سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
سائنس دانوں نے ایک ایسا طریقہ دریافت کر لیا ہے ، جس میں صرف ایک قدم سے کوانٹم الجھاؤ کے ختم ہونے کے مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 SEP 2026 3:36PM by PIB Delhi
سائنس دانوں نے مناسب وقت پر ’ فلپ‘ آپریشن کرنے کے ذریعے کوانٹم الجھاؤ ( کوانٹم انٹینگلمنٹ ) کو زیادہ دیر تک برقرار رکھنے کا ایک طریقہ دریافت کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کوانٹم نظاموں میں صرف یہ اہم نہیں کہ کون سا آپریشن کیا جائے، بلکہ یہ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ اسے کب کیا جائے۔ یہ طریقہ مستقبل کے کوانٹم کمپیوٹرز کے اندر موجود نازک کوانٹم روابط کو زیادہ دیر تک برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے اور اس کے لیے ہارڈ ویئر میں کسی قسم کی تبدیلی بھی ضروری نہیں ہوگی۔
کوانٹم الجھاؤ ایک ایسی خصوصیت ہے ، جس میں ایک ذرے کی حالت کا تعلق کسی دوسرے، بہت دور موجود ذرے کی حالت سے جڑ جاتا ہے۔ کوانٹم نظاموں میں کوانٹم الجھاؤ ایک بنیادی اور انتہائی اہم وسیلہ ہے۔ تاہم، ماحول کے ساتھ تعامل کی وجہ سے کوانٹم الجھاؤ وقت کے ساتھ کمزور یا ختم ہو سکتا ہے۔

شکل 1۔ دو الجھے ہوئے ذرات کی تصویر۔ ان میں سے ایک پر کیا جانے والا آپریشن دوسرے ذرے کو بھی اسی طرح متاثر کرے گا، چاہے دونوں مختلف ماحول میں موجود ہوں۔
دو الجھے ہوئے ذرات کا تصور کریں، جن میں سے ہر ایک دو حالتوں میں سے کسی ایک حالت میں ہو سکتا ہے — ایک برانگیختہ حالت اور ایک بنیادی حالت۔ اگر انہیں اکیلا چھوڑ دیا جائے تو ہر ذرہ برانگیختہ حالت سے بنیادی حالت میں جانے لگتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے کوئی ایٹم اپنے اردگرد کے ماحول میں توانائی کھو دیتا ہے۔ ایسا ہونے کے ساتھ ہی ان دونوں ذرات کے درمیان کوانٹم الجھاؤ کمزور ہونے لگتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر، الجھاؤ ایک محدود وقت میں مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے، یعنی ذرے کے مکمل طور پر زوال پذیر ہونے سے کافی پہلے۔ طبیعیات دان اس اچانک ختم ہونے کے عمل کو ’کوانٹم الجھاؤ کی اچانک موت‘ کہتے ہیں۔

شکل 2۔ ماحول میں موجود شور کی وجہ سے کوانٹم الجھاؤ وقت کے ساتھ کمزور یا ختم ہو سکتا ہے، یا اچانک بالکل غائب بھی ہو سکتا ہے۔
محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی ( ڈی ایس ٹی ) کے ایک خودمختار ادارے ، رمن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( آر آر آئی ) ، یونیورسٹی آف کیلگری اور لوزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنس دانوں پر مشتمل ایک ٹیم نے اس چیلنج کو قبول کیا کہ اس اچانک خاتمے کو کیسے مؤخر کیا جائے۔ اس تحقیق کے لیے جزوی مالی مدد ڈی ایس ٹی کے اہم نیشنل کوانٹم مشن سے ملی۔
محققین کی ٹیم نے کوانٹم الجھاؤ کے اچانک ختم ہونے میں تاخیر کرنے کے لیے ایک دلچسپ طریقہ تیار کیا۔ سب سے پہلے انہوں نے اپنے آپٹیکل نظام میں دو سطحی نظام کی نقل تیار کی۔ روشنی میں پولرائزیشن نامی ایک خاصیت ہوتی ہے، جو یہ بتاتی ہے کہ روشنی کی لہریں کس سمت میں ارتعاش کر رہی ہیں۔ فرض کریں کہ روشنی یا فوٹونز — یعنی روشنی بنانے والے ذرات — پولرائزیشن کی دو مختلف حالتوں میں موجود ہیں۔ انہوں نے عمودی پولرائزیشن کو برانگیختہ حالت اور افقی پولرائزیشن کو بنیادی حالت تصور کیا۔ ایک ویو پلیٹ، یعنی پولرائزیشن کو تبدیل کرنے والے آپٹیکل آلے، کی مدد سے وہ پولرائزیشن کو عمودی سے افقی میں تبدیل کر سکتے تھے اور اس طرح ذرات کے بنیادی حالت میں جانے کے عمل کو کنٹرول کر سکتے تھے۔
ذرات کو برانگیختہ حالت سے بنیادی حالت میں قدرتی طور پر جانے دینے کے بجائے، انہوں نے مناسب وقت پر ایک ایسا آپریشن کیا ، جس نے بنیادی اور برانگیختہ حالت میں موجود ذرات کی تعداد کو آپس میں تبدیل کر دیا۔ اس آپریشن کا اثر اس بات پر منحصر تھا کہ اسے زوال کے عمل کے دوران کس وقت کیا گیا۔ مناسب وقت کا انتخاب کرکے ، انہوں نے تمام ذرات کے بنیادی حالت میں جانے کے عمل یا کوانٹم الجھاؤ کے خاتمے کو مؤخر کر دیا۔
مطالعے کی سربراہ اور آر آر آئی میں کوانٹم انفارمیشن اینڈ کمپیوٹنگ ( کیو یو آئی سی ) لیب کی گروپ لیڈر اور سینئر پروفیسر ارباسی سنہا نے کہا کہ ’’ میرے نزدیک اس نتیجے کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وقت کا انتخاب صرف تجربے کی ایک معمولی تفصیل نہیں، بلکہ یہ کنٹرول کا ایک ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔‘‘

شکل 3۔ آپریشن کو درست وقت پر انجام دینے سے کوانٹم الجھاؤ کے زوال کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
صحیح وقت پر کیا گیا ایک ’ فلپ‘ آپریشن صرف اچانک خاتمے کو مؤخر ہی نہیں کرتا، بلکہ اسے ہمیشہ کے لیے ہونے سے بھی روک سکتا ہے۔ ٹیم اس عمل کو ’ اجتناب‘ کہتی ہے۔
آر آر آئی کی کیو یو آئی سی لیب کے کوانٹم سائنس دان اور اس نئی تحقیق کے مرکزی مصنف سومیا رنجن بہیرا کہتے ہیں کہ ’’ آپ زوال کے عمل کے دوران کتنی پیش رفت کے بعد یہ ایک فلپ آپریشن کرتے ہیں، یہی طے کرتا ہے کہ آپ اچانک خاتمے سے بچ پائیں گے، اسے مؤخر کریں گے یا اس کے ہونے کی رفتار بڑھا دیں گے۔ ‘‘ یہ تحقیق جولائی میں امریکن فزیکل سوسائٹی کے جریدے فزیکل ریویو اے میں شائع ہوئی۔
کوانٹم کمپیوٹرز میں اس بات کی ایک حد ہوتی ہے کہ کوانٹم معلومات ختم ہونے سے پہلے کتنی دیر تک برقرار رہ سکتی ہیں۔ یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسی حد موجود ہونے کی صورت میں کسی آپریشن کو انجام دینے کا وقت کوانٹم الجھاؤ کے انجام کو بدل سکتا ہے۔
کیو یو آئی سی لیب میں نظریاتی اور تجرباتی ماہرین کے باہمی تعاون کی ایک بہترین مثال سامنے آئی، جہاں اس تحقیق کے تجرباتی نتائج نے سائنس دانوں کو حیران کر دیا۔ یہ تجربہ ان دو عام نظریاتی ماڈلز میں سے کسی ایک کے مطابق نہیں تھا، جن کے ذریعے عموماً یہ سمجھایا جاتا ہے کہ کوانٹم نظام اپنے ماحول کو معلومات کیسے منتقل کرکے کھوتے ہیں۔
چنانچہ تقریباً ایک سال تک نظریاتی ماہرین نے اعداد و شمار کو سمجھنے کے لیے مختلف وضاحتوں اور ماڈلز کا جائزہ لیا۔ آخرکار انہیں معلوم ہوا کہ تجربہ ’ غلط‘ نہیں تھا۔ بلکہ اس کے نتائج عین اس منحنی خط پر آ رہے تھے ، جو ان دونوں نظریاتی فریم ورک کو دونوں سروں پر آپس میں ملاتا ہے۔ بنیادی طور پر، انہوں نے وہ ’ ٹیوننگ پیرامیٹر‘ دریافت کر لیا ، جو تجربے کو ان دونوں فریم ورک کے درمیان منتقل ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ اس طرح اب ان دونوں فریم ورک کے لیے دو الگ الگ تجرباتی نظاموں کی ضرورت نہیں رہی۔ ایک ہی نظام دونوں نوائز ماڈلز اور ان کے درمیان موجود تمام مختلف صورتوں کی نمائندگی کر سکتا ہے، جس کا انحصار منتخب کیے گئے ٹیوننگ پیرامیٹر پر ہوتا ہے۔
Temporal steering of entanglement decay with single-shot control | Phys. Rev. A
اشاعت کا لنک : https://doi.org/1.1103/84n3-bcz8
***
) ش ح – م م - ع ا )
U.No. 3119
(ریلیز آئی ڈی: 2307577)
وزیٹر کاؤنٹر : 7