سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
قومی شاہراہوں کے پروجیکٹوں کا کام مکمل ہونے سے متعلق عارضی سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے پہلے این ایچ اے آئی نے شجر کاری کے ضابطے سخت کیے
نئی ہدایات کے تحت قومی شاہراہوں کے اطراف کم از کم 80 فی صد شجر کاری اور 90 فی صد پودوں کا زندہ رہنا لازمی قرار دیا گیا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 SEP 2026 4:47PM by PIB Delhi
قومی شاہراہوں کے پروجیکٹوں کے درمیانی حصے اور اطراف میں شجر کاری سے متعلق معاہدے کی شرائط پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا ( این ایچ اے آئی ) نے جامع ہدایات جاری کی ہیں، جن کے تحت شجر کاری اور لینڈ اسکیپنگ کو قومی شاہراہوں کی تعمیر اور منصوبے کی مجموعی تکمیل کا لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے۔
نئی ہدایات کے تحت این ایچ اے آئی ، اس بات کو یقینی بنائے گا کہ درمیانی حصے اور شاہراہ کے اطراف شجر کاری متعلقہ معاہدے/کنسیشن ایگریمنٹ اور گرین ہائی ویز پالیسی، 2015 ، آئی آر سی : ایس پی : 21-2009 اور سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں کی وزارت اور این ایچ اے آئی کی جانب سے جاری دیگر متعلقہ رہنما اصولوں کے مطابق سختی سے کی جائے۔
ہدایات میں ایک اہم شق عارضی تکمیل کا سرٹیفکیٹ ( پی سی سی ) / عارضی کمرشل آپریشن ڈیٹ ( پی سی او ڈی ) جاری کرنے کے لیے کم از کم معیار مقرر کرنا ہے۔ عارضی تکمیل کے سرٹیفکیٹ کے لیے شجر کاری کا کام اسی وقت مقررہ اصولوں کے مطابق سمجھا جائے گا ، جب شجر کاری کے لیے مختص دستیاب رائٹ آف وے ( آر او ڈبلیو ) کے کم از کم 80 فی صد حصے پر پودے لگائے گئے ہوں اور افسران کے معائنے کے وقت لگائے گئے پودوں کے کم از کم 90 فی صد زندہ پائے جائیں۔
ہدایات میں مزید کہا گیا ہے کہ مقررہ 80 فی صد کی حد سے کم رہ جانے والی شجر کاری کی نشاندہی کی جائے گی اور اسے مکمل کرنے کے لیے واضح مدت بھی مقرر کی جائے گی۔ متعلقہ معاہدے/کنسیشن ایگریمنٹ کے تحت مقررہ مالی رقم اس وقت تک روکی جائے گی ، جب تک باقی شجر کاری مکمل نہیں ہو جاتی اور مقررہ ہدف مکمل طور پر حاصل نہیں کر لیا جاتا۔
این ایچ اے آئی نے قومی شاہراہوں کے آپریشن اور رکھ رکھاؤ ( او اینڈ ایم ) کے دوران شجر کاری کی دیکھ بھال سے متعلق شرائط بھی مزید سخت کر دی ہیں۔ انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اینڈ کنسٹرکشن ( ای پی سی ) ، ہائبرڈ اینوٹی موڈ ( ایچ اے ایم ) اور بلڈ-آپریٹ-ٹرانسفر ( بی او ٹی ) اینوٹی منصوبوں میں او اینڈ ایم / اینوٹی ادائیگیوں کا اجرا، نیز بی او ٹی – ٹول منصوبوں میں دیکھ بھال سے متعلق شرائط کی جانچ، اس بات سے مشروط ہوگی کہ او اینڈ ایم کی پوری مدت کے دوران کم از کم 90 فی صد پودے زندہ رہیں۔
ہدایات میں پودوں کے سوکھنے یا ضائع ہونے کی صورت میں بروقت نئے پودے لگانے کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے، تاکہ شجر کاری کی مناسب تعداد برقرار رہے۔ پودوں کے مرنے کی صورت میں ، ان کی جگہ تقریباً اسی عمر اور اسی طرح کی نشوونما والے پودے لگائے جائیں گے، تاکہ قومی شاہراہ کے راستے کے ساتھ شجر کاری میں یکسانیت اور تسلسل برقرار رہے۔ او اینڈ ایم / اینوٹی ادائیگیوں پر کارروائی کرنے یا رکھ رکھاؤ سے متعلق شرائط کی تکمیل کی تصدیق سے پہلے این ایچ اے آئی اپنے مقرر کردہ ماحولیات اور شجرکاری کے ماہر سے تکنیکی مدد لے گا، تاکہ موقع پر شرائط پر عمل درآمد کی جانچ اور پودوں کے زندہ رہنے کے مقررہ معیار کی پابندی کو یقینی بنایا جا سکے۔
این ایچ اے آئی نے ، اس سے قبل مشاہدہ کیا تھا کہ درمیانی حصے اور شاہراہ کے اطراف شجر کاری، جو معاہدے کے تحت لازمی ہے، اس کو قومی شاہراہوں کے منصوبوں کے لیے پی سی سی / پی سی او ڈی جاری کرتے وقت اکثر مناسب اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ نظرثانی شدہ ہدایات قومی شاہراہوں کے منصوبوں کے بنیادی عمل درآمد اور رکھ رکھاؤ کے نظام میں ماحولیاتی پائیداری اور شجر کاری کے انتظام کو شامل کرنے کے لیے این ایچ اے آئی کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
.....
) ش ح – ا ع خ - ع ا )
U.No. 3217
(ریلیز آئی ڈی: 2308376)
وزیٹر کاؤنٹر : 7