الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
انڈیا اے آئی مشن اور سویڈن نے ایس آئی ٹی اے سی کے تحت مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن میں اسٹریٹجک تعاون پر تبادلۂ خیال کیا
دو طرفہ مکالمے میں بھارت کے اے آئی ماحولیاتی نظام اور سویڈن کی صنعتی و ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کے درمیان ہم آہنگی کے امکانات کا جائزہ لیا گیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 SEP 2026 7:28PM by PIB Delhi
وزارتِ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (میٹی) کے تحت انڈیا اے آئی مشن نے سویڈن - انڈیا ٹیکنالوجی اینڈ اے آئی کوریڈور (ایس آئی ٹی اے سی) کے تحت سویڈن کے ایک وفد کے ساتھ نئی دہلی کے الیکٹرانکس نکیتن میں دو طرفہ مکالمہ منعقد کیا۔

اس اجلاس میں وزارتِ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (میٹی)، انڈیا اے آئی مشن، بھارت میں سویڈن کے سفارت خانے، بزنس سویڈن اور سویڈن کی معروف کمپنیوں کے اعلیٰ نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں بھارت کے ابھرتے ہوئے اے آئی ماحولیاتی نظام، ڈیجیٹلائزیشن کی ترجیحات اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں مزید گہرے دو طرفہ تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اجلاس کا آغاز وزارتِ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بین الاقوامی تعاون ڈویژن کے جوائنٹ سکریٹری جناب اجیت کمار کے استقبالیہ کلمات سے ہوا، جس کے بعد انڈیا اے آئی مشن کے سی ای او جناب سوربھ وجے، آئی اے ایس نے افتتاحی کلمات پیش کیے۔ بھارت میں سویڈن کے سفارت خانے کی وزیر قونصلر اور ڈپٹی ہیڈ آف مشن محترمہ ایگنس جولن نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔

’’سویڈن گہری صنعتی، تحقیقی اور جدید مینوفیکچرنگ کی مہارت رکھتا ہے، جبکہ بھارت بے مثال پیمانے، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور اے آئی کے باصلاحیت افراد کے وسیع پول اور آزمائشی ماحول کی سہولت فراہم کرتا ہے۔‘‘ — جناب سوربھ وجے، آئی اے ایس، سی ای او، انڈیا اے آئی مشن۔

’’تجارت، ضابطہ کاری اور اختراعی اسٹارٹ اَپس کو ایک دوسرے سے جوڑنے پر مرکوز ایک واضح روڈ میپ کے ساتھ، ہمارا مشترکہ مقصد یہ ہے کہ بھارت اور سویڈن کے درمیان اے آئی اور الیکٹرانکس کے شعبوں میں کاروباری مواقع کے دروازے پوری طرح کھلے رہیں، کیونکہ ہم مل کر اس ٹیکنالوجی انقلاب سے گزر رہے ہیں۔‘‘ — بھارت میں سویڈن کے سفارت خانہ میں وزیرقونصلر،ڈپٹی ہیڈ آف مشن ، عزت مآب ایگنس جولن۔
اجلاس کے دوران انڈیا اے آئی نے بھارت کے اے آئی ماحولیاتی نظام اور ڈیجیٹل روڈ میپ کا جائزہ پیش کیا، جس میں بھارت کے تیزی سے وسعت پذیر اے آئی منظرنامے میں سویڈش کمپنیوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا گیا۔ پریزنٹیشن میں انڈیا اے آئی مشن کی اہم ترجیحات، بشمول کمپیوٹ صلاحیت، ڈیٹا سیٹس اور ماڈلز، مقامی اور ڈومین مخصوص اے آئی، ایپلی کیشن ڈیولپمنٹ، مستقبل کی مہارتیں، اسٹارٹ اَپ فنانسنگ اور محفوظ و قابلِ اعتماد اے آئی، کو واضح کیا گیا۔
پریزنٹیشن میں بین الاقوامی ٹیکنالوجی اور صنعتی کمپنیوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کا بھی جائزہ پیش کیا گیا، کیونکہ بھارت اپنے اے آئی انفرااسٹرکچر، اختراعی ماحولیاتی نظام اور ذمہ دارانہ اے آئی کو اپنانے کے راستوں کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے۔
مذاکرات میں بھارت میں انٹرپرائز اے آئی کو اپنانے کے عمل کو تشکیل دینے والے پالیسی، انفراسٹرکچر اور گورننس سے متعلق حالات پر بھی توجہ مرکوز کی گئی، جن میں ڈیٹا گورننس، لوکلائزیشن، ذمہ دارانہ اے آئی اور مارکیٹ تک رسائی شامل ہیں۔
بزنس سویڈن کے مارکیٹ مینیجر جناب جانی ایرکسن کی قیادت میں سویڈش وفد نے ایس آئی ٹی اے سی اور مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹلائزیشن کے شعبوں میں سویڈن کی ترجیحات کا جائزہ پیش کیا۔ سویڈن کی معروف کمپنیوں، جن میں آٹولیو، کونسیٹ، آئی کے ای اے، ساب، سینڈویک اے آئی، سینڈویک انٹیلی جنٹ مینوفیکچرنگ، ایس کے ایف اور وولوو گروپ شامل ہیں، کے نمائندوں نے بھی مذاکرات میں شرکت کی۔
اس باہمی مکالمے میں سویڈن کی معروف کمپنیوں اور بھارت کے اے آئی و ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا، جن میں ٹیک مہندرا، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس)، زینٹیک، اوتار اے آئی، انیفو، کور اوور ڈاٹ اے آئی، گنانی اور گلوبلز آئی ٹیز شامل تھے۔ مذاکرات میں سویڈن کی صنعتی و ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں اور بھارت کی اے آئی ترجیحات کے درمیان ممکنہ ہم آہنگی کے شعبوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں صنعتی اے آئی، قابلِ اعتماد ڈیٹا، کمپیوٹ، مہارتیں اور ذمہ دارانہ اے آئی شامل ہیں۔ اس دوران مشترکہ دلچسپی کے شعبوں کو عملی تعاون میں تبدیل کرنے پر خصوصی زور دیا گیا۔
بھارتی اے آئی اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی شرکت نے سویڈش وفد کو بھارت کی انٹرپرائز اے آئی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی حلوں اور تعیناتی کے لیے تیار اختراعات کے بارے میں جاننے کا موقع فراہم کیا۔ اس باہمی رابطے کا مقصد مخصوص انٹرپرائز اور صنعتی ضروریات کی بنیاد پر پائلٹس، مشترکہ ڈیولپمنٹ، تجارتی شراکت داری اور صنعت کے ساتھ دیگر اقسام کے تعاون کے امکانات کی نشاندہی کرنا بھی تھا۔
ایس آئی ٹی اے سی کے تحت ہونے والے مذاکرات سے اے آئی اور ڈیجیٹلائزیشن کے شعبوں میں سویڈن-بھارت کے مرکوز اور مسلسل تعاون کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مدد ملنے کی توقع ہے، جس میں ممکنہ پائلٹس، ٹیسٹ بیڈز، ماحولیاتی نظام کی شراکت داری اور مسلسل تعاون کے دیگر ذرائع شامل ہیں۔
اجلاس کا اختتام بزنس سویڈن کے مارکیٹ مینیجر جناب جانی ایرکسن کے اظہارِ تشکر کے کلمات سے ہوا، جس کے بعد انڈیا اے آئی مشن کی جانب سے اختتامی کلمات پیش کیے گئے۔
دو طرفہ مکالمہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت اور سویڈن اختراع، انٹرپرائز سطح پر اے آئی کو اپنانے اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کو مضبوط بنانے کے لیے اے آئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانے میں مشترکہ دلچسپی رکھتے ہیں، جبکہ ذمہ دارانہ اور قابلِ اعتماد اے آئی ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔
***
ش ح۔ ف ا۔ م ر
U-NO. 3132
(ریلیز آئی ڈی: 2307668)
وزیٹر کاؤنٹر : 9