امور داخلہ کی وزارت
امور داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے پنجی میں گوا پولیس کو پریزیڈنٹس کلر پیش کیا
گوا پولیس کو 'پریزیڈنٹس کلر' کا عطا کیا جانا، اس کی آٹھ دہائیوں پر محیط مخلصانہ خدمات اور شجاعت کا قومی اعتراف ہے
گوا پولیس نے ریاست کی طویل ساحلی پٹی کی حفاظت، سیاحوں کے تحفظ و سلامتی کو یقینی بنانے اور معیشت کو مضبوط کرنے میں نمایاں کردار ادا کر کے اپنی ذمہ داریوں کو تندہی سے نبھایا ہے
آنے والے دنوں میں، 1930 ہیلپ لائن نمبر ملک کو ہر قسم کے سائبر فراڈ سے بچانے کے لیے ایک مضبوط ڈھال بن جائے گا
گوا پولیس کی جانب سے 1930 ہیلپ لائن کے لیے شروع کیا گیا اے آئی پر مبنی کال ایجنٹ، آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل تمام زبانوں میں شکایات درج کرے گا اور انہیں متعلقہ حکام کو بھیجے گا
گوا پولیس کی ایمرجنسی ہیلپ لائن سروس 112 کے تحت پولیس کا جوابی وقت 18 منٹ سے کم ہو کر اب صرف 8 منٹ رہ گیا ہے
نئے قوانین ٹیکنالوجی، حساسیت، ترجیحات کے تعین اور فوری انصاف کی فراہمی جیسی خصوصیات کو یکجا کرتے ہیں، جو پولیسنگ کی ایک بڑی اپ گریڈیشن کی علامت ہے
صرف ایک سال میں، گوا پولیس نے اپنے مجرموں کو سزا دلانے کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا ہے، جو کہ 23 فیصد سے بڑھ کر 53 فیصد ہو گئی ہے
وزیرِ داخلہ جناب امت شاہ نے گوا پولیس کے لافانی شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا
نشہ مکت بھارت کی تعمیر کے لیے 2026–2029 کا ایک روڈ میپ تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت بھارت کو منشیات سے مکمل پاک کیا جائے گا
وزیرِ داخلہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ گوا پولیس منشیات کے خلاف نبردآزمائی میں بھی ایک صفِ اول کی فورس بن کر ابھرے گی
مرکزی وزیرِ داخلہ نے اعتماد ظاہر کیا ہے کہ گوا پولیس منشیات کے خلاف جنگ میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 SEP 2026 7:19PM by PIB Delhi
امور داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر امت شاہ نے آج گوا کے دارالحکومت پنجی میں گوا پولیس کو 'پریزیڈنٹس کلر' کا باوقار اعزاز پیش کیا۔ اس موقع پر گوا کے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر پرمود ساونت، مرکزی وزیرِ مملکت برائے نئی اور قابلِ تجدید توانائی شری شری پد یسو نائک، مرکزی ہوم سکریٹری، گوا کے چیف سکریٹری، گوا کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور کئی دیگر معززین موجود تھے۔
حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے، امور داخلہ اور امدادِ باہمی کے مرکزی وزیر امت شاہ نے کہا کہ گوا پولیس کو 'پریزیڈنٹس کلر' پیش کرنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ دہائیوں کی ممتاز خدمات کے بعد، گوا پولیس آج صدرِ ہند کی طرف سے دیے گئے اس باوقار اعزاز کو فخر سے سنبھالے ہوئے ملک کی دیگر کئی پولیس فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ شری شاہ نے کہا کہ جن ریاستوں کی پولیس فورسز کو 'پریزیڈنٹس کلر' سے نوازا گیا ہے، انہیں یہ باوقار اعزاز ان کی شاندار تاریخ، پیشہ ورانہ مہارت، شجاعت، نظم و ضبط اور لگن کی بنیاد پر ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوا ایک چھوٹی لیکن انتہائی اہم ریاست ہے۔ ریاست کے قیام کے ساتھ ہی، گوا پولیس کو ایک محفوظ شہر، محفوظ معاشرے اور محفوظ سمندری سرحد کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے قیام سے لے کر اب تک، گوا پولیس نے ان تینوں ذمہ داریوں کو کامیابی سے نبھایا ہے اور قومی سلامتی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ ایک ترقی یافتہ ملک کے لیے سب سے پہلی اور لازمی شرط یہ ہے کہ وہ مکمل اندرونی سلامتی اور اپنی سرحدوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ گوا کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ اسے اندرونی سلامتی کے ساتھ ساتھ سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوا کی طویل سمندری سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری گوا پولیس کے کاندھوں پر ہے۔ اس ذمہ داری کو خوش اسلوبی سے نبھاتے ہوئے، گوا پولیس نے سیاحوں کے تحفظ و سلامتی کو یقینی بنانے اور معیشت کو مضبوط کرنے میں لائقِ تحسین کام کیا ہے۔
اس موقع پر، وزیرِ داخلہ نے فرض کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے لافانی شہدا کو عقیدت کا احترام پیش کیا۔ انہوں نے خاص طور پر پولیس اہلکاروں بالارام شنڈے، ابھیشیک شیر، شیلیش گاؤنکر اور وشواس بی ڈیکر کو خراجِ عقیدت پیش کیا، اور کہا کہ ان کی لگن نے گوا پولیس کے لیے یہ اعزاز حاصل کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
مرکزی وزیرِ داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ عالمی سفارت کاری میں بھارت کا اثر و رسوخ گزرتے دن کے ساتھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران، روس-یوکرین جنگ اور اس کے بعد خلیجی خطے میں ایران سے متعلق تنازع کی وجہ سے عالمی سفارتی منظر نامے کو شدید ہلچل کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے چیلنجنگ ماحول میں بھی، وزیرِ اعظم شری نریندر مودی نے ایک ہی سال میں 22 ممالک کا سفر کیا، جبکہ تقریباً 15 ممالک کے سربراہانِ مملکت نے بھارت کا دورہ کیا۔ شری شاہ نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا معاشی غیر یقینی صورتحال سے جوجھ رہی تھی اور عالمی عدم استحکام کی وجہ سے اپنی معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہی تھی، بھارت نے مسلسل مکالمے اور اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے اپنی معاشی رفتار کو برقرار رکھا۔ انہوں نے کہا کہ دفاع، ٹیکنالوجی، توانائی، سرمایہ کاری اور تجارت سمیت متعدد شعبوں میں ٹھوس معاہدے کیے گئے۔
مرکزی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ 2026 تک بھارت نے 9 آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) مکمل کر لیے ہیں۔ اب یہ معاہدے 38 ممالک کے ساتھ مؤثر تجارتی انتظامات کے طور پر قائم ہو چکے ہیں۔ متحدہ عرب امارات، آسٹریا، آسٹریلیا، برطانیہ، عمان، نیوزی لینڈ اور یورپی یونین کے ساتھ ہونے والے معاہدوں نے بھارت کی تجارت کو ایک نیا فروغ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سال کی پہلی سہ ماہی میں بھارت کی جی ڈی پی کی شرحِ نمو شاندار 7.8 فیصد تک پہنچ گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے نہ صرف معاشی ترقی حاصل کی ہے بلکہ کئی طریقوں سے عالمی برادری کے لیے بھی اپنا تعاون پیش کیا ہے۔ ان میں 'ویکسین میتری'، اپنے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی کامیابیوں کو دنیا کے ساتھ شیئر کرنا، اور آفات سے نمٹنے اور صلاحیت سازی کے شعبوں میں کئی ممالک کو امداد فراہم کرنا شامل ہے۔
_20260907192944_032135.jpeg)
جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں، آج بھارت کی سفارت کاری نے عالمی سطح پر اپنے لیے ایک منفرد مقام قائم کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی بڑا عالمی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، تو دنیا اب اس معاملے پر بھارت کے وزیرِ اعظم کے خیالات اور نقطہِ نظر کی طرف دیکھتی ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ ایک طویل وقفے کے بعد، یہ وزیرِ اعظم مودی ہی ہیں جنہوں نے بھارت کو یہ وقار اور پہچان دوبارہ دلائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم مودی نے ملک کے سامنے 2047 تک ایک 'وکست بھارت' کی تعمیر کا عزم رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکست بھارت کے وژن کو شروع میں کئی چیلنجوں اور شکوک و شبہات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن، بہت ہی مختصر عرصے میں، یہ 140 کروڑ ہندوستانیوں کے اجتماعی عزم میں بدل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہر ہندوستانی کو یقین ہے کہ 15 اگست 2047 تک، بھارت ہر شعبے میں دنیا کے صفِ اول کے ملک کے طور پر ابھرے گا۔
مرکزی وزیرِ داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ ڈیجیٹل معیشت کی توسیع کے ساتھ ہی، دنیا بھر میں سائبر فراڈ کے خطرے کو محسوس کیا جا رہا ہے، اور بھارت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ وزیرِ اعظم شری نریندر مودی نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے خود تمام ریاستوں کے ساتھ براہِ راست مکالمے کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں، 1930 ہیلپ لائن نمبر ہر قسم کے سائبر فراڈ کے خلاف ایک مضبوط ڈھال کے طور پر کام کرے گا اور تمام شعبوں میں پائیدار سیکیورٹی فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ گوا پولیس نے 1930 ہیلپ لائن کے لیے ایک اے آئی پر مبنی کال ایجنٹ متعارف کروا کر اس سلسلے میں ایک قدم آگے بڑھایا ہے۔ اس پہل میں، گوا پولیس ملک کی دیگر ریاستوں سے آگے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہیلپ لائن کونکنی، مراٹھی اور ہندی میں شکایات درج کرنے کی سہولت فراہم کرے گی۔ ساتھ ہی، یہ سروس دیگر ہندوستانی زبانوں میں بھی شکایات کے اندراج کو آسان بنائے گی اور انہیں متعلقہ حکام کو منتقل کرے گی۔ شری شاہ نے کہا کہ ملک اور دنیا بھر سے بڑی تعداد میں سیاح گوا آتے ہیں۔ اس لیے، وزیرِ اعلیٰ نے اپنی دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ یقینی بنایا کہ اے آئی ایجنٹ صرف کونکنی اور مراٹھی تک ہی محدود نہ رہے، بلکہ اس کا دائرہ کار بڑھا کر آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل تمام زبانوں کو اس میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاحوں کے فائدے کے لیے بھی ایک اہم اور بصیرت انگیز قدم ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ گوا پولیس اپنے قیام سے ہی ہر شعبے میں لائقِ تحسین کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں میں مہارت گوا پولیس کا ایک طویل عرصے سے خاص طُرّہِ امتیاز رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 2029 میں بھارت میں 'انٹرنیشنل پولیس اسپورٹس چیمپئن شپ' کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں پولیس اور فائر سروسز کے اہلکاروں کے لیے کھیلوں کے مقابلے بھی شامل ہوں گے۔ مرکزی وزیرِ داخلہ نے گوا پولیس کے تمام اہلکاروں سے اپیل کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بھارت اس باوقار ایونٹ میں تمغوں کی دوڑ میں پیچھے نہ رہے۔ انہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ ابھی سے تیاریاں شروع کر دیں اور پورے جوش و خروش کے ساتھ اس چیمپئن شپ میں حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ گوا پولیس کو نہ صرف فٹ بال بلکہ کھیلوں کے دیگر شعبوں میں بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے خود کو تیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گوا کی طویل ساحلی پٹی اور 15 لاکھ سے زیادہ آبادی کے پیشِ نظر، پولیس فورس کے لیے جسمانی طور پر فٹ اور چست رہنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیل پولیس اہلکاروں کو جسمانی طور پر فٹ، توانا اور مستعد رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔
مرکزی وزیرِ داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ آٹھ دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط، گوا پولیس کے عزم اور اس کے بنیادی اصول 'امن، خدمت اور انصاف' نے گوا کو مستقل محفوظ بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گوا پولیس نے نہ صرف گوا کے عوام بلکہ ملک بھر سے ہمیشہ داد و تحسین حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامی سروس 112 کے تحت پولیس کی آمد کا جوابی وقت ، جو پہلے 18 منٹ تھا، اب کم ہو کر صرف 8 منٹ رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کے شعبے میں یہ ایک بڑی بہتری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 20,000 کالز پر فوری مدد فراہم کی گئی ہے، اور اعتماد ظاہر کیا کہ مزید گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں (ٹو-وھیلرز) کی شمولیت کے ساتھ، جوابی وقت کو کم کر کے چھ منٹ سے بھی کم کر دیا جائے گا۔ جناب شاہ نے کہا کہ 'ٹورسٹ پولیس ونگ' ان دیگر ریاستوں کے لیے ایک ماڈل ثابت ہو سکتا ہے جہاں سیاحت بڑے پیمانے پر ہوتی ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ پورے فوجداری نظامِ انصاف میں تبدیلی لانے کے لیے تین نئے قوانین (نیائے سنہتا) نافذ کیے گئے ہیں۔ یہ قوانین ٹیکنالوجی، حساسیت، ترجیحات کے تعین اور فوری انصاف کو یقینی بنانے کی صلاحیت جیسے پہلوؤں کو یکجا کرتے ہیں۔ انہوں نے اسے پولیسنگ کی ایک بڑی اپ گریڈیشن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے پورے نظام کو—بشمول جیلوں، فارنسک سائنس لیبارٹریوں (ایف ایس ایل)، عدالتوں، وکلاء، پولیس اسٹیشنوں اور ہسپتالوں کو—آپس میں جوڑنا اور اس بنیاد پر انصاف فراہم کرنا ایک بہت بڑا اور اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے فوجداری قوانین کے نفاذ میں گوا پولیس کئی مہینوں تک ملک میں پہلے نمبر پر رہی۔ موجودہ وقت میں، 93.38 فیصد پیش رفت کے ساتھ، یہ ملک میں دوسرے نمبر پر ہے۔ گوا پولیس نے تمام 9 پیرامیٹرز (پیمانوں) پر غیر معمولی طور پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ صرف ایک سال کے اندر، گوا پولیس نے اپنے مجرموں کو سزا دلانے کی شرح میں 30 فیصد کا اضافہ کیا ہے۔ سزا دلانے کی یہ شرح پہلے 23 فیصد تھی؛ اب 53 فیصد ایف آئی آرز میں سزائیں یقینی بنائی جا رہی ہیں، جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔
مرکزی وزیرِ داخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ وزارتِ داخلہ نے آنے والے دنوں میں منشیات کے خلاف ایک مضبوط مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے سال 2026 سے 2029 تک کی مدت کا ایک روڈ میپ تیار کیا گیا ہے۔ اس روڈ میپ کے تحت، تمام متعلقہ محکموں اور تمام ریاستی حکومتوں کی شرکت کے ساتھ، پورے بھارت کے ہر گاؤں اور شہر کو منشیات سے پاک کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ گوا پولیس منشیات کے خلاف جنگ میں بھی ایک صفِ اول کی فورس بن کر ابھرے گی۔
***
(ش ح –ا ب ن)
U.No:3133
(ریلیز آئی ڈی: 2307674)
وزیٹر کاؤنٹر : 4