کوئلے کی وزارت
کوئلہ شعبے میں ترقی اور کامیابی: 2014 سے ایم سی ایل کا مثالی سفر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 SEP 2026 1:32PM by PIB Delhi
ہندوستان کے کوئلہ شعبے میں 2014 کے بعد نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ تبدیلی حکومتِ ہند کی جانب سے شفافیت، کارکردگی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، کام کاج میں آسانی اور توانائی کی یقینی فراہمی کو فروغ دینے کے لیے وضع کردہ متعدد مؤثر پالیسی اور ساختی اصلاحات کے نتیجے میں ممکن ہوئی ہے۔ ان اصلاحات نے تیز تر فیصلہ سازی، کان کنی کے کاموں کو جدید بنانے، نقل و حمل اور رسد کے نظام کو بہتر بنانے اور پیداواریت میں اضافے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا ہے۔ ان اقدامات کے مثبت اثرات اس وقت نمایاں طور پر سامنے آئے جب کوئلہ شعبے نے مقررہ مدت سے کافی پہلے ملک میں کوئلے کی پیداوار کا ایک ارب ٹن کا اہم سنگِ میل حاصل کر لیا۔ اس کامیابی سے نہ صرف ہندوستان کی توانائی کی یقینی فراہمی مزید مستحکم ہوئی ہے بلکہ درآمدی کوئلے پر انحصار میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔
مہانادی کول فیلڈز لمیٹڈ (ایم سی ایل) اس یکسر تبدیلی کی کامیابی کی سب سے نمایاں مثالوں میں سے ایک ہے۔ 1992-93 میں 23 ملین ٹن کی پیداوار سے آغاز کرنے والی ایم سی ایل آج ہندوستان کی سب سے بڑی کوئلہ پیدا کرنے والی کمپنی بن چکی ہے اور مسلسل تین برسوں سے پیداوار اور ترسیل، دونوں میں 200 ملین ٹن سے زائد کی سطح برقرار رکھے ہوئے ہے۔ مالی سال 2021-22 سے 2025-26 کے دوران کمپنی کی پیداوار میں سالانہ مرکب شرح نمو تقریباً 9 فیصد رہی، جبکہ مالی سال 1992-93 سے 2020-21 کے دوران یہ شرح 6.7 فیصد تھی۔ یہ کامیابی ترقی پسند پالیسی اصلاحات،کان کنی کی جدید منصوبہ بندی، ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے، آپریشنل کارکردگی اور ایم سی ایل کے افرادی قوت کے عزم کے مشترکہ اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔
تاہم، ایم سی ایل کی کامیابی صرف پیداوار اور ترسیل تک محدود نہیں ہے۔ کمپنی نے اب تک کی سب سے زیادہ منافع حاصل کیا ہے اور کول انڈیا لمیٹڈ کے منافع میں نمایاں تعاون کرنے والی اہم کمپنیوں میں شامل ہے، جبکہ سرکاری خزانے میں بھی خاطر خواہ تعاون کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، کمپنی کی سرگرمیوں سے براہِ راست اور بالواسطہ روزگار اور معاش کے وسیع مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے مستقل ملازمین کی تعداد 22,000 سے زیادہ ہے، جبکہ 27,000 سے زائد کنٹریکچوئل کارکن بھی اس سے وابستہ ہیں۔ اس کے ساتھ نقل و حمل اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں کا ایک وسیع نظام بھی قائم ہے۔
اس تبدیلی کا ایک نہایت اہم پہلو اس کے انسانی اور سماجی اثرات ہیں۔ ایم سی ایل سے وابستہ معاہداتی کارکنوں کو ہائی پاور کمیٹی کی سفارشات کے مطابق اجرت دی جاتی ہے، جو قانونی طور پر مقررہ کم از کم اجرت سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ انہیں سماجی تحفظ اور فلاحی سہولیات بھی حاصل ہیں، جن میں کول مائنز پراویڈنٹ فنڈ (سی ایم پی ایف)، طبی سہولیات اور تعلیمی معاونت شامل ہیں۔ سی ایل اے ایم پی پورٹل نے کنٹریکچوئل افرادی قوت کے اعداد و شمار کے ڈیجیٹل انتظام کو ممکن بنایا ہے، جس سے شفافیت اور جواب دہی میں اضافہ ہوا ہے۔ مقامی برادریوں کو روزگار کے مواقع، کوئلے کی لوڈنگ اور نقل و حمل کے کاموں میں کوآپریٹو سوسائٹیوں کی شمولیت اور منصوبوں سے متاثرہ افراد کے لیے فراہم کی جانے والی معاونت کے ذریعے بھی فائدہ پہنچا ہے۔
ایم سی ایل کی برادری کی ترقی اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے لیے وابستگی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ یہ اڈیشہ کے ساتھ ساتھ کول انڈیا لمیٹڈ کی ذیلی کمپنیوں میں بھی سی ایس آر کے تحت سب سے زیادہ مالی تعاون کرنے والی کمپنیوں میں شامل ہے۔ اس کے اقدامات میں صحت عامہ، تعلیم، پینے کے پانی، غذائیت، کھیل، ہنرمندی کی ترقی اور دیہی بنیادی ڈھانچے کے شعبے شامل ہیں۔ تلچر میں میڈیکل کالج اور اسپتال کی تعمیر، جس پر تقریباً 500 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے اور اس کے علاوہ ہر سال تقریباً 60 سے 80 کروڑ روپے کی مسلسل مالی معاونت، عوامی صحت کے شعبے میں ایک بڑی سرمایہ کاری کی عکاسی کرتی ہے۔ اس ادارے کو پوسٹ گریجویٹ کورسز شروع کرنے کی منظوری بھی مل چکی ہے۔ اسی طرح، ایم سی ایل کی جانب سے فراہم کردہ سی ایس آر معاونت سے جھارسوگوڈا میں حکومت کے پہلے امراض قلب کے علاج کے اسپتال کا قیام ممکن ہوا۔ اس کے کمانڈ علاقے اور خواہش مند اضلاع کے چاروں اضلاع میں پائپ لائن کے ذریعے پینے کے پانی کے منصوبے، ایمس بھوبنیشور اور برلا میڈیکل کالج کے لیے معاونت، اسکولوں، کلاس رومز، اسمارٹ کلاسز، طالبات کے ہاسٹل، کھیلوں کے مراکز اور دیگر عوامی اثاثوں کی تعمیر و معاونت اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئلے کی کان کنی کے فوائد کان کے احاطے سے کہیں آگے تک پہنچ رہے ہیں۔
ٹیکنالوجی، ماحولیات اور لاجسٹکس کے شعبوں میں بھی یہ تبدیلی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ اب ایم سی ایل کی 99 فیصد سے زیادہ کوئلہ پیداوار سرفیس مائنر ٹیکنالوجی کے ذریعے کی جاتی ہے، جس سے ڈرلنگ، پتھرتوڑنے کے لئے دھماکہ کرنے، کرشنگ، گردوغبار اور ماحول پر پڑنے والے دیگر منفی اثرات میں نمایاں کمی آتی ہے۔ ایم سی ایل مزید 19 فرسٹ مائل کنیکٹیویٹی منصوبوں پر تقریباً 10,000 کروڑ روپے، ریل بنیادی ڈھانچے پر تقریباً 6,500 کروڑ روپے اور کنکریٹ سے بنی اندرونی نقل و حمل کی سڑکوں اور کوئلہ راہداریوں پر تقریباً 2,150 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد کوئلے کی نکاسی اور ترسیل کی کارکردگی بہتر بنانا، سڑک کے ذریعے نقل و حمل پر انحصار کم کرنا اور ماحول پر پڑنے والے اثرات کو محدود کرنا ہے۔ کمپنی پہلے ہی ریل اور فرسٹ مائل کنیکٹیویٹی کے بنیادی ڈھانچے میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کر چکی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 70 فیصد کوئلے کی ترسیل ریل کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ اس کا جدید ریل-سمندری-ریل (آر ایس آر) کثیرالجہتی لاجسٹکس نظام کی سپلائی چین کو مزید مؤثر بناتا ہے اور ساحلی علاقوں کے صارفین کو قابلِ اعتماد کوئلہ فراہمی یقینی بنانے میں مدد دیتا ہے۔
ایم سی ایل کا تعاون سیاحت اور ورثے کی ترقی کے ذریعے وسیع تر علاقائی معیشت تک بھی پہنچ رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہیرا کڈ، کان کنی کے میوزیم، آبی کناروں کی ترقی، روپ ویز اور آئی بی ویلی میں اورینٹ کان میں کان کنی سے متعلق سیاحت کے فروغ جیسے اقدامات شامل ہیں۔ بھوبنیشور ہاف میراتھن جیسے اقدامات کے ذریعے برادری کی شمولیت کو بھی مزید مضبوط کیا گیا ہے، جس میں تقریباً 6,000 افراد نے شرکت کی۔ اسی طرح، ہیرا کڈ-سمبل پور ہاف میراتھن میں 10,000 سے زائد افراد نے حصہ لیا۔
آج ایم سی ایل ملک کی 16 ریاستوں میں بجلی کی کمپنیوں، کیپٹو اور آزاد بجلی گھروں، سیمنٹ، اسپنج آئرن اور دیگر صنعتوں کو کوئلہ فراہم کر رہی ہے۔ اس کی مسلسل بہترین کارکردگی ہندوستان کی توانائی سلامتی اور صنعتی ترقی کا ایک اہم ستون بن چکی ہے۔
ایم سی ایل کا سفر یہ ظاہر کرتا ہے کہ کوئلہ شعبے میں اصلاحات کی کامیابی کا اندازہ صرف پیدا ہونے والے کوئلے کے ٹن سے نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ زیادہ پیداواریت، مضبوط مالی کارکردگی، بہتر لاجسٹکس نظام، تکنیکی ترقی، ماحولیاتی ذمہ داری، کارکنوں کی فلاح و بہبود، برادری کی ترقی اور قوم کی تعمیر کی ایک جامع داستان ہے۔ 2014 کے بعد حاصل ہونے والی یہ تبدیلی اس بات کی مؤثر مثال پیش کرتی ہے کہ ترقی پسند پالیسی اصلاحات، ادارہ جاتی فعالیت، جدید ٹیکنالوجی اور پُرعزم افرادی قوت کس طرح ہندوستان کے کوئلہ شعبے کی بے پناہ صلاحیت کو ٹھوس اقتصادی اور سماجی فوائد میں تبدیل کر سکتی ہے۔
جیسے جیسے ہندوستان ایک ترقی یافتہ اور توانائی کے اعتبار سے محفوظ معیشت کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، ایم سی ایل اس رفتار کو مزید آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔ کمپنی زیادہ سے زیادہ کوئلہ پیدا کرنے اور مؤثر و ذمہ دارانہ انداز میں اس کی ترسیل جاری رکھے گی، ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ اس کی ترقی کے ثمرات اس کے ملازمین، مقامی برادریوں، صارفین اور پورے ملک تک پہنچیں۔
******
( ش ح ۔ ا ع خ ۔ م ا )
Urdu.No-3152
(ریلیز آئی ڈی: 2307819)
وزیٹر کاؤنٹر : 9