سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی، نئی دہلی میں شاہراہوں اور ریلوے کے لیے جیو سنتھیٹکس سے متعلق دو روزہ قومی سمپوزیم کا افتتاح
اعلیٰ سطح کے بنیادی ڈھانچے کے ماہرین، انجینئروں اور محققین کا کارکردگی میں بہتری، خرابیوں میں کمی اور پائیدار ٹرانسپورٹ راہداریوں کے فروغ کے لیےجمع ہوئے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 SEP 2026 9:20PM by PIB Delhi
شاہراہوں اور ریلوے میں کارکردگی بہتر بنانے اور خرابیوں میں کمی کے لیے جیو سنتھیٹکس کے موضوع پر دو روزہ قومی سمپوزیم کا آج نئی دہلی میں واقع سی ایس آئی آر-مرکزی سڑک تحقیقی ادارہ (سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی) کے آڈیٹوریم میں باضابطہ آغاز ہوا۔ اس سمپوزیم کا مشترکہ انعقاد سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی اور پونے کی جیو سنتھیٹکس سوسائٹی (جی ایس) نے کیا ہے۔ اس میں سرکردہ پالیسی ساز، بنیادی ڈھانچے سے متعلق اداروں کے حکام، جیو ٹیکنیکل ماہرین اور صنعتی ماہرین شرکت کر رہے ہیں، جہاں قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک، تیز رفتار ریلوے لائنوں اور اہم پہاڑی راہداریوں کے لیے درپیش اہم انجینئرنگ مسائل کے حل پر غور کیا جا رہا ہے۔
افتتاحی جھلکیاں
سمپوزیم کا افتتاح روایتی طور پر چراغ روشن کرنے اور قومی گیت کی ادائیگی کے بعد کیا گیا۔ افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پونے کی جیو سنتھیٹکس سوسائٹی کی نائب صدر محترمہ منی مول کورولا نے سمپوزیم کے مقاصد کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے بنیادی ڈھانچے کی پائیداری اور مضبوطی بہتر بنانے کے لیے میدانی سطح پر کام کے طریقۂ کار کو معیاری بنانے اور جدید پولیمرک مواد کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اپنے استقبالیہ خطاب میں سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر چالوموری روی شیکھر نے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں عملی تحقیق کے حوالے سے سی آر آر آئی کی قائدانہ حیثیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ ‘‘جیو سنتھیٹکس اب محض تعمیرات کے متبادل یا اضافی ذرائع نہیں رہے، بلکہ بھارت کے کثیر جہتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے سفر میں پائیدار، مضبوط اور اعلیٰ کارکردگی والی ٹرانسپورٹ راہداریوں کے لیے بنیادی ڈیزائن ضرورت بن چکے ہیں۔’’
انڈین جیو ٹیکنیکل سوسائٹی (آئی جی ایس) کے صدر اور سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی کی تحقیقی کونسل کے چیئرمین پروفیسر جی. ایل. سیوا کمار بابو نے مضبوط، ماحول دوست اور مؤثر انجینئرنگ طریقۂ کار کے ساتھ جیو سنتھیٹکس کے استعمال کو مربوط کرنے کی اسٹریٹجک ضرورت پر روشنی ڈالی۔ اعزازی مہمان، ریلوے بورڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناب وویک بھوشن سود نے بھارتی ریلوے کی جدید کاری کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے جیو سنتھیٹک نظام کے ذریعے ریلوے ٹریک کے بیڈ کو مستحکم بنانے، بھاری مال برداری کی گنجائش بڑھانے اور ارتعاش کو کم کرنے پر زور دیا۔
مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل ہائی ویز اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (این ایچ آئی ڈی سی ایل) کے ڈائریکٹر جناب امرندر کمار نے مشکل جغرافیائی علاقوں، کھڑی ڈھلوانوں اور بھارت کے شمال مشرقی و ہمالیائی راہداریوں میں شاہراہوں کے بلند مقامات پر جاری پروجیکٹوں میں جیو سنتھیٹک زمینی انجینئرنگ کے حل کے استعمال کی تفصیل پیش کی۔ افتتاحی اجلاس کا اختتام رسمی طور پر معزز شخصیات کی پذیرائی اور اظہارتشکر کے ساتھ ہوا، جس کی تجویز سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی کے بین الاقوامی رابطہ و تربیت (آئی ایل ٹی) شعبے کے سربراہ ڈاکٹر کے رویندر نے پیش کی۔
- مضبوط مٹی کی دیواروں (آر ایس والز) میں خرابیوں کا ازالہ: آئی آئی ٹی بمبئی کے پروفیسر آشیش جونیجا کی زیرنگرانی منعقدہ پینل بحث میں این ایچ اے آئی کے سینئر ماہر جناب ایل ایم پادھی، سڑک نقل و حمل و شاہراہوں کی وزارت کے جناب بدور کانت جھا، آئی آئی ٹی تروپتی کے پروفیسر مرلی کرشنا، سی ایس آئی آر-سی آر آر آئی کے ڈاکٹر کنور سنگھ اور معروف مشاورتی اداروں کے ماہرین نے شرکت کی۔ اس دوران آر ایس برقرار رکھنے والی دیواروں کی تشخیصی جانچ، فرانزک تحقیقات اور مرمتی طریقۂ کار پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
- آر ایس دیواروں کی کامیاب مثالیں اور میدانی تجربات: آئی آئی ٹی بمبئی کے پروفیسر بی وی ایس وشوانادھم، سی آر آر آئی کے ڈاکٹر پی ایس پرساد، بی اینڈ ایس انجینئرنگ کنسلٹنٹس کے ڈاکٹر آلوک بھومک اور انفراپروجیکٹس لمیٹڈ کی محترمہ اتسی داس نے ماہرین کے خطابات میں حقیقی منصوبوں سے متعلق مطالعات، بہترین طریقۂ کار اور جیو گرڈ سے مضبوط دیواروں کی تعمیر میں اختیار کیے جانے والے اور اجتناب کیے جانے والے طریقوں کو اجاگر کیا۔
- مضبوط اور پائیدار ریلوے بنیادی ڈھانچے کے لیے جیو سنتھیٹکس: آئی آئی ٹی گاندھی نگر کے جناب وویک کپاڈیا کی زیرصدارت ہونے والے اجلاسوں میں تیز رفتار ریلوے نظام کے لیے جیو سنتھیٹکس کے ڈیزائن پر آئی آئی ٹی گاندھی نگر کے پروفیسر امیت پرشانت اور کلوزڈ سیل پولیمرک فومزکے ذریعے ارتعاش کو کم کرنے کے طریقوں پر سی آر آر آئی کے ڈاکٹر نسیم اختر نے اظہارخیال کیا۔ اس کے علاوہ میکافری ماحولیاتی حل، ٹیک فاب انڈیا، اسٹریٹا جیو سسٹمز اور جیوکویسٹ انڈیا سمیت صنعتی شعبے کے سرکردہ اداروں نے بھی تکنیکی پیشکشیں پیش کیں۔
آگے کی جھلک: دوسرے روز کی اہم سرگرمیاں (8 ستمبر 2026)سمپوزیم کے دوسرے روز درج ذیل اہم موضوعات پر توجہ مرکوز کی جائے گی:
- پائیدار سڑکوں کی پختگی: تکنیکی اجلاسوں میں سڑکوں کی ذراتی اور بٹومینس تہوں کو مضبوط بنانے، جیو گرڈ سے مضبوط بنائے گئے اسفالٹ کی اوپری تہہ، ماحول دوست سڑکوں کے لیے استعمال شدہ پلاسٹک سے تیار کردہ جیو سیلز اور زیرِ سطح نکاسیٔ آب کے حل پر غور کیا گیا۔
- جیو سنتھیٹکس انسٹی ٹیوٹ (جی ایس آئی) کے صدر ٹرانسپورٹ بنیادی ڈھانچے میں جیو سنتھیٹکس کی مضبوط کارکردگی کے لیے آغاز سے اختتام تک غور طلب امور کے موضوع پر خطاب کریں گے۔
- زمینی حل اور چٹانوں کے تودے گرنے سے تحفظ: آئی آئی ٹی جودھپور، لاسا(ایل اے ایس اے) اور صنعتی شعبے سے وابستہ ماہرین کے محققین نے ڈھلوانی پشتوں، چٹانوں کے تودے گرنے سے بچاؤ کے لیے بنائے گئے پشتوں اور چٹانوں سے تحفظ فراہم کرنے والی ساختوں میں جھٹکے کے اثرات کو کم کرنے والے نظام سے متعلق عملی مطالعات پیش کیے۔
- صنعتی فورم اور آئندہ کا لائحۂ عمل: زمینی سطح پر نفاذ میں درپیش چیلنجز اور مستقبل کے معیارات پر پینل مباحثے کے بعد اختتامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں جیو سنتھیٹکس کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے قومی لائحۂ عمل پیش کیا گیا۔





******
ش ح۔ ش آ ۔ ش ا
U. No-3139
(ریلیز آئی ڈی: 2307862)
وزیٹر کاؤنٹر : 10