سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

صفائی کارکن سے خود کفیل کاروباری بننے تک: نمستے-سوی کے تحت اجے کمار کا سفر

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 SEP 2026 5:10PM by PIB Delhi

مالی امداد، مشینی سہولیات اور عزم و حوصلے کے ذریعے برسوں کے عملی تجربے کو پائیدار ذریعۂ معاش میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ سوچھتا ادیمی یوجنا (ایس یو وائی) کے تحت حاصل ہونے والی مدد سے جناب اجے کمار نے اپنی صفائی خدمات کو وسعت دی، آمدنی میں اضافہ کیا اور اپنے کنبے کے لیے زیادہ محفوظ مستقبل کی جانب قدم بڑھایا۔

نمستے اسکیم کے ایس یو وائی حصے کے تحت ذریعۂ معاش کی معاونت کے موثرثابت ہونے کی ایک مثال پیش کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 39 سالہ صفائی کارکن جناب اجے کمار، جو درج فہرست ذات- والمیکی برادری سے تعلق رکھتے ہیں،انہوں نے اترپردیش کے غازی آباد میں مشینی صفائی کے اپنے کام کو وسعت دی ہے۔

اس امداد کی بدولت وہ ماہانہ تقریباً 30 ہزار سے 35 ہزار روپے کما رہے ہیں۔ اس آمدنی سے وہ اپنی بیٹیوں کی تعلیم کا خرچ اٹھانے کے ساتھ اپنی والدہ کے مسلسل طبی علاج کے اخراجات بھی پورے کر رہے ہیں۔

جناب اجے کمار اترپردیش کے غازی آباد میں موہن نگر کی راجیو کالونی کے رہنے والے ہیں۔ خاندان کی کمزور مالی حالت کے باعث وہ صرف آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کر سکے۔ انہیں کم عمری میں ہی یہ احساس ہو گیا تھا کہ گھر کی آمدنی میں تعاون دینا ضروری ہے، چنانچہ انہوں نے کنبے کی ذمہ داریوں میں ہاتھ بٹانے کے لیے کام شروع کر دیا۔

وقت گزرنے کے ساتھ وہ صفائی سے متعلق کام سے وابستہ ہو گئے اور سیور اور سیپٹک ٹینک کی صفائی کے کام میں عملی تجربہ حاصل کیا۔ وہ کئی برسوں سے صفائی خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس وقت موہن نگر کے علاقے میں میونسپل کارپوریشن غازی آباد کے تحت ٹریکٹر اور سیور سکشن سے متعلق کام کرتے ہیں اور آس پاس کے علاقوں میں خدمات فراہم کرتے ہیں۔

مسلسل محنت کے باوجود اس کام سے حاصل ہونے والی آمدنی اکثر بڑھتے ہوئے گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوتی تھی۔ محدود تعلیمی قابلیت، باقاعدہ تکنیکی تربیت کی کمی، مالی وسائل تک محدود رسائی اور صفائی کے کام پر کنبے کے بنیادی ذریعۂ معاش کے طور پر انحصار نے کاروبار کو وسعت دینے اور طویل مدتی مالی استحکام حاصل کرنے کے امکانات کو محدود کر رکھا تھا۔

ان مشکلات کے باوجود جناب اجے کمار ازخود روزگار کے ذریعے اپنے ذریعۂ معاش کو مستحکم بنانے کے خواہش مند تھے۔ وہ آمدنی کا ایک مستحکم ذریعہ قائم کرنا، اپنی بیٹیوں کو معیاری تعلیم اور بہتر مواقع فراہم کرنا اور اپنے خاندان کی عزت و اعتماد کے ساتھ کفالت کرنا چاہتے تھے۔

ان کی ذمہ داریاں اس وقت مزید بڑھ گئیں جب ان کے ساتھ رہنے والی ان کی والدہ کو باقاعدگی سے ڈائیلاسس کرانا پڑا۔ ان کے علاج، ادویات اور طبی نگہداشت کے اخراجات نے کنبے پر مالی بوجھ میں نمایاں اضافہ کر دیا۔ اس کے ساتھ انہیں اپنی اہلیہ اور تین بیٹیوں کی کفالت اور بچوں کی تعلیم و دیگر گھریلو ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری بھی نبھانی تھی۔

ان کی اہلیہ گھریلو خاتون ہیں اور گھر کے امور سنبھالتی ہیں۔ ان کی سب سے بڑی بیٹی 13 سال کی ہے اور چوتھی جماعت میں زیرِ تعلیم ہے، دوسری بیٹی 11 سال کی ہے اور تیسری جماعت میں پڑھتی ہے، جبکہ سب سے چھوٹی بیٹی تین سال کی ہے۔ خاندان کے واحد کمانے والے فرد کی حیثیت سے جناب اجے کمار پر روزمرہ کے گھریلو اخراجات، بیٹیوں کی تعلیم اور والدہ کے طبی علاج کی ذمہ داری ہے۔

ایک اہم تبدیلی وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات، حکومتِ ہند کی نمستے اسکیم کے تحت سوچھتا ادیمی یوجنا کے حصے سے حاصل ہونے والی امداد کے ذریعے آئی۔ انہیں ٹریکٹر-کم-سیور سکشن مشین خریدنے اور اپنی صفائی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے ابتدائی سرمایہ جاتی سبسڈی فراہم کی گئی۔ یہ مالی امداد 11 اکتوبر 2021 کو جاری کی گئی۔

منصوبے کی کل لاگت 11,34,000 روپے تھی، جس میں 7,25,500 روپے کا قرض اور 4,08,500 روپے کی ابتدائی سرمایہ جاتی سبسڈی شامل تھی۔ ان کی ماہانہ قسط 11,460 روپے ہے، جبکہ قرض کی بقایا رقم 1,03,000 روپے رہ گئی ہے۔ مشینی آلات کی مدد سے انہیں موہن نگر علاقے میں میونسپل کارپوریشن غازی آباد کے تحت اپنے کام کی کارکردگی اور دائرۂ کار کو بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔

اس امداد کے بعد ان کی ماہانہ آمدنی بڑھ کر تقریباً 30 ہزار سے 35 ہزار روپے ہو گئی۔ ماہانہ قسط ادا کرنے، کام کے اخراجات پورے کرنے اور گھریلو ضروریات سنبھالنے کے بعد بھی وہ ہر ماہ تقریباً 10 ہزار سے 20 ہزار روپے بچانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ اس بہتری سے خاندان کی مالی حالت مضبوط ہوئی ہے اور مجموعی معیارِ زندگی بھی بہتر ہوا ہے۔

آمدنی میں اضافے سے جناب اجے کمار اب گھریلو اخراجات زیادہ آسانی سے پورے کر پا رہے ہیں، اپنی بیٹیوں کی تعلیم کے لیے بہتر سہولت فراہم کر رہے ہیں اور اپنی والدہ کے ڈائیلاسس اور دیگر طبی اخراجات بھی مسلسل برداشت کر رہے ہیں۔ مشینی آلات تک رسائی نے انہیں زیادہ اعتماد اور مستحکم و باوقار ذریعۂ معاش بھی فراہم کیا ہے۔

جناب اجے کمار کا سفر صفائی کارکنوں کے لیے بروقت ذریعۂ معاش کی مدد کے تبدیلی لانے والے اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔ نمستے-سوی کے تحت حاصل ہونے والی معاونت کے ذریعے انہوں نے برسوں کے تجربے کو خودکے روزگار کے ایک مضبوط موقع میں تبدیل کیا ہے اور اپنی بیٹیوں اور کنبے کے محفوظ مستقبل کے لیے مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔

مدد اور تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جناب اجے کمار نے کہا:

بہتر ذریعۂ معاش کے مواقع کی بدولت اب میں اپنے خاندان کی کفالت، اپنی بیٹیوں کی تعلیم اور اپنی والدہ کی باعزت اور پُراعتماد انداز میں دیکھ بھال کرنے کے قابل ہوں۔

یہ اقدام صفائی کارکنوں میں مشینی کاری، ذریعۂ معاش میں بہتری، وقار اور بااختیاری کو فروغ دینے کے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ جناب اجے کمار کی پیش رفت اس بات کی مثال ہے کہ ادارہ جاتی تعاون اور پیداواری وسائل تک رسائی کے ذریعے عزم و حوصلے کو مزید مضبوط بنا کر زندگی میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

******

(ش ح ۔ ش ب ۔ م ا)

UR. No-3324


(ریلیز آئی ڈی: 2309269) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil