لوک سبھا سکریٹریٹ
ایوا ن زیریں-لوک سبھا اسپیکر نے میانمار میں امن، استحکام اور قومی مفاہمت کے لیے ہندوستان کی حمایت کا اعادہ کیا
ایوان زیریں کے اسپیکر نے میانمار کے پارلیمانی وفد کا خیرمقدم کیا،پارلیمانی اداروں کو مضبوط بنانے کے لئے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 SEP 2026 10:19PM by PIB Delhi
ایوان زیریں-لوک سبھا کے اسپیکر جناب اوم برلا نے آج اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان، میانمار کا ایک قریبی اور دوست ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان گہرے روابط کے پیش نظر، میانمار میں امن اور استحکام کا مخلصانہ خواہاں ہے۔ جناب برلا نے میانمار کی جانب سے امن اور قومی مفاہمت کی سمت میں کی جانے والی پیش رفت کا بھی خیرمقدم کیا اور اس سفر میں ایک مضبوط اور قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر ہندوستان کی جانب سے مسلسل تعاون کا یقین دلایا۔انہوں نے یہ بات میانمار کے ایک پارلیمانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہی، جس کی قیادت ڈاکٹر پونت سان، چیئرپرسن، بین الاقوامی تعلقات کمیٹی، پارلیمنٹ آف میانمار، کر رہے ہیں۔ یہ وفد پارلیمانی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسیز(پی آر آئی ڈی ای-پرائیڈ) کے زیراہتمام منعقد کیے جانے والے استعداد سازی کے پروگرام میں شرکت کے لیے ہندوستان کا دورہ کر رہا ہے۔
وفد سے بات چیت کے دوران جناب برلا نے زور دیا کہ ہندوستان اور میانمار کے درمیان گہرے، دیرینہ اور پائیدار تعلقات قائم ہیں، جنہیں قدیم تہذیبی روابط اور مشترکہ بدھ مت ورثے نے مزید مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے تین اہم فریم ورک-ایکٹ ایسٹ پالیسی، نیبرہُڈ فرسٹ اور انڈو پیسفک-میں میانمار کو ایک اہم مقام حاصل ہے۔ایوان زیریں-لوک سبھا کے اسپیکر نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات وسیع البنیاد اور اسٹریٹجک نوعیت کے ہیں، جن میں سیاست، سلامتی، دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، رابطہ کاری، ترقی اور انسانی بنیادوں پر امداد سمیت مختلف شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ ہندوستان نے ہمیشہ ضرورت کے وقت میانمار کا ساتھ دیا ہے اور جب بھی ضرورت پیش آئی، امداد فراہم کرنے والے اولین ممالک میں شامل رہا ہے۔
جناب برلا نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے درمیان باقاعدہ اعلیٰ سطحی روابط، خصوصاً دونوں ملکوں کے سربراہان کی ملاقاتوں نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ ہندوستان پارلیمانی اداروں کے کام کاج، قواعد و ضوابط اور طریق کار کے ساتھ ساتھ جمہوری روایات کے حوالہ سے اپنے تجربات میانمار کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے، تاکہ میانمار مضبوط، جامع اور شمولیتی جمہوری اداروں کے قیام کی جانب پیش رفت کر سکے۔
جناب برلا نے کہا کہ 1950 میں آئین کے نفاذ اور 1952 میں پہلی ایوان زیریں-لوک سبھا کی تشکیل کے بعد سے ہندوستان کی پارلیمنٹ ملک کی متحرک جمہوریت کا مرکز رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ہندوستان کے جمہوری ادارے مسلسل ارتقا پذیر رہے ہیں، اور جون 2024 میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کے بعد 18ویں ایوان زیریں- لوک سبھا کی تشکیل کے ساتھ ملک کے جمہوری سفر میں ایک اور اہم باب کا اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے انتخابی عمل کو جدید بنانے کے حوالے سے ہندوستان کے تجربے کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2004 کے لوک سبھا انتخابات سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایمس)کا استعمال شروع کیا گیا، جس کے بعد انتخابی عمل میں شفافیت اور ووٹروں کے ووٹ کی تصدیق کو مزید بہتر بنانے کے لیے ووٹر ویریفائی ایبل پیپر آڈٹ ٹریل (وی وی پی اے ٹی ) نظام متعارف کرایا گیا۔
میانمار میں حالیہ انتخابی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے جناب برلا نے بتایا کہ ملک میں قومی پارلیمنٹ اور ریاستی/علاقائی قانون ساز اداروں کے لیے عام انتخابات دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کے درمیان تین مرحلوں میں منعقد کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات خاص طور پر اہم تھے، کیونکہ ان میں پہلی مرتبہ متناسب نمائندگی (پی آر) کے نظام اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے ان تبدیلیوں کو میانمار کے انتخابی عمل میں ایک اہم سنگ میل اور جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر جناب برلا نے امید ظاہر کی کہ یہ پروگرام وفد کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا اور پارلیمانی طریق کار اور جمہوری اداروں کے بارے میں ان کی سمجھ بوجھ کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورہ بامعنی تبادلۂ خیال کا ایک اہم موقع فراہم کرے گا اور ہندوستان اور میانمار کے درمیان پارلیمانی تعاون کو مزید گہرا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
***
ش ح – ظ الف – ع د
UR No. 2964
(ریلیز آئی ڈی: 2306206)
وزیٹر کاؤنٹر : 10