PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

جل سنچے جَن بھاگیداری:مقامی اقدامات سے آبی تحفظ کی جانب

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 03 SEP 2026 3:22PM by PIB Delhi

سیکڑوں برسوں سے ہندوستان بھر میں مختلف برادریاں مقامی ضروریات کے مطابق پانی جمع کرنے، ذخیرہ کرنے اور اسے باہم تقسیم کرنے کے طریقے وضع کرتی رہی ہیں۔ باولیاں، تالاب، جوہڑ اور روایتی آب پاشی کے نظام اس سادہ فہم کی عکاسی کرتے ہیں کہ آبی تحفظ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

بڑھتی ہوئی آبادی، زرعی سرگرمیوں میں توسیع اور تیز رفتار شہری کاری نے پانی کے انتظام کو پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب نئی ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور ادارہ جاتی نظام کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ تاہم، پائیدار آبی انتظام کے لیے عوامی شراکت داری آج بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

اجتماعی اقدامات کی اسی روایت کو جل سنچے جَن بھاگیداری (جے ایس جے بی) کے ذریعے ایک نئی شکل ملی۔ 6 ستمبر 2024 کو شروع کی گئی اس پہل میں عوامی شراکت داری اور ذمہ داری کو آبی تحفظ کی کوششوں کا بنیادی حصہ بنایا گیا ہے۔ اس پہل کے تحت کم لاگت والے زیرِ زمین پانی کی سطح اوپر  لانے اور پانی ذخیرہ کرنے کے ڈھانچے تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ غیر فعال ٹیوب ویلوں کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے پر توجہ دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت اور معاشرے کی مجموعی شراکت داری کے نقطۂ نظر کے تحت سائنسی بنیادوں پر تیار کردہ اور مقامی ضروریات کے مطابق موزوں حل کو فروغ دیا جاتا ہے۔جے ایس جے بی کی رہنمائی تین ‘سی’یعنی کمیونٹی، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) اور کوسٹ کے اصولوں سے ہوتی ہے۔

اسی نقطۂ نظر کو آگے بڑھاتے ہوئے، مئی 2025 تک جے ایس جے بی 1.0 کے تحت ملک بھر میں 27 لاکھ سے زائد ڈھانچے تعمیر کیے گئے، جن کا مقصد بارش کے پانی کو جمع کرنا اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو دوبارہ بھرنا تھا۔ مزید برآں، جون 2025 میں شروع کیے گئے جے ایس جے بی 2.0 کے تحت مئی 2026 تک زیرِ زمین پانی کی سطح کو دوبارہ اوپر لانے کے لیے 1.5 کروڑ سے زائد ڈھانچے تعمیر کیے جا چکے تھے۔جون 2026 میں جل سنچی جَن بھاگیداری (جے ایس جے بی) پہل کا دائرہ مزید وسیع کیا گیا۔ جے ایس جے بی کو ’جل شکتی ابھیان: کیچ دی رین‘ (جے ایس  جے پی: سی ٹی آر) مہم کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے اسے ‘جل سنچے جَن بھاگیداری: کیچ دی رین’ (جے ایس جے بی: سی ٹی آر) کا نام دیا گیا۔ 3 ستمبر 2026 تک زیرِ زمین پانی کو مصنوعی طریقے سے دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے لیے 1.58 کروڑ سے زائد ڈھانچے تعمیر کیے جا چکے ہیں۔

 

پانی کے تحفظ اور باہمی تعاون پر قومی توجہ

وزارت جل شکتی کے محکمے کی سربراہی کانفرنس یکم اور دو ستمبر 2026 کو نئی دہلی میں منعقد ہوئی۔ یہ محکمانہ سربراہی کانفرنسوں کے سلسلے کی پہلی کڑی تھی، جس کا مقصد تعاون پر مبنی وفاقیت کو مضبوط بنانا اور مرکز و ریاستوں کے درمیان قریبی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ ‘جل سنچی جَن بھاگیداری: کیچ دی رین’ کانفرنس کے چار اہم موضوعاتی ستونوں میں شامل تھا۔ دیگر تین ستونوں میں آبی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے، پینے کے پانی کے نظام کے ذرائع کی پائیداری اور جل جیون مشن 2.0 کے تحت دیہی علاقوں میں پانی کی فراہمی شامل تھے۔

