ریلوے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

اگست 2026 میں ہندوستانی ریلوے کی مسافر رابطہ خدمات اور مال برداری کی صلاحیت میں توسیع، مال برداری میں 5.4 فیصد اضافہ


14 امرت بھارت خدمات کو باقاعدہ کیا گیا، سستی ریلوے رابطہ سہولت مضبوط؛ اگست میں اتر پردیش، بہار، گجرات، مہاراشٹر، تمل ناڈو سمیت اہم علاقوں کو جوڑنے والی خدمات میں توسیع

پانچ نئے گتی شکتی کارگو ٹرمینلز شروع، مجموعی تعداد 149 ہوگئی؛ مال برداری میں تیزی سے صنعت اور علاقائی اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 SEP 2026 12:06PM by PIB Delhi

اگست 2026 میں ہندوستانی ریلوے نے ملک بھر میں ریلوے رابطوں اور خدمات میں نمایاں توسیع کی، جس کے ساتھ مسافروں کی آمدورفت اور مال برداری دونوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہ کے دوران 14 امرت بھارت ٹرین خدمات کو باقاعدہ کیا گیا، جس سے کئی اہم روٹس پر مسافروں کو زیادہ سستا اور آرام دہ سفر فراہم ہوا۔ اس کے علاوہ صنعتوں کے لیے آخری مرحلے کی مال برداری کو بہتر بنانے کے مقصد سے پانچ نئے گتی شکتی کارگو ٹرمینلز (جی سی ٹی) شروع کیے گئے۔

ہندوستانی ریلوے کی مال برداری میں 5.4 فیصد اضافہ ہوا، جو معیشت کے اہم شعبوں کی مسلسل طلب کی عکاسی کرتا ہے۔ تہواروں کے موسم میں مسافروں کی بڑھتی مانگ کو پورا کرنے کے لیے اضافی خصوصی ٹرینیں بھی چلائی گئیں۔

مال برداری میں اضافہ، صنعت اور معیشت کو سہارا

ہندوستانی ریلوے نے اگست 2026 میں 137.9 ملین ٹن مال لاد کر بھیجا، جبکہ اگست 2025 میں یہ مقدار 130.9 ملین ٹن تھی۔ اس طرح سالانہ بنیاد پر مال برداری میں 5.4 فیصد اضافہ ہوا۔

مال برداری میں یہ اضافہ کوئلہ، لوہے کی خام دھات، اسٹیل، کھاد اور دیگر اشیا کی بڑھتی طلب کو ظاہر کرتا ہے۔ ریلوے کے ذریعے مال برداری میں اضافہ صنعتوں کو قابل اعتماد نقل و حمل فراہم کرنے کے ساتھ ملک کے مختلف علاقوں میں ضروری اشیا کی ترسیل میں بھی مدد کرتا ہے۔

اگست 2026 میں مال برداری سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اگست 2025 کے مقابلے میں 6.27 فیصد اضافہ ہوا، جو ہندوستانی ریلوے کے مال برداری کاروبار میں مسلسل بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔

اہم اشیا کی مال برداری میں اضافہ

اگست 2026 کے دوران کئی اہم اشیا کی مال برداری میں نمایاں اضافہ درج کیا گیا۔ لوہے کی خام دھات کی لوڈنگ میں 12.1 فیصد، کلنکر میں 10.4 فیصد، گھریلو کنٹینر میں 9.2 فیصد اور کوئلے میں 6 فیصد اضافہ ہوا۔ تیار اسٹیل کی لوڈنگ 4.9 فیصد، معدنی تیل 3.1 فیصد، کھاد 1.6 فیصد اور دیگر اشیا کی لوڈنگ 8.2 فیصد بڑھی۔

ان شعبوں میں اضافہ صنعتوں کے لیے ریل پر مبنی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے ساتھ ملک بھر میں ضروری خام مال اور تیار مصنوعات کی نقل و حرکت میں مدد دے رہا ہے۔ خاص طور پر کنٹینر ٹریفک میں اضافہ مختلف اشیا کی زیادہ مؤثر نقل و حمل میں معاون ہے۔

پانچ نئے گتی شکتی کارگو ٹرمینل شروع

اگست 2026 میں پانچ نئے گتی شکتی کارگو ٹرمینلز (جی سی ٹی) شروع کیے گئے، جس کے بعد 31 اگست 2026 تک ملک میں شروع کیے گئے جی سی ٹی کی مجموعی تعداد 149 ہوگئی ہے۔

نئے ٹرمینلز شیولکھا، گجرات؛ نلی، تمل ناڈو؛ شکتی نگر، اتر پردیش؛ دیوراگرام، مدھیہ پردیش؛ اور برجراج نگر، اڈیشہ میں قائم کیے گئے ہیں۔

گتی شکتی کارگو ٹرمینل نیٹ ورک کی توسیع سے مال برداری کی سہولیات پیداواری اور کھپت کے مراکز کے مزید قریب آرہی ہیں۔ ان ٹرمینلز کے ذریعے سامان کی زیادہ براہ راست اور مؤثر ہینڈلنگ ممکن ہوگی، جس سے غیر ضروری نقل و حرکت کم، لاجسٹکس کی کارکردگی بہتر اور صنعتی و تجارتی مراکز سے مال کی تیز تر ترسیل میں مدد ملے گی۔

جی سی ٹی نیٹ ورک کی توسیع ہندوستان کے وسیع تر لاجسٹکس نظام کے ساتھ ریلوے کے انضمام کو بھی مضبوط کر رہی ہے اور صنعتوں کو ریل کے ذریعے مال برداری کی بہتر سہولت فراہم کر رہی ہے۔

