزمائشی مراحل سے گزر رہا ہے۔ مزید برآں، مونکی پاکس اور پین-ساربیکو وائرس کے لیے ویکسین کے امیدوار تیار کیے جا رہے ہیں، جو ملٹی ویلنٹ سیلف-اسمبلڈ نینوکیج ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں اور قبل از طبی تحقیق کے جدید مراحل میں ہیں۔

اس شراکت داری نے عالمی اہمیت کا حامل مشترکہ بنیادی ڈھانچہ بھی قائم کیا ہے۔ بی آر آئی سی-ٹی ایچ ایس ٹی آئی بایوایسے لیبارٹری کو سی ای پی آئی کی 17 مرکزی نیٹ ورک لیبارٹریوں میں سے ایک کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور اس نے ہندوستان اور کئی دیگر ممالک کے ویکسین تیار کرنے والوں کے لیے مختلف مراحل میں آٹھ ویکسین امیدواروں کے لیے معاونت کی ہے، جس میں قبل از طبی تیاری سے لے کر مرحلہ III کے افادیت کے آزمائشی مراحل تک شامل ہیں۔ اس لیبارٹری نے ویکسین کی تیاری سے متعلق تحقیق کے لیے 100,000 سے زیادہ نمونوں کی جانچ کی ہے۔ بی آر آئی سی-ٹی ایچ ایس ٹی آئی کی حیوانی تجربہ گاہ بھی سی ای پی آئی کے قبل از طبی نیٹ ورک کا حصہ بن گئی ہے۔

اس تعاون کا ایک اور اہم جزو صلاحیت سازی ہے۔ بی آر آئی سی-ٹی ایچ ایس ٹی آئی نے سی ای پی آئی کے تعاون سے ویکسینولوجی کے جدید کورسز منعقد کیے ہیں، جبکہ پی اے سی ٹی پروگرام نے 14 دوست اور پڑوسی ممالک کے 2,400 شرکاء کو آن لائن تربیت فراہم کی ہے، جس سے پورے خطے میں کلینیکل ٹرائلز کی صلاحیتوں کو مزید تقویت ملی ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ تعاون کے اگلے مرحلے کو ان کامیابیوں کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہیے اور ہندوستان کی سائنسی طاقت کو عالمی صحت پر زیادہ مؤثر اثرات مرتب کرنے میں بروئے کار لانا چاہیے۔ امید ہے کہ آئی این ڈی-سی ای پی آئی مشن یونیورسل اور پین پیتھوجین ویکسین کی تیاری و ترقی، جدید بایو مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں اور قومی و عالمی سطح پر وسیع تعاون کے نیٹ ورک کے ذریعے ہندوستان کے حیاتیاتی طبی مداخلتوں کی تیاری کے ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط کرے گا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان اب اپنی سائنسی صلاحیتوں، تحقیقی بنیادی ڈھانچے اور بیماریوں کے تنوع کے ذریعے عالمی تیاری کے فریم ورک میں اپنا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے، جبکہ صحت کے نئے خطرات کا فوری جواب دینے کی اپنی صلاحیت کو بھی مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید سائنس، بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ اور بین الاقوامی شراکت داریوں کا امتزاج ہندوستان کو مخصوص بیماریوں کے پھیلاؤ سے نمٹنے سے آگے بڑھ کر اگلی نسل کی ویکسین اور حیاتیاتی طبی مداخلتوں کے میدان میں پائیدار قیادت کی جانب گامزن ہونے میں مدد دے سکتا ہے۔

مرکزی وزیر نے سائنسی صلاحیتوں کو عملی حل میں تبدیل کرنے کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں، صنعت اور بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان مزید تعاون پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ملاقاتوں کا مقصد محض خیالات کا تبادلہ کرنا نہیں، بلکہ بامقصد شراکت داری اور تعاون کو فروغ دینا ہے، جو وبائی امراض سے نمٹنے کے مشترکہ مقصد کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوں۔

اس طرح یہ تقریب ہندوستان-سی ای پی آئی شراکت داری میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔ اس نے ایک دہائی کے بعد نئی دہلی میں تنظیم کے بورڈ اور سرمایہ کار کونسل کو ایک ساتھ جمع کیا اور ویکسین کی اختراع، وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری اور عالمی صحت کے تحفظ کے شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔

***

UR-3384

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2309847) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , हिन्दी , Tamil