وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
ہندوستان میں آئندہ نسل کی آبی زراعت: آتم نربھر بھارت اور وکست بھارت ویژن کے تحت نیلی معیشت میں آر اے ایس اور بایو فلوک ٹیکنالوجی کا استعمال
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 SEP 2026 3:05PM by PIB Delhi
ماہی گیری اور آبی زراعت کا شعبہ ہندوستان کی اقتصادی ترقی کے ایک اہم ستون کے طور پر ابھرا ہے ، جو پیداوار ، پروسیسنگ ، مارکیٹنگ اور برآمدات پر محیط ایک وسیع ویلیو چین میں روزگار پیدا کرتے ہوئے تقریبا تین کروڑ ماہی گیروں اور ماہی گیروں کی روزی روٹی کی حمایت کرتا ہے ۔ ہندوستان آج دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مچھلی پیدا کرنے والا ملک ہے ، جو عالمی مچھلی کی پیداوار میں تقریبا 8 فیصد کا حصہ ڈالتا ہے ، دوسرا سب سے بڑا آبی زراعت پیدا کرنے والا ، کیکڑے کا سب سے بڑا پیدا کنندہ اور برآمد کنندہ ، اور پکڑنے والی ماہی گیری میں دوسرا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے ۔ یہ کامیابیاں خوراک اور غذائی تحفظ ، دیہی خوشحالی ، برآمدی آمدنی اور ملک کی نیلی معیشت کی امنگوں کو آگے بڑھانے میں اس شعبے کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت کی عکاسی کرتی ہیں ۔ ماہی گیری اور آبی زراعت نہ صرف غذائی اور تغذیاتی تحفظ کو مضبوط بنانے، دیہی خوش حالی کو فروغ دینے اور برآمدات سے آمدنی بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ بلکہ ملک کی نیلی معیشت کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔
سرکاری سرمایہ کاری کارفرما رہی ہے۔ 2015 سے اب تک حکومتِ ہند نے ماہی گیری اور آبی زراعت کی ہمہ گیر اور پائیدار ترقی کے مقصد سے مختلف اہم منصوبوں اور اقدامات کے تحت مجموعی طور پر 39,272 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی منظوری دی ہے یا اس کا اعلان کیا ہے۔ اس سرمایہ کاری سے پیداوار کے نظام کو مضبوط بنانے، بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے، ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والے کسانوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے، منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے اور عالمی مسابقتی صلاحیت کو فروغ دینے میں مدد ملی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، قدر افزا سلسلے کو مضبوط بنانے، کولڈ چین اور ذخیرہ کرنے کی سہولتوں میں بہتری لانے اور ماہی گیری سے وابستہ افراد کے لیے روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ یوں ایک ایسے مضبوط، پائیدار، جدید اور عالمی سطح پر مسابقت رکھنے والے ماہی گیری کے شعبے کی بنیاد رکھی گئی ہے جو نہ صرف موجودہ ضروریات کو پورا کرنے بلکہ مستقبل کے چیلنجوں کا مؤثر مقابلہ کرنے اور ملک کی آبی معیشت کو مزید مستحکم بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس شعبے کی غیر معمولی ترقی ان اقدامات کے اثرات کی واضح عکاسی کرتی ہے۔ سالانہ مچھلی کی پیداوار دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔جو 14-2013 میں 95.79 لاکھ ٹن تھی، بڑھ کر 25-2024 میں ریکارڈ 198 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی۔ اس ترقی میں اندرونِ ملک ماہی گیری اور آبی زراعت کی تیز رفتار توسیع کا نمایاں کردار رہا ہے، جن کی پیداوار اسی عرصے میں147 فیصد بڑھ کر 61.36 لاکھ ٹن سے 151.60 لاکھ ٹن ہو گئی۔ ہندوستان کی سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات میں بھی اسی طرح نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کی مالیت14-2013 میں30,213 کروڑ روپے سے دوگنی سے بھی زیادہ بڑھ کر 26-2025 میں ریکارڈ 73,890 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ عالمی تجارتی ماحول میں بڑھتی ہوئی پیچیدگی اور محصولات سے متعلق نئے چیلنجوں کے باوجود برآمدات میں یہ مسلسل اضافہ ہندوستانی سمندری غذائی مصنوعات کی مضبوطی، مسابقتی صلاحیت اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قبولیت کا مظہر ہے۔
ٹیکنالوجی کا فروغ اور اس کا استعمال ماہی گیری اور بالخصوص آبی زراعت کے شعبے میں تبدیلی کا ایک بنیادی ستون ثابت ہوا ہے۔ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت جدید پیداواری نظام، مثلاً ری سرکیولیٹری آبی زراعت نظام (آر اے ایس) اور بایو فلوک ٹیکنالوجی کو اپنانے سے مچھلی پالنے کے طریقوں میں ایسی تبدیلی آ رہی ہے جو زیادہ پیداوار، وسائل کے مؤثر استعمال اور تجارتی اعتبار سے زیادہ پُرکشش ہے۔ پنجرہ جاتی پرورش اور دیگر جدید طریقۂ پرورش کے ساتھ یہ جدتیں ایک ایسے زیادہ پیداواری، مضبوط اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ آبی زراعت کے نظام کی تشکیل میں مدد دے رہی ہیں، جو اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر مچھلی اور ماہی گیری سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ری سرکیولیٹری آبی زراعت نظام (آر اے ایس) اور بایو فلوک ٹیکنالوجی آبی زراعت کے جدید ترین طریقوں میں شمار ہوتے ہیں، جن کے ذریعے مچھلیوں کی پرورش قابو میں رکھے گئے ماحول میں کی جا سکتی ہے۔ آر اے ایس میں پانی کو صاف کرنے اور دوبارہ گردش میں لانے کے نظام کے ذریعے مچھلیوں کی نشوونما کے لیے موزوں حالات برقرار رکھے جاتے ہیں، جبکہ بایو فلوک ٹیکنالوجی پانی کے معیار کو بہتر بنانے اور مچھلیوں کی افزائش میں مدد دینے کے لیے مفید خرد نامیوں سے استفادہ کرتی ہے۔ یہ دونوں ٹیکنالوجیاں آبی زراعت کے دائرۂ کار کو وسعت دے رہی ہیں، کیونکہ ان کی مدد سے مختلف زرعی و آب و ہوائی حالات اور ایسے مقامات پر بھی مچھلی پالنا ممکن ہو رہا ہے جہاں روایتی آبی زراعت قابلِ عمل نہیں ہوتی۔ آر اے ایس میں 90 سے 95 فیصد تک پانی دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جا سکتا ہے، جس سے وسائل کے مؤثر استعمال کے ساتھ مچھلی کی پیداوار ممکن ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مچھلی پروری کے مراکز شہری صارفین کے مراکز اور برآمدی مراکز کے قریب قائم کیے جا سکتے ہیں، جس سے ایک زیادہ گردشی اور پائیدار آبی زراعتی معیشت کے فروغ میں مدد ملتی ہے۔
پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت 9,467 ری سرکیولیٹری آبی زراعت نظام (آر اے ایس) اور 4,573 بایو فلوک یونٹس کی منظوری دی گئی ہے۔ اس سے سال بھر مچھلی پالنے کی سہولت میسر آ رہی ہے اور مچھلی کی ایسی زیادہ پیداوار اور تجارتی اعتبار سے قابلِ عمل طریقوں کی جانب منتقلی کی راہ ہموار ہو رہی ہے، جو آبی زراعت کو روایتی علاقوں سے آگے وسعت دے رہے ہیں۔جدید ٹیکنالوجی کے اس فروغ کے لیے پی ایم ایم ایس وائی کے تحت 4,120 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ یہ سرمایہ کاری ماہی گیری کے پیداواری نظام کو جدید بنانے اور آبی زراعت کے جدید طریقوں کو تیزی سے اپنانے کے لیے حکومت کی ترجیحات اور عزم کی عکاس ہے۔
ملکی پیداوار کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ آر اے ایس اور بایو فلوک ٹیکنالوجی اعلیٰ قدر کی حامل سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات کے میدان میں ہندوستان کے عزائم کو بھی تقویت دے رہی ہیں۔ قابو میں رکھے گئے ماحول میں مچھلی کی پرورش ممکن بنانے کی بدولت یہ نظام معیار میں یکسانیت، پیداوار کے ماخذ کی مکمل سراغ رسانی اور حیاتیاتی تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد دیتے ہیں اور عالمی سمندری غذائی منڈیوں میں ان خصوصیات کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔جیسے جیسےیہ شعبہ قدر میں اضافے اور برآمدات پر مرکوز پیداوار کی جانب بڑھ رہا ہے، ٹیکنالوجی پر مبنی آبی زراعت کے ایسے نظام ہندوستانی سمندری غذائی مصنوعات کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے اور بین الاقوامی منڈیوں میں ملک کی پوزیشن مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
آر اے ایس اور بایو فلوک ٹیکنالوجی کی ہمہ جہت افادیت ملک بھر میں آبی زراعت کے خصوصی شعبوں کو وسعت دینے میں بھی مدد دے رہی ہے۔ جموں و کشمیر، لداخ، اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش کے سرد آبی ماہی گیری کے مراکز میں ان نظاموں کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جہاں ٹراؤٹ جیسی اعلیٰ قدر کی حامل مچھلیوں کی پرورش کی جا رہی ہے۔ اسی کے ساتھ، نمکین اور نیم نمکین پانی میں آبی زراعت کے نظاموں کے ذریعے برآمدات پر مبنی جھینگے کی پیداوار میں بھی ان ٹیکنالوجیز سے مدد مل رہی ہے۔ آرائشی مچھلیوں کی پرورش کے مراکز میں بھی ان ٹیکنالوجیز کے استعمال سے مخصوص منڈیوں کو مزید تقویت مل رہی ہے اور کاروباری افراد کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ ٹیکنالوجیز آبی زراعت کے دائرۂ کار کو وسیع کرنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ قدر کی حامل ماہی گیری میں ترقی کے نئے امکانات پیدا کر رہی ہیں۔
ہندوستان کے ماہی گیری کے شعبے کا آئندہ سفر ٹیکنالوجی، جدت اور پائیداری کے مسلسل انضمام سے متعین ہوگا۔ ملک ایک مضبوط، پائیدار اور عالمی سطح پر مسابقت رکھنے والی نیلی معیشت کی تعمیر کی جانب بڑھ رہا ہے، ایسے میں آر اے ایس اور بایو فلوک نظاموں کو ڈیجیٹل نگرانی کے نظام، مصنوعی ذہانت، ڈرون کے ذریعے فراہم کی جانے والی خدمات اور قابلِ تجدید توانائی کے حل سے ہم آہنگ کرنے سے عملی کارکردگی میں اضافہ اور پیداواری لاگت میں کمی لانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اسی طرح آبی زراعت کو جھینگے، ٹراؤٹ، سی باس، تلپیا، مرل اور پینگاسیئس جیسی اعلیٰ قدر کی حامل انواع کی جانب متنوع بنانا بھی نہایت اہم ہوگا۔ اس سے پیداوار کی بہتر قدر حاصل کرنے اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی میں بہتری آئے گی۔ مسلسل ہنرمندی کے فروغ، صنعتی شراکت داری اور مضبوط پالیسی نظام کی حمایت حاصل ہونے کی صورت میں ٹیکنالوجی پر مبنی یہ پیداواری نظام غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے، دیہی روزگار کے مواقع پیدا کرنے، سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے اور ’وکست بھارت‘ کے تحت ایک پائیدار اور خوش حال نیلی معیشت کے وژن کو آگے بڑھانے میں انقلابی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
********
) ش ح ۔ م ح۔ش ت)
U.No. 3115
(ریلیز آئی ڈی: 2307507)
وزیٹر کاؤنٹر : 10