14 امرت بھارت ٹرین خدمات کو باقاعدہ کیا گیا

اگست 2026 میں مسافر رابطوں میں بھی نمایاں توسیع کی گئی۔ ماہ کے دوران 14 امرت بھارت ٹرین خدمات کو خصوصی ٹرین سے باقاعدہ ٹرین میں تبدیل کیا گیا، جس کے بعد امرت بھارت خدمات کی مجموعی تعداد 86 ہوگئی ہے۔

یہ خدمات اتر پردیش، بہار، گجرات، مہاراشٹر، تمل ناڈو اور ملک کے دیگر اہم علاقوں اور بڑے شہروں کو آپس میں جوڑتی ہیں۔ ان میں سوبیدار گنج-لوک مانیہ تلک ٹرمینس، گورکھپور-باندرہ ٹرمینس، گورکھپور-دہلی جنکشن، احمد آباد-بھاگلپور، لوک مانیہ تلک ٹرمینس-پریاگ راج جنکشن، پریاگ راج جنکشن-اودھنا جنکشن اور دھنباد-کوئمبٹور سمیت دیگر خدمات شامل ہیں۔

ان خدمات سے مسافروں کو سفر کے مزید اختیارات، بڑے شہری مراکز اور علاقائی مقامات کے درمیان بہتر رابطہ اور طویل فاصلے کے سستے سفر کی سہولت ملنے کی توقع ہے۔

پوروانچل اور مشرقی اتر پردیش کے لیے گورکھپور سے باندرہ ٹرمینس اور دہلی کی خدمات دو بڑے میٹروپولیٹن علاقوں تک اضافی رابطہ فراہم کرتی ہیں، جس سے روزگار، تعلیم، کاروبار اور خاندانی امور کے لیے سفر کرنے والے مسافروں کو فائدہ ہوگا۔

اسی طرح احمد آباد-بھاگلپور سروس گجرات اور بہار کے درمیان ریلوے رابطے کو مضبوط کرتی ہے، جبکہ دھنباد-کوئمبٹور سروس مشرقی اور جنوبی ہندوستان کے درمیان طویل فاصلے کا رابطہ بہتر بناتی ہے۔ پریاگ راج اور اودھنا اور پریاگ راج اور ممبئی کے درمیان رابطوں سے بھی اتر پردیش سے مغربی ہندوستان کا سفر کرنے والے مسافروں کو مزید اختیارات حاصل ہوئے ہیں۔

امرت بھارت خدمات کی توسیع ہندوستانی ریلوے کی آرام دہ، سستی اور قابل رسائی طویل فاصلے کی ریل خدمات فراہم کرنے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔

مسافروں کی آمدورفت میں بھی اضافہ

ہندوستانی ریلوے نے اگست 2026 میں 67.27 کروڑ مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کی، جبکہ اگست 2025 میں یہ تعداد 64.43 کروڑ تھی۔

مضافاتی مسافر ٹریفک میں خاص طور پر نمایاں اضافہ ہوا اور یہ 9.02 فیصد بڑھ گیا۔ اگست 2026 میں مجموعی طور پر 38.01 کروڑ مضافاتی مسافروں نے سفر کیا، جبکہ اگست 2025 میں یہ تعداد 34.89 کروڑ تھی۔

یہ اضافہ گنجان آباد شہری اور مضافاتی علاقوں میں لاکھوں افراد کو سستی روزانہ نقل و حرکت فراہم کرنے میں ریلوے کے اہم کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

تہوار کے دوران اضافی خصوصی ٹرینیں

تہواروں کے موسم میں مسافروں کی بڑھتی مانگ کو دیکھتے ہوئے ہندوستانی ریلوے نے 25 سے 31 اگست 2026 کے درمیان رکھشا بندھن اسپیشل ٹرینوں کے 144 ٹرپ چلائے، جبکہ 8 سے 14 اگست 2025 کے دوران ایسی خصوصی ٹرینوں کے صرف 48 ٹرپ چلائے گئے تھے۔

خصوصی ٹرین خدمات میں اس نمایاں اضافے سے تہوار کے دوران مسافروں کے لیے اضافی سفری گنجائش دستیاب ہوئی اور معمول کی خدمات پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملی۔ خاص طور پر تہواروں پر اپنے آبائی شہروں اور خاندانوں سے ملنے جانے والے مسافروں کو اس سے فائدہ ہوا۔

ریلوے رابطوں میں توسیع، روزمرہ آمدورفت کو مضبوطی

اگست 2026 کے دوران ہونے والی پیش رفت ہندوستانی ریلوے کی مسافر رابطوں میں توسیع، سفر کے بہتر اختیارات فراہم کرنے، مال برداری کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور بدلتی ہوئی طلب کے مطابق خدمات بہتر کرنے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔

امرت بھارت کی نئی خدمات بڑے شہروں اور علاقائی مراکز کے درمیان سستی طویل فاصلے کی رابطہ سہولت کو وسعت دے رہی ہیں، جبکہ تہواروں کے دوران اضافی ٹرین خدمات موسمی سفری طلب پوری کرنے میں مددگار ہیں۔ اسی طرح گتی شکتی کارگو ٹرمینلز کے پھیلاؤ سے لاجسٹکس نیٹ ورک مضبوط ہو رہا ہے اور صنعتوں کو ریل کے ذریعے مال برداری تک بہتر رسائی مل رہی ہے۔

مسلسل صلاحیت میں اضافے، آپریشنل کارکردگی میں بہتری اور مسافر و مال برداری کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے ذریعے ہندوستانی ریلوے ملک بھر میں ریل سفر کو مزید قابل رسائی بنانے اور علاقائی رابطوں کے ساتھ اقتصادی سرگرمیوں کے ایک اہم محرک کے طور پر ریلوے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :3369  )


(ریلیز آئی ڈی: 2309726) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati