قومی انسانی حقوق کمیشن
این ایچ آر سی، بھارت نے چھتیس گڑھ کے گریابند ضلع کے مین پور بلاک علاقے میں زیرِ تعمیر پل کے ذریعے دریا پار کرنے پر مجبور اسکولی بچوں کو درپیش خطرات کی خبر کا از خود نوٹس لیا
چھتیس گڑھ کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی
تقریباً چھ سال سے زیرِ تعمیر ہونے کے باوجود پل ابھی تک مکمل نہیں ہوا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 SEP 2026 4:43PM by PIB Delhi
انسانی حقوق کے قومی کمیشن ( این ایچ آر سی ) ، بھارت نے چھتیس گڑھ کے گریابند ضلع کے مین پور بلاک علاقے میں کھمبھاتھا اور آس پاس کی بستیوں کے درجنوں بچوں کے بارے میں میڈیا میں شائع ایک خبر کا از خود نوٹس لیا ہے۔ خبر کے مطابق ، یہ بچے اپنے اسکول پہنچنے کے لیے نامکمل پل سے منسلک ایک تنگ اور پھسلن بھری لوہے کی سیڑھی سے چڑھ کر پیری ندی کو پار کرنے پر مجبور ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مانسون کے دوران یہ کم گہری ندی تیز بہاؤ والی ندی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
کمیشن نے کہا ہے کہ اگر میڈیا رپورٹ میں دی گئی معلومات درست ہیں تو یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے سنگین معاملے کو ظاہر کرتی ہیں۔ اسی لیے کمیشن نے چھتیس گڑھ حکومت کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔
3 ستمبر ، 2026 ء کو شائع ہونے والی میڈیا رپورٹ کے مطابق، مین پور بلاک میں دیہرگُڈا اور کھمبھاتھا کے درمیان تقریباً 300 میٹر لمبا پل گزشتہ تقریباً چھ سال سے زیرِ تعمیر ہے، حالانکہ تقریباً ایک سال قبل متعلقہ حکام نے گاؤں والوں کو یقین دلایا تھا کہ یہ پل چھ ماہ میں مکمل کر دیا جائے گا۔
..................................................... ...................................................
) ش ح – ا ع خ - ع ا )
U.No. 3218
(ریلیز آئی ڈی: 2308405)
وزیٹر کاؤنٹر : 5