کوئلے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مانسون کے اثرات کم ہونے کے ساتھ ہی کول انڈیا کی پیداوار اور سپلائی میں تیزی آنے کے امکانات

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 SEP 2026 4:38PM by PIB Delhi

کوئلہ پیدا کرنے والے علاقوں میں بھاری بارش  کے کم ہونے کے واضح آثار نظر آنے کے ساتھ ہی، کول انڈیا لمیٹڈ( سی آئی ایل) میں کوئلے کی پیداوار اور سپلائی میں تیزی آ رہی ہے اور مستقبل میں اس میں مزید بہتری کا امکان ہے۔ جولائی اور اگست کے دوران، خاص طور پر مشرقی و وسطی حصوں میں مسلسل بارش کے باوجود، سی آئی ایل  نے سپلائی کو مستحکم برقرار رکھا۔ جاری مالی سال کے اپریل تا اگست کے دوران، سی آئی ایل  نے 322.90 ملین ٹن ( ایم ٹی) کوئلے کی سپلائی کی۔ یہ پچھلے سال کی اسی مدت میں  سپلائی کیے گئے 302.60 ملین ٹن کے مقابلے میں  6.70 فیصد زیادہ ہے۔

بارش کم ہونے سے زمینی سطح پر راحت ملنے لگی ہے۔ طویل عرصے تک بارش کے زیرِ اثر رہنے سے چپچپی اور گیلی ہو چکی کوئلے کی تہیں اب سوکھ رہی ہیں، جس سے تازہ کان کنی  کیا گیا کوئلہ آسانی سے بہنے  لگا ہے اور کول ہینڈلنگ پلانٹس ( سی ایچ پی) کے ذریعے اس کی منتقلی، آپریشن اور تقسیم کافی آسان ہو گئی ہے۔ کانوں کی نچلی تہوں میں ڈوبی ہوئی کوئلے کی تہوں کو پمپنگ بڑھا کر دوبارہ پیداوار کے قابل بنایا جا رہا ہے، جبکہ اندرونی نقل و حمل کی سڑکوں کی مرمت کا کام پوری تیزی سے جاری ہے۔

نتیجتاً، سی آئی ایل  کی تمام کانیں مکمل آپریشنل رفتار پر واپس آنے کی تیاریوں کو تیز کر رہی ہیں  اور ان کی پوری توجہ اس بات پر ہے کہ جیسے جیسے زمینی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے، پیداوار اور کوئلے کی نقل و حرکت میں تیزی لائی جائے۔ ستمبر کے پہلے تین دنوں میں، جو کہ بارش سے متاثر تھے، اوسطاً  یومیہ  کوئلے کی پیداوار تقریباً 1.36 میٹرک ٹن رہی، لیکن 04.09.2026 کو، بارش سے صرف ایک دن کی راحت کے باوجود، یہ بڑھ کر تقریباً 1.7 میٹرک ٹن  یومیہ  ہو گئی۔

کوئلے کے ذخائر کی صورتحال اور مستقبل میں پیداوار کی تیاری کا اہم اشاریہ، زیادہ پیداوار میں  در پیش رکاوٹ کو دور کرنے ( او بی آر)   میں بھی تیزی آنے لگی ہے۔ ستمبر کے پہلے تین دنوں میں اوسطاً روزانہ او بی آر   2.5 ملین مکعب میٹر رہا، جو 04.09.2026 کو بڑھ کر 4.1 ملین مکعب میٹر ہو گیا۔ او بی آر میں اس بہتری کے ساتھ ساتھ کانوں کے خشک ہونے سے آنے والے دنوں میں پیداوار اور سپلائی کو مزید رفتار ملنے کی امید ہے۔

مالی سال 2026-27 کے اگست کے مہینے میں سی آئی ایل  نے 60.60 میٹرک ٹن کوئلے کی سپلائی کی، جو گزشتہ سال   اگست کے مقابلے میں  5.50 فیصد زیادہ ہے۔ اگست 2026 میں بجلی کے شعبے  کو کی جانے والی سپلائی بھی اگست 2025 کے مقابلے میں 4.5 فیصد بڑھ  کر 48.46 میٹرک ٹن ہو گئی۔ سی آئی ایل  کے پاس اپنی کانوں میں 76 میٹرک ٹن کوئلے کا ذخیرہ موجود ہے، جبکہ 46 میٹرک ٹن   کان کنی کے لیے تیار کوئلہ بھی موجود   ہے۔ ستمبر کے پہلے تین دنوں میں بجلی کے شعبے کو اوسطاً  یومیہ  سپلائی تقریباً 1.35 میٹرک ٹن تھی، جو 4 ستمبر کو بڑھ کر 1.5 میٹرک ٹن ہو گئی۔ قومی مفاد کے تئیں کوئلہ صنعت کی وابستگی کو مدنظر رکھتے ہوئے، پیداوار اور نقل و حمل میں اضافے کے باعث آنے والے دنوں میں  نکاسی مراکز  تک سپلائی میں نمایاں اضافہ ہونے کا قوی امکان ہے۔

خشک موسم کا آغاز ہونے کے ساتھ ہی، ڈمپ اور بینچ کے استحکام سے متعلق جیو ٹیکنیکل خدشات – اور بارش کے دوران بڑھنے والے حفاظتی خطرات – کافی حد تک کم ہو گئے ہیں، جس  سے ورک فورس  بغیر کسی رکاوٹ کے گراؤنڈ زیرو پر کام کر پا رہی ہے۔ کوئلے کی بلا رکاوٹ سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے، سی آئی ایل  کی ذیلی کمپنیوں نے مانگ کے اس کم وقت کا استعمال اپنے سی ایچ پی-سائلو نظام کو بہتر بنانے کے لیے کیا ہے  اور خشک موسم کے آنے کے ساتھ ہی  لوڈنگ پوائنٹ  اور یارڈ پر ریلوے پٹریوں  کو صاف کیا جا رہا ہے۔ این سی ایل اور ایس ای سی ایل  جیسی کمپنیوں نے بھی  اضافی کرشنگ صلاحیت   تیار کی ہے جو مستقبل قریب میں کافی مفید ثابت ہوگی۔

مسلسل بارش  کا  دور  اب کافی حد تک ختم ہو چکا ہے  اور مستقبل میں ہونے والی کسی بھی رک رک کر بارش سے کان کنی کے کاموں پر کوئی خاص اثر پڑنے کی  امید نہیں ہے۔

سپلائی بڑھانے کے متبادل ذرائع

کول انڈیا لمیٹڈ کی ذیلی کمپنیوں کے مختلف ذرائع میں کوئلے کے وافر ذخائر کی دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے اور بجلی کے شعبے  کو کوئلے کی سپلائی بڑھانے کے مقصد سے، سی آئی ایل نے کول   انڈیا لمیٹڈ اور اس کی ذیلی کمپنیوں کے ساتھ ایندھن کی سپلائی کے معاہدوں ( ایف ایس اے ) والے بجلی پلانٹوں کو لاگو سالانہ معاہدہ جاتی مقداروں سے   زیادہ مقدار میں کوئلہ  کو موجودہ ریل روٹ  کے علاوہ سڑک کے راستے سے ،   ان کے متعلقہ ایندھن کی سپلائی کے معاہدوں کے نافذ العمل قوانین کے مطابق، اٹھانے کی پیشکش کی ہے۔

خشک موسم کے آغاز کے ساتھ ہی، آنے والے دنوں میں مال برداری   میں مزید تیزی آنے کی امید ہے۔ اس رجحان کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

*****

(ش ح- ن  ا)

U.N:3059


(ریلیز آئی ڈی: 2307022) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil