شہری ہوابازی کی وزارت
شہری ہوا بازی کے مرکزی وزیر رام موہن نائیڈو نے طیاروں کی لیزنگ اور مالی معاونت سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی کی صدارت کی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 SEP 2026 8:56PM by PIB Delhi
طیاروں کی لیزنگ اور مالی معاونت سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی کا پہلا اجلاس شہری ہوا بازی کے مرکزی وزیر جناب رام موہن نائیڈو کی صدارت میں منعقد ہوا۔ کمیٹی نے ملک کے ہوا بازی کے شعبے میں تیزی سے ہونے والی توسیع کے پیش نظرہندوستان میں طیاروں کی لیزنگ اور مالی معاونت کے ایک مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی نظام کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات پر غور و خوض کیا۔

اجلاس میں شہری ہوا بازی کی وزارت کے سکریٹری جناب سمیر کمار سنہا، شہری ہوا بازی کی وزارت کے ایڈیشنل سکریٹری جناب پُنیت کنسل، شہری ہوا بازی کی وزارت کے سینئر افسران، وزارتِ خزانہ، محکمۂ تجارت، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن(ڈی جی سی اے)، ریزرو بینک آف انڈیا(آر بی آئی)، بین الاقوامی مالیاتی خدمات مراکز اتھارٹی(آئی ایف ایس سی اے)کے افسران اور صنعتی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

بحث کا آغاز کرتے ہوئے شہری ہوا بازی کے مرکزی وزیر جناب رام موہن نائیڈو نے کہا، ’’گزشتہ سال ہم نے گفٹ سٹی میں طیاروں کی لیزنگ سے متعلق پہلی سربراہی کانفرنس منعقد کی تھی۔ متعلقہ فریقوں کی جانب سے سامنے آنے والی اہم تجاویز میں سے ایک کیپ ٹاؤن کنونشن کی توثیق کرنا تھا۔ جس پر ہم نے طیاروں سے متعلق اشیا میں مفادات کے تحفظ کا قانون نافذ کرکے عمل کیا۔ اس سال منعقد ہونے والی دوسری طیارہ لیزنگ سربراہی کانفرنس میں صنعت کی جانب سے مجھے ملنے والی تجاویز میں سے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل بھی تھی۔ مجھے خوشی ہے کہ آج ہم اس کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔‘‘

مرکزی وزیر نے کہا کہ طیاروں کی لیزنگ ایک مستحکم اور تجارتی اعتبار سے قابلِ عمل کاروبار ہے، جبکہ اس شعبے سے وابستہ خطرات سے مناسب قانونی اور ضابطہ جاتی اقدامات کے ذریعے بتدریج نمٹا جا رہا ہے۔ انہوں نے طیاروں کے شعبے کے لیے بینک قرضوں کی زیادہ سے زیادہ فراہمی کے امکانات تلاش کرنے اور طیاروں کی لیزنگ کے شعبے میں تکنیکی و ہنرمندی کی ترقی کے لیے مشترکہ منصوبوں کی نشاندہی کرنے کی بھی تجویز پیش کی۔
حکومت کی جانب سے طیاروں کی لیزنگ کی حوصلہ افزائی اور لیز فراہم کرنے والے اداروں کے اعتماد میں اضافے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ اب تک بین الاقوامی مالیاتی خدمات مراکز کے ذریعے422 اثاثوں کی لیزنگ کی جا چکی ہے۔ جن میں 250 طیارے اور 87 انجن شامل ہیں، جبکہ لیزنگ کے 474 معاہدوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں۔
کمیٹی نے طیاروں کی لیزنگ اور مالی معاونت کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے سے متعلق متعدد امور پر بھی غور کیا۔ جن میں ٹیکس نظام، ضابطہ جاتی فریم ورک، مالی وسائل کی دستیابی اور کاروبار کرنے میں آسانی شامل ہیں۔ اجلاس میں طیاروں کے لیے ہندوستانی روپے میں مالی معاونت کے امکانات، عمومی انسدادِ ٹیکس اجتناب ضوابط (جی اے اے آر) کے اطلاق سے متعلق مزید وضاحت اور آئرلینڈ کے ساتھ دوہرے ٹیکس سے بچاؤ کے معاہدے کے فریم ورک پر ازسرنو مذاکرات کے امکان پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس بات چیت کا اختتام کرتے ہوئے جناب رام موہن نائیڈو نے ضابطہ جاتی، مالی اور ٹیکس سے متعلق شناخت کیے گئے مسائل کے حل کے لیے مربوط اور مقررہ مدت کے اندر اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ کمیٹی نے اتفاق کیا کہ مجوزہ اقدامات کا متعلقہ وزارتوں، محکموں اور فریقوں سے مشاورت کے بعد جائزہ لیا جائے، تاکہ ہندوستان میں طیاروں کی لیزنگ اور مالی معاونت کے لیے ایک قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک تیار کیا جا سکے۔
ان اصلاحات میں ہندوستان کے ہوا بازی کے منظرنامے کو بنیادی طور پر تبدیل کرنے کی صلاحیت ہے، کیونکہ ان کے ذریعے طیاروں کی خریداری اور مالی معاونت کو آسان، تیز تر اور زیادہ مسابقتی بنایا جا سکے گا۔ ایک قابلِ پیش گوئی اور عالمی معیارات سے ہم آہنگ لیزنگ نظام ایئرلائنز اور سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار کرنے میں آسانی کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا، جبکہ طیاروں کی زیادہ دستیابی بالآخر مسافروں کے لیے بہتر فضائی رابطے، زیادہ اختیارات اور سفر میں مزید سہولت کا باعث بنے گی۔ اس سے بھارت کے ایک بڑے عالمی ہوا بازی مرکز کے طور پر ابھرنے کے عمل کو مزید تقویت ملے گی۔
****
ش ح۔م ح ۔رض
U-2969
(ریلیز آئی ڈی: 2306223)
وزیٹر کاؤنٹر : 8