سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
وسطی گنگا کے میدانی علاقے میں آبی وسائل کے انتظام میں بکھیرا جھیل کی تلچھٹ مددگار ثابت ہو سکتی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
10 SEP 2026 4:41PM by PIB Delhi
ایک نئی تحقیق میں سنت کبیر نگر میں واقع بکھیرا جھیل کے نیچے جمع تلچھٹ میں موجود مقناطیسی معدنیات کا 25 ہزار سال کے عرصے کے دوران مطالعہ کیا گیا۔ اس تحقیق سے ماضی میں آب و ہوا میں ہونے والی تبدیلیوں کا سراغ لگانے میں مدد ملی ہے اور یہ جاننے میں بھی مدد ملی ہےکہ ان تبدیلیوں نے شمالی ہندوستان میں بارش، چٹانوں کے موسمی اثرات سے ٹوٹ پھوٹ، تلچھٹ کی منتقلی اور جھیل کے عمل کو کس طرح متاثر کیا۔
یہ تحقیق مستقبل میں مانسون کے رویے کی پیش گوئی کے لیے زیادہ بہتر موسمیاتی ماڈل تیار کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہے اور وسطی گنگا کے میدانی علاقے میں آبی وسائل کے بہتر انتظام وانصرام میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جس کا حصہ بکھیرا جھیل بھی ہے۔
وسطی گنگا کا میدانی علاقہ ہندوستانی موسم گرما کے مانسون سے متاثر ہونے والے اہم ترین خطوں میں سے ایک ہے اور زرعی سرگرمیوں کے لحاظ سے بھی اس کی خاص اہمیت ہے۔
وسطی گنگا کے میدانی علاقے سے طویل مدتی اور اعلی ریزولوشن والے قدیم آب و ہوا کے ریکارڈ بہت کم دستیاب ہیں۔ اس سے قبل کی زیادہ تر تحقیقات حیاتیاتی اشاریوں پر مرکوز رہی ہیں یا صرف ہولوسین دور تک محدود رہی ہیں۔
اس خلا ءکو دور کرنے کے لیے محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی)کے ایک خود مختار ادارے بربل ساہنی انسٹی ٹیوٹ آف پیلیوسائنسز (بی ایس آئی پی) کے محققین نے اس بات کا جائزہ لیا کہ آیا بکھیرا جھیل کی تلچھٹ میں محفوظ ماحولیاتی مقناطیسی خصوصیات ہولوسین سے پہلے، یعنی آخری برفانی عروج کے زمانے سے، مانسون میں ہونے والی تبدیلیوں کا مسلسل اور قابل اعتماد ریکارڈ فراہم کر سکتی ہیں۔
بکھیرا جھیل گھاگھرا-راپتی کے آبی تلچھٹی نظام میں واقع ہے اور یہ ایک مستقل پانی والی آکسبو جھیل یا سیلابی میدان کی آبی زمین ہے، جو راپتی دریا کے بہاؤ میں تبدیلی اور اس کے بعد دریا کے ایک حصے کے مرکزی دھارے سے الگ ہونے کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔ اتر پردیش کی سب سے بڑی آبی زمینوں میں سے ایک ہونے کے ناطے اسے 2022 میں رامسر سائٹ قرار دیا گیا تھا۔ اس کا سیلابی میدان اور جھیل پر مشتمل جغرافیائی ماحول جھیل اور اس کے اردگرد کے آبی ذخیرے سے آنے والی تلچھٹ کے جمع ہونے اور محفوظ رہنے کے لیے موزوں ہے۔ اس وجہ سے یہ مانسون کے باعث بہنے والے پانی، تلچھٹ کی منتقلی اور چٹانوں کے موسمی اثرات سے ٹوٹ پھوٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کے لیے حساس ہے۔
اس کے علاوہ، بکھیرا جھیل کی تلچھٹ کا سلسلہ تقریباً 25 ہزار سال پہلے تک پھیلا ہوا ہے اور اسے ایکسیلیریٹر ماس اسپیکٹرو میٹری (اے ایم ایس) کے ذریعے ریڈیو کاربن کی سات تاریخوں سے متعین کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ وسطی گنگا کے میدانی علاقے میں قدیم چوتھائی دور کے ماحولیاتی اور موسمی تغیرات کا مطالعہ کرنے کے لیے نسبتاً بہتر تاریخ بندی پر مبنی زمینی ریکارڈ فراہم کرتا ہے۔
اس جھیل سے ماحولیاتی مقناطیسی پیمائش ہائیڈرولوجی ، کٹاؤ ، تلچھٹ کے ان پٹ اور پیڈوجینک عمل میں تغیرات کو ریکارڈ کرکے ماضی کی آب و ہوا اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی تعمیر نو کے لیے قیمتی پراکسی فراہم کر سکتی ہے ۔ ایک اچھی طرح سے محفوظ تلچھٹ کی ترتیب اور تکمیلی ملٹی پراکسی ڈیٹا سیٹس کی دستیابی نے اس تحقیقات کی مزید حوصلہ افزائی کی ۔
