نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن نے ایٹا نگر میں نیڈر ناملو کا دورہ کیا ؛ مقامی عقائد، ثقافت اور روایتی علمی نظام کو محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا
قبائلی برادریاں صرف بھارت کے ماضی کی محافظ ہی نہیں بلکہ اس کے مستقبل کی تعمیر میں بھی اہم شراکت دار ہیں: نائب صدر
’ وِکاس بھی، وراثت بھی‘ : نائب صدر نے مقامی برادریوں کے لیے ، وزیر اعظم نریندر مودی کے ویژن کو اجاگر کیا
اروناچل پردیش ، بھارت کی کثرت میں وحدت کی بہترین مثال ہے، جہاں روایات اور جدید امنگیں ایک ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں: نائب صدر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 SEP 2026 4:10PM by PIB Delhi
نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج ایٹا نگر میں نیڈر ناملو کا دورہ کیا، جو نی شی برادری اور اروناچل پردیش کی دیگر مقامی برادریوں کے مقامی ڈونی پولو مذہب سے وابستہ ایک پوِتر عبادت گاہ اور برادری کا اہم مرکز ہے۔
نائب صدر جمہوریہ نے مذہبی مقام میں پوجا کی اور انہیں نی شی برادری کے مقامی عقیدے، مذہبی اعتقادات اور پوجا ارچنا کے طریقوں، یرکو مقامی گروکل نظام، روایتی علم اور علاج کے طریقوں کے تحفظ اور مادری زبان کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں۔
برادری کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ، جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ اروناچل پردیش کے اپنے پہلے دورے کے دوران نیڈر ناملو آکر وہ خود کو خوش نصیب محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایسی جگہ آ کر اعزاز محسوس ہو رہا ہے، جہاں ’’ روایات جدید سوچ کا حصہ بنتی ہیں اور جدید سوچ روایات کو ختم نہیں کرتی۔ ‘‘
انہوں نے اروناچل پردیش کو ، بھارت کے اتحاد اور تنوع کی ایک قابلِ فخر مثال قرار دیا، جہاں قدیم روایات اور جدید خواہشات ایک ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اروناچل پردیش کے باشندے بھارت کی علاقائی سالمیت کے مضبوط محافظ کے طور پر فخر سے کھڑے ہیں۔
ڈونی پولو روایت کی اقدار کو اجاگر کرتے ہوئے ، نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ فطرت، سچائی، ہم آہنگی اور برادری پر اس روایت کا زور آج کی دنیا میں بھی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی کے ساتھ ثقافتی ورثے کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
نی شی نیڈونگ مُنگ-جُنگ رالّونگ کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ دستاویز سازی، تحقیق، روایتی تہواروں، ثقافتی سرگرمیوں اور روایتی قوانین و سماجی اقدار کے تحفظ کے شعبے میں اس کا کام برادری کے ثقافتی مستقبل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے یرکو گروکل نظام کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جدید تعلیم کو ، مقامی علم کے ساتھ جوڑنے کی ایک اہم مثال پیش کرتا ہے، جس سے بچے جدید مواقع سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اپنی جڑوں سے بھی جڑے رہ سکتے ہیں۔
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’’ وِکاس بھی، وراثت بھی ‘‘ کے ویژن کا حوالہ دیتے ہوئے ، جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ قبائلی برادریاں صرف بھارت کے ماضی کی محافظ نہیں بلکہ اس کے مستقبل کی تعمیر میں بھی اہم شراکت دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن جاتیہ گورو دِوس کو تسلیم کیے جانے سے بھارت کی قبائلی برادریوں کی بیش قیمت خدمات پر قومی سطح پر دوبارہ توجہ مرکوز ہوئی ہے۔ انہوں نے مقامی روایات کے تحفظ کو ’’ ووکل فار لوکل ‘‘ اور ’’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت ‘‘ کے جذبے سے بھی جوڑا۔
انہوں نے کہا کہ ’’ مقامی ثقافت کا تحفظ تبدیلی کی مخالفت کرنا نہیں ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ تبدیلی کی قیمت ہماری شناخت نہ بنے۔ ‘‘
نوجوانوں سے جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور عالمی سطح کی ہنر مندی حاصل کرنے کے ساتھ اپنی مادری زبان اور روایات سے جڑے رہنے کی اپیل کرتے ہوئے ، نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ بھارت کی امنگیں جدید ہونی چاہئیں، لیکن اسے اپنی تہذیبی اور ثقافتی اقدار سے گہرا تعلق برقرار رکھنا چاہیے۔
انہوں نے نیڈر ناملو تحریک کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ پوِتر مقام آئندہ بھی امن، ہم آہنگی، فطرت کے احترام، سماجی اتحاد اور برادری کے مضبوط جذبے کے لیے لوگوں کو متاثر کرتا رہے گا۔
اس موقع پر اروناچل پردیش کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) کائیوالیا تری وکرم پرنائک، وزیر اعلیٰ جناب پیما کھانڈو، نائب وزیر اعلیٰ جناب چاؤنا مین، رکن پارلیمنٹ جناب تائی تاگک، داخلی اور مقامی امور کے وزیر جناب ماما نٹونگ اور چیف سکریٹری جناب منیش کمار گپتا سمیت دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔
..................................................... ...................................................
) ش ح – ا ع خ - ع ا )
U.No. 3212
(ریلیز آئی ڈی: 2308353)
وزیٹر کاؤنٹر : 11