جَن بھاگیداری (عوامی شرکت) پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے عوام میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کرنے کے لیے ’جل اتسو‘ کو فروغ دینے کی تجویز دی۔ وزیر اعظم نے جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پانی کے انتظام اور حکمرانی سے متعلق علم اور صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے عوامی نمائندوں، افسران اور کسانوں پر مشتمل بین الریاستی مطالعاتی دوروں کے منظم انعقاد کی تجویز پیش کی، تاکہ عملی تجربات سے سیکھنے اور کامیاب اقدامات کو دیگر علاقوں میں بھی نافذ کرنے میں مدد مل سکے۔انہوں نے پانی سے متعلق اعداد و شمار کے مضبوط نظامِ انتظام کی ضرورت پر بھی زور دیا، جس کے تحت آبی شعبے کے تمام اعداد و شمار کو یکجا، منظم، تجزیہ شدہ اور مؤثر طریقے سے بروئے کار لایا جائے۔

کانفرنس میں آبی حکمرانی کے اہم پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، جو ’پانی کے تحفظ کے حامل ہندوستان‘ اور ’وکست بھارت 2047‘ کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

 

1

ملک بھر میں ان اصولوں کو مقامی سطح پر عملی اقدامات کی شکل دی جا رہی ہے، جہاں برادریاں اور ادارے مقامی حالات کے مطابق پانی کے تحفظ کے اقدامات کو اپنا رہے ہیں۔

 چھتیس گڑھ: کسانوں نے پانی کے لیے اپنی زمین مختص کی 

چھتیس گڑھ کے کوریا ضلع میں کسانوں نے پانی کے تحفظ کے لیے اپنی زرعی زمین کا ایک حصہ مختص کر دیا ہے۔ ‘آوا پانی جھوکی’ تحریک کے تحت کسانوں نے رضاکارانہ طور پر اپنی زرعی زمین کا 5 فیصد حصہ زیرِ زمین پانی کی سطح کو بلند کرنے والے تالابوں اور سیڑھی نما گڑھوں کی تعمیر کے لیے وقف کیا۔ یہ ماڈل ظاہر کرتا ہے کہ پائیدار آبی انتظام کے لیے نہ تو بڑے پیمانے پر لوگوں کی نقل مکانی ضروری ہے اور نہ ہی بھاری سرمایہ کاری کی؛ اس کے لیے اجتماعی عزم اور ارادے کی ضرورت ہے۔

اس ماڈل کو 1,260 سے زائد کسانوں نے اپنایا، جبکہ پورے ضلع میں 2,000 سے زائد سوک پٹس بنائے گئے۔ بہت سے دیہات میں زیرِ زمین پانی کی سطح 3 سے 4 میٹر تک اوپر آئی، جبکہ دور دراز قبائلی آبادیوں کے 17 دیہات میں چشموں کو دوبارہ بحال کیا گیا۔ حکومت نے چھوٹے آبی علاقوں کی نقشہ سازی، زیرِ زمین ارضیاتی جائزوں اور تکنیکی رہنمائی کے ذریعے اس کوشش کی معاونت کی۔ اس پہل میں کسانوں کی اپنی شراکت اور ملکیت کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔

Water, Earth, AirAI-generated content may be incorrect.

کوریہ ضلع، چھتیس گڑھ

 آندھرا پردیش:دیہاتوں نے اپنے پانی کی ذمہ داری خود سنبھالی

 

 

آندھرا پردیش کے پرکاشم ضلع کے مروگمّی، مریلا اور تھانگیلا جیسے دیہاتوں کو ایک وقت میں بے قاعدہ بارش، زیرِ زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح اور ٹیوب ویلوں کے ناکارہ ہونے جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ ان چیلنجز نے زراعت اور لوگوں کے روزگار کو متاثر کیا۔

جل سنچی جَن بھاگیداری (جے ایس جے بی) پہل کے تحت ان مسائل سے نمٹنے کی کوشش مقامی سطح سے شروع ہوئی۔ عوام میں بیداری پیدا کرنے کے لیے گرام سبھائیں، گھر گھر مہم، کلا جتھوں (روایتی لوک تھیٹر کی پیشکشوں) اور ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا۔ ان کوششوں کے نتیجے میں کسان، خواتین، نوجوان اور مقامی ادارے ایک ساتھ آئے اور پانی کے بجٹ کی تیاری، فصلوں کی منصوبہ بندی اور زیرِ زمین پانی کی باہمی تقسیم جیسے اقدامات کے لیے مشترکہ منصوبہ بندی کی۔

The image shows a large, colorful tent decorated with vibrant patterns, surrounded by a crowd of people gathered around a series of neatly stacked, red bricks.AI-generated content may be incorrect.

