PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

9واں راشٹریہ پوشن ماہ


غذائیت کے حوالے سے ایک ماہ تک جاری رہنے والا جشن

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 SEP 2026 5:05PM by PIB Delhi

اشٹریہ پوشن ماہ (قومی غذائیت کا مہینہ) ہر سال ستمبر میں منایا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا خصوصی پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے معاشرے کے مختلف طبقات کو متحرک کیا جاتا ہے اور حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں، بچوں، نوعمروں اور ان کے خاندانوں میں غذائیت، صحت اور نگہداشت سے متعلق اہم رویوں کو مزید مضبوط بنایا جاتا ہے۔ 9واں پوشن ماہ 2026، جس کا آغاز 9 ستمبر 2026 کو ہوگا، آنگن واڑی مراکز کی اہمیت کو اجاگر کرے گا۔ اس دوران حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے متوازن اور پروٹین سے بھرپور غذا کے بارے میں بیداری پیدا کی جائے گی۔ پوشن ماہ کی مسلسل مہمات کے ذریعے زچگی کے دوران غذائیت، شیر خوار اور کم عمر بچوں کو غذا فراہم کرنے کے طریقوں(آئی وائی سی ایف)، بچوں کی نشوونما کی نگرانی اور صفائی ستھرائی کے حوالے سے بیداری اور مثبت رویوں کو فروغ ملا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں غذائیت سے متعلق نتائج کو بہتر بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر کوششیں بھی جاری ہیں۔

 

پس منظر

غذائی قلت آج بھی بھارت کو درپیش صحت عامہ کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ یہ خواتین اور بچوں کی صحت، نشوونما، سیکھنے کی صلاحیت اور کارکردگی کو زندگی کے مختلف مراحل میں متاثر کرتی ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مربوط اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے، حکومت ہند نے مارچ 2018 میں پوشن ابھیان شروع کیا۔ یہ ایک کثیر وزارتی پروگرام ہے، جس میں غذائیت کو ملک کی ترقی کے ایجنڈے کا اہم مرکز بنایا گیا ہے۔

مرکزی بجٹ 2021-22 میں ان تمام اقدامات کو مشن پوشن 2.0 کے تحت یکجا کر دیا گیا، جو بھارت کا متحدہ قومی غذائیت مشن ہے اور جس کی قیادت خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت کرتی ہے۔ پوشن 2.0 کے تحت تین بنیادی اسکیموں کو ایک ہی جامع فریم ورک میں شامل کیا گیا ہے:

 

 - 1پوشن ابھیان: ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی، عوامی تحریک (جن آندولن) کے ذریعے بڑے پیمانے پر عوامی شمولیت اور رویوں میں مثبت تبدیلی لانا۔

- 2آنگن واڑی خدمات/ انٹیگریٹڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ سروسز (آئی سی ڈی ایس): اضافی غذائیت، گرم پکا ہوا کھانا اوربچپن کی ابتدائی دیکھ بھال۔

-3نوعمر لڑکیوں کے لیے اسکیم: اسکول سے باہر رہنے والی نوعمر لڑکیوں کو غذائی مدد فراہم کرنا۔

 

راشٹریہ پوشن ماہ، یعنی قومی غذائیت کا مہینہ، ہر سال ستمبر میں منایا جاتا ہے۔ یہ ان طریقوں میں سے ایک ہے جن کے ذریعے حکومت مشن پوشن 2.0 کی اسکیم اور اس کے مقاصد کے بارے میں عوام میں بیداری پیدا کرتی ہے۔

 9واں راشٹریہ پوشن ماہ 9 ستمبر 2026 کو اتر پردیش کے وارانسی میں واقع رودرکش انٹرنیشنل کوآپریشن اینڈ کنونشن سینٹر میں شروع کیا جائے گا۔ اس سال پوشن ماہ کے ذریعے آنگن واڑی مراکز کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے گا۔

آنگن واڑی مراکز دنیا کا سب سے بڑا بچوں کی نگہداشت کا نیٹ ورک ہیں۔ یہ مراکز ملک کے انتہائی دور دراز علاقوں میں رہنے والے بچوں تک بھی ضروری دیکھ بھال اور مدد پہنچاتے ہیں۔

اس سال کا مرکزی موضوع ‘‘ہماری آنگن واڑی، ہماری ذمہ داری’’ ہے، جس کے ذریعے ہر شہری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ آنگن واڑی مراکز کی ذمہ داری کو مشترکہ طور پر اپنا فرض سمجھے اور ان کی بہتری میں اپنا کردار ادا کرے۔

 

 

نو(9)واں راشٹریہ پوشن ماہ

راشٹریہ پوشن ماہ 2026 کا مرکزی موضوع ‘‘ہماری آنگن واڑی، ہماری ذمہ داری’’ ہے۔ اس کا مقصد آنگن واڑی مراکز کو غذائیت، دیکھ بھال اور بچپن کی ابتدائی نشوونما کے لیے کمیونٹی کی قیادت میں ہونے والی سرگرمیوں کا مرکز بنانا ہے۔ ساتھ ہی پوشن کے حوالے سے اجتماعی ذمہ داری اور جواب دہی کو بھی مضبوط کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے پانچ اہم ترجیحات مقرر کی گئی ہیں، جو ایک دوسرے کو تقویت دیں گی:

  1. غذا میں تنوع کو فروغ دینا: اس بات پر زور دیا جائے گا کہ مناسب مقدار میں پروٹین حاصل ہو، مختلف غذائی اجزا اور مقامی طور پر دستیاب غذائیں خوراک میں شامل کی جائیں۔
  2. تازہ اور متنوع گرم پکے ہوئے کھانے (ایچ سی ایم) کو فروغ دینا: سپلیمنٹری نیوٹریشن پروگرام (ایس این پی) کے تحت کھانے کے مینو میں تبدیلی، صفائی ستھرائی اور معیار کو یقینی بنانے پر توجہ دی جائے گی۔
  3. پوشن کے حوالے سے کمیونٹی کی ذمہ داری اور جواب دہی مضبوط کرنا: حال ہی میں تشکیل دی گئی آنگن واڑی مانیٹرنگ کمیٹیوں (اے ایم سی) کے ذریعے، جن کے لیے رہنما اصول 23 جون 2026 کو جاری کیے گئے ہیں، عوام کی شمولیت اور ذمہ داری کو بڑھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ سپلیمنٹری نیوٹریشن پروگرام (ایس این پی)کے مینو بورڈ بھی نمایاں طور پر آویزاں کیے جائیں گے۔
  4. بچوں کی ذہنی نشوونما اور مناسب غذائیت کو فروغ دینا: ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال اور تعلیم (ای سی سی ای )کے بنیادی ستون کے طور پر بچے کی ذہنی نشوونما اور مناسب غذا کی اہمیت اجاگر کی جائے گی۔ اس بات پر زور دیا جائے گا کہ بچہ کیا کھاتا ہے اور وہ کس طرح سیکھتا ہے، ان دونوں کا آپس میں گہرا اور ناقابل تقسیم  تعلق ہے۔ اور
  5. راشٹریہ پوشن ماہ 2026 کے دوران بھارت کے اہم زچگی فوائد کے پروگرام، پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا (پی ایم ایم وی وائی) کے 10 سال مکمل ہونے کی یاد بھی منائی جائے گی۔ اس موقع پر زچگی کے دوران غذائیت کی معاونت، صحت سے متعلق خدمات سے استفادہ کرنے کے رجحان کو فروغ دینے اور حمل کے دوران آمدنی میں مدد فراہم کرنے میں اس پروگرام کے کردار کو اجاگر کیا جائے گا۔ ساتھ ہی، زندگی کے پہلے 1,000 دنوں کے دوران ماں کی مناسب غذائیت اور دیکھ بھال کی اہمیت پر بھی زور دیا جائے گا، کیونکہ صحت مند نشوونما، ذہنی صلاحیتوں کی ترقی اور زندگی بھر کی فلاح و بہبود کے لیے یہ نہایت اہم ہیں۔

 

راشٹریہ پوشن ماہ 2026 کے مجوزہ موضوعات

 

-1غذائی تنوع اور مناسب مقدار میں پروٹین:ایسی متنوع غذا جس میں اناج اور موٹے اناج (ملٹس)، دالیں، پھل اور سبزیاں، میوے اور بیج، دودھ اور دودھ سے بنی اشیا شامل ہوں، اور جس کے ساتھ نباتاتی اور حیوانی دونوں ذرائع سے مناسب مقدار میں پروٹین حاصل ہو، جسم کی غذائی ضروریات پوری کرنے، صحت مند نشوونما اور جسمانی و ذہنی ترقی میں مدد دینے اور ہر قسم کی غذائی قلت سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے۔زندگی کے ہر مرحلے میں متنوع غذا کو فروغ دینا، خاص طور پر بچے کو ماں کے دودھ کے ساتھ اضافی غذا دینے کے مرحلے میں، غذائیت کی صورتحال بہتر بنانے اور کم عمری ہی سے صحت مند غذائی عادات پیدا کرنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

اس سلسلے میں درج ذیل سرگرمیاں کی جا سکتی ہیں:

  • صحت بخش اور متنوع پکوانوں کا عملی مظاہرہ: آنگن واڑی مراکز میں صحت بخش اور متنوع پکوان تیار کرنے کے عملی مظاہرے کیے جائیں گے۔ ان پکوانوں میں مختلف غذائی گروپوں سے تعلق رکھنے والی سستی اور مقامی طور پر دستیاب اشیا، جیسے اناج اور موٹے اناج، دالیں، سبزیاں اور پھل، گری دار میوے اور بیج، دودھ اور دودھ سے بنی اشیا اور انڈے شامل ہوں گے۔
  • پوشن میلے: پوشن میلوں کا انعقاد کیا جائے گا، جہاں مقامی اور غذائیت سے بھرپور غذاؤں کو معلوماتی اور باہمی سرگرمیوں پر مبنی نمائشوں اور پکوان تیار کرنے کے عملی مظاہروں کے ذریعے پیش کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہر عمر کے افراد کے لیے متوازن اور متنوع غذا تیار کرنے کے حوالے سے غذائی مشاورت بھی فراہم کی جائے گی۔
  • پروٹین سے بھرپور غذاؤں کی مہم: نباتاتی اور حیوانی ذرائع سے حاصل ہونے والی پروٹین سے بھرپور غذاؤں، دالوں، پھلیوں، گری دار میووں اور بیجوں، دودھ اور دودھ سے بنی اشیا اور انڈوں کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے مختلف سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی۔ اس دوران روزمرہ کی غذا میں پروٹین شامل کرنے کے عملی اور کم خرچ طریقوں کا بھی مظاہرہ کیا جائے گا۔
  • پوشن واٹیکا کی پیداوار اور مقامی غذاؤں کی نمائش: پوشن واٹیکا میں پیدا ہونے والی غذائی اشیا اور مقامی طور پر دستیاب موسمی غذاؤں کو پیش کیا جائے گا، اور گھریلو کھانوں میں ان کے باقاعدہ استعمال کے ساتھ ساتھ کم عمر بچوں کو اضافی غذا دینے میں بھی ان کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔

-2آنگن واڑی مراکز میں تازہ گرم پکا ہوا کھانا

اس بات کو یقینی بنانا کہ مستحقین کو باقاعدگی سے تازہ، متنوع اور غذائیت سے بھرپور گرم پکا ہوا کھانا (ایچ سی ایم) ملے، سپلیمنٹری نیوٹریشن پروگرام (SNP) کے معیار، افادیت اور مؤثریت کو بہتر بنانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے آنگن واڑی مراکز میں مستحقین کی باقاعدہ حاضری کی بھی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ملکی سطح پر دستیاب اجزا، جن میں موٹے اناج (ملٹس)، دالیں اور موسمی سبزیاں شامل ہیں، اس سے تازہ اور صاف ستھرا کھانا تیار کرنے پر زور دینے سے متنوع غذا کی اہمیت مزید اجاگر ہوتی ہے اور گھروں میں بھی صحت بخش غذائی عادات اپنانے میں مدد ملتی ہے۔پوشن ماہ 2026 آنگن واڑی مراکز میں ہفتہ وار مینو میں تبدیلی، کمیونٹی کی شمولیت اور مضبوط معیار جانچنے کے نظام کے ذریعے گرم پکے ہوئے کھانے کے معیار اور لوگوں کی پسندیدگی کو بہتر بنانے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔

اس سلسلے میں درج ذیل سرگرمیاں کی جا سکتی ہیں:

  • ہفتہ وار مینو میں تبدیلی: ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کو آنگن واڑی مراکز میں ہفتہ وار مینو تبدیل کرنے کا نظام نافذ کرنے کی ترغیب دی جائے، تاکہ ہفتے کے مختلف دنوں میں متنوع گرم پکا ہوا کھانا فراہم کیا جا سکے۔ اس میں مقامی طور پر دستیاب اجزا، موٹے اناج، دالیں اور موسمی سبزیاں شامل کی جائیں۔
  • گرم پکے ہوئے کھانے (ایچ سی ایم) کی تیاری کا عملی مظاہرہ: سپلیمنٹری نیوٹریشن پروگرام (ایس این پی )کے رہنما اصولوں کے مطابق تیار کیے جانے والے گرم پکے ہوئے کھانے کی براہ راست تیاری کا مظاہرہ کیا جائے۔ اس دوران مناسب اجزا، حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق کھانا تیار کرنے کے طریقوں اور متوازن غذا کی ترکیب کو نمایاں کیا جائے۔
  • مشن موڈ میں گرم پکے ہوئے کھانے (ایچ سی ایم) کے معیار کی جانچ: فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) کے تعاون سے ملک بھر میں گرم پکے ہوئے کھانے کی جانچ کی جائے، تاکہ خوراک کی حفاظت اور معیار کے مقررہ اصولوں کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
  • کمیونٹی کے لیے گرم پکے ہوئے کھانے کے ذائقے کی نشستیں: آنگن واڑی مراکز میں گرم پکے ہوئے کھانوں کے ذائقے کی نشستیں منعقد کی جائیں، جن میں والدین، پنچایتوں، خود امدادی گروپوں (ایس ایچ جی) اور آنگن واڑی مینجمنٹ کمیٹیوں کے ارکان کو بھی شامل کیا جائے۔

 

-3کمیونٹی کی شمولیت اور جواب دہی

وزارت کی جانب سے 23 جون 2026 کو جاری کیے گئے رہنما اصولوں کے مطابق حال ہی میں آنگن واڑی مینجمنٹ کمیٹیوں (اے ایم سی) کی تشکیل عمل میں آئی ہے۔ اس سے سپلیمنٹری نیوٹریشن پروگرام(ایس این پی) میں کمیونٹی کی شمولیت، ذمہ داری اور جواب دہی کو مضبوط بنانے کا بروقت موقع ملا ہے۔آنگن واڑی سپروائزر کی سربراہی میں قائم یہ کمیٹیاں باہمی مشاورت سے نگرانی کو فروغ دینے، کمیونٹی کی شمولیت بڑھانے اور آنگن واڑی مراکز میں فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار اور مؤثریت کو بہتر بنانے کے لیے کام کریں گی۔

پوشن ماہ 2026 ان کمیٹیوں کو فعال بنانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس دوران انہیں بیداری پیدا کرنے، مستحقین کو خدمات سے جوڑنے اور غذائیت وبچپن کی ابتدائی دیکھ بھال  سے متعلق خدمات کی نگرانی میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔اس کوشش کے ساتھ آنگن واڑی مراکز پر ایس این پی مینو بورڈز کی باقاعدہ نمائش اور استعمال بھی شفافیت کو بڑھا سکتا ہے، کیونکہ ان کے ذریعے مستحقین کو ملنے والی سہولیات اور روزانہ کے مینو کی معلومات کمیونٹی کے سامنے واضح طور پر موجود رہیں گی۔آنگن واڑی مینجمنٹ کمیٹیاں اور مینو بورڈز مل کر مینو پر عمل درآمد، کھانے کے معیار اور خدمات کی باقاعدگی کی نگرانی میں کمیونٹی کی شمولیت کو بڑھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے ذریعے اضافی غذائیت، مستحقین کے حقوق و سہولیات اور بچوں کی بہتر نگہداشت کے طریقوں کے بارے میں بھی بیداری پیدا کی جا سکتی ہے۔

 

اس سلسلے میں درج ذیل سرگرمیاں کی جا سکتی ہیں:

 

  • آنگن واڑی مینجمنٹ کمیٹیوں (اے ایم سی) کو فعال کرنا: تمام آنگن واڑی مراکز میں اے ایم سی کو فعال کیا جائے، تاکہ وہ کمیونٹی کی شمولیت کی قیادت کریں، غذائیتی خدمات کی فراہمی کا جائزہ لیں اور پوشن ماہ کی سرگرمیوں میں تعاون کریں۔ اس کے علاوہ یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ پوشن ماہ کے دوران کم از کم ایک اے ایم سی اجلاس ضرور منعقد ہو۔
  • ایس این پی مینو بورڈ کی نمائش: ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو یقینی بنانا چاہیے کہ تمام آنگن واڑی مراکز میں ایس این پی مینو بورڈ آویزاں کیے جائیں۔ اس سے مستحقین کو ہر دن فراہم کیے جانے والے ایچ سی ایم اورٹی ایچ آر کے مینو کے بارے میں معلومات ملیں گی اور خدمات کی شفافیت اور کمیونٹی کی نگرانی مزید مضبوط ہوگی۔
  • کھانے کے معیار کی کمیونٹی کے ذریعے نگرانی: اے ایم سی اور ماؤں کی کمیٹیوں کو کھانے کے معیار، مقدار اور مقررہ مینو پر عمل درآمد کی نگرانی میں شامل کیا جائے۔ اس کے ساتھ سپلیمنٹری نیوٹریشن پروگرام کا وقتاً فوقتاً سماجی آڈٹ بھی کیا جائے۔

 

موضوع 4: بچوں کی نشوونما کے لیے غذائیت اور ابتدائی ذہنی و جسمانی تحریک

چیف سیکریٹریوں کی کانفرنس کی جانب سے دی گئی سمت کے مطابق، ذہنی نشوونما اور مناسب غذائیت بچپن کی ابتدائی دیکھ بھال اور تعلیم (ای سی  سی اے)کے بنیادی عناصر ہیں۔ اس موضوع میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ بچہ کیا کھاتا ہے اور وہ کس طرح سیکھتا ہے، ان دونوں کا آپس میں گہرا اور ناقابل تقسیم تعلق ہے۔زندگی کے پہلے 1,000 دنوں کے دوران اچھی غذائیت اور بچے کی ضروریات کے مطابق مناسب دیکھ بھال دماغ کی بہترین نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس اہم مرحلے میں غذائی کمی کے بچوں کی ذہنی، جسمانی اور سماجی و جذباتی نشوونما پر دیرپا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔نظرِ ثانی شدہ گھریلو دورہ شیڈول میں 0 سے 3 سال تک کے بچوں کی نشوونما کے 34 اہم مراحل پر مشتمل ایک منظم نظام شامل کیا گیا ہے۔ یہ آنگن واڑی کارکنوں (اے ڈبلیو ڈبلیو) کو والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کو بہتر رہنمائی فراہم کرنے اور بچوں میں ابتدائی ذہنی و جسمانی تحریک کو فروغ دینے میں مدد دے گا۔

 

اس سلسلے میں درج ذیل سرگرمیاں کی جا سکتی ہیں

  • نظرِ ثانی شدہ گھریلو دورہ شیڈول: نظرثانی شدہ گھریلو دورہ شیڈول کو تیزی سے نافذ کیا جائے، تاکہ زندگی کے پہلے 1,000 دنوں اور ابتدائی بچپن کے دوران مشاورت اور بعد ازاں نگرانی کا عمل بہتر اور مربوط ہو سکے۔ نَو چیتنا اور آدھارشِلا نصاب پر عمل درآمد کے ذریعے معیاری بچپن کی ابتدائی دیکھ بھال اور تعلیم (ای سی سی ای )کو فروغ دیا جائے، تاکہ بچوں میں عمر کے مطابق سیکھنے، نشوونما اور اسکول جانے کے لیے تیاری کی صلاحیت پیدا ہو۔
  • نشوونما میں تاخیر کے شکار بچوں کو ریفر کرنا: بچوں کی نشوونما میں تاخیر کی بروقت پہچان اور ایسے بچوں کو مناسب طبی خدمات تک پہنچانے کے طریقۂ کار کو فروغ دیا جائے۔ اس سلسلے میں صحت کے نظام اور آر بی ایس کے ٹیموں کے تعاون سے بڑے پیمانے پر بیداری پیدا کی جائے۔
  • ابتدائی ذہنی و جسمانی تحریک میں غذائیت کی اہمیت کے بارے میں بیداری: مناسب غذائیت اور ابتدائی بچپن میں ذہنی و جسمانی تحریک کی اہمیت کے بارے میں بڑے پیمانے پر بیداری مہم چلائی جائے، تاکہ بچوں کی دماغی اور ذہنی نشوونما بہتر انداز میں ہو سکے۔

 

موضوع 5: پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا(پی ایم ایم وی وائی ): زچگی کی صحت کے لیے نقد مالی معاونت:پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا (پی ایم ایم وی وائی) بھارت کے اہم زچگی فوائد کے پروگرام کے طور پر اپنے 10 سال مکمل کر رہی ہے۔ یہ پروگرام زچگی کے دوران غذائیت کی معاونت، صحت سے متعلق خدمات سے استفادہ کرنے کے رجحان کو فروغ دینے اور حمل کے دوران آمدنی میں معاونت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پوشن ماہ 2026 تمام اہل مستفیدین تک اس پروگرام کی رسائی بڑھانے، شہریوں میں اس حوالے سے بیداری کو مزید مضبوط کرنے اور ماں اور بچے کی صحت کے فروغ میں ایک دہائی کی پیش رفت کا جشن منانے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔

اس سلسلے میں درج ذیل سرگرمیاں کی جا سکتی ہیں:

  • صد فیصد تک رسائی مہم: پی ایم ایم وی وائی کے تحت تمام اہل حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کی شناخت اور رجسٹریشن کے لیے خصوصی اندراجی مہم چلائی جائے۔ زیررلتوا معاملات کا جائزہ لے کر تصدیق، منظوری اور براہ راست فوائد کی منتقلی (ڈی بی ٹی) کے عمل میں تیزی لائی جائے۔ پی ایم ایم وی وائی ڈیش بورڈز کے ذریعے پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے۔
  • عوامی بیداری کی مہم: پی ایم ایم وی وائی کے لیے اہلیت، فوائد، قسطوں اور درخواست دینے کے طریقۂ کار کے بارے میں بیداری مہم چلائی جائے۔ مستحقین کے تجربات اور کامیابی کی کہانیاں سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائی جائیں۔
  • پی ایم ایم وی وائی ٹول کٹ کا اجرا: ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں زمینی سطح پر عمل درآمد کے لیے پی ایم ایم وی وائی ٹول کٹ جاری کی جائے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو ترغیب دی جائے کہ وہ ٹول کٹ میں موجود مواد کو مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالیں اور علاقائی زبانوں میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔

 

A blue and white rectangles with images of people

 

کمیونٹی کی شمولیت: غذائیت ایک عوامی تحریک

پوشن ابھیان کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں غذائیت کی بہتری کو جن آندولن یعنی حقیقی عوامی تحریک کے طور پر پیش کیا گیا ہے، نہ کہ محض حکومت کے زیرانتظام چلنے والے پروگرام کے طور پر۔مشن کا ماننا ہے کہ شیر خوار بچوں کو غذا دینے کے طریقوں، متنوع غذا، حمل کے دوران ضروری دیکھ بھال، ہاتھوں کی صفائی اور صحت سے متعلق اداروں سے بروقت رجوع کرنے جیسے معاملات میں دیرپا مثبت تبدیلی صرف اسی وقت لائی جا سکتی ہے جب کمیونٹی خود اس کی ذمہ داری لے اور زمینی سطح پر بھرپور حصہ لے۔پوشن ماہ اور پوشن پکھواڑہ غذائیت کے حوالے سے عوام کو متحرک کرنے کی ملک کی سب سے بڑی مہمات میں شامل ہیں۔ یہ مہمات ہر سال مقررہ مہینوں میں چلائی جاتی ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ کر ایسی عادات اور طریقوں کو فروغ دیا جا سکے جو صحت، تندرستی اور قوت مدافعت کو بہتر بناتے ہیں۔

 

پوشن پکھواڑہ (اپریل 2026)

 سال 2018 سے ہر سال منایا جانے والا پوشن پکھواڑہ اپریل میں دو ہفتے تک جاری رہنے والی ایک خصوصی عوامی رابطہ مہم ہے۔ اس کا مقصد پوشن ابھیان کے تحت کمیونٹی کی شمولیت کو مضبوط بنانا اور غذائیت سے متعلق اہم صحت مند عادات کو مزید فروغ دینا ہے۔ 2026 میں پوشن پکھواڑہ کا 8واں ایڈیشن 9 سے 23 اپریل تک منایا جا رہا ہے۔

سائنسی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کے دماغ کی 85 فیصد سے زیادہ نشوونما چھ سال کی عمر تک ہو جاتی ہے۔ دماغ کی سب سے تیز رفتار نشوونما زندگی کے پہلے 1,000 دنوں میں ہوتی ہے۔ یہ دور دماغ کی بہترین نشوونما، جسمانی ترقی اور مجموعی صحت و بہبود کے لیے نہایت اہم ہے۔

زندگی کے ابتدائی مرحلے میں بچوں کی دیکھ بھال اور غذائیت کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، آٹھواں پوشن پکھواڑہ ایک سائنسی اعتبار سے اہم اور تبدیلی لانے والے موضوع ‘‘زندگی کے پہلے چھ برسوں میں ذہنی نشوونما کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا’’ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے عوامی تحریک کو مزید مضبوط بنانے اور خاندانوں اور برادریوں میں ان طریقوں کے بارے میں بیداری کو فروغ دینے کی کوشش کرے گا جو بچوں کی صحت مند نشوونما اور ذہنی صلاحیتوں کی ترقی میں معاون ہیں۔

اس کا مقصد درج ذیل مرکزی موضوع کے ذریعے توجہ کو ‘‘صحت کے لیے غذا’’سے تبدیل کرکے ’’بہترین ذہنی نشوونما کے لیے غذائیت اور ابتدائی بچپن میں ذہنی و جسمانی تحریک‘‘ کی جانب مرکوز کرنا ہے:مرکزی موضوع: زندگی کے پہلے چھ برسوں میں ذہنی نشوونما کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا۔

 

8واں راشٹریہ پوشن ماہ

 8واں آٹھواں راشٹریہ پوشن ماہ 17 ستمبر 2025 کو مدھیہ پردیش کے دھار سے وزیر اعظم نے سواستھ ناری، سشکت پریوار ابھیان (ایس این ایس پی اے) کے ساتھ شروع کیا تھا۔ اس اقدام کو خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت اور صحت و خاندانی بہبود کی وزارت مشترکہ طور پر نافذ کر رہی ہیں۔

2025 کے راشٹریہ پوشن ماہ کا محور غذائیت سے متعلق بیداری اور صحت مند طرز زندگی کو فروغ دینا تھا۔ اس کے اہم موضوعات میں ماں کی غذائیت، شیر خوار اور کم عمر بچوں کو غذا فراہم کرنے کے طریقے (آئی وائی سی ایف)، بچپن کی ابتدائی دیکھ بھال اور تعلیم (ای سی سی ای)، اور موٹاپے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے چینی اور تیل کے استعمال میں کمی شامل تھے۔ ملک بھر میں 20 سے زائد وزارتوں کے اشتراک سے مجموعی طور پر 14.33 کروڑ سرگرمیاں انجام دی گئیں۔

 

پوشن ٹریکر: غذائیت کے انتظام و نگرانی کا ڈیجیٹل پلیٹ فارم

پوشن ٹریکر یکم مارچ 2021 کو شروع کیا گیا تھا۔ یہ بنیادی طور پر ایسا حکومتی ڈیجیٹل نظام ہے جو بنیادی ڈھانچے اور خدمات کی فراہمی کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

اس ایپلی کیشن کے ذریعے آنگن واڑی خدمات سے متعلق تقریباً حقیقی وقت میں اعداد و شمار جمع کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ان میں آنگن واڑی مراکز کا کھلنا، بچوں کی روزانہ حاضری، ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال اور تعلیم (ای سی سی ای)سے متعلق سرگرمیاں اور بچوں کی نشوونما کی نگرانی شامل ہیں۔اس وقت یہ نظام حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں، 6 سال تک کی عمر کے بچوں اور نوعمر لڑکیوں سے متعلق معلومات اور خدمات کی نگرانی کرتا ہے۔

 

31 جولائی 2026 تک بھارت میں غذائیت کا بنیادی ڈھانچہ تقریباً 13.99 لاکھ آنگن واڑی مراکز پر مشتمل ہے، جہاں 13.30 لاکھ آنگن واڑی کارکن خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ ملک گیر زمینی سطح کا وسیع نیٹ ورک تقریباً 8.94 کروڑ مستحقین تک پہنچ رہا ہے۔

بچے اس پورے نظام کی بنیادی توجہ کا مرکز ہیں۔ تمام مستحقین میں 6 ماہ سے 6 سال تک کی عمر کے بچوں کی تعداد 7.2 کروڑ سے زیادہ ہے، جو ابتدائی بچپن میں غذائیت اور بچوں کی نشوونما پر خصوصی توجہ کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

دوسری جانب، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کی مجموعی تعداد تقریباً 1.1 کروڑ ہے۔ اس سے زندگی کے پہلے اہم 1,000 دنوں کے دوران ماؤں کی صحت اور غذائیت پر مسلسل توجہ کا اندازہ ہوتا ہے۔

صحت مند خاندانوں اور صحت مند ملک کی جانب

ٹیکنالوجی کے ذریعے حقیقی وقت میں نگرانی اور بڑے پیمانے پر عوامی شمولیت، یعنی جن آندولن، کو یکجا کرکے راشٹریہ پوشن ماہ نے غذائیت کو ملک گیر عوامی تحریک کی شکل دے دی ہے۔مشن پوشن 2.0 کے متحدہ فریم ورک کے تحت چلنے والی یہ سالانہ مہم خدمات کی فراہمی میں موجود خامیوں کو دور کرنے، متنوع غذا کو فروغ دینے اور بچے کی زندگی کے ابتدائی اہم برسوں کو ترجیح دینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، تاکہ ایک صحت مند اور غذائی قلت سے پاک بھارت کی تعمیر کی جا سکے۔

 

حوالہ جات

خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت

https://www.pib.gov.in/Pressreleaseshare.aspx?PRID=1910097&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2180384&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2249920&reg=48&lang=2

https://www.poshantracker.in/aboutus

https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2307291&reg=48&lang=1

https://cdn.poshantracker.in/public-assets/pdf/Resources/Awareness/Navchetana/Navchetana_en.pdf

 

صحت اور خاندانی بہبودکی وزارت

https://www.nfhsiips.in/nfhsuser/assets/National%20Family%20Health%20Survey%20(NFHS-6)%202023-2024%20Fact%20Sheets.pdf

https://www.nfhsiips.in/nfhsuser/publication.php

پی آئی بی بیک گراونڈر

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2025/sep/doc2025918640501.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2251769&reg=3&lang=1

 

یونیسیف

https://www.unicef.org/laos/ensuring-healthy-start-first-1000-days-0

Click here to see pdf 

*****

 

ش ح۔ ش آ۔ج

uno-3163

 


(ریلیز آئی ڈی: 2308197) وزیٹر کاؤنٹر : 11
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Bengali