دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

خشک خطوں کو مضبوط اداروں، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے اور اجتماعی اقدامات کے ذریعے نئے انداز میں تشکیل دینا ہوگا: سکریٹری، محکمہ اراضی وسائل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 SEP 2026 4:27PM by PIB Delhi

محکمہ اراضی وسائل (ڈی او ایل آر) کے سکریٹری جناب نریندر بھوشن نے خشک سالی کے وقوع پذیر ہونے کے بعد اس سے نمٹنے کے بجائے مربوط واٹرشیڈ ترقی، ٹیکنالوجی اور عوامی شمولیت کے ذریعے مستحکم خشک خطوں کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا۔ وہ نئی دہلی کے نیشنل ایگریکلچرل سائنس کمپلیکس (این اے ایس سی) میں ’ڈرائی لینڈ کانگریس 2026‘ کے پارٹنر اسپاٹ لائٹ پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ پروگرام کا موضوع تھا: ’’خشک علاقوں کی ازسرنو تشکیل: موسمیاتی تبدیلی کے مقابل  مضبوط مستقبل کے لیے ادارے، ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ اور اجتماعی اقدام‘‘۔

نئی دہلی میں 10 ستمبر سے منعقد ہونے والی ڈرائی لینڈ کانگریس 2026 خشک علاقوں میں زراعت کے مستقبل پر غور و خوض کے لیے ایک اہم بین الاقوامی پلیٹ فارم کے طور پر ابھری ہے۔ کانگریس میں 25 سے زائد ممالک کے 800 سے زیادہ شرکاء نے شرکت کی، جن میں سائنس داں، پالیسی ساز، ترقیاتی شراکت دار، صنعت کے نمائندے، ماہرین تعلیم، سول سوسائٹی کی تنظیمیں اور کسان شامل ہیں۔ شرکاء نے معلومات اور تجربات کا تبادلہ کیا اور خشک علاقوں میں مضبوط اور پائیدار زرعی نظام کے قیام کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور پالیسی پر مبنی طریقۂ کار پر غور کیا۔

جناب بھوشن نے کہا کہ ’’خشک علاقے بنجر زمینیں نہیں ہیں‘‘ بلکہ یہ زندہ اور پیداواری خطے ہیں، جن کی صلاحیت موسمی تغیرات کے باعث محدود ہوتی ہے۔ بارانی زراعت تقریباً 6.139 کروڑ ہیکٹر رقبے پر محیط ہے، جو ہندوستان کے خالص زیرکاشت رقبے کا 43 فیصد ہے، اور ملک کی مجموعی غذائی پیداوار میں تقریباً 40 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔

مربوط طرزِ انتظامِ اراضی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’اگر ہم زمین کے ماحولیاتی نظام کو بحال کرتے ہیں تو ہم آبی چکر کو بحال کرتے ہیں اور اگر ہم آبی چکر (واٹر سائیکل )کو بحال کرتے ہیں تو ہم لوگوں کے ذریعۂ معاش کو بحال کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ واٹرشیڈ کا طریقۂ کار خشک علاقوں کے لیے خاص طور پر موزوں ہے، کیونکہ اس میں زمین، پانی، نباتات اور لوگوں کے ذرائعٔ معاش کو ایک مربوط نظام کے طور پر شامل کیا جاتا ہے۔

جناب بھوشن نے محکمہ اراضی وسائل(ڈی او ایل آر) کے زیرانتظام پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا کے واٹرشیڈ ڈیولپمنٹ کمپوننٹ (ڈبلیو ڈی سی- پی ایم کے ایس وائی) کی خدمات اور کردار کو اجاگر کیا۔ گزشتہ 12 برسوں کے دوران تقریباً 3.4 کروڑ ہیکٹر رقبے پر محیط 7,602 واٹرشیڈ ترقیاتی منصوبے نافذ کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں تقریباً 9 لاکھ آبی ذخیرہ کرنے کے ڈھانچے تعمیر یا بحال کیے گئے، تقریباً 20 لاکھ ہیکٹر رقبے کو حفاظتی آبپاشی کی سہولت فراہم کی گئی، تقریباً 60 لاکھ کسان مستفید ہوئے، 6.7 کروڑ انسانی یومِ کار پیدا ہوئے اور 3 لاکھ ہیکٹر رقبے میں شجرکاری کی گئی۔

جناب بھوشن نے کہا کہ واٹرشیڈ ترقی کو قدرتی سرمائے میں سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ مکمل کیے گئے منصوبوں سے تقریباً 2:1 کا فائدہ و لاگت تناسب سامنے آیا ہے، جبکہ زیر زمین پانی، زیر کاشت رقبے، فصلوں کی   گھنے پن ، دودھ کی پیداوار اور کسانوں کی آمدنی میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔

ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واٹرشیڈ ترقی کو ’’جی آئی ایس سے انٹیلی جنس کی جانب یعنی یہ جاننے سے کہ کوئی اثاثہ کہاں موجود ہے، اس مرحلے تک پہنچنا ہوگا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا پورا خطہ زیادہ پائیدار بن رہا ہے یا نہیں۔‘‘ مجوزہ واٹرشیڈ پورٹل ایک مربوط ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ فراہم کرے گا، جس میں واٹرشیڈ منصوبوں کے مکمل دورانیۂ کار کا احاطہ کیا جائے گا اور اہم جغرافیائی معلوماتی ڈیٹا سیٹس کو شامل کیا جائے گا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’ڈیجیٹل ذرائع شواہد فراہم کر سکتے ہیں، ادارے ایک مضبوط فریم ورک فراہم کر سکتے ہیں، جبکہ کمیونٹیز اس عمل کی ملکیت اور ذمہ داری سنبھالتی ہیں۔‘‘

حکومتوں، تحقیقی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور مقامی برادریوں کے درمیان مضبوط شراکت داری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جناب بھوشن نے کہا کہ ہندوستان کے پاس ایک ایسے قابلِ توسیع ہندوستانی خشک خطہ ترقیاتی روڈ میپ کی تیاری کا موقع ہے، جو زمین کے ماحولیاتی نظام کی بحالی اور دیہی خوشحالی کا ایک عالمی نمونہ پیش کر سکتا ہے اور ’وکست بھارت@2047‘ کے وژن میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ واٹرشیڈ کو ’’محض کسی منصوبے کی حدود سے کہیں زیادہ‘‘ بنانا ہوگایعنی ایسا پلیٹ فارم جو قدرتی سرمائے کی بحالی، پانی کے تحفظ، زراعت کو مضبوط بنانے، روزگار اور ذریعۂ معاش پیدا کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کے مقابل استحکام پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو۔

 

*****

ش ح۔ م م۔ ش ب ن

U.No. 3319


(ریلیز آئی ڈی: 2309201) وزیٹر کاؤنٹر : 16
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil