ایٹمی توانائی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ودیشا میڈیکل کالج میں ڈے کیئر کینسر سہولت کا افتتاح کیا؛انہوں نے کہا، محکمہ جوہری توانائی اور ٹی ایم سی کینسر کی جامع نگہداشت کو عوام کے مزید قریب پہنچا رہے ہیں


کینسر کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے پیش نظر بڑے میٹروپولیٹن شہروں سے باہر بھی کینسر کی تشخیص اور علاج کی سہولیات میں توسیع ناگزیر ہے؛ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ 2030 تک ہندوستان میں ہر سال کینسر کے تقریباً 20 لاکھ نئے کیس سامنے آنے کا امکان ہے

محکمہ جوہری توانائی اور ٹی ایم سی ملک بھر میں مختلف سطحوں پر کینسر کی نگہداشت کی سہولیات کو وسعت دے رہے ہیں۔ ان اقدامات میں کینسر کے علاج اور ریڈیوتھراپی سے لے کر کینسر سے بچاؤ، بروقت تشخیص اور ریاستی سطح کے ڈاکٹروں کی تربیت تک تمام پہلو شامل ہیں

ودیشا کے کینسر کیئر پروگرام کو مرحلہ وار وسعت دی جائے گی، جس کے تحت تربیت یافتہ ڈاکٹروں اور نرسنگ عملے کی دستیابی، جدید تشخیصی سہولیات، ریڈیوتھراپی اور لائینک مشین، کینسر رجسٹریوں اور درد و تکلیف میں آرام فراہم کرنے والی نگہداشت کی سہولیات قائم کی جائیں گی

ٹی ایم سی کا قومی کینسر کیئر نیٹ ورک اب 11 ادارہ جاتی یونٹس پر مشتمل ہے، جبکہ نیشنل کینسر گرڈ 300 سے زائد کینسر مراکز کو باہم مربوط کرتا ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج، کٹھوعہ بھی علاقائی سطح پر وسعت پاتے ہوئے کینسر کی جامع نگہداشت کے نظام کا حصہ ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 08 SEP 2026 3:37PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلاء کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ ملک میں کینسر کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے پیش نظر مختلف سطحوں پر کینسر کی نگہداشت کی سہولیات میں مسلسل توسیع کی ضرورت ہے، تاکہ مریض اپنے گھروں کے قریب معیاری علاج حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جوہری توانائی، ٹاٹا میموریل سینٹر (ٹی ایم سی) کے ذریعے ملک کے مختلف حصوں تک کینسر کی نگہداشت کی سہولیات پہنچانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ان سہولیات میں کینسر کے علاج اور ریڈیوتھراپی سے لے کر کینسر سے بچاؤ، بروقت تشخیص، مرض کی تشخیص اور طبی ماہرین کی تربیت تک خدمات شامل ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ مدھیہ پردیش کے ودیشا میں اٹل بہاری واجپئی گورنمنٹ میڈیکل کالج میں ڈے کیئر کینسر سہولت کے افتتاح کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر مرکزی وزیر زراعت و کسان بہبود جناب شیوراج سنگھ چوہان اور مدھیہ پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ و وزیر صحت جناب راجندر شکلا سمیت دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔ یہ سہولت محکمہ جوہری توانائی کے ٹاٹا میموریل سینٹر کی تکنیکی معاونت سے تیار کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد مرحلہ وار طریقے سے میڈیکل کالج میں کینسر کی نگہداشت کی خدمات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ودیشا کا یہ اقدام ایک بڑی قومی کوشش کا حصہ ہے، جس کے تحت محکمہ جوہری توانائی، ٹاٹا میموریل سینٹر کے ذریعے مقامی ضروریات کے مطابق مختلف سطحوں پر کینسر کی نگہداشت کی سہولیات اور صلاحیتیں فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’کہیں کینسر کی نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے، کہیں ریڈیوتھراپی کی سہولت دی جا رہی ہے اور ہم ریاستی سطح کے ڈاکٹروں کو کینسر کے علاج اور انتظام کی تربیت بھی دے رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ خصوصی کینسر نگہداشت کی سہولیات کو بڑے میٹروپولیٹن شہروں سے آگے ملک کے دیگر علاقوں تک بھی پہنچایا جائے۔

ودیشا میں اس پروگرام کا آغاز 5 سے 7 جون 2026 کے دوران ٹاٹا میموریل سینٹر کے سینئر ماہرین پر مشتمل کثیر شعبہ جاتی ٹیم کی جانب سے کینسر کی نگہداشت میں موجود خلا کا تجزیہ کرنے سے ہوا۔ اس ٹیم میں سرجیکل، میڈیکل اور ریڈی ایشن آنکولوجی، پیتھالوجی اور احتیاطی نگہداشت کے ماہرین شامل تھے۔ اسی دوران ودیشا میں بڑے پیمانے پر کینسر کی اسکریننگ اور بیداری کا کیمپ بھی منعقد کیا گیا۔ دو روزہ اسکریننگ پروگرام کے دوران 586 کینسر کے مریضوں اور 254 مشتبہ کیسز کی نشاندہی کی گئی، جن کے لیے مناسب مزید علاج اور متعلقہ مراکز کو بھیجنے کے انتظامات کیے گئے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ڈے کیئر سہولت ودیشا میڈیکل کالج میں کینسر کی نگہداشت کی خدمات کو مرحلہ وار وسعت دینے کی جانب پہلا قدم ہے۔ ٹاٹا میموریل سینٹر نے پہلے ہی ایک جامع عملی منصوبہ فراہم کیا ہے، جس میں طبی آلات اور ادویات کی خریداری، میڈیکل آنکولوجی، سرجیکل آنکولوجی، ریڈیوتھراپی، پیتھالوجی، کمیونٹی تک رسائی، کینسر رجسٹری اور تکلیف میں کمی کے لیے نگہداشت شامل ہے۔

افرادی قوت کی ترقی کے حصے کے طور پر ودیشا کے شعبہ طب کے دو ڈاکٹروں اور سات نرسنگ افسران نے ممبئی کے ایڈوانسڈ سینٹر فار ٹریٹمنٹ، ریسرچ اینڈ ایجوکیشن اِن کینسر (اے سی ٹی آر ای سی) میں خصوصی آنکولوجی تربیت مکمل کر لی ہے۔ ودیشا کے سرجنوں اور سرجیکل عملے کی اے سی ٹی آر ای سی، کھڑگر میں تربیت بھی جلد شروع ہونے والی ہے۔ اس کا مقصد ادارے کو عام نوعیت کے سرطانی امراض کا مقامی سطح پر جراحی کے ذریعے علاج کرنے کے قابل بنانا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ریڈیوتھراپی بھی ودیشا کے کینسر کیئر منصوبے کا ایک اہم حصہ ہے۔ مدھیہ پردیش حکومت نے گورنمنٹ میڈیکل کالج، ودیشا میں ریڈیوتھراپی کی سہولت قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جہاں لینیئر ایکسیلیریٹر (لائینک) کی سہولت آئندہ دو سے تین برس میں فعال ہونے کی توقع ہے۔ اس سے ودیشا اور آس پاس کے اضلاع کے مریضوں کو اپنے گھروں کے قریب جدید ریڈی ایشن علاج کی سہولت میسر آئے گی۔

اس پروگرام کے تحت کینسر کی تشخیص اور پیتھالوجی کی خدمات کو بھی مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ ٹاٹا میموریل سینٹر نے کینسر کی درست تشخیص اور اس کی مختلف اقسام کی درجہ بندی کے لیے درکار امیونو ہسٹو کیمسٹری (آئی ایچ سی) اور مالیکیولر مارکرز کی ایک جامع فہرست فراہم کی ہے۔ ودیشا کے پیتھالوجی عملے کو ٹی ایم سی، ممبئی میں آنکو پیتھالوجی، آئی ایچ سی تکنیک اور مالیکیولر تشخیص کے شعبوں میں خصوصی تربیت کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کینسر کی نگہداشت کو تشخیص کے بعد صرف علاج تک محدود نہیں رکھا جا سکتا بلکہ اس میں کینسر سے بچاؤ اور بروقت تشخیص پر بھی بھرپور توجہ دینی ضروری ہے۔ ٹاٹا میموریل سینٹر میڈیکل کالج کے ساتھ مل کر تعلیم اور تحقیق کے ذریعے کینسر سے بچاؤ اور بروقت تشخیص کے لیے ایک مہارت کے مراکز قائم کرنے کی سمت میں کام کرے گا۔ صحت کارکنوں کو بھی کینسر کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے شواہد پر مبنی حکمتِ عملیوں کی تربیت دی جائے گی، جبکہ ٹی ایم سی ان اقدامات کے نفاذ اور وقفے وقفے سے نگرانی میں معاونت کرے گا۔

ودیشا پروگرام کے تحت آبادی پر مبنی کینسر رجسٹری (پی بی سی آر) اور اسپتال پر مبنی کینسر رجسٹری (ایچ بی سی آر) دونوں قائم کرکے مقامی سطح پر کینسر سے متعلق اعداد و شمار کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ یہ رجسٹریاں کینسر کے واقعات، تشخیص کے وقت مرض کی اسٹیج اور علاج کے نتائج سے متعلق مقامی معلومات فراہم کریں گی، جس سے مستقبل میں منصوبہ بندی اور وسائل کی تقسیم کے لیے ٹھوس شواہد دستیاب ہوں گے۔ تکلیف میں کمی کے لیے خصوصی نگہداشت کی خدمات بھی تیار کی جا رہی ہیں، جبکہ ڈاکٹروں اور نرسنگ عملے کواس شعبہ میں باقاعدہ تربیت دی جائے گی۔

