سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
نامیاتی سالمات کی خود ساختگی سے ماحول کے لیے ساز گار ہائیڈروجن کی پیداوار کی نئی راہ ہموار
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 SEP 2026 5:02PM by PIB Delhi
قدرتی طور پر پائے جانے والے امینو ایسڈ کو روشنی جذب کرنے والے نامیاتی سالمے کے ساتھ جوڑنے کی ایک سادہ لیکن مؤثر حکمتِ عملی سے مکمل طور پر دھات سے مبرا نامیاتی مواد کے ذریعے شمسی توانائی سے ہائیڈروجن کی پیداوار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
ہائیڈروجن کو صاف ستھری توانائی کے سب سے امید افزا ذرائع میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ اس کے جلنے سے صرف پانی پیدا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ فوسل ایندھن کا ماحول کے لیے ساز گار متبادل ہے۔ گرین ہائیڈروجن پیدا کرنے کے امید افزا طریقوں میں سے ایک سورج کی روشنی کا استعمال کرتے ہوئے پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کرنا ہے۔ تاہم، زیادہ تر موجودہ فوٹو کیٹالسٹ غیر نامیاتی سیمی کنڈکٹرز یا قیمتی دھاتوں پر انحصار کرتے ہیں، جو اکثر مہنگے ہوتے ہیں، انہیں تیار کرنا مشکل ہوتا ہے اور طویل مدتی پائیداری کے حوالے سے بھی خدشات پیدا کرتے ہیں۔ اسی لیے مؤثر دھات سے مبرا نامیاتی فوٹو کیٹالسٹ تیار کرنا اب تک ایک بڑا سائنسی چیلنج رہا ہے۔
بنگلورو کے سینٹر فار نینو اینڈ سافٹ میٹر سائنسز ( سی ای این ایس ) کے محققین کی ایک ٹیم، جو محکمۂ سائنس و ٹیکنا لوجی ( ڈی ایس ٹی ) کے تحت ایک خود مختار ادارہ ہے، اس نے قدرتی طور پر پائے جانے والے ایک امینو ایسڈ ( ایسپارٹک ایسڈ ) کو روشنی جذب کرنے والے نامیاتی سالمے ( پیرین ڈائی امائیڈ، پی ڈی آئی ) کے ساتھ جوڑا اور سالماتی سطح پر خود ساختگی کے عمل کے ذریعے ان سالمات کو ازخود ایک منظم شکل میں ترتیب پانے دیا۔
محققین نے پایا کہ کارکردگی میں بہتری کی وجہ یہ ہے کہ سالمات خود کو کس طرح منظم کرتے ہیں۔ امینو ایسڈ کا حصہ مضبوط اور وسیع ہائیڈروجن بانڈنگ کو فروغ دیتا ہے، جب کہ پی ڈی آئی کرومو فور روشنی کو مؤثر طریقے سے جذب کرنے اور π–π اسٹیکنگ کا باعث بنتا ہے۔
اس طرح دونوں کے درمیان باہمی تعاون پر مبنی عمل سالمات کی تنظیم اور اس کے نتیجے میں مادے کی کارکردگی کی خصوصیات کا تعین کرتا ہے۔
محققین نے ایسپارٹک ایسڈ سے فعال بنایا گیا پیرین ڈائی امائیڈ ( پی ڈی آئی ) سالمہ تیار کیا، جو پانی میں خود بخود منظم ہو کر انتہائی ترتیب یافتہ دو بُعدی نینو شیٹس میں تبدیل ہو گیا۔
سالماتی سطح پر ، اس معمولی تبدیلی نے مادے کی کیمیائی ساخت کو تبدیل کیے بغیر روشنی کے جذب کو نمایاں طور پر بڑھایا، چارجز کی علیحدگی کو بہتر کیا، توانائی کے ضیاع کو کم کیا اور کیمیائی عمل کے لیے دستیاب سطحی رقبے میں اضافہ کیا۔ نتیجے کے طور پر ، شمسی توانائی سے پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کرنے کے دوران ، اس خود ساختہ مادے نے اپنی عام شکل کے مقابلے میں تقریباً 18 فی صد زیادہ فوٹو کرنٹ پیدا کیا۔
جدید الیکٹرو کیمیکل پیمائشوں اور ڈینسٹی فنکشنل تھیوری ( ڈی ایف ٹی ) کے حسابات سے مزید یہ بات سامنے آئی کہ خود ساختگی کا عمل زیادہ مؤثر چارج ٹرانسپورٹ کو فروغ دیتا ہے، جب کہ امینو ایسڈ سالمے کے ڈائی پول مومنٹ میں اضافہ کرتا ہے، جس سے روشنی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چارجز کی مؤثر علیحدگی میں مدد ملتی ہے اور ہائیڈروجن کی پیداوار کا عمل تیز ہوتا ہے۔
مطالعے سے مزید ثابت ہوا ہے کہ قدرتی طور پر پائے جانے والے امینو ایسڈ نہ صرف سالماتی تعمیر کے بنیادی اجزا کے طور پر کام کر سکتے ہیں بلکہ سالماتی تنظیم اور فوٹو کیٹالسٹ کی کارکردگی کو مؤثر طریقے سے کنٹرول بھی کر سکتے ہیں۔ سالماتی ڈیزائن کی یہ حکمتِ عملی شمسی توانائی کو قابلِ استعمال توانائی میں تبدیل کرنے کے لیے مؤثر، ماحول کے لیے ساز گار اور دھات سے مبرا فوٹو کیٹالسٹ تیار کرنے کا ایک پائیدار راستہ فراہم کرتی ہے۔
بنگلورو کے سینٹر فار نینو اینڈ سافٹ میٹر سائنسز ( سی ای این ایس ) میں ڈاکٹر گوتم گھوش اور ڈاکٹر آشوتوش کے سنگھ کی سربراہی میں جناب سورَو موئرا، جناب کمار شبھم اور محترمہ اتھیرا چندرن ایم کے تعاون سے کیا گیا یہ تحقیقی کام ، رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کے معروف جریدے جرنل آف میٹریلز کیمسٹری اے میں شائع ہوا ہے۔
ایسے مواد مستقبل میں گرین ہائیڈروجن کی پیداوار، مصنوعی ضیائی تالیف، شمسی ایندھن کی تیاری اور اگلی نسل کے قابلِ تجدید توانائی کے آلات سے متعلق ٹیکنالوجیز میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور مہنگی اور نایاب دھاتوں پر انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

اشاعت کا لنک: https://doi.org/10.1039/d6ta04378j
..................................................... ...................................................
) ش ح – ا ع خ - ع ا )
U.No. 3220
(ریلیز آئی ڈی: 2308407)
وزیٹر کاؤنٹر : 7