عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہماچل پردیش کے وزیر اعلی سکھویندر سنگھ سکھو نے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کرتے ہوئے موسم کی بروقت پیشگی اطلاع، لیوینڈر کی کاشت اور فلکیاتی سیاحت کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا


وزیر اعلی سکھویندر سنگھ سکھو نے ہماچل پردیش میں پانچ ڈوپلر موسمی رڈار کی تنصیب اور موسم سے متعلق پیشگی انتباہی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مودی حکومت کی معاونت کو سراہا

ہماچل پردیش میں ایروما مشن کے تحت لیوینڈر کی کاشت کو منڈی ضلع کی تحصیل بلدواڑہ کے اپر بھاملا تک وسعت دی گئی، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اس کے مزید فروغ پر تبادلہ خیال کیا

اسپیٹی میں سائنس، طلبہ اور فلکیاتی سیاحت کے فروغ کے لیے بلند مقام پر فلکیاتی آبزرویٹری کے قیام کے امکانات کا جائزہ لیا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 SEP 2026 4:51PM by PIB Delhi

ہماچل پردیش کے وزیر اعلی جناب سکھویندر سنگھ سکھو نے آج نئی دہلی میں سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کی۔ اس دوران ریاست سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں موسم کی نگرانی اور پیشگی انتباہی نظام کو مضبوط بنانا، سی ایس آئی آر اروما مشن کے تحت لیونڈر کی کاشت کو وسعت دینا، زمینی سطح پر موسم کی پیش گوئی، اسپتی میں سطح سمندر سے بلند مقام پر فلکیاتی آبزرویٹری قائم کرنے کے امکانات اور ہماچل پردیش کے ریاستی کیڈر سے متعلق امور شامل تھے۔

ملاقات کے دوران وزیر اعلی نے ہماچل پردیش کے لیے پانچ ڈوپلر موسمی رڈار فراہم کرنے میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کی جانب سے دی جانے والی معاونت کو سراہا اور اس کے لیے حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ریاست میں موسم کی نگرانی اور پیشگی انتباہی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہماچل پردیش میں مؤثر اور مناسب پیشگی انتباہی نظام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں، خاص طور پر ریاست کے دشوار گزار پہاڑی جغرافیے اور شدید موسمی واقعات کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ ملاقات کے دوران ریاست میں موسم کی نگرانی کے نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے کی مجوزہ تجویز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران ہماچل پردیش کے چیف سیکریٹری جناب کملیش کمار پنت اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

ہماچل پردیش میں اس وقت کفری، جوت اور مراری دیوی میں تین ڈوپلر موسمی رڈار موجود ہیں، جبکہ مزید دو رڈار نصب کیے جانے کے مرحلے میں ہیں، جس کے بعد ریاست میں ان کی مجموعی تعداد پانچ ہوجائے گی۔ مجوزہ توسیع کے تحت مزید دو ڈوپلر موسمی رڈار نصب کیے جائیں گے، جن میں سے ایک لاہول-اسپیتی اور دوسرا کِنّور میں ہوگا۔

ریاست میں محکمہ موسمیات کے موجودہ مشاہداتی نیٹ ورک میں 28 خودکار موسمی اسٹیشن، 64 بارش  سے متعلق پیما اور روزانہ بارش کی نگرانی کرنے والے 84 اسٹیشن بھی شامل ہیں۔

مجوزہ توسیعی منصوبے کے تحت موسم کی نگرانی اور پیش گوئی کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے 20 خودکار موسمی اسٹیشن، 24 خودکار بارش پیما، 21 خودکار برف پیما اور ایک ریڈیو سونڈ/ریڈیو ونڈ نظام بھی قائم کیا جائے گا۔ ان اضافی مشاہداتی سہولتوں سے مختلف موسمی عناصر سے متعلق زمینی سطح پر زیادہ درست اور بروقت معلومات حاصل کرنے میں مدد ملے گی، جس سے موسم کی نگرانی اور پیشگی انتباہی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔ لاہول-اسپیٹی اور کِنّور میں مجوزہ موسمی ریڈاروں کی تنصیب کے لیے موزوں مقامات کی فی الحال نشاندہی اور جانچ کا عمل جاری ہے۔ تاہم، پہاڑی جغرافیے اور ریڈار کی شعاعوں کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہونے سے متعلق تکنیکی مسائل کے باعث مناسب مقامات کا انتخاب ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔

ملاقات کے دوران محکمہ موسمیات کی جانب سے گرام پنچایت کی سطح پر فراہم کی جانے والی موسم کی پیش گوئی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کا مقصد مخصوص مقامات سے متعلق موسم کی معلومات کو زمینی سطح پر لوگوں تک زیادہ قریب پہنچانا ہے۔ ’’موسم گرام‘‘ کے نام سے فراہم کی جانے والی یہ خدمت گرام پنچایت کی سطح پر موسم کی پیش گوئی فراہم کرتی ہے اور اسے اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ مقامی سطح کی موسم سے متعلق معلومات روزمرہ کے فیصلے کرنے میں، بالخصوص کسانوں کے لیے، آسانی سے دستیاب ہوسکیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہماچل پردیش میں سی ایس آئی آر اروما مشن کے تحت کامیاب لیوینڈر کی کاشت کے ماڈل کو مزید وسعت دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ سی ایس آئی آر اروما مشن کے تیسرے مرحلے کے تحت سی ایس آئی آر-آئی آئی آئی ایم جموں نے منڈی ضلع کی تحصیل بلدواڑہ کے اپر بھاملا میں لیوینڈر کی کاشت کو وسعت دی ہے، جہاں لیوینڈر کی 20,000 قلمیں لگائی گئی ہیں اور تقریباً 150 کسان اس اقدام سے وابستہ ہیں۔ ابتدائی تجربات کامیاب رہے ہیں اور رواں موسم میں مزید رقبے کو لیوینڈر کی کاشت کے تحت لانے کی تجویز ہے اروما مشن کے چوتھے مرحلے کے تحت کسانوں کو خوشبودار پودوں سے تیل اور دیگر مفید مصنوعات تیار کرنے کے لیے کشید کاری کے یونٹ بھی فراہم کیے جانے کی تجویز ہے۔

مرکزی وزیر نے جموں و کشمیر سے باہر بھی لیوینڈر کے اس اقدام کو وسعت دیے جانے کا ذکر کیا، جس میں ناگالینڈ، اتراکھنڈ اور اروناچل پردیش شامل ہیں۔ اس ماڈل کا مقصد لیوینڈر کی کاشت کو صنعت اور ویلیو ایڈیشن سے جوڑنا ہے، تاکہ کسان اس فصل سے روزگار اور آمدنی کے زیادہ بہتر مواقع حاصل کرسکیں۔

ملاقات کے دوران ایک اور اہم موضوع اسپیتی میں بلند مقام پر فلکیاتی آبزرویٹری قائم کرنے کا امکان تھا۔ اس تجویز کا انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس کے ساتھ مشاورت سے تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے، جس میں اس خطے کی بلند سطح اور فلکیاتی مشاہدات کے لیے یہاں موجود سازگار قدرتی حالات سے بھرپور فائدہ اٹھانے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ اسپیتی کا بلند پہاڑی محل وقوع اور نسبتاً صاف فضائی ماحول اسے فلکیاتی مشاہدات اور سائنسی مطالعات کے لیے ایک موزوں مقام بنا سکتا ہے۔مجوزہ منصوبے کے تحت ایسی سائنسی سہولت قائم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے جو فلکیاتی تحقیق اور مشاہدات کے لیے استعمال ہونے کے ساتھ ساتھ طلبہ کی تعلیمی اور عملی سرگرمیوں میں بھی معاون ثابت ہوسکے۔ اس کے ذریعے طلبہ کو فلکیاتی علوم سے متعلق عملی تجربات اور مشاہدات کے مواقع فراہم کیے جاسکیں گے، جبکہ خطے میں فلکیاتی سیاحت کو بھی فروغ دیا جاسکے گا۔ اس کے علاوہ، سیاحوں اور عام لوگوں کے لیے ستارہ بینی کے مواقع پیدا کرکے اسپیتی کو سائنسی اور تعلیمی سیاحت کے ایک نئے مرکز کے طور پر فروغ دینے کی راہ بھی ہموار کی جاسکتی ہے۔

بات چیت کے دوران سائنسی مطالعات اور کالج کے طلبہ کے استعمال کے لیے دوربین کی سہولت کو ایسی چھوٹی دوربین پر مبنی سہولتوں کے ساتھ مربوط کرنے کے امکان پر بھی غور کیا گیا، جن کے ذریعے سیاح ستارہ بینی کا تجربہ حاصل کرسکیں۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس کی جانب سے ایک تفصیلی تجویز متوقع ہے، جس سے اس اقدام کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

ملاقات میں ہماچل پردیش کے ریاستی کیڈر سے متعلق امور، بشمول کیڈر کے جائزے کے عمل سے پیدا ہونے والے معاملات، پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بات چیت ریاست سے متعلق امور اور مناسب طریقہ کار اختیار کرنے تک محدود رہی اور کیڈر کی تعداد یا تنظیم نو کے بارے میں کسی حتمی فیصلے کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا۔

ملاقات میں ہونے والی بات چیت سے یہ بات سامنے آئی کہ سائنس اور ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات ہماچل پردیش کو درپیش بعض مخصوص چیلنجوں سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان میں دشوار گزار اور شدید موسمی حالات سے متاثر ہونے والے پہاڑی علاقوں میں بروقت موسمی انتباہات فراہم کرنا، ٹیکنالوجی کے ذریعے کسانوں کے لیے روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع پیدا کرنا، بلند پہاڑی علاقوں میں سائنسی تحقیق اور دریافت کے امکانات کو فروغ دینا اور سیاحت کے نئے مواقع پیدا کرنا شامل ہیں۔

*****

ش ح۔ ت ف  ۔ ص ج

U. No-3219


(ریلیز آئی ڈی: 2308414) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil