ارضیاتی سائنس کی وزارت
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ملک میں ہی جدید بحری تحقیق کو فروغ دینے کے لیے بھارت کے جدید سمندری تحقیقی جہاز ’او آر وی ساگر منتھن ‘ کا افتتاح کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
09 SEP 2026 12:56PM by PIB Delhi
کولکاتہ، 09 ستمبر ، 2026 ء — سمندری سائنس اور بحری ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود کفیل بننے کی جانب بھارت کے سفر میں ایک تاریخی سنگِ میل طے کرتے ہوئے، جدید ترین سمندری تحقیقی جہاز (یارڈ 3041)، جسے باضابطہ طور پر ’ او آر وی ساگر منتھن‘ کا نام دیا گیا ہے، آج کولکاتہ کے رشی بنکِم شپ یارڈ میں پانی میں اتارا گیا۔
یہ جہاز ارضیاتی سائنسز کی وزارت کے تحت نیشنل سینٹر فار پولر اینڈ اوشن ریسرچ ( این سی پی او آر ) کے لیے دفاعی شعبے کی سرکاری کمپنی گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز لمیٹڈ ( جی آر ایس ای ) نے ڈیزائن، انجینئرنگ اور تعمیر کیا ہے۔ جہاز کو آج حکومت ہند کی وزارتِ ارضیاتی سائنسز کے وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اپنی اہلیہ محترمہ منجو سنگھ کے ہمراہ ورچوئل طور پر لانچ کیا۔ روایت کے مطابق محترمہ منجو سنگھ نے جہاز کا نام رکھا۔ اس موقع پر حکومت ہند کی ارضیاتی سائنسز کی وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر ٹی سری نواس کمار بھی موجود تھے، جن کے ساتھ ان کی اہلیہ محترمہ کویتا ایلنتی نے بھی کولکاتہ میں جہاز کی لانچنگ تقریب میں شرکت کی۔
وزیر موصوف نے قومی وقار ، عالمی سمندری جغرافیائی سیاسی اور خود کفیل بننے کو اجاگر کیا۔ اپنے کلیدی خطاب میں (ورچوئل طور پر) حکومت ہند کی ارضیاتی سائنسز کی وزارت کے وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ، اس موقع کو این سی پی او آر ، وزارت اور پورے ملک کے لیے ایک تاریخی دن قرار دیا۔ انہوں نے ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ معاہدے پر دستخط ہونے کے صرف دو سال کے اندر اور جہاز کی تعمیر کا کام شروع ہونے کے بمشکل پانچ ماہ بعد ہی اسے لانچ کرنا غیر معمولی کارکردگی اور بہترین انتظامی صلاحیت کا مظاہرہ ہے۔
جہاز کی سائنسی اور کلیدی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے ، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے (اپنے پیغام کے ذریعے) کہا کہ ’’ یہ شاندار جہاز بھارت کا پہلا جدید سمندری تحقیقی جہاز ہے، جسے جی آر ایس ای نے تیار کیا ہے۔ یہ خود کفیل بننے اور آتم نربھرتا کی جانب بھارت کی اس کوشش کو ظاہر کرتا ہے، جس پر وزیر اعظم جناب نریندر مودی مسلسل زور دیتے رہے ہیں۔ علم طاقت ہے اور یہ علم صرف تحقیق کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ آج دنیا ہمارے سمندروں کے بارے میں بہت کم جانتی ہے، حالانکہ سمندر پگھلتے ہوئے قطبی گلیشیئرز، بحری اثرات اور آب و ہوا میں تبدیلی کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔ او آر وی ساگر منتھن جیسے جہازوں کے ذریعے جمع کیا گیا ٹھوس اور قابلِ اعتماد ڈیٹا بھارت کو قدرتی آفات کی روک تھام کے لیے عالمی سطح پر قیادت کرنے، ماحولیات کے تحفظ کے لیے درست اقدامات کرنے اور عالمی سمندری جغرافیائی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے میں مدد دے گا۔ ‘‘
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ جدید سہولیات سے لیس او آر وی ساگر منتھن بتدریج 43 سال پرانے معروف سمندری تحقیقی جہاز او آر وی ساگر کنیا کی جگہ لے گا، جسے 1983 ء میں جرمنی سے حاصل کیا گیا تھا۔ انہوں نے ارضیاتی سائنسز کی وزارت کے مستقبل قریب میں مزید سمندری تحقیقی جہاز اور ایک قطبی تحقیقی جہاز حاصل کرنے کے منصوبوں کی بھی ستائش کی ۔
ارضیاتی سائنسز کی وزارت کے سکریٹری نے سائنسی صلاحیتوں اور مقامی سطح پر تیاری کی جانب منتقلی پر زور دیا ۔
اپنے خطاب میں ارضیاتی سائنسز کی وزارت کے سکریٹری ڈاکٹر ٹی سری نواس کمار نے اس پالیسی تبدیلی پر فخر کا اظہار کیا، جس کے تحت بھارت نے بیرونِ ملک سے تحقیقی پلیٹ فارم حاصل کرنے کے بجائے انہیں ملک میں ہی تیار کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔
اس کے بنیادی سائنسی اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر ٹی سری نواس کمار نے کہا کہ :
’’ ایک بحری ماہرِ سائنس کی حیثیت سے، میں نے خود سمندری تحقیق کی بے پناہ اہمیت کا مشاہدہ کیا ہے۔ یہ آب و ہوا میں تبدیلی سے متعلق چیلنجوں کو سمجھنے، سونامی کی پیش گوئی کرنے اور بحری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی بنیاد ہے۔ اس نئے او آر وی کی صلاحیتیں ایک سائنس دان کی حیثیت سے میرے لیے بہت حوصلہ افزا ہیں۔ اس میں سفر کے دوران ، سمندر کی تہہ کے وسیع پیمانے پر ملٹی بیم سروے، جیو فزیکل پروفائلنگ، فضائی مشاہدات اور پانی کی مختلف تہوں سے نمونے لینے کی سہولیات موجود ہوں گی۔ جی آر ایس ای نے اس پیچیدہ چیلنج کو کامیابی سے مکمل کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بھارت ان چند ممالک میں شامل ہے ، جو ایسے پیچیدہ تحقیقی پلیٹ فارم کو ڈیزائن اور تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ‘‘
پروجیکٹ کا پس منظر اور کلیدی اہمیت
حکومت ہند کے اہم ڈیپ اوشن مشن ( ڈی او ایم ) کے ورٹیکل-4 (گہرے سمندر کا سروے اور تحقیق) کے تحت تقریباً 840 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا او آر وی ساگر منتھن ہر موسم میں کام کرنے والا کثیر شعبہ جاتی تحقیقی پلیٹ فارم ہے۔ اسے سمندر کے انتہائی مشکل ماحول، بشمول جنوبی سمندر، میں کام کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور اس کی متوقع سروس لائف 30 سال ہے۔
اہم تکنیکی اور عملی خصوصیات
جدید آلات: اس جہاز میں ڈائنامک پوزیشننگ، ملٹی بیم باتھیمیٹری، ملٹی چینل سیسمک سسٹمز، سب باٹم پروفائلنگ، موسمیاتی ریڈار، ڈراپ کیلز اور ریموٹلی آپریٹڈ وہیکلز ( آر او وی ) اور خودکار زیرِ آب گاڑیوں ( اے یو وی ) کو سمندر میں اتارنے اور واپس لانے کی سہولیات شامل ہیں۔
تحقیقی دائرہ کار: یہ جہاز بحرِ ہند کی وسطی سمندری پہاڑی سلسلوں میں کثیر شعبہ جاتی تحقیق میں مدد دے گا، جس کا مقصد مختلف دھاتوں پر مشتمل ہائیڈرو تھرمل سلفائیڈ معدنی ذخائر کی نشاندہی کرنا، ماحولیات کے بنیادی اعداد و شمار قائم کرنا، بالائی فضا سے متعلق ڈیٹا جمع کرنا اور سی ٹی ڈی پروفائلنگ کرنا ہے۔
دوہری درجہ بندی کی منظوری: یہ جہاز بین الاقوامی انضباطی معیارات کی مکمل پابندی کے ساتھ تیار کیا گیا ہے اور انڈین رجسٹر آف شپنگ ( آئی آر ایس) اور امریکن بیورو آف شپنگ ( اے بی ایس ) کی جانب سے دوہری درجہ بندی کی منظوری حاصل کرے گا۔
منصوبے کے اہم مراحل: جولائی ، 2024 ء میں معاہدے پر دستخط، 29 نومبر ، 2024 ء کو پہلے اسٹیل کی کٹائی اور 08 اپریل ، 2026 ءکو کیل قائم کرنے کے بعد، جہاز کو آج کامیابی کے ساتھ اسمبلی ڈاک سے تعمیراتی ڈاک میں منتقل کر دیا گیا۔
لانچ کے بعد جہاز کے بالائی ڈھانچے کی تعمیر، مختلف نظاموں کو نصب اور مربوط کرنے کا کام اور وسیع پیمانے پر سمندری آزمائشیں کی جائیں گی، جس کے بعد اسے این سی پی او آر / ارضیاتی سائنسز کی وزارت کے سپرد کیا جائے گا۔ جہاز کو باضابطہ طور پر سروس میں شامل کرنے کا عمل 2028 ء میں متوقع ہے۔
تقریب میں اہم معزز شخصیات کی موجودگی میں مختلف رسمی مراحل انجام دیے گئے۔ جی آر ایس ای کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر کمانڈر پی آر ہری کے استقبالیہ خطاب کے بعد، ڈاکٹر ایم وی رمن مورتی، ڈیپ اوشن مشن کے مشن ڈائریکٹر، اور ڈاکٹر تھمبن میلتھ، این سی پی او آر ، ارضیاتی سائنسز کی وزارت کے ڈائریکٹر کی موجودگی میں نام کی تختی کی نقاب کشائی کے ذریعے یارڈ 3041 کی لانچنگ اور نام رکھنے کی تقریب انجام دی گئی۔ اس موقع کا اہم مرحلہ جہاز کی باضابطہ لانچنگ تھی، جس کے تحت جدید جہاز کو پانی میں اتار کر اس کی تعمیر کے اگلے مرحلے کا آغاز کیا گیا۔

..................................................... ...................................................
) ش ح – م م - ع ا )
U.No. 3202
(ریلیز آئی ڈی: 2308281)
وزیٹر کاؤنٹر : 6