کامرس اور صنعت کی وزارتہ
عالمی تجارت میں خواتین کی زیر قیادت کاروباری اداروں کے لیے مواقع بڑھانے کی خاطر بھارت برکس شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا: تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل
جناب گوئل نے مشترکہ برکس تجارتی پلیٹ فارم قائم کرنے، نمائشوں اور خریدار و فروخت کنندگان کی ملاقاتوں میں خواتین کی ملکیت والے کاروباری اداروں کی زیادہ شرکت پر زور دیا
برکس ممالک خواتین کی ترقی کے فنڈ کو ایک ٹھوس اقدام میں تبدیل کریں: جناب گوئل
جناب گوئل نے برکس ممالک کے درمیان پیشگی اندازے پر مبنی ضوابط، تجارتی دستاویزات کی ڈیجیٹل سہولت اوروسیع خدمات کی تجارت کو فروغ دینے پر زور دیا
عالمی تجارتی مشکلات کے باوجود اپریل -اگست کے دوران بھارت کی اشیا ءکی برآمدات میں 15 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا: جناب گوئل
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 SEP 2026 10:23PM by PIB Delhi
تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے آج برکس ممالک سے اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی تجارت میں خواتین کاروباری افراد اور خواتین کی زیر قیادت کاروباری اداروں کے لیے مواقع بڑھانے کے لیے مل کر کام کریں۔ انہوں نے قرض تک آسان رسائی، منڈیوں تک رسائی اور کاروبار کے لیے قابل اعتماد اور پیشگی اندازے پر مبنی ضوابط کی ضرورت پر زور دیا۔ نئی دہلی میں برکس ڈبلیو بی اے خواتین کی قیادت میں ترقی کانفرنس سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی کاروبار میں قدم رکھنے والے کسی بھی کاروباری شخص کو تین اہم رکاوٹیں -قرض تک رسائی، خریداروں اور منڈیوں تک رسائی اور ایسے قابل اعتماد ضوابط تک رسائی جو آزاد تجارت کو فروغ دیں اور نئے مواقع پیدا کریں، عبور کرنا پڑتی ہیں۔
جناب گوئل نے کہا کہ بھارت خواتین کاروباری افراد، خصوصا خواتین کاروباری افراد کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے اپنے تجربات سے حاصل ہونے والی بصیرت کو برکس کے خواتین کاروباریوں کے اتحاد اور برکس کے وسیع تر کاروباری تعاون کے سامنے رکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے خواتین کو مالی طور پر بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ سماجی طور پر مضبوط بنانے، تعلیم، ہنر اور معیار زندگی میں بہتری کے ذریعے انہیں بااختیار بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے، جس کا مقصد خواتین کو ملک کی ترقی کا محرک بنانا ہے۔
خواتین کے درمیان مالی شمولیت کو وسعت دینے میں بھارت کے تجربے کو اجاگر کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ تقریباً 12 سال قبل زیادہ تر خواتین کی ، خصوصاً دیہی بھارت میں، بینک کھاتوں، اپنے نام پر اثاثوں یا قرض کی سابقہ مثالیں نہیں ملتیں اور اکثر قرض حاصل کرنے کی اہل بھی نہیں ہوتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد بھارت نے خواتین کے نام پر گھر فراہم کیے، ان کے لیے تقریباً 300 ملین بینک کھاتے کھولےگئے اور اپنا کام شروع کرنے کی خواہش رکھنے والی خواتین کو بغیر کسی ضمانت کے قرض فراہم کیےگیے، جن میں وہ خواتین بھی شامل ہیں جن کی قرض کی کوئی سابقہ تاریخ نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ آج تقریباً 100 ملین دیہی خواتین9 ملین خود امدادی گروپوں، چھوٹی کوآپریٹو سوسائٹیوں یا مختلف خیالات اور کاروباری سرگرمیوں پر مل کر کام کرنے والے خواتین کے گروپوں کی رکن ہیں۔ ذاتی آمدنی کے طور پر ایک لاکھ روپے سے زیادہ کمانے والی خواتین کی تعداد30ملین سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان خواتین کو ’لکھ پتی دیدی‘ کہا جاتا ہے اور بھارت کو امید ہے کہ مستقبل میں ان کی تعداد اور آمدنی دونوں میں مزید اضافہ ہوگا۔
جناب گوئل نے کہا کہ بھارت نے چھوٹے کاروباری افراد کو تقریباً560ملین قرضے فراہم کیے ہیں، جن میں 68 فیصد سے زیادہ قرضے خواتین کاروباریوں کو دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ خواتین معاشی طور پر خود کفیل بنیں اور خاندان کے دیگر افراد پر منحصر نہ رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب خواتین اپنے پیروں پر کھڑی ہوتی ہیں تو وہ بھارت کی ترقی کے انجن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک دہائی قبل بھارت میں خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت کی شرح تقریباً 19 فیصد تھی اور اعتماد ظاہر کیا کہ آمدنی کی سطح میں اضافے، تعلیم میں بہتری، ہنر کی ترقی اور صلاحیتوں کے سامنے آنے کے ساتھ یہ تعداد بڑھ کر 50 فیصد یا اس سے زیادہ ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ معاشروں میں باقاعدہ افرادی قوت میں خواتین کا تناسب 50 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔ جناب گوئل نے زور دے کر کہا کہ زیادہ سے زیادہ خواتین کے باقاعدہ افرادی قوت میں شامل ہونے سے بھارت کی معاشی ترقی میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ کسی شخص کو کاروبار شروع کرنے یا خاندان کی آمدنی میں حصہ دار بننے کے لیے مساوی مواقع اور ضروری وسائل دستیاب ہوں۔ ان کے مطابق یہی خواتین کی ترقی کے بجائے خواتین کی قیادت میں ترقی کا بنیادی تصور ہے۔
جناب گوئل نے کہا کہ کسی خاتون کو تعلیم یا اس کی ہنر مندی کو فروغ دینے سے پورے خاندان کو فائدہ ہوتا ہے، کیونکہ وہ خاندان کی رہنمائی کرتی ہے اور بچوں کو بہتر مستقبل فراہم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی ترقی اور خواتین کی قیادت میں ترقی پر مرکوز مختلف اسکیموں اور پروگراموں میں خواتین کو محض استفادہ کنندگان کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ انہیں نئے بھارت کی معمار سمجھا جانا چاہیے۔
بین الاقوامی بازاروں تک رسائی بڑھانے کے سلسلے میں جناب گوئل نے گزشتہ ماہ جے پور میں منعقدہ برکس ممالک کے تجارت و صنعت کے وزرا کے اجلاس کا حوالہ دیا، جہاں وزرا نے چھوٹے برآمد کنندگان کا اندازہ لگانے کے لیے رضاکارانہ اصولوں پر اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس اندازے کی بنیاد صرف انوائس اور ادائیگی نہیں ہونی چاہیے بلکہ کاروباری شخص کی صلاحیت اور ماضی سے حال اور مستقبل کی جانب ہونے والی پیش رفت کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ غیر ملکی تجارت کو صرف ضمانت پر مبنی کاروبار کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اسے معاشروں اور کاروباری اداروں کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور ان طبقات کے لیے مواقع پیدا کرنے کے وسیلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو حاشیے پر ہیں اور شاید کبھی بیرون ملک کاروبار کرنے کا تصور بھی نہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ برکس ممالک نے جے پور میں منظور کیے گیے لائحہ عمل میں بین الاقوامی تجارت کے لیے مشترکہ برکس پلیٹ فارم قائم کرنے کے امکانات تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے، جس سے کاروباری افراد کو درپیش دوسرے چیلنج یعنی بازارو ں اور خریداروں تک رسائی کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
جناب گوئل نے کہا کہ ایک بار ایسا پلیٹ فارم قائم ہوجانے کے بعد برکس کے کسی ایک رکن ملک میں کسی مصنوعات کی ضرورت کے بارے میں دیگر رکن ممالک کو بھی معلومات حاصل ہوسکیں گی، جبکہ شرکاء کے درمیان جاری کیے جانے والے انوائس بھی پلیٹ فارم پر عام کیے جاسکیں گے اور سب کو ان کی معلومات دستیاب ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ متعدد مالیاتی ثالث اس پلیٹ فارم سے منسلک ہوسکتے ہیں تاکہ برکس ممالک کے درمیان تجارت توسیع پانے کے ساتھ خواتین کاروباری افراد اور چھوٹے کاروباری افراد کو تعاون فراہم کیا جاسکے۔
