سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

توانائی کا تحفظ قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک خودمختاری اور مضبوط معیشت کی بنیادی ضرورت ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ


مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے توانائی کے شعبے کو زیادہ سے زیادہ خودکفیل، مقامی، سستا اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس بنانے پر زور دیا

جغرافیائی سیاسی غیر یقینی اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے درمیان بھارت کو محفوظ اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی جانب بڑھنا ہوگا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

بھارت کی توانائی اور ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں نجی شعبے کو مزید اہم کردار ادا کرنا ہوگا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

اگلے صنعتی انقلاب میں سرکلر اکانومی اور ماحول کیلئےساز گار توانائی اہم محرک ثابت ہوں گے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 SEP 2026 4:03PM by PIB Delhi

’’ توانائی کا تحفظ قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک خودمختاری اور مضبوط معیشت کی بنیادی ضرورت ہے ضرورت ہے۔‘‘ سائنس و ٹیکنالوجی  اورارضیاتی علوم کی وزارت کےمرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر مملکت برائے وزیر اعظم کا دفتر، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، محکمہ جوہری توانائی اور محکمہ خلائی امور ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج نئی دہلی میں پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام چھٹی بین الاقوامی موسمیاتی کانفرنس 2026 بعنوان ’’بھارت کا توانائی اور غذائی تحفظ مشن‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور توانائی کی منڈیوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے پیش نظر بھارت کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ وہ توانائی کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ خودکفیل، مقامی وسائل پر مبنی، سستی اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس بنے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ تکنیکی ترقی اور خود انحصاری ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، جبکہ یہ بھی ضروری ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کے فوائد عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے انہیں سستا اور قابلِ رسائی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا سینٹرز کے بڑھتے ہوئے دور میں بھارت کو ایسی توانائی کے ذرائع کی ضرورت ہوگی جو نہ صرف سستے ہوں بلکہ صاف اور ماحول دوست بھی ہوں، تاکہ ان جدید ٹیکنالوجیز سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے۔

وزیر موصوف نے موجودہ دور کو محفوظ اور پائیدار توانائی کے مستقبل کی جانب منتقلی کا دور قرار دیا، جس میں ماحول کے  لئےساز گار توانائی کی طرف بڑھنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جب عالمی سطح پر اپنا کردار مزید مؤثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے تو اسے توانائی کے شعبے میں عالمی رجحانات اور جدید تکنیکی پیش رفت کے ساتھ بھی قدم ملا کر چلنا ہوگا۔

حکومت کی جانب سے توانائی کے تحفظ کے لیے مختلف ذرائع اور راستے اختیار کیے جانے کو اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جوہری توانائی ان اہم شعبوں میں شامل ہے جن پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے 2047 تک 100 گیگاواٹ جوہری توانائی پیدا کرنے کے ہدف پر مشتمل جوہری توانائی مشن کا ذکر کیا اور جوہری توانائی کے شعبے کو نجی کمپنیوں کے لیے کھولنے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے بلند حوصلہ توانائی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنانے اور وسائل کے دائرے کو وسیع کرنے کی ضرورت ہوگی۔

وزیر موصوف نے 2033 تک پانچ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز قائم کرنے کے ہدف کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ آنے والے برسوں میں ایسی ٹیکنالوجیز کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔ انہوں نے سبز ہائیڈروجن کے شعبے میں جاری کوششوں کو بھی اجاگر کیا، جن میں حال ہی میں روانہ کی گئی سبز ہائیڈروجن ٹرین بھی شامل ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حیاتیاتی ایندھن اور سرکلر اکانومی بھارت کو ماحول کے  لئےساز گار توانائی کی جانب منتقل کرنے کے عمل میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگلا صنعتی انقلاب بڑی حد تک سرکلر اکانومی اور نئی ٹیکنالوجی پر مبنی ذرائع سے چلایا جائے گا، جن میں حیاتیاتی ایندھن، ایتھنول اور پائیدار ایندھن شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت، صحت، آبپاشی، کھاد اور ٹرانسپورٹ جیسے شعبوں میں بھارت کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر ماحول کے  لئےساز گار توانائی کی ٹیکنالوجیز کی ترقی اور انہیں اپنانے کی رفتار مسلسل بڑھانا ضروری ہے۔

سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت اور اس سے وابستہ محکموں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرموصوف نے کہا کہ سائنسی ادارے، تعلیمی ادارے، یونیورسٹیاں اور نئے کاروباری ادارے بھارت کے ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی نظام کو مضبوط بنانے میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ملک میں نئے کاروباری اداروں کے ماحول میں ہونے والی تیز رفتار ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تعداد تقریباً 350 سے بڑھ کر اب تقریباً 2.4 لاکھ ہو گئی ہے اور بھارت اس شعبے میں دنیا میں تیسرے مقام پر پہنچ گیا ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھارت کے ٹیکنالوجی اور اختراعی سفر میں نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر کام اکیلے انجام نہیں دے سکتی، اس لیے جن شعبوں میں نئے اداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، وہاں نجی شعبے کو بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ایک لاکھ کروڑ روپے کے تحقیق و ترقی فنڈ (آر ڈی آئی فنڈ) کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ یہ فنڈ تحقیق اور ترقی کے شعبے میں نجی شعبے کی شمولیت کو تیز کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد نجی شعبے کو ترغیب دینا اور تحقیق و ترقی کے نئے اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں اس کی شرکت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

وزیر  موصوف نے تحقیق کے شعبے میں غیر سرکاری اداروں کی شمولیت کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن میں غیر سرکاری ذرائع سے زیادہ سے زیادہ شمولیت کا تصور پیش کیا گیا ہے اور توقع ہے کہ اس کے تقریباً 50 سے 60 فیصد وسائل غیر سرکاری ذرائع سے حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر مسابقت میں بھارت کی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے اس طرح کی شراکت داری ضروری ہوگی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ماضی میں سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان پائی جانے والی بداعتمادی اور تحفظات میں بتدریج کمی آ رہی ہے اور دونوں شعبوں نے ایک ساتھ مل کر کام کرنا سیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے بلند حوصلہ قومی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے حکومت، صنعت اور دیگر متعلقہ فریقوں کو اپنی اجتماعی کوششیں ایک سمت میں مرکوز کرنا ہوں گی۔

وزیرموصوف نے پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پر زور دیا کہ وہ حکومت اور غیر سرکاری شعبے کے درمیان رابطے کا ذریعہ اور مؤثر کردار ادا کرنے والا ادارہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی اور پیشہ ورانہ تنظیمیں دونوں شعبوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور 2047 تک بھارت کی اجتماعی ترقی کے سفر میں اپنا اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے زور دے کر کہا کہ بھارت کی توانائی کے شعبے میں منتقلی کو الگ تھلگ دیکھنے کے بجائے اسے ٹیکنالوجی، خود انحصاری، سستی توانائی، ماحول کے  لئےساز گار توانائی، نجی شعبے کی شمولیت اور اختراع میں بیک وقت پیش رفت کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات اور عالمی سطح پر مسابقت میں اپنی حیثیت برقرار رکھنے کے عزم کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ مقامی طور پر تیار کردہ اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی حل مسلسل فروغ دیے جائیں۔

 

*********

 

 ش ح۔م م ع۔ص ج

Urdu No-2941


(ریلیز آئی ڈی: 2305984) وزیٹر کاؤنٹر : 9