وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

وزیر دفاع نے جزیرائی ملک کے اپنے پہلے دورے کا آغاز کرتے ہوئے کہا بھارت بحران کے وقت ہمیشہ سری لنکا  کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 SEP 2026 9:18PM by PIB Delhi

وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 8 ستمبر 2026 کو کولمبو میں مقیم بھارتی افراد سے ملاقات کے ساتھ پڑوسی ملک کے اپنے پہلے دورے کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ‘‘جب بھی سری لنکا کوکسی بحران کا سامنا ہوگا، بھارت مضبوطی سے ہمیشہ اس کے ساتھ کھڑا رہے گا۔’’وزیر موصوف نے زور دے کر کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان گہرے ثقافتی اور تہذیبی روابط ہیں، جنہوں نے باہمی تعلقات کے فروغ کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/PIC1(3)_20260908211930_898084.jpeg

وزیر دفاع جناب راجناتھ سنگھ نے بھارت کی تیز رفتار اقتصادی ترقی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور عالمی اقتصادی ترقی میں اس کا حصہ16 فیصد سے زیادہ ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ 2014 میں بھارت کی معیشت کا حجم 2 ٹریلین امریکی ڈالر تھا، جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران دوگنا ہو کر تقریباً 4 ٹریلین امریکی ڈالر ہو گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عالمی اقتصادی چیلنجوں کے باوجود مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں ملک کی معیشت نے 7.8 فیصد کی شرح سے ترقی کی۔ جناب سنگھ نے معاشی استحکام میں بہتری کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران اوسط افراطِ زر تقریباً 4.7 فیصد رہی، جبکہ اس سے قبل کے دور میں یہ شرح 10 سے 11 فیصد تھی۔

جناب راجناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ بھارت کی اشیاء اور خدمات کی برآمدات کی مالیت 2014 میں 45 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 79 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی ہے۔ الیکٹرانک مصنوعات اور موبائل فون کی تیاری میں غیر معمولی توسیع کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ الیکٹرانک مصنوعات کی پیداوار 1.9 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر 11 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ ان کی برآمدات میں 700 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ تقریباً 38,000 کروڑ روپے سے بڑھ کر 3 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہو گئی ہیں۔ وزیر موصوف نے کہا ‘‘بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل فون تیار کرنے والا ملک بھی بن گیا ہے۔ ملک میں موبائل فون تیار کرنے والے یونٹس کی تعدادجو 2014 میں محض دو تھی، اب بڑھ کر 300 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ موبائل فون کی پیداوار18,000 کروڑ روپے سے بڑھ کر 5.5 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی ہے، جبکہ موبائل فون کی برآمدات تقریباً 163 گنا بڑھ کر 2.6 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں۔ گاڑیوں کی برآمدات بھی تقریباً50,000 کروڑ روپے سے بڑھ کر سالانہ 1.20 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی ہے۔’’

وزیر دفاع جناب راجناتھ سنگھ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بھارت نے گزشتہ 12 برسوں کے دوران 38 ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کیے ہیں، جن میں آٹھ بڑی معیشتوں کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے بھی شامل ہیں، جبکہ 2014 سے قبل ایسے معاہدے صرف چار ممالک کے ساتھ کیے گئے تھے۔ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو ‘‘مدر آف آل ڈیلس’’ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ یورپی یونین کی وسیع و عریض منڈی تک رسائی فراہم کرتا ہے اور بھارت کی بڑھتی ہوئی سفارتی و اقتصادی صلاحیتوں کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

جناب راجناتھ سنگھ نے بھارت کی عالمی ساکھ اور مقام میں نمایاں اضافے کا سہرا وزیر اعظم جناب نریندر مودی کو دیتے ہوئے کہا کہ 12 برس قبل کے مقابلے میں آج بین الاقوامی سطح پر جب بھارت بولتا ہے تو دنیا اس کی بات سنتی ہے۔ انہوں نے  وہاںمقیم بھارتی افراد کی بھی ستائش کی اور کہا کہ وہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان ایک پل کا رول ادا کر رہے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/PIC2(2)_20260908211945_b569b7.jpeg

وزیر دفاع نے دفاعی شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 12 برس قبل بھارت محض 600 کروڑ روپے مالیت کے دفاعی سازوسامان برآمد کرتا تھا، جو اب بڑھ کر تقریباً 39,000 کروڑ روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ دفاعی بجٹ بھی مالی سال 2013-14 میں تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 7.25 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا ہے۔ جناب راجناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ ترقی، بھارت کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں اور ایک مضبوط اور خود کفیل دفاعی شعبے کی جانب اس کے مسلسل سفر کی عکاس ہے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ آج بھارت دنیا کے تیسرے سب سے بڑے اسٹارٹ اَپ نظام کا حامل ملک ہے اور 2014 کے بعد سے ملک میں یونیکورن کمپنیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ جناب سنگھ نے کہا کہ یہ بھارت کے نوجوانوں میں موجود اختراعی جذبے اور کاروباری حوصلے کی عکاسی کرتا ہے۔

ٹیکس نظام میں کی جانے والی اہم اصلاحات کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اشیاء اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے نفاذ سے ’’ایک ملک، ایک ٹیکس‘‘ کا نظام قائم ہوا، جبکہ ٹیکس میں رعایت کے اقدامات نے انفرادی ٹیکس دہندگان پر مالی بوجھ کو کم کیا ہے۔

اقتصادی ترقی کے عوامی بہبود پر اثرات کا ذکر کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ تقریباً 25 کروڑ بھارتی شہری غربت کے دائرے سے باہر نکل چکے ہیں۔ وزیرموصوف نے کہا کہ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں غربت میں نمایاں کمی آئی ہے اور سماجی تحفظ کے دائرے میں بھی نمایاں توسیع ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2014 میں سماجی تحفظ کی اسکیموں سے تقریباً 25 کروڑ شہری مستفید ہوئے تھے، جبکہ اب تقریباً 95 کروڑ بھارتی شہری سماجی تحفظ کے دائرے میں شامل ہیں۔جناب سنگھ نے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کے تبدیلی لانے والے اثرات کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ براڈ بینڈ رابطے کے دائرے میں تیزی سے توسیع ہوئی ہے اوریو پی آئی نے بھی بے مثال ترقی کی ہے۔

وزیر دفاع جناب راجناتھ سنگھ نے بھارت کے بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار ترقی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ شاہراہوں، ہوائی اڈوں اور دیگر ذرائع نقل و حمل کے نیٹ ورک میں نمایاں توسیع ہوئی ہے۔ وزیرموصوف نے کہا کہ بھارتی ریلوے 100 فیصد برقی کاری کے ہدف کی جانب تیزی سے پیش رفت کر رہی ہے۔انہوں نے جے اے ایم نیٹ ورک اور فائدوں راست منتقلی کے نظام کے رول کو بھی اجاگر کیا، جن کی مدد سے فلاحی اسکیموں کے فوائد براہِ راست شہریوں تک پہنچانے کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فائدوں کی راست منتقلی کے نظام کے ذریعے 51 لاکھ کروڑ روپے لوگوں کے بینک کھاتوں میں منتقل کیے جا چکے ہیں۔

اس تقریب میں سری لنکا کی حکومت میں کابینہ کی وزیر محترمہ سروجہ ساویتھری پالراج، مغربی صوبے کے گورنر جناب حنیف یوسف، سری لنکا کی حکومت میں نائب وزیر جناب سندرلنگم پردیپ، سری لنکا میں بھارت کے ہائی کمشنر جناب سنتوش جھا، بھارت کے سینئر سول و فوجی افسران اور بھارتی برادری کے ارکان نے شرکت کی۔

******

 

ش ح۔ش م۔اش ق

U. No. 3198


(ریلیز آئی ڈی: 2308261) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil