صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے ‘‘سمن روڈ میپ 2030-دیکھ بھال کے تسلسل کو تیز کرنے’’ کے موضوع پر قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا
نئے شادی شدہ جوڑوں کا اندراج غیر ارادی حمل کی روک تھام اور صحت مند و منصوبہ بند حمل کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے: اتر پردیش حکومت کے نائب وزیر اعلیٰ جناب برجیش پاٹھک
کمزور اور طبی سہولیات سے محروم علاقوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ زچگی اور نوزائیدہ کی دیکھ بھال کے تسلسل کو مضبوط بنانے کے لیے ’’سمن روڈ میپ 2030‘‘: محترمہ ارادھنا پٹنائک، ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر، این ایچ ایم
ورکشاپ میں قابل دارک زچگی اور نوزائیدہ اموات کو صفر تک لانے کے مقصد سے سمن روڈ میپ 2030 کے وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی
سمن روڈ میپ 2030 میں زچگی اور نوزائیدہ اموات میں کمی کے لیے ہدفی حکمت عملی کے تحت 13 اعلیٰ ترجیحی ریاستوں اور 130 اضلاع پر توجہ مرکوز کی گئی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
03 SEP 2026 11:12PM by PIB Delhi
صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت (ایم او ایچ ایف ڈبلیو) نے 2 سے 3 ستمبر 2026 کو اتر پردیش کے لکھنؤ میں ‘‘سمن روڈ میپ 2030-دیکھ بھال کے تسلسل کو تیز کرنے’’ کے موضوع پر دو روزہ قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔

اس ورکشاپ کی صدارت محترمہ ارادھنا پٹنائک، ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر، قومی صحت مشن (این ایچ ایم)، امور صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت، حکومت ہند نے کی۔ افتتاحی اجلاس میں اتر پردیش حکومت کے نائب وزیر اعلیٰ اور طبی تعلیم، طبی صحت، خاندانی بہبود اور ماں و بچے کی بہبود کے وزیر جناب برجیش پاٹھک نے شرکت کی۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب برجیش پاٹھک نے نئے شادی شدہ جوڑوں کے اندراج کو غیر ارادی حمل کی روک تھام اور صحت مند و منصوبہ بند حمل کے لیے بروقت تیاری کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے ریاست بھر میں سمن روڈ میپ 2030 کے مؤثر نفاذ کے لیے اتر پردیش حکومت کے عزم کا اعادہ کیا، جس کا مقصد ہر خاتون اور نوزائیدہ بچوں کے لیے محفوظ، باوقار اور معیاری زچگی و نوزائیدہ بچوں کی صحت خدمات کو یقینی بنانا ہے۔

کلیدی خطاب کرتے ہوئے محترمہ ارادھنا پٹنائک، ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر، قومی صحت مشن، امور صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے کہا کہ بھارت نے زچگی کی شرح اموات میں کمی لانے کے سلسلے میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور مزید بہتری کی رفتار تیز کرنے کے لیے مسلسل اور ہدفی کوششیں کی جا رہی ہیں، خصوصاً ان ریاستوں میں جہاں زچگی کی شرح اموات زیادہ ہے اور ان کمزور و دشوار گزار علاقوں میں جہاں صحت خدمات تک رسائی محدود ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین اور خاندانوں کے لیے صحت کے نظام کی کوششوں میں زچگی کی صحت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ حمل ایک فطری جسمانی عمل ہے جو خاندانوں کے لیے خوشی اور امید کا باعث بنتا ہے، انہوں نے زور دیا کہ اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ ہر خاتون کو حمل اور بچے کی پیدائش کے دوران تحفظ، وقار اور معیاری طبی دیکھ بھال تک رسائی حاصل ہو۔
محترمہ پٹنائک نے کہا کہ سمن روڈ میپ 2030 میں زندگی کے مختلف مراحل اور دیکھ بھال کے تسلسل پر مبنی طریقۂ کار اپنایا گیا ہے، جس کے تحت زچگی کی صحت کے پورے سفر کے دوران مختلف اقدامات کو مربوط کیا گیا ہے۔ اس میں حمل سے قبل دیکھ بھال اور قبل از پیدائش دیکھ بھال سے لے کر دوران زچگی اور بعد از زچگی دیکھ بھال تک تمام مراحل شامل ہیں۔ یہ روڈ میپ اہم خامیوں کو دور کرنے، موجودہ صحت نظام کو مزید مستحکم بنانے اور بروقت، مساوی اور معیاری زچگی و نوزائیدہ بچوں کی صحت خدمات کو یقینی بنانے کے لیے ایک مرکوز اور کثیر جہتی فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس میں کمزور آبادی اور طبی سہولیات سے محروم علاقوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
افتتاحی اجلاس کے دوران برتھ ویٹنگ ہوم (بی ڈبلیو ایچ) سے متعلق رہنما خطوط، سمن روڈ میپ 2030 سے متعلق اطلاعات، تعلیم اور ابلاغی مواد (آئی ای سی) اور سمن روڈ میپ 2030 پر ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی۔ ان اقدامات سے ریاستی اور زمینی سطح پر روڈ میپ کے مؤثر نفاذ کے لیے دستیاب وسائل کو مزید مستحکم کیا گیا ہے۔
اس ورکشاپ میں ملک بھر سے 200 سے زائد شرکا نے شرکت کی، جن میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے مشن ڈائریکٹرز اور اعلیٰ عہدیداران ، مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے نمائندے، تکنیکی ماہرین، تعلیمی اداروں، پیشہ ورانہ تنظیموں اور ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندے شامل تھے۔ شرکا کی اس متنوع نمائندگی سے باہمی تجربات سے سیکھنے، زمینی سطح کے تجربات کے تبادلے اور سمن روڈ میپ 2030 کے تحت پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے ریاستی ترجیحات پر مرکوز غور و خوض کو فروغ ملا۔

سمن روڈ میپ 2030 میں ملک بھر میں مسلسل پیش رفت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ریاستوں اور اضلاع کی مخصوص ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دو حصوں پر مشتمل طریقۂ کار اپنایا گیا ہے۔ حصہ الف میں 13 اعلیٰ ترجیحی ریاستوں اور 130 اضلاع کے لیے ہدفی حکمت عملیوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جہاں زچگی اور نوزائیدہ اموات کا غیر متناسب طور پر بڑا حصہ سامنے آتا ہے۔ حصہ ب میں تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے ایسی حکمت عملیوں کی وضاحت کی گئی ہے، جن کے ذریعے پائیدار ترقی کے اہداف کے تحت مقررہ مقاصد کی جانب پیش رفت حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسی فریم ورک کی بنیاد پر تکنیکی اجلاسوں میں ماں اور نو زائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کے پورے تسلسل کے دوران اہم طبی اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ان اجلاسوں میں حمل سے قبل دیکھ بھال، زیادہ خطرے والے حمل(ہائی رسک پریگنینسی) اور پوسٹ پارٹم ہیمورج(پی پی ایچ) سے نمٹنے اور اس کے انتظام، کمیونٹی کی سطح پر مرکوز اقدامات، سیزیرین آپریشن کی خدمات کو مزید مؤثر بنانے، زچگی کی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے میں نجی شعبے کے کردار، ڈیجیٹل صحت کے اقدامات، سمن کال سینٹر اور شکایات کے ازالے کے نظام، برتھ ویٹنگ ہومز کو فعال بنانے اور موسمیاتی تبدیلی کے زچگی کی صحت پر اثرات جیسے موضوعات پر غور و خوض کیا گیا۔.

ورکشاپ کا ایک اہم حصہ 13 اعلیٰ ترجیحی ریاستوں کی جانب سے پیش کی گئی تفصیلات پر مشتمل تھا، جن میں ہر ریاست نے سمن روڈ میپ 2030 کے تحت اپنی ترجیحات، عمل درآمد میں درپیش اہم خامیوں اور مجوزہ اقدامات کا خاکہ پیش کیا۔ اس اجلاس کے ذریعے ریاستوں کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے اور زچگی و نو زائیدہ بچوں کی صحت کے نتائج میں بہتری کی رفتار تیز کرنے کے لیے مقامی حالات کے مطابق قابل عمل حکمت عملیوں کی نشاندہی کرنے کا موقع ملا۔
ورکشاپ میں گیلری واک کے ذریعے ریاستی سطح پر کیے جانے والے مؤثر اقدامات اور زمینی تجربات کو پیش کرنے کے لیے بھی ایک پلیٹ فارم فراہم کیا گیا۔ پیش کیے گئے اقدامات میں اڈیشہ کی جانب سے این اے ایس جی، یو بی ٹی اور ڈریپس کے ذریعے زچگی کے بعد شدید خون بہنے (پی پی ایچ) کے مؤثر انتظام؛ مدھیہ پردیش کے سمن پنچایت اور سمن سکھی چیٹ بوٹ؛ چھتیس گڑھ کے مدرز پکنک اور گوسائیا سمیلن؛ اتراکھنڈ کے ریاستی زچگی صحت وار روم؛ مہاراشٹر کا واتسلیہ اقدام؛ کرناٹک کا مشن زیرو پریوینٹیبل میٹرنل ڈیتھس؛ اور اتر پردیش کے ڈیجیٹل اختراعی اقدامات شامل تھے۔

زچگی اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کو بہتر بنانے میں شراکت داری کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او، یواین ایف پی اے، یونیسیف، گیٹس فاؤنڈیشن، جھپیگو، ایف او جی ایس آئی، سی تھری اور سی آئی ایف ایف کے نمائندوں نے غور و خوض میں شرکت کی اور سمن روڈ میپ 2030 کے نفاذ میں تعاون کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ تبادلۂ خیال میں مربوط اقدامات، مسلسل تکنیکی مدد اور ترقیاتی و تکنیکی شراکت داروں کے ساتھ پائیدار تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا، تاکہ روڈ میپ کی ترجیحات کو زمینی سطح پر مؤثر اقدامات میں تبدیل کیا جا سکے۔
ورکشاپ میں چار ترجیحی شعبوں پر گروپ مشقوں کے ذریعے ایک باہمی اور حل پر مبنی طریقۂ کار بھی اپنایا گیا۔ ان شعبوں میں زیادہ خطرے والے حمل کا مؤثر انتظام(ہائی رسک پریگنینسی مینجمنٹ): مسائل اور چیلنجز؛ حمل سے قبل دیکھ بھال: مؤثر نفاذ کے لیے حکمت عملیاں؛ زچگی کے بعد شدید خون بہنے (پی پی ایچ) کا انتظام اور مؤثر ریفرل ٹرانسپورٹ کے ذریعے تاخیر کے مسائل کا حل؛ اور سیزیرین آپریشن کی خدمات کو بہتر بنانا: زمینی تجربات شامل تھے۔ ان مشقوں کے ذریعے شرکا کو عملی تجربات شیئر کرنے، نفاذ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کرنے اور ریاستوں میں زچگی کی صحت کی خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنانے کے لیے زمینی سطح کے حل وضع کرنے کا موقع ملا۔

دو روزہ غور و خوض نے ریاستوں، تکنیکی ماہرین، تعلیمی اداروں، پیشہ ورانہ تنظیموں اور ترقیاتی شراکت داروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا، جہاں ترجیحات کو ہم آہنگ کرنے، اختراعی اقدامات کا تبادلہ کرنے اور سمن روڈ میپ 2030 کے نفاذ کی رفتار تیز کرنے کے لیے قابل عمل حکمت عملیوں کی نشاندہی کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی 2030 تک قابل تدارک زچگی اور نو زائیدہ اموات کو صفر تک لانے کے قومی عزم کو آگے بڑھانے پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔
سمن روڈ میپ 2030
سمن روڈ میپ 2030 ایک ایسی حکمت عملی کا فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے مؤثر اور اعلیٰ اثر رکھنے والے اقدامات کے ذریعے 2030 تک قابل تدارک زچگی اور نوزائیدہ بچوں کی اموات کو صفر تک لانے کی جانب ملک کی پیش رفت کو تیز کیا جا سکے، جبکہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی سمت پیش رفت کو بھی برقرار رکھا جا سکے۔
دو روزہ ورکشاپ میں زچگی کی صحت کے پورے تسلسل سے متعلق مختلف امور پر غور و خوض کیا گیا، جن میں حمل سے قبل دیکھ بھال(پری پریگنینسی کیئر )، زیادہ خطرے والے حمل(ہائی رسک پریگنینسی)، پی پی ایچ مینجمنٹ ، حمل کی تیسری سہ ماہی میں کمیونٹی کی سطح پر اقدامات، سیزیرین آپریشن کی خدمات کو بہتر بنانا، ڈیجیٹل صحت کے اقدامات، برتھ ویٹنگ ہومز، موسمیاتی تبدیلی کے زچگی کی صحت پر اثرات، ریاستی ترجیحات اور شراکت داروں کی شرکت شامل تھے۔

غور و خوض کے دوران اس مشترکہ قومی عزم کا اعادہ کیا گیا کہ کسی بھی خاتون یا نوزائیدہ بچوں کی جان کسی ایسے سبب سے نہیں جانی چاہیے جس کی روک تھام ممکن ہو۔ وزارت نے ریاستی حکومتوں، تکنیکی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے سمن روڈ میپ 2030 کو زچگی اور نوزائیدہ بچون کی صحت کے نتائج میں قابل پیمائش اور پائیدار بہتری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، تاکہ 2030 تک قابل تدارک زچگی اور نوزائیدہ اموات کو صفر تک لانے کے ہدف کے حصول کی جانب ملک کو مزید قریب لایا جا سکے۔
*****
ش ح۔ ش آ ۔ ش ا
U. No-3143
(ریلیز آئی ڈی: 2307771)
وزیٹر کاؤنٹر : 8