سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
لکژمبرگ کے وزیرِ معیشت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں، توانائی اور سیاحت جناب لیکس ڈیلز نے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کی اور بالخصوص خلائی شعبے میں باہمی تعاون کے ٹھوس امکانات تلاش کرنے کی تجویز پیش کی
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان اور لکژمبرگ کے مضبوط باہمی تعلقات تعاون کے نئے شعبوں میں توسیع کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے 2020 میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور لکژمبرگ کے وزیر اعظم کے درمیان ہوئی آن لائن ملاقات کا بھی ذکر کیا
ہندوستان اور لکژمبرگ نے مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، حیاتیاتی علوم اور تجارتی خلائی شعبے میں تعاون کے نئے امکانات تلاش کیے
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہندوستان اور لکژمبرگ کے اداروں، تحقیقی شعبوں اور صنعت کے درمیان منظم اور باضابطہ تعاون پر زور دیا
موجودہ خلائی شراکت داری ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہندوستان اور لکژمبرگ کے درمیان وسیع تر تعاون کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 SEP 2026 2:15PM by PIB Delhi
لکژمبرگ حکومت کے وزیرِ معیشت، چھوٹی و درمیانی صنعتوں، توانائی اور سیاحت لیکس ڈیلز، جو ان دنوں بھارت کے دورے پر ہیں، نے آج سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کی وزارت کے آزادانہ چارج کے وزیر مملکت اور خلائی محکمے کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کی۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان بالخصوص خلائی شعبے کے علاوہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی اور حیاتیاتی علوم کے شعبوں میں باہمی تعاون کے ٹھوس امکانات کی نشاندہی کرنے کی تجویز پیش کی۔
مجوزہ طریقۂ کار کے تحت مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، جدید مواد اور حیاتیاتی علوم سمیت دیگر شعبوں میں بھی باہمی تعاون کے امکانات تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جنوری 2027 میں لکژمبرگ کے مجوزہ سرکاری دورۂ ہندوستان سے قبل دونوں جانب سے مخصوص تجاویز اور معلومات تیار کرنے میں بھی اس طریقۂ کار سے مدد مل سکتی ہے۔
دونوں وزرا کے درمیان ہونے والی دوطرفہ ملاقات میں خلائی شعبے میں ہندوستان اور لکژمبرگ کے درمیان موجودہ تعاون کی صورتِ حال، اس شعبے میں مستقبل کی پیش رفت، ادارہ جاتی اور تجارتی تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات اور مجوزہ سرکاری دورے کی تیاریوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
لکژمبرگ کے وفد میں وزیر کے دفتر، اقتصادی پالیسی، صنعت، نئی ٹیکنالوجی اور تحقیق کے شعبوں کے علاوہ لکژمبرگ خلائی ایجنسی کے اعلیٰ حکام شامل تھے۔ بھارتی وفد میں محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی، خلائی محکمہ اور وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام شامل تھے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان اور لکژمبرگ کے درمیان خوش گوار تعلقات اور مضبوط بنیاد باہمی تعاون کو نئے اور مزید وسیع شعبوں تک لے جانے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے 2020 میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور لکژمبرگ کے وزیر اعظم کے درمیان ہونے والی آن لائن ملاقات کا بھی حوالہ دیا۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے دونوں ممالک کے درمیان سائنس وٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبوں میں موجود وسیع مشترکہ بنیاد کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ باہمی فائدے کے وسیع امکانات رکھنے والے ابھرتے ہوئے شعبوں میں دونوں ممالک کی صلاحیتوں اور قوت کو یکجا کیا جا سکتا ہے۔
وزیر نے کہا کہ خلائی شعبہ دونوں ممالک کے باہمی تعاون کا ایک اہم ستون ہے۔ہندوستان اور لکژمبرگ کے درمیان فروری 2022 میں پرامن مقاصد کے لیے بیرونی خلا کی تلاش اور استعمال میں تعاون سے متعلق مفاہمت کی ایک یادداشت پر پہلے ہی دستخط ہو چکے ہیں۔ اس شراکت داری نے تجارتی جہت بھی اختیار کی ہے، جس میں مواصلاتی مصنوعی سیاروں کے ٹرانسپونڈر کرائے پر دینے کے علاوہ تجارتی بنیادوں پر پی ایس ایل وی کے ذریعے لکژمبرگ کے دو مصنوعی سیاروں کو خلا میں بھیجنا شامل ہے۔ ہندوستان میں خلائی سرگرمیوں کو فروغ دینے والے ادارے اور لکژمبرگ خلائی ایجنسی بھی دونوں ممالک کے خلائی شعبوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ روابط اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہندوستان کے خلائی پروگرام کے وسیع تر لائحۂ عمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قریبی مدت میں رہنمائی اور مواصلاتی مصنوعی سیاروں کی اہمیت برقرار رہے گی، جبکہ طویل مدتی ہدف کے تحت ہندوستان2035 تک اپنا خلائی اسٹیشن قائم کرنے اور 2040 تک چاند پر انسان اتارنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے خلائی پروگرام میں نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شرکت سے بین الاقوامی اور تجارتی شراکت داری کے نئے امکانات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
دونوں فریقوں نے ہندوستان کے تیزی سے وسعت پذیر نجی خلائی شعبے میں لکژمبرگ کی خلائی صنعت کی مزید فعال شرکت کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔ بھارتی فریق کی جانب سے باہمی تعاون کے لیے جن ممکنہ شعبوں کی نشاندہی کی گئی، ان میں زمین کے مشاہدے سے حاصل ہونے والی تصاویر، مواصلاتی ٹرانسپونڈر، تجارتی مصنوعی سیاروں اور ان کے ذیلی نظام کی تیاری، خلائی راکٹوں کی خدمات، زمینی مراکز اور خلائی مشنوں کے لیے معاونت شامل ہیں۔ لکژمبرگ میں قائم ایس ای ایس سمیت متعدد کمپنیاں پہلے ہی مصنوعی سیاروں کی گنجائش، صارف ٹرمینلز اور مصنوعی سیاروں و زمینی ذیلی نظام سے متعلق امکانات کے سلسلے میں ہندوستانی اداروں اورہندوستان میں خلائی سرگرمیوں کو منظم کرنے والے ادارے کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔
مصنوعی ذہانت اور اعلیٰ کارکردگی کی حامل کمپیوٹنگ بھی باہمی تعاون کے ایک اہم ممکنہ شعبے کے طور پر سامنے آئی۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کمپیوٹنگ کی صلاحیت میں توسیع، مزید جی پی یو حاصل کرنے اور ملک کی لسانی تنوع کے مطابق مقامی سطح پر بڑے لسانی نمونے تیار کرنے کے لیے ہندوستان کی کوششوں کا ذکر کیا۔ لکژمبرگ کی جانب سے مصنوعی ذہانت پر مرکوز اعلیٰ کارکردگی کی حامل ایک نئی کمپیوٹنگ سہولت قائم کرنے کے منصوبے سے آگاہ کیا گیا اور نجی شعبے کے ساتھ مزید وسیع روابط کو فروغ دینے میں دلچسپی ظاہر کی گئی۔ دونوں فریقوں نے اس شعبے میں ہندوستان اور لکژمبرگ کی کمپنیوں اور اداروں کو باہم جوڑنے کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
کوانٹم ٹیکنالوجی کو بھی باہمی تعاون کے وسیع امکانات رکھنے والے ایک اہم شعبے کے طور پر زیرِ بحث لایا گیا۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہندوستان کے قومی کوانٹم مشن اور کوانٹم مواصلات، کوانٹم کمپیوٹنگ، کوانٹم پیمائش اور متعلقہ شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کوانٹم ٹیکنالوجی صحت، سلامتی اور خلائی شعبے سمیت مختلف شعبوں میں استعمال کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خلائی شعبے کے ساتھ نوری مواصلات کو مربوط کرنا ہندوستان اور لکژمبرگ کے درمیان تعاون کے لیے ایک نہایت امید افزا شعبہ ثابت ہو سکتا ہے۔
حیاتیاتی علوم اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہندوستان کی بایو ای تھری پالیسی اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی کی مدد سے اقتصادی اور سائنسی ترقی پر ملک کی توجہ کا ذکر کیا۔ انہوں نے لکژمبرگ کے اداروں، بالخصوص لکژمبرگ انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اور لکژمبرگ سینٹر فار سسٹمز بایومیڈیسن کے ساتھ تعاون کے امکانات کا حوالہ دیا، خاص طور پر مشترکہ دلچسپی کے شعبوں، جن میں اعصابی تنزلی کی بیماریاں اور الزائمر کی بیماری شامل ہیں۔
وزیر نے ویکسین کی تیاری اور طبی تحقیق کے لیےہندوستان میں سرکاری و نجی شعبے کے بڑھتے ہوئے اشتراک اور حال ہی میں جوہری طب سے متعلق تحقیق کے شعبے کو نجی شعبے کے لیے کھولے جانے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت سے بین الاقوامی اداروں اور صنعت کے لیے صحت سے متعلق عالمی اہمیت کے حامل شعبوں میں شرکت کے مزید مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
وزیر لیکس ڈیلز نے خلائی شعبے، مصنوعی سیاروں کے مواصلاتی نظام، مصنوعی ذہانت، سائبر سلامتی اور اعلیٰ کارکردگی کی حامل کمپیوٹنگ کے میدان میں لکژمبرگ کی ہندوستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی شراکت داری کا ذکر کیا۔ انہوں نے ہندوستان میں اپنی سرگرمیوں کو مزید وسیع اور موثر بنانے کے لیے لکژمبرگ کی کمپنیوں کے سامنے موجود امکانات پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے دونوں ممالک کے سرکاری اداروں اور نجی شعبے کے درمیان باہمی روابط اور تعاون کو مزید فروغ دینے اور موثر انداز میں عملی جامہ پہنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
اس ملاقات میں جنوری2027 میں لکژمبرگ سے ہندوستان کے مجوزہ سرکاری دورے پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے باہمی تعاون کو مزید تقویت دینے اور نئی رفتار فراہم کرنے کا ایک اہم موقع قرار دیا گیا۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے تجویز پیش کی کہ سفارتخانہ متعلقہ ہندوستانی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے تاکہ باہمی دلچسپی کے شعبوں کی پہلے ہی نشاندہی کی جا سکے اور دورے کے دوران غور و خوض کے لیے مخصوص تجاویز تیار کی جا سکیں۔
اس ملاقات سے ظاہر ہوا کہ ہندوستان اور لکژمبرگ کے درمیان تعاون پہلے سے قائم خلائی شراکت داری سے آگے بڑھتے ہوئے مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، حیاتیاتی علوم، جدید ٹیکنالوجی اور تجارتی شعبوں تک وسیع ہو رہا ہے۔ دونوں فریق اپنے متعلقہ اداروں، تحقیقی شعبوں اور صنعتوں کو باہم مربوط کرنے کے لیے عملی امکانات تلاش کر رہے ہیں۔
***
ش ح۔م ح۔ش ت
Urdu No-3107
(ریلیز آئی ڈی: 2307454)
وزیٹر کاؤنٹر : 8