پرکاشم ضلع، آندھرا پردیش

‘پہاڑی ڈھلوان سے وادی تک’ کے طریقۂ کار کو اپناتے ہوئے دیہات نے بارش کے پانی کو جمع کرنے، ذخیرہ کرنے اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے۔ اس طریقۂ کار کے تحت بلند پہاڑی علاقوں سے وادی کی جانب بہنے والے بارش کے پانی کو منظم کیا جاتا ہے، جس سے نشیبی علاقوں میں مٹی اور پانی کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے۔

مروگمّی میں پانی کے تحفظ کے لیے تعمیر کیے گئے 71 ڈھانچوں میں مجموعی طور پر تقریباً 8.11 لاکھ مکعب میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی۔ ان ڈھانچوں سے 264.5 ہیکٹر زرعی اراضی کو حفاظتی آب پاشی کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔

مریلا میں 53 ڈھانچے تعمیر کیے گئے، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 10.04 لاکھ مکعب میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی۔ اس کے علاوہ، کمیونٹی کے تالابوں اور آبی ذخائر کی مرمت و بحالی سے مزید تقریباً 5.95 لاکھ مکعب میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ ہوا۔

تھانگیلا میں 71 ڈھانچے تعمیر کیے گئے، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 5.89 لاکھ مکعب میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ روایتی آبی ذخائر کی بحالی سے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں مزید تقریباً 3.98 لاکھ مکعب میٹر کا اضافہ ہوا۔

مجموعی طور پر ان کوششوں سے تقریباً 5900 افراد کے لیے زیرِ زمین پانی کی دستیابی بہتر ہوئی، جس سے زراعت اور مویشی پروری سے وابستہ روزگار کو تقویت ملی، مٹی میں نمی بحال ہوئی اور روزگار کی تلاش میں لوگوں کی نقل مکانی کو کم کرنے میں مدد ملی۔

The image depicts a series of aerial views showing an abandoned, partially developed land with an open pit, surrounded by natural vegetation and distant rural scenery.AI-generated content may be incorrect.

پرکاشم ضلع، آندھرا پردیش

 اڈیشہ: چھتوں اور تالابوں سے زیرِ زمین آبی ذخائر تک

اڈیشہ میں جل سنچے جَن بھاگیداری (جے ایس جے بی) پہل کے تحت اسکولوں، کالجوں، سرکاری دفاتر اور دیگر اداروں کو ایک ساتھ لایا جا رہا ہے۔ ان اداروں میں بارش کے پانی کو جہاں وہ گرتا ہے وہیں جمع کرکے اسے زیرِ زمین آبی ذخائر میں پہنچانے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ ‘چھاتا اسکیم’ کے ذریعے چھتوں سے بارش کا پانی جمع کیا جاتا ہے، جبکہ ‘آروآ اسکیم’ آبی ذخائر سے پانی کو زیرِ زمین آبی ذخائر تک پہنچانے میں سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہ دونوں اقدامات مل کر عوامی بنیادی ڈھانچے، مقامی آبی ذخائر اور عوامی شراکت داری کو مربوط کرتے ہوئے زیرِ زمین پانی کے تحفظ اور آبی سلامتی کو مضبوط بناتے ہیں۔

جاج پورضلع میں 2022-23 سے 2025-26 کے دوران ‘آروآ اسکیم’ کے تحت 117 ری چارج شافٹ تعمیر کیے گئے، جبکہ ‘چھاتا اسکیم’کے تحت چھتوں سے بارش کا پانی جمع کرنے کے 114 نظام نصب کیے گئے۔ سرکاری اداروں اور تعلیمی مراکز میں کیے گئے یہ اقدامات کورئی، بنجھرپور، باری، رسول پور، دشرتھ پور اور جاج پور سمیت ترجیحی بلاکس میں نافذ کیے گئے۔ اس کوشش سے پانی کی فراہمی میں بہتری اور استحکام آیا، زرعی شعبے کی موسمی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھی اور گھریلو سطح پر، خصوصاً خواتین کے لیے، پانی لانے میں صرف ہونے والے وقت میں کمی آئی۔

یہ طریقۂ کار صرف جاج پور تک محدود نہیں ہے

ضلع کٹک میں‘چھاتا اسکیم’کے تحت سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں اور عوامی سہولت مراکز میں چھتوں سے بارش کا پانی جمع کرنے کے 57 نظام قائم کیے گئے۔ زیرِ زمین آبی ذخائر میں گہرائی تک پانی پہنچانے کے لیے ’آروآ اسکیم‘ کے تحت تالابوں اور دیگر آبی ذخائر میں 35 ری چارج شافٹ تعمیر کیے گئے۔ ان اقدامات کے ساتھ سڑکوں پر نکڑ ناٹک، سیمینار اور ورکشاپس بھی منعقد کی گئیں، جن میں خود امدادی گروپوں، طلبہ اور دیہی بلدیاتی اداروں نے حصہ لیا۔

اسی طرح گنجام ضلع کے دیگاپہنڈی میں2020 سے 2022 کے درمیان زیرِ زمین پانی کی سطح میں 1 سے 3 میٹر کی کمی درج کی گئی۔ سرکاری دفاتر اور اسکولوں میں نصب چھتوں سے بارش کا پانی جمع کرنے کے نظام کے ذریعے بارش کے پانی کو زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے والے بورویلز تک پہنچایا جاتا ہے۔ جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان اقدامات کے مقامات کےاردگرد  مانسون کے بعد زیرِ زمین پانی کی سطح میں پہلے کے مقابلے میں بہتر بحالی ہوئی ہے۔

Digapahandi, Ganjam District, Odisha

دیگاپہنڈی، ضلع گنجام، اڈیشہ

 آبی تحفظ کے لیے ایک بڑھتی ہوئی عوامی تحریک

حکومت کی حکمتِ عملی صرف پانی کے تحفظ کے لیے ڈھانچے تعمیر کرنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد پانی کے حوالے سے ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا بھی ہے۔ جل سنچے جَن بھاگیداری میں جَن بھاگیداری یعنی عوامی شرکت کو آبی انتظام کے مرکز میں رکھا گیا ہے۔ اس کے تحت مقامی حالات کے مطابق موزوں حل تلاش کرنے کے لیے برادریوں، پنچایتوں، اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو ایک ساتھ لایا جا رہا ہے۔

 

اس پہل کی وسیع تر اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ روایتی علم کو سائنسی منصوبہ بندی، مقامی ملکیت کو ادارہ جاتی تعاون اور انفرادی کوششوں کو اجتماعی نتائج سے جوڑتی ہے۔ پانی کی محفوظ کی گئی ہر بوند مضبوط اور قدرتی آفات کا مقابلہ کرنے کے قابل برادریوں کی تشکیل اور ہندوستان کے طویل مدتی آبی تحفظ کو مستحکم کرنے کی ایک بڑی کوشش کا حصہ بنتی ہے۔

 

حوالا جاتا 

Prime Minister’s Office

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2052494&reg=3&lang=2#:~:text=To%20further%20the%20Prime%20Minister's,whole%2Dof%2Dgovernment%20approach&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2306122&reg=48&lang=1

Ministry of Jal Shakti

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2271660&lang=1&reg=48

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2250425&reg=48&lang=2

https://jsjb.mowr.gov.in/

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2235468&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2292604&reg=48&lang=1

PIB Backgrounder

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2286237&reg=22&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?ModuleId=3&NoteId=152136&reg=3&lang=2

پی ڈی ایف دیکھنے کےلیے یہاں کلک کریں

***

ش ح۔ت ف۔اش ق

U. No. 2986


(ریلیز آئی ڈی: 2306454) وزیٹر کاؤنٹر : 3
یہ ریلیز پڑھیں: English , Gujarati