زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
بدری مویشیوں میں او پی یو- آئی وی ایف ٹیکنالوجی سے بچھڑے کی پیدائش: اتراکھنڈ کی دیسی مویشی نسل کے تحفظ اور جینیاتی بہتری کے لیے ایک اہم سنگِ میل
جدید جنین ٹیکنالوجی نے بدری مویشیوں کے جرمپلازم کی افزائش کا ایک نیا راستہ کھولا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 SEP 2026 11:45AM by PIB Delhi
دیسی مویشیوں کی نسلوں کے تحفظ، ان کی تعداد بڑھانے اور جینیاتی بہتری کے حوالے سے ایک اہم حصولیابی کے تحت ایک صحت مند بدری مادہ بچھڑے کی پیدائش ہوئی ہے۔ یہ پیدائش ایک ساہیوال نسل کی گائے میں بدری جنین منتقل کرنے کے بعد اووم پک اپ اور ان وٹرو فرٹیلائزیشن ( او پی یو- آئی وی ایف)ٹیکنالوجی کے ذریعے اکیڈمک ڈیری فارم میں کامیابی سے عمل میں آئی۔ اس مادہ بچھڑے کی پیدائش11 ستمبر 2026 کو ہوئی ۔ بدری مویشی اتراکھنڈ کے ایک اہم دیسی مویشی جینیاتی وسائل ہیں اور انہیں اتراکھنڈ کا ریاستی جانور تسلیم کیا جاتا ہے۔
یہ کامیابی آئی سی اے آر-نیشنل ڈیری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی سی اے آر-این ڈی آر آئی) ، کرنال اور جی بی پنت یونیورسٹی آف ایگریکلچر اینڈ ٹیکنالوجی، پنت نگر، اتراکھنڈ کی مشترکہ کوششوں سے حاصل ہوئی ہے، جسے اتراکھنڈ بائیوٹیکنالوجی کونسل، ہلدی کی جانب سے مالی تعاون فراہم کیا گیا تھا۔ یہ حصولیابی قیمتی بدری جرمپلازم کے تحفظ، تیز رفتاری سے تعداد بڑھانے اور جینیاتی بہتری کے لیے جدید ترین تولیدی بائیوٹیکنالوجی کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔
اس حصولیابی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے آئی سی اے آر-این ڈی آر آئی ، کرنال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر دھیر سنگھ نے کہا کہ او پی یو -آئی وی ایف جیسی جدید تولیدی ٹیکنالوجیز ایلیٹ مادہ جرمپلازم کو تیز رفتاری سے بڑھانے میں مدد کر سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بدری مویشیوں کے لیے منظم نسل کی بہتری اور جرمپلازم کے تحفظ کے پروگراموں کی تیاری میں معاون ثابت ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ یہ کامیاب پیدائش اس نسل کے تحفظ اور جینیاتی بہتری کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی طریقوں کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کرتی ہے۔
جی بی پنت یونیورسٹی کے اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر ایم ایس چوہان کی قیادت اور پہل کے تحت تحقیقی پروگرام کا آغاز 2023 میں ہوا تھا۔ ان کی قیادت میں بدری مویشیوں کے جرمپلازم کے تحفظ اور افزائش کے لیے جدید تولیدی ٹیکنالوجیز قائم کرنے کی خاطر جی بی پنت یونیورسٹی اور آئی سی اے آر-این ڈی آر آئی ، کرنال کے درمیان سائنسی اشتراک شروع کیا گیا۔ گزشتہ تین برسوں میں باہمی تعاون کرنے والی سائنسی ٹیموں نے بدری مویشیوں کے لئے او پی یو – آئی وی ایف ، جنین پروڈکشن اور جنین منتقلی کے طریقہ کار کو قائم کرنے کے لیے کام کیا ہے۔
