کامرس اور صنعت کی وزارتہ
این آئی سی ڈی سی نے پہلی مرتبہ منعقد ہونے والی انوپروم انڈیا 2026 میں ہندوستان کے اگلی نسل کے صنعتی ماحولیاتی نظاموں کی نمائش کی
افتتاحی انوپروم انڈیا سے مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں ہندوستان۔روس تعاون کو تقویت حاصل ہوگی
ہندوستان اور روس نے 2030 تک دو طرفہ تجارت کا ہدف 9.45 لاکھ کروڑ روپے (100 ارب امریکی ڈالر) مقرر کیا
13 ریاستوں میں 20 صنعتی اسمارٹ سٹی سے 5.35 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے امکانات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 SEP 2026 7:26PM by PIB Delhi
صنعت و داخلی تجارت کے فروغ کے محکمے (ڈی پی آئی آئی ٹی)، وزارت تجارت و صنعت، حکومتِ ہند کے تحت نیشنل انڈسٹریل کوریڈور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (این آئی سی ڈی سی) نے پہلی مرتبہ منعقد ہونے والی انوپروم انڈیا (INNOPROM India) 2026 میں شرکت کی، جو 9 سے 11 ستمبر 2026 تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقد ہو رہی ہے۔
ہندوستان میں انوپروم کے پہلے ایڈیشن نے ہندوستان۔روس خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا ہے، جس میں دونوں ممالک کے حکومتی نمائندے، مینوفیکچررز، ٹیکنالوجی کمپنیاں، سرمایہ کار اور صنعتی تنظیمیں ایک جگہ جمع ہوئی ہیں۔
ہندوستان اور روس نے 2030 تک تقریباً 9.45 لاکھ کروڑ روپے (100 ارب امریکی ڈالر) کی دو طرفہ تجارت کا ہدف مقرر کیا ہے۔ وسیع تر اقتصادی شراکت داری میں مینوفیکچرنگ، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی تعاون، لاجسٹکس، مقامی پیداوار اور صنعتی کلسٹرز پر بتدریج زیادہ توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
حکومت ہند کی وزارت تجارت و صنعت اور روسی فیڈریشن کی وزارت صنعت و تجارت کی حمایت سے منعقد ہونے والے اس پروگرام میں مینوفیکچرنگ، صنعتی ٹیکنالوجی، مقامی پیداوار، سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت داری کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
این آئی سی ڈی سی کی شرکت نے روسی کمپنیوں، علاقائی حکومتوں، ٹیکنالوجی فراہم کنندگان، سرمایہ کاروں اور کاروباری وفود کے ساتھ براہِ راست رابطے کا موقع فراہم کیا اور ہندوستان کے صنعتی کوریڈور کو طویل مدتی مینوفیکچرنگ سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مقامات کے طور پر پیش کیا۔
این آئی سی ڈی سی کے نمائشی اسٹال کو حوصلہ افزا ردعمل ملا اور بڑی تعداد میں وفود نے اس کا دورہ کیا۔ شرکاء نے این آئی سی ڈی سی کے صنعتی اسمارٹ سٹی، سرمایہ کاری کے لیے تیار بنیادی ڈھانچے، بھویا (BHAVYA)، پی ایم مترا پارک ، آئی سی ایل پی اور ڈیجیٹل لاجسٹکس کے اقدامات میں دلچسپی ظاہر کی۔
این آئی سی ڈی سی کے نمائندوں نے ممکنہ سرمایہ کاروں، مینوفیکچرروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومتی نمائندوں کے ساتھ B2B اجلاسوں اور خصوصی ملاقاتوں میں بھی شرکت کی، جن کے دوران صنعتی ترقی، مینوفیکچرنگ میں تعاون اور باہمی اشتراک کے ممکنہ شعبوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
این آئی سی ڈی سی کی ٹیم نے شریک اداروں کے اسٹال کا بھی دورہ کیا اور نمائش کنندگان سے بات چیت کی تاکہ ابھرتی ہوئی صنعتی ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ کے حل اور مختلف شعبوں کی صلاحیتوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔ ان ملاقاتوں سے معلومات اور صنعتی نقطۂ نظر کے تبادلے میں مدد ملی اور ہندوستان۔روس صنعتی و ٹیکنالوجی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے ممکنہ شعبوں کی نشاندہی بھی ہوئی۔
انوپروم انڈیا 2026 میں این آئی سی ڈی سی نے نیشنل انڈسٹریل کوریڈور ڈیولپمنٹ پروگرام (این آئی سی ڈی پی) کے تحت دستیاب مواقع کو اجاگر کیا، جو ہندوستان کے سب سے بڑے منصوبہ بند صنعتی بنیادی ڈھانچے کے اقدامات میں سے ایک ہے۔
یہ پروگرام 11 صنعتی کوریڈور، 20 گرین فیلڈ صنعتی اسمارٹ سٹی اور 13 ریاستوں پر محیط ہے۔ چار صنعتی اسمارٹ سٹیز پہلے ہی تیار کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید 16 منصوبے عمل درآمد کے مختلف مراحل میں ہیں۔
مجموعی طور پر ان منصوبوں کا رقبہ تقریباً 19,878 ہیکٹر ہے، جن میں تقریباً 5.35 لاکھ کروڑ روپے (56.6 ارب امریکی ڈالر) کی سرمایہ کاری کی صلاحیت اور تقریباً 14 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
مکمل شدہ اور زیرِ تکمیل منصوبوں میں مجموعی طور پر تقریباً 2,109 ہیکٹر رقبے پر مشتمل 469 صنعتی پلاٹ الاٹ کیے جا چکے ہیں۔ ان سے تقریباً 2.21 لاکھ کروڑ روپے (23.4 ارب امریکی ڈالر) کی متعلقہ سرمایہ کاری کی صلاحیت اور تقریباً 1,29,000 افراد کے لیے روزگار کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔
ترقی یافتہ چار صنعتی اسمارٹ سٹی یہ ہیں:
- دھولیرا اسپیشل انویسٹمنٹ ریجن، گجرات
- شیندرا۔بڈکن صنعتی علاقہ (اے یو آر آئی سی)، مہاراشٹر
- انٹیگریٹڈ انڈسٹریل ٹاؤن شپ، گریٹر نوئیڈا، اتر پردیش
- انٹیگریٹڈ انڈسٹریل ٹاؤن شپ، وکرم ادیوگ پوری، مدھیہ پردیش
ان شہروں کو سرمایہ کاری کے لیے تیار، پلگ اینڈ پلے مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے، جہاں سہولیات سے آراستہ صنعتی اراضی، قابلِ اعتماد بجلی، پانی اور گندے پانی کے انتظام کے نظام، آئی سی ٹی بنیادی ڈھانچہ اور شاہراہوں، ریلوے، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں سے کثیر ذرائعی رابطے کی سہولت موجود ہوگی۔
یہ پروگرام پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان سے بھی ہم آہنگ ہے، جس کے ذریعے صنعتی ترقی کو اہم نقل و حمل اور لاجسٹکس نیٹ ورکس کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے۔
ہندوستان۔روس مینوفیکچرنگ تعاون کے ممکنہ شعبوں میں جدید انجینئرنگ اور مشینری، ریلوے اور ٹرانسپورٹ آلات، دھاتیں، توانائی اور قابلِ تجدید توانائی، آٹوموبائل، ایرو اسپیس اور دفاع، دواسازی، کیمیکلز، ٹیکسٹائل اور جدید مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔
روس سمیت معروف بین الاقوامی کمپنیوں کی این آئی سی ڈی سی کے شہروں میں موجودگی ہے اور وہ وہاں اپنی سرگرمیاں خوش اسلوبی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
این آئی سی ڈی سی نے روسی حکومت کے اداروں، سفارتی شراکت داروں، صنعتی تنظیموں اور کاروباری وفود کے ساتھ دو طرفہ پلیٹ فارموں، صنعتی دوروں اور سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور صنعتی ترقی سے متعلق بات چیت کے ذریعے مسلسل رابطہ برقرار رکھا ہے۔
روسی شراکت داروں کے ساتھ سابقہ رابطوں میں آندھرا پردیش کے کرشنا پٹنم صنعتی علاقے اور کرناٹک کے تمکورو صنعتی علاقے میں واقع این آئی سی ڈی سی کے شہروں کی ان مقامات کے طور پر نشاندہی کی گئی ہے جنہیں اس طرح کے تعاون کے لیے ممکنہ طور پر تلاش کیا جا سکتا ہے۔
ماسکو حکومت کے ساتھ این آئی سی ڈی سی کی شراکت داری میں ہندوستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھنے والی ماسکو میں قائم کمپنیوں کی نشاندہی، B2B میچ میکنگ، کاروباری وفود، صنعتی کلسٹر اور خصوصی اقتصادی زون میں تجربات کا تبادلہ اور این آئی سی ڈی سی کے کسی شہر میں روسی صنعتی کلسٹر قائم کرنے کے امکان پر بھی کام شامل رہا ہے۔
ایسا کلسٹر روسی اینکر مینوفیکچرر، پرزہ جات فراہم کرنے والوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ہندوستانی شراکت داروں کو ایک جگہ لا سکتا ہے، جس سے مقامی پیداوار، ٹیکنالوجی شراکت داری اور مستحکم سپلائی چینز کو فروغ ملے گا۔
صنعتی کوریڈورز کے علاوہ، این آئی سی ڈی سی وزارتِ ٹیکسٹائل کے تحت سات پی ایم میگا انٹیگریٹڈ ٹیکسٹائل ریجن اینڈ اپیرل (پی ایم مترا) پارکس کے لیے پروجیکٹ مینجمنٹ ایجنسی کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ ان پارکس کو جدید بنیادی ڈھانچے اور بہتر لاجسٹکس رابطے کے ساتھ مربوط ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کے طور پر تیار کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
این آئی سی ڈی سی بھارت ادیوگک وکاس یوجنا (بھویا) کے تحت بھی پروجیکٹ مینجمنٹ ایجنسی کے طور پر کام کر رہا ہے، جس کے ذریعے مالی سال 2026-27 سے مالی سال 2031-32 تک ہندوستان بھر میں سرمایہ کاری کے لیے تیار، پلگ اینڈ پلے نوعیت کے 100 صنعتی پارکس تیار کیے جائیں گے۔ اس اسکیم کے لیے تقریباً 33,660 کروڑ روپے (3.56 ارب امریکی ڈالر) کی مجموعی رقم مختص کی گئی ہے۔
این آئی سی ڈی سی نے انڈسٹریل کوریڈور لینڈ پلیٹ فارم (آئی سی ایل پی) بھی پیش کیا، جو جی آئی ایس سے مربوط ایک قومی پلیٹ فارم ہے اور سرمایہ کاروں کو 4,000 سے زائد صنعتی پارکس کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے، جن میں اراضی کی دستیابی، بنیادی ڈھانچے اور رابطے سے متعلق معلومات شامل ہیں۔ اس سے سرمایہ کاروں کو موزوں مقام کے انتخاب کے بارے میں باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔
طبعی بنیادی ڈھانچے کی تکمیل کرتے ہوئے، این آئی سی ڈی سی لاجسٹکس ڈیٹا سروسز لمیٹڈ (این ایل ڈی ایس ایل)، یونیفائیڈ لاجسٹکس انٹرفیس پلیٹ فارم (یو ایل آئی پی) اور لاجسٹکس ڈیٹا بینک (ایل ڈی بی) کے ذریعے ہندوستان کے ڈیجیٹل لاجسٹکس ایکو سسٹم کو مضبوط بنا رہا ہے۔ ایل ڈی بی درآمد و برآمد (EXIM) کنٹینروں کی نقل و حرکت کی ابتدا سے انتہا تک نگرانی کی سہولت فراہم کرتا ہے اور اب تک 10 کروڑ سے زائد کنٹینرز کی نقل و حرکت کو ٹریک کر چکا ہے۔
این ایل ڈی ایس ایل نے لاجسٹکس کی نگرانی، کارکردگی اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو بہتر بنانے کے لیے کوئلہ شکتی – اسمارٹ کول اینالیٹکس ڈیش بورڈ کے علاوہ ٹریک یور ٹرانسپورٹ (ٹی وائی ٹی)، ٹرانسپورٹ مینجمنٹ سسٹم (ٹی ایم ایس) اور لاجسٹکس ای-مارکیٹ پلیس (LeMP) جیسے حل بھی تیار کیے ہیں۔
اپنے صنعتی اسمارٹ سٹی، پی ایم مترا پارکس، بھویا، آئی سی ایل پی اور ڈیجیٹل لاجسٹکس ایکو سسٹم کے ذریعے این آئی سی ڈی سی ہندوستان کو مسابقتی مینوفیکچرنگ، مقامی پیداوار اور سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام کے طور پر پیش کر رہا ہے، جس سے ہندوستان۔روس اقتصادی تعاون کو صنعتی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی شراکت داری، روزگار اور مستحکم سپلائی چینز میں تبدیل کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

**************
ش ح۔ ف ش ع
U: 3235
(ریلیز آئی ڈی: 2308560)
وزیٹر کاؤنٹر : 5