رکن ممالک کی عالمی ویلیو چین کے بارے میں مشترکہ مفاہمت سے متعلق برکس کے لائحہ عمل کا حوالہ دیتے ہوئے جناب گوئل نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ خواتین کی ملکیت والے کاروباری اداروں کو بین الاقوامی تجارتی میلوں، کانفرنسوں، سیمیناروں، نمائشوں اور کاروباری فورم میں زیادہ فعال طور پر شرکت کی ترغیب دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے متعدد پلیٹ فارموں پر باہمی رابطے اور کاروباری شراکت داری کے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے برکس ممالک پر زور دیا کہ وہ شعبہ جاتی بنیاد پر خواتین کی قیادت میں مزید کاروباری وفود بھیجنے پر غور کریں۔ انہوں نے تجویز دی کہ برکس ممالک کسی مخصوص شعبے سے متعلق خواتین کی قیادت میں وفود کا اہتمام کرسکتے ہیں، مثلاً کسی ایک برکس رکن ملک سے مکمل طور پر خواتین پر مشتمل ٹیکسٹائل کاروباری وفد دوسرے رکن ملک کا دورہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وفود کو زیادہ پذیرائی مل سکتی ہے اور اس سے ویلیو چین کو مربوط کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین کاروباری افراد کے لیے برکس سے باہر کی منڈیوں تک رسائی اور کاروباری روابط کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
کاروبار کے لیے پیشگی اندازے پر مبنی ضوابط کےایک تہائی چیلنج کے بارے میں جناب گوئل نے کہا کہ خاطر خواہ پیش بینی اور یقین، کھلی سرحدوں اور آزاد تجارت کو فروغ دینے والے ماحول کے بغیر کاروبار نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ تمام برکس رکن ممالک نے عالمی تجارتی تنظیم(ڈبلیو ٹی او) کے تجارتی ضوابط کے تحت کثیر فریقی تجارتی نظام کے تحفظ اور اسے مضبوط بنانے کا عزم کیا ہے، جس سے کم ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کو اپنی پالیسیوں کے لیے ضروری گنجائش حاصل ہوگی۔
جناب گوئل نے کہا کہ برکس رکن ممالک کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم کی تشکیل کے لیے کام کرنا چاہیے، جس کے ذریعے الیکٹرانک تجارتی دستاویزات، ای انوائس، الیکٹرانک بل آف لیڈنگ اور ای کسٹمز ڈیکلریشن کا استعمال ممکن ہو۔ انہوں نے سرحد پار آن لائن خدمات کی فراہمی میں سہولت پیدا کرنے کے لیے طے کیے گئے رضاکارانہ اصولوں کا بھی حوالہ دیا، جن کے تحت ہر ملک کے قوانین کا احترام اور تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
برکس ممالک کے درمیان مزید گہرے روابط کی اپیل کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ رکن ممالک، شراکت دار ممالک اور پوری دنیا کے لیے زیادہ خوشحال مستقبل کی جانب پیش رفت کا راستہ مکالمے اور سفارت کاری سے ہوکر گزرتا ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی تجارت دباؤ کا شکار ہے اور دنیا غیر یقینی اور اتار چڑھاؤ سے بھرے وی یو سی اے ماحول میں بڑے چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہے اور اس وقت دو جنگیں بھی جاری ہیں، انہوں نے برکس ممالک کے درمیان کاروباری سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا، ساتھ ہی دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ روابط جاری رکھنے کی ضرورت بھی اجاگر کیا۔
جناب گوئل نے کہا کہ برکس ممالک نے عالمی امن کے فروغ اور بین الاقوامی تجارت میں اشیاء اور خدمات دونوں کی حمایت کے لیے مشترکہ مفاہمت کی بنیاد پر ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی سمت میں کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکس رکن ممالک کے درمیان خدمات کی تجارت پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔ عالمی سطح پر خدمات کی تجارت تقریباً 10 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے، اس لیے برکس ممالک کے درمیان خدمات کی نسبتاً کم تجارت اس شعبے میں ترقی کی نمایاں صلاحیت کی نشاندہی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین نقل و حرکت اور مختلف نوعیت کی خدمات کے شعبوں کے ساتھ ساتھ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ انہوں نے خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے اور خواتین کاروباری افراد اور ایم ایس ایم ایز کو خدمات اور ڈیجیٹل معیشت میں حصہ لینے کے قابل بنانے کے لیے برکس ممالک کے درمیان مل کر کام کرنے کے وسیع امکانات پر زور دیا۔
جناب گوئل نے کہا کہ برکس ممالک کے وزرائے تجارت نے برکس اقتصادی شراکت داری 2030 کی حکمت عملی کو بھی قائدین کی منظوری کے لیے پیش کرنے کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ برکس سربراہ اجلاس کے نتیجے میں مزید ٹھوس ایجنڈے، عملی منصوبے اور نتائج سامنے آئیں گے اور 2030، آنے والے برسوں اور دہائیوں میں طویل مدتی شراکت داری کی جانب پہلے قدم کے طور پر کام کرے گا۔
جناب گوئل نے 2030 تک غور کے لیے چار ٹھوس تجاویز پیش کیں۔ قرض تک رسائی کے سلسلے میں انہوں نے جناب اننت گوئنکا اور ان کے ساتھیوں کی سربراہی میں برکس بزنس کونسل کے ساتھ برکس کے خواتین کاروباریوں کے اتحاد سے اپیل کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ انوائس ڈسکاؤنٹنگ پلیٹ فارم سے متعلق مطالعہ خواتین برآمد کنندگان کی حقیقی ضروریات کی عکاسی کرے۔ انہوں نے حکومتوں، بینکوں اور ایگزم بینکوں پر بھی زور دیا کہ قرض دینے سے متعلق فیصلے کرتے وقت ایسی انوائس کو مدنظر رکھنے پر غور کریں اور جے پور میں منظور ہوئے لائحہ عمل میں ویمنز ایڈوانسمنٹ فنڈ کی تجویز کو ایک ٹھوس اقدام میں تبدیل کرنے کی اپیل کی۔
خریداروں تک رسائی کے سلسلے میں انہوں نے مختلف برکس رکن اور شراکت دار ممالک کے خواتین کی ملکیت والے کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ خریدار و فروخت کنندگان کے درمیان ملاقاتوں کے ساتھ مزید برکس نمائشوں، میلوں اور فورم میں شرکت کریں۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس سلسلے میں پیش رفت کی سالانہ رپورٹ پیش کی جائے، جس میں یہ بھی بتایا جائے کہ کون سے کاروباری اقدامات کامیاب رہے، کون سے کامیاب نہیں ہوئے اور کن شعبوں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت برکس ممالک کے درمیان زیادہ سے زیادہ روابط کو فروغ دینے والی خواتین کی قیادت میں اقدامات کے اپنے تجربات شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔
جناب گوئل نے گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس کے ذریعے سرکاری خریداری کے سلسلے میں بھارت کے تجربے کو بھی اجاگر کیا، جہاں مرکزی، ریاستی اور مقامی حکومتوں کو شفاف طریقے سے اشیا ءاور خدمات کی خریداری کی ترغیب دی جاتی ہے اور خریداری کے مواقع لوگوں کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی قیادت میں کاروباری اداروں کو مرکزی اور مقامی سطح پر حکومت کو اشیاء اور خدمات فراہم کرنے کے لیے خصوصی توجہ اور حوصلہ افزائی دی جاتی ہے اور سرکاری خریداری میں ایسے اداروں کا حصہ بہت زیادہ ہے۔
خواتین کاروباری افراد کی بڑھتی ہوئی رسائی کی مثال دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ نئی دہلی سے تقریباً 2500 کلومیٹر دور واقع خواتین کاروباری افراد اب وزارت تجارت یا وزیراعظم کے دفتر کو تقریباً 100 ڈالر مالیت تک کی چھوٹی کھیپ بھی فراہم کرنے کے قابل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خواتین کاروباری افراد کی طویل پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
بھارت کے ’ ون ڈسٹرکٹ ، ون پروڈکٹ‘ پہل کو اجاگر کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ بھارت میں تقریباً 780 اضلاع ہیں اور ہر ضلع میں فروغ کے لیے ایک، دو یا تین مصنوعات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اس اقدام میں خدمات کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اتر پردیش کے پکوانوں کی نشاندہی کرنے کے اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں نسبتاً کم فاصلے پر بھی پکوانوں اور ذائقوں میں تبدیلی نظر آتی ہے اور مختلف مصنوعات، ذائقے، مصالحے اور امتزاج دنیا بھر کی منڈیوں میں کاروبار کے لیے بڑی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مختلف اضلاع میں شناخت کی گئی مصنوعات، خدمات اور پکوانوں کو ریاستی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے فروغ دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد عالمی منڈیاں تیار کرنا اور اضلاع کو برآمدی مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔
جناب گوئل نے کہا کہ تازہ بھارتی پھلوں اور سبزیوں کی عالمی مانگ میں اضافہ، خصوصا خلیجی خطے میں جہاں تقریباً ایک کروڑ بھارتی باشندے رہتے ہیں، چھوٹے کسانوں اور خواتین کاروباری افراد کے لیے عالمی منڈیوں کے لیے غذائی مصنوعات کی معیاری پیکیجنگ، ڈیزائننگ اور پروسیسنگ کے شعبے میں بڑے مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکس ممالک کے درمیان زیادہ سے زیادہ روابط سے خواتین کے مزید اجتماعی گروپ اور خواتین کی قیادت میں منڈیاں قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جہاں ان کی مصنوعات اور خدمات کو فروغ دیا جاسکے۔
ضوابط اور طریقہ کار کے سلسلے میں جناب گوئل نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ ان دستاویزات، سرٹیفکیٹس، طریقہ کار اور عمل کی نشاندہی کریں جو انہیں کاروبار کرنے یا اپنا کام آگے بڑھانے سے روکتے یا اس میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے تجربات پر مبنی عملی اعداد و شمار حکومتوں اور پالیسی سازوں کو طریقہ کار اور عمل کو ضرورت کے مطابق بہتر بنانے، دستاویزات میں کمی کرنے اور کاروبار کو آسان بنانے کے لیے پالیسیوں میں بہتری لانے میں مدد دیں گے۔
انہوں نے شرکاء سے کہا کہ وہ صرف مسئلے کی نشاندہی نہ کریں بلکہ اس کا مطلوبہ حل بھی پیش کریں، کیونکہ کسی مسئلے کے ساتھ تجویز یا عملی اقدام کی اپیل حکومتوں کو اس پر کارروائی کرنے میں مدد دے گی۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ بھارت کی اپنے شراکت دار ممالک کے ساتھ اشیا کی تجارت میں ترقی کے بے پناہ امکانات ہیں اور آنے والے برسوں میں خواتین کی قیادت میں برآمد کنندگان اپنے کاروبار کو کئی گنا وسعت دیں گے۔
کاروباری افراد سے چیلنجوں کو مواقع میں تبدیل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ یہ ان اہم بصیرتوں میں سے ایک ہے جو بھارت نے وزیراعظم جناب نریندر مودی سے سیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ہنگامہ آرائی اور بین الاقوامی تجارت میں کمی کے باوجود مالی سال کے پہلے پانچ ماہ، اپریل سے اگست کے دوران بھارت کی اشیا ءکی برآمدات میں 15 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے عالمی چیلنجوں کو اپنی پیش رفت میں رکاوٹ نہیں بننے دیا بلکہ ان کے اندر موجود مواقع تلاش کیے اور موجودہ عالمی مشکلات کے باوجود رواں سال کے لیے بلند اہداف مقرر کیے ہیں۔
جناب گوئل نے بھارت کی اقتصادی ترقی کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ اپریل سے جون کی پہلی سہ ماہی کے دوران مستقل قیمتوں پر معیشت کی شرح نمو 7.8 فیصد رہی، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی حقیقی صلاحیت کو تسلیم کر رہا ہے اور مضبوطی اور اعتماد کے ساتھ دنیا کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اب دنیا کے ساتھ روابط قائم کرنے سے ہچکچاتا نہیں ہے اور عالمگیریت اور بین الاقوامی تجارت کے لیے اپنے دروازے مزید کھولنا چاہتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت مسابقتی عالمی ماحول میں دیانت دارانہ کاروباری طریقوں اور تجارت میں اعلی اخلاقی معیار کے ذریعے بڑے مواقع دیکھتا ہے۔
جناب گوئل نے کہا کہ بھارت نے 2047 تک، جب ملک آزادی کے 100 سال مکمل کرے گا، موجودہ 4 ٹریلین ڈالر کی معیشت کو بڑھا کر 30 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ہدف کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا گیا ہے، جس میں ہر شعبے کے لیے ذمہ داریاں مقرر کی گئی ہیں اور اسے1.4 بلین بھارتیوں کا اجتماعی عزم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک خواتین کی قیادت میں اقدامات کے ذریعے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیراعظم جناب نریندر مودی کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا،‘‘جب خواتین خوشحال ہوتی ہیں تو دنیا خوشحال ہوتی ہے۔’’ انہوں نے کہا کہ خواتین تیزی سے اپنی کہانیاں خود بیان کر رہی ہیں اور اعتماد ظاہر کیا کہ نوجوان خواتین دنیا بھر کے شہریوں کے لیے زیادہ خوشحالی اور بہتر مستقبل کی جانب سفر کی تشکیل کریں گی۔
*******
ش ح۔م ش ۔ ش ا
U.NO.3247
(ریلیز آئی ڈی: 2308598)
وزیٹر کاؤنٹر : 3