کامرس اور صنعت کی وزارتہ
ہندوستان نے جنیوا میں ڈبلیو ٹی او تجارتی پالیسی کے جائزے میں قواعد پر مبنی کثیرجہتی تجارتی نظام کے عزم کا اعادہ کیا
کامرس سکریٹری نے ڈبلیو ٹی او تجارتی پالیسی کے جائزے میں ہندوستان کی مضبوط اقتصادی کارکردگی اور 863.1 بلین امریکی ڈالر کی ریکارڈ برآمدات پر روشنی ڈالی
ڈبلیو ٹی او کے 65 اراکین نے بھارت کی تجارتی پالیسی کے جائزے میں شرکت کی ، تجارتی اصلاحات اور اقتصادی لچک کو اجاگر کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 JUL 2026 10:13PM by PIB Delhi
عالمی تنظیم تجارت (ڈبلیو ٹی او) میں ہندوستان کی 8 ویں تجارتی پالیسی کا جائزہ (ٹی پی آر) آج جنیوا میں شروع ہوا ، جس میں کامرس سکریٹری جناب راجیش اگروال نے ہندوستانی وفد کی قیادت کی اور ایک شفاف ، قواعد پر مبنی، جامع اور ترقی پر مبنی کثیرالجہتی تجارتی نظام کے لیے ملک کے عزم کا اعادہ کیا۔ تجارتی پالیسی جائزہ میٹنگ، جو 21 اور 23 جولائی 2026 کو منعقد ہو رہی ہے، ڈبلیو ٹی او کے اراکین کو یکم جنوری 2021 سے 31 دسمبر 2025 تک کے جائزے کی مدت کے دوران ہندوستان کی تجارت اور متعلقہ پالیسیوں کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
اپنے افتتاحی بیان میں کامرس سکریٹری نے ہندوستان کی مضبوط اقتصادی کارکردگی پر روشنی ڈالی، جس میں غیر معمولی چیلنج والے عالمی ماحول کے باوجود جائزے کی مدت کے دوران ملک میں اوسطا سالانہ نمو تقریباً 8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی برآمدات 2025-26 میں ریکارڈ 863.1 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں اور اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان عالمی غیر یقینی صورتحال، تکنیکی خلل، سپلائی چین کی بحالی اور بڑھتے ہوئے تحفظ پسندی کے درمیان انسانیت کے تقریباً پانچواں حصہ کی خوشحالی کو آگے بڑھانے کا بے مثال کام انجام دے رہا ہے۔
جناب اگروال نے اس بات پر زور دیا کہ آتم نربھر بھارت ہندوستان کو عالمی ویلیو چینز میں مزید گہرائی سے مربوط کرتے ہوئے گھریلو صلاحیتوں کو مضبوط کر رہا ہے۔ انہوں نے جن وشواس پہل، تجارتی سہولت کے اقدامات، ڈیجیٹل کسٹم، لاجسٹکس ماڈرنائزیشن، معیاری بنیادی ڈھانچہ، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت ، اختراع ، پائیداری ، زرعی استحکام ، علاقائی تجارتی معاہدوں کی توسیع اور ساؤتھ-ساؤتھ کوآپریشن اور انڈین ٹیکنیکل اینڈ اکنامک کوآپریشن (آئی ٹی ای سی) پروگرام کے ذریعے جامع ترقی کے ذریعے کی گئی