ماحولیاتی مقناطیسی خصوصیات کو ذرات کے حجم، جیو کیمیکل اور مٹی کے معدنیاتی ریکارڈ کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے نزاکت علی، ساجد علی، بسواجیت ٹھاکر اور انوپم شرما نے آخری برفانی عروج کے زمانے سے لے کر موجودہ دور تک ہندوستانی موسم گرما کے مانسون (آئی ایس ایم) میں ہونے والی تبدیلیوں کی تشکیل نو کی۔
اس ریکارڈ میں آب و ہوا سے متعلق کئی اہم واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں آخری برفانی عروج کا زمانہ، ہینرک اسٹیڈیئل 1 (ایل جی ایم؛ تقریباً 25.3 سے 18.1 ہزار سال قبل، جب سرد اور خشک حالات کے ساتھ ہندوستانی موسم گرما کا مانسون (آئی ایس ایم) کمزور تھا)، بولنگ-ایلرڈ (بی/اے؛ تقریباً 15.3 سے 12.8 ہزار سال قبل، نسبتاً گرم اور مرطوب دور جس کے دوران آئی ایس ایم کی سرگرمی میں اضافہ ہوا)، ینگر ڈرایاس (وائی ڈی؛ تقریباً 12.8 سے 11.1 ہزار سال قبل، جس کی خصوصیت دوبارہ سرد اور خشک حالات اور کمزور مانسون سے تھی)، ہولوسین موسمیاتی عروج (ایچ سی او؛ تقریباً 9.2 سے 4 ہزار سال قبل، جب نسبتاً گرم اور مرطوب حالات غالب تھے اور مانسون کی بارش اور مٹی کی تشکیل کے عمل میں اضافہ ہوا) اور ہولوسین کے اواخر میں آنے والے خشک سال(تقریباً 4 سے 2 ہزار سال قبل، نسبتاً خشک حالات اور مانسون کی شدت میں کمی کا دور) شامل ہیں۔یہ ریکارڈ اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ ان موسمیاتی واقعات نے شمالی ہندوستان میں بارش، چٹانوں کے موسمی اثرات سے ٹوٹ پھوٹ، تلچھٹ کی منتقلی اور جھیل کے قدرتی عمل کو کس طرح متاثر کیا ہے۔

تصویر1: بکھیرا جھیل کا محل وقوع اور ارضیاتی و جغرافیائی خاکہ، جس میں نمونے لینے کی جگہ، اردگرد کا نکاسی آب کا نظام، اہم ارضیاتی اکائیاں اور علاقائی بلندی کو دکھایا گیا ہے۔
اس تحقیق میں اے ایم ایس ریڈیو کاربن کی سات تاریخوں کو متعدد ماحولیاتی مقناطیسی پیمانوں کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے اور اسی کور سے پہلے شائع کیے گئے تلچھٹی اور جیو کیمیکل اعداد و شمار کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ مطالعہ ہندوستانی موسم گرما کے مانسون میں طویل مدتی تبدیلیوں کی ایک مستند تشکیل نو پیش کرتا ہے، جو موجودہ بدلتے ہوئے موسمیاتی حالات اور زراعت پر مبنی ہمارے نظام کے لیے نہایت اہم ہے۔
پیلیو جیوگرافی، پیلیوکلیمٹولوجی، پیلیو ایکولوجی میں شائع ہونے والی یہ تحقیق اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ آلات کے ذریعے موسمی ریکارڈ دستیاب ہونے سے بہت پہلے قدرتی موسمیاتی تبدیلیوں کے جواب میں ہندوستانی موسم گرما کے مانسون میں کس طرح تبدیلیاں آئیں ہیں۔ ایسے ادوار میں موسمیاتی تبدیلیوں کے براہ راست شواہد دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کا مطالعہ بالواسطہ اشاریوں پر مبنی تحقیق کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے طویل مدتی ریکارڈ قدرتی موسمیاتی تغیرات اور حالیہ انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے درمیان فرق واضح کرنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
ان نتائج سے موسمیاتی ماڈلوں کو بہتر بنانے، مستقبل میں مانسون کے رویے کی پیش گوئی کرنے اور بارش کے بدلتے ہوئے انداز کے جواب میں دریاؤں اور جھیلوں کے نظام میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے اہم بنیادی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ یہ مطالعہ گنگا کے میدانی علاقے میں آبی وسائل کے بہتر انتظام و انصرام، زراعت، سیلاب اور خشک سالی سے نمٹنے کی منصوبہ بندی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی مددگار ہے، جہاں لاکھوں افراد براہ راست مانسون کی بارش پر انحصار کرتے ہیں۔
اشاعتی لنک: https://doi.org/10.1016/j.palaeo.2026.114028
******
ش ح۔م م ع۔اش ق
U. No. 3271
(ریلیز آئی ڈی: 2308814)
وزیٹر کاؤنٹر : 6