ودیشا کے اقدام کو وسیع تر قومی تناظر میں پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کینسر کے چیلنج کی وسعت کے پیش نظر کینسر کی نگہداشت تک رسائی کو چند بڑے مراکز تک محدود رکھنے کے بجائے اسے مزید وسیع کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے ان اندازوں کا حوالہ دیا جن کے مطابق 2030 تک ہندوستان میں ہر سال تقریباً 20 لاکھ نئے کینسر کیس سامنے آ سکتے ہیں۔ اس لیے کینسر سے بچاؤ، بروقت تشخیص، مرض کی تشخیص اور علاج کی صلاحیتوں میں توسیع کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ جوہری توانائی نے ٹاٹا میموریل سینٹر کے ذریعے کینسر کی نگہداشت کے لیے پہلے ہی ایک وسیع ادارہ جاتی نیٹ ورک قائم کر لیا ہے۔ مارچ 2026 میں جاری ہونے والی پریس انفارمیشن بیورو کی ایک ریلیز کے مطابق، ٹی ایم سی نے سات ریاستوں میں 11 اسپتالوں اور ادارہ جاتی یونٹس قائم کیے ہیں، جن میں ممبئی، کھڑگر-نئی ممبئی، پنجاب، وارانسی، وشاکھاپٹنم، مظفرپور اور گوہاٹی کے مراکز شامل ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس ادارہ جاتی نیٹ ورک کو نیشنل کینسر گرڈ (این سی جی) سے مزید تقویت مل رہی ہے، جو اب 380 سے زائد کینسر مراکز، تحقیقی اداروں، مریضوں کے گروپوں اور پیشہ ورانہ تنظیموں پر مشتمل ایک باہمی تعاون کا نیٹ ورک بن چکا ہے۔ یہ گرڈ معیار میں بہتری، خدمات کے یکساں معیار کے قیام، افرادی قوت کی تربیت اور کینسر سے متعلق تحقیق میں معاونت کرتا ہے، جس سے ملک بھر میں کینسر کی نگہداشت کی خدمات کو مزید مستحکم بنانے میں مدد مل رہی ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ مقصد ایسا نظام تشکیل دینا ہے جس کے تحت قائم شدہ کینسر مراکز کی مہارت اور تجربے سے ملک کے دیگر حصوں میں موجود اداروں کو بتدریج فائدہ پہنچایا جا سکے۔ ٹی ایم سی کا موجودہ نیٹ ورک علاقائی مراکز کے درمیان مضبوط روابط استوار کرنے کے لیے نمونے فراہم کرتا ہے، جبکہ نیشنل کینسر گرڈ تکنیکی معاونت، خدمات کے یکساں معیار کے قیام، تربیت، تحقیق اور معلومات کے تبادلے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے گورنمنٹ میڈیکل کالج، کٹھوعہ کا بھی ذکر کیا، جہاں ٹاٹا میموریل سینٹر کے تعاون سے کینسر کی نگہداشت کی صلاحیتوں کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وسیع تر حکمتِ عملی کا مقصد بڑے میٹروپولیٹن مراکز سے باہر موجود طبی اداروں کو بھی بتدریج ایسی صلاحیتیں پیدا کرنے کے قابل بنانا ہے جو ان کے متعلقہ علاقوں کی ضروریات کے مطابق ہوں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ محکمہ جوہری توانائی اور ٹی ایم سی کے تحت کینسر کی نگہداشت کی یہ کوشش صرف الگ الگ علاج کے مراکز قائم کرنے تک محدود نہیں ہے۔ اس میں میڈیکل آنکولوجی، سرجیکل آنکولوجی، ریڈی ایشن آنکولوجی، جدید پیتھالوجی، کینسر سے بچاؤ اور بروقت تشخیص، کینسر کی نگرانی، تکلیف میں کمی کے لیے نگہداشت اور ڈاکٹروں و نرسنگ عملے کی تربیت جیسے تمام پہلو شامل ہیں۔

ودیشا کا اقدام اسی مربوط حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ ڈے کیئر سہولت سے آغاز کرتے ہوئے میڈیکل کالج ایک وسیع تر کینسر کیئر نظام کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے تحت علاج، تشخیص، ریڈیوتھراپی، تربیت یافتہ افرادی قوت، کینسر سے بچاؤ، بروقت تشخیص، کینسر رجسٹری اور تکلیف میں کمی کے لیے نگہداشت کو مرحلہ وار ایک مربوط پروگرام کے تحت یکجا کیا جائے گا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وسیع تر مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہندوستان میں کینسر کی نگہداشت کے فروغ پاتے نظام کے فوائد مریضوں کو ان کی رہائش گاہوں کے قریب دستیاب ہوں، تاکہ تشخیص اور علاج کے لیے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو طویل فاصلے کا سفر نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ ودیشا کی یہ سہولت بڑے میٹروپولیٹن مراکز سے باہر خصوصی کینسر کی نگہداشت کی صلاحیتیں پہنچانے اور ملک بھر میں زیادہ قابلِ رسائی، غیرمرکزی اور جامع کینسر کی نگہداشت کا نیٹ ورک قائم کرنے کی سمت میں ایک اور اہم قدم ہے۔

******

 

( ش ح ۔ ا ع خ ۔ م ا )

Urdu.No-3158


(ریلیز آئی ڈی: 2307858) وزیٹر کاؤنٹر : 9