او پی یو-آئی وی ایف پروگرام کے تحت الٹراساؤنڈ کی رہنمائی میں اووم پک اپ کے ذریعے منتخب جینیاتی طور پر قیمتی بدری ڈونر گایوں سے اووسائٹس (انڈے) جمع کیے گئے۔ جمع کیے گئے انڈوں کو میچور کیا گیا اور بعد میں اتراکھنڈ لائیو اسٹاک ڈیولپمنٹ بورڈ سے حاصل کردہ جینیاتی طور پر اعلیٰ نسل کے بدری سانڈ کے نطفے کا استعمال کرتے ہوئے ان وٹرو فرٹیلائزیشن کیا گیا ۔ اس کے نتیجے میں بننے والے جنین کو کنٹرولڈ لیبارٹری حالات میں تیار کیا گیا اور بعد میں مناسب طریقے سے تیار کی گئی حاصل کنندہ گایوں میں منتقل کیا گیا۔ ایسا ہی ایک بدری جنین کامیابی سے ایک ساہیوال حاصل کنندہ گائے میں منتقل کیا گیا تھا، جس نے بعد میں صحت مند بدری بچھیا کو جنم دیا۔
ایک اور تیار کردہ مخلوط نسل کی حاصل کنندہ ( ریسیپنٹ) گائے سے بھی اگلے 5 سے 7 دنوں میں بدری بچھڑے کی پیدائش متوقع ہے۔
او پی یو-آئی وی ایف کے ذریعے بدری بچھیا کی کامیاب پیدائش اتراکھنڈ میں بدری مویشیوں کے جرمپلازم کے تحفظ، افزائش اور جینیاتی بہتری کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی پروگرام قائم کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ یہ ٹیکنالوجی جینیاتی طور پر اعلیٰ نسل کے مادہ جانوروں سے متعدد جنین پروڈکشن کو ممکن بناتی ہے اور اس طرح روایتی تولیدی طریقوں کے مقابلے میں ایلیٹ جرمپلازم کی افزائش کی رفتار کو بڑھا سکتی ہے۔
اس پروگرام کے تحت ایلیٹ اور زیادہ دودھ دینے والی بدری گایوں کی کلوننگ کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ باہمی تعاون کرنے والی ٹیم نے جاری تحقیق کے متعدد مراحل کے ذریعے کامیابی کے ساتھ کلون شدہ بدری جنین تیار کر لیے ہیں۔ اگلے مرحلے میں، او پی یو- آئی وی ایف اور کلوننگ سے تیار کردہ جنین کو موزوں ساہیوال، مخلوط نسل اور بدری حاصل کنندہ گایوں میں منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان کوششوں کا مقصد اعلیٰ بدری جرمپلازم کی افزائش کو تیز کرنا اور اس مقامی نسل کے طویل مدتی تحفظ اور جینیاتی بہتری میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔
یہ حصولیابی ہمالیائی خطے میں مویشیوں کی پائیدار ترقی کے لیے جدید تولیدی بائیوٹیکنالوجی کے ساتھ مقامی جینیاتی وسائل کو یکجا کرنے کی صلاحیت کو اجاگر کرتی ہے۔ بدری او پی یو – آئی وی ایف بچھیا کی کامیاب پیدائش اتراکھنڈ میں تحفظ، جینیاتی بہتری اور ایلیٹ بدری جرمپلازم کی وسیع پیمانے پر منتقلی کے لیے باہمی تعاون کی کوششوں کو وسعت دینے کے لیے ایک بنیاد فراہم کرتی ہے۔
آئی سی اے آر-این ڈی آر آئی، کرنال اور جی بی پنت یونیورسٹی آف ایگریکلچر اینڈ ٹیکنالوجی، پنت نگر مویشیوں کی مقامی نسلوں کے تحفظ، جینیاتی بہتری اور پائیدار استعمال کے لیے مشترکہ تحقیقی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے اقدامات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
**************
(ش ح- ن ا)
U.N:3339
(ریلیز آئی ڈی: 2309434)
وزیٹر کاؤنٹر : 6