وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

 جی آئی ایف ٹی کاآئی ایف ایس سی مضبوط اور فعال بین الاقوامی بینکاری مرکز کے طور پر ابھرا، آر بی آئی کی ایف سی این آر (بی) سویپ سہولت کے تحت 52.8 ارب ڈالر سے زائد، ای سی بی کے تحت 11.62 ارب ڈالر اور بینکوں کی جانب سے آئی ایف ایس سی ایکسچینج کی شکل میں بانڈز کے ا ندراج کے ذریعے 11.12 ارب ڈالر منتقل کیے گئے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 SEP 2026 9:51PM by PIB Delhi

انٹرنیشنل فائنانشیل سروسیز سینٹر اتھارٹی (آئی ایف ایس سی اے) نے آج ہندوستان میں غیر ملکی کرنسی کی ضروریات اور بیرونی مالیاتی تقاضوں کو پورا کرنے میں جی آئی ایف ٹی سٹی  کےآئی ایف ایس سی کے مضبوط اور بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا۔ آئی ایف ایس سی میں قائم بینکاری یونٹس (آئی بی یو) بین الاقوامی بینکاری کی اہم سرگرمیوں میں بڑے پیمانےپر اور تیزی سے پیش رفت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

 مورخہ31 اگست 2026 تک 20 بینکاری یونٹس نے ریزرو بینک آف انڈیا کی ایف سی این آر (بی) ڈپازٹس کی خصوصی سویپ سہولت کے تحت 54.02 ارب امریکی ڈالر کی منظوری دی ہے، جس میں سے تقریباً 52.82 ارب امریکی ڈالر پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں اس سہولت کے تحت مالیاتی سرگرمیوں میں خاصی تیزی آئی ہے۔ مجموعی منظوری کی رقم 14 اگست کے 28.60 ارب ڈالر سے بڑھ کر 21 اگست کو 37.26 ارب ڈالر اور پھر 31 اگست 2026 تک 54.02 ارب ڈالر ہوگئی۔

وسیع پیمانے پر ملکی اور بین الاقوامی بینکوں کی شرکت جی آئی ایف ٹی-آئی ایف ایس سی کے بینکاری نظام کی گہرائی اور صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس سہولت میں شریک 20 بینکاری یونٹس میں ہندوستان کے سرکردہ بینکوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی بینک بھی شامل ہیں، جن کی انفرادی بینکاری اکائیوں نے اس سہولت کے تحت نمایاں رقوم کی منظوری اور تقسیم کی ہے۔

ایف سی این آر (بی) سویپ  کی سہولت کے تحت بینکاری یونٹس کی کارکردگی اس بات کا اہم مظہر ہے کہ جی آئی ایف ٹی-آئی ایف ایس سی کس طرح بینکاری یونٹس کو عالمی سطح پر دستیاب غیر ملکی کرنسی کی نقدی سے جوڑنے اور بین الاقوامی سرمائے کو مؤثر طریقے سے ہندوستان کی جانب منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ پیش رفت مرکزی وزیرِ خزانہ کی جانب سے سرکاری شعبے کے بینکوں کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو افسران کو دی گئی حالیہ ہدایت کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہیں ایف سی این آر (بی) ڈپازٹس اور ای سی بی کے لیے آر بی آئی کی سویپ سہولت پر مؤثر عمل درآمد کے لیے جی آئی ایف ٹی-آئی ایف ایس سی میں دستیاب مالیاتی خدمات کے ماحولیاتی نظام اور ادارہ جاتی بنیادی ڈھانچے سے بھرپور استفادہ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ وزیرِ خزانہ نے عالمی سطح پر مختلف دائرۂ اختیار سے رقوم منتقل کرنے کے لیے جی آئی ایف ٹی سٹی آئی ایف ایس سی کی مالیاتی خدمات اور ادارہ جاتی بنیادی ڈھانچے کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر بھی زور دیا تھا۔

جی آئی ایف ٹی-آئی ایف ایس سی میں جاری سرگرمیوں میں تیزی صرف ایف سی این آر (بی) سویپ کی سہولت تک محدود نہیں ہے۔ اپریل سے اگست 2026 کے دوران جی آئی ایف ٹی-آئی ایف ایس سی میں قائم بینکاری یونٹس نے ای سی بی کے تحت 11.62 ارب امریکی ڈالر کی رقم جاری کی۔ ماہانہ بنیاد پر ای سی بی کی تقسیم اپریل میں 1.54 ارب ڈالر سے بڑھ کر اگست 2026 میں 3.54 ارب ڈالر ہوگئی، جو سرحد پار مالی معاونت کے پلیٹ فارم کی حیثیت سےجی آئی ایف ٹی-آئی ایف ایس سی کے بڑھتے ہوئے کردار کو ظاہر کرتی ہے۔

اس کے علاوہ، ہندوستانی بینکوں نے اپریل سے اگست 2026 کے دوران آئی ایف ایس سی ایکسچینج میں بانڈ کے اندراج کے ذریعے 11.12 ارب امریکی ڈالر جمع کیے، جن میں سے 9.17 ارب ڈالر مالیت کے بانڈز جولائی اور اگست 2026 کے دوران شامل کیے گئے۔ یہ پیش رفت بھی آئی ایف ایس سی کے اندرموجود مالیاتی اداروں کے لیے بین الاقوامی سرمایہ بازاروں تک رسائی کو آسان بنانے میں جی آئی ایف ٹی-آئی ایف ایس سی کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔

ایف سی این آر (بی) کے تحت رقوم منتقل کرنے، ای سی بی کی فراہمی اور بین الاقوامی بانڈز کے اجرا کے شعبوں کی سرگرمیوں کے بڑھتے ہوئے حجم سے ظاہر ہوتا ہے کہ جی آئی ایف ٹی-آئی ایف ایس سی ایک گہرے، متنوع اور تیزی سے مربوط بین الاقوامی بینکاری ماحولیاتی نظام کے طور پر ابھر رہا ہے۔

اس مضبوط ردعمل سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جی آئی ایف ٹی-آئی ایف ایس سی کا ماحولیاتی نظام بین الاقوامی بازاروں اور بیرونِ ملک سرمایہ کاروں کے ساتھ روابط کو مؤثر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے ہندوستان میں غیر ملکی زرِمبادلہ کی آمد کو مضبوط بنانے کی وسیع تر کوششوں کو تقویت ملتی ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جی آئی ایف ٹی-آئی ایف ایس سی کی بینکاری اکائیوں کو برطانیہ، امریکہ، میکسیکو، مغربی ایشیا، ہانگ کانگ، سنگاپور اور بعض افریقی ممالک سمیت متعدد دائرۂ اختیار سے رقوم منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا جارہاہے۔

آئی ایف ایس سی اے کے چیئرپرسن جناب کے راجارمن نے کہا:

’’جی آئی ایف ٹی-آئی ایف ایس سی کی بینکاری سرگرمیوں میں تیزی سے ہونے والا اضافہ ہندوستان کے جی آئی ایف ٹی سٹی بین الاقوامی مالیاتی خدمات مرکز(آئی ایف ایس سی) کی گہرائی، صلاحیت اور بڑھتی ہوئی بین الاقوامی اہمیت کا مضبوط ثبوت ہے۔ ایف سی این آر (بی) سویپ کی سہولت کے تحت 52 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی رقوم کو منتقل کرنے اور استعمال میں لانے کے ساتھ ساتھ جی آئی ایف ٹی-آئی ایف ایس سی میں بینکاری یونٹس کی جانب سے ای سی بی کے شعبے میں مضبوط سرگرمی اور آئی ایف ایس سی ایکسچینج میں بین الاقوامی بانڈز کے اندراج سے ظاہر ہوتا ہے کہ جی آئی ایف ٹی-آئی ایف ایس سی عالمی سطح پر دستیاب سرمائے اور ہندوستان کی مالیاتی ضروریات کے درمیان مؤثر پل کا کردار تیزی سے ادا کر رہا ہے۔

آئی ایف ایس سی اے جی آئی ایف ٹی-آئی ایف ایس سی میں مسابقتی، مؤثر ضابطہ کاری کے حامل اور عالمی سطح پر مربوط مالیاتی ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ بینکوں کی مضبوط شرکت اور آئی ایف ایس سی کے ذریعے انجام دی جانے والی کاروباری سرگرمیوں کا وسیع پیمانہ بین الاقوامی بینکاری اور سرحد پار مالیاتی خدمات کے اہم پلیٹ فارم کے طور پر اس کی حیثیت کو مزید مستحکم کرتا ہے۔‘‘

آئی ایف ایس سی اے ہندوستان کے اندر بین الاقوامی مالیاتی خدمات مراکز(آئی ایف ایس سی) میں مالیاتی مصنوعات، مالیاتی خدمات اور مالیاتی اداروں کی ترقی اور ضابطہ کاری کے لیے حکومتِ ہند کی جانب سے پارلیمنٹ کے ایکٹ، آئی ایف ایس سی اے ایکٹ 2019 کے تحت قائم کردہ واحد اور متحدہ ضابطہ کار اتھارٹی ہے۔ جی آئی ایف ٹی-آئی ایف ایس سی حکومتِ ہند کا اہم تزویراتی منصوبہ ہے، جسے ہندوستان کو عالمی منڈیوں سے اور عالمی سرمایہ کاروں کو ہندوستان میں موجود مواقع سے جوڑنے والے نمایاں بین الاقوامی مالیاتی مرکز کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔جی آئی ایف ٹی آئی ایف ایس سی عزت مآب وزیرِ اعظم کے تصور کردہ وِکسِت بھارت 2047 کے ایجنڈے کی حمایت کرنے والے تزویراتی اقدامات پر سرگرم عمل ہے۔

*****

 

ش  ح۔م ش ع - ف ر

U-no-2987                                                                                                                        


(ریلیز آئی ڈی: 2306376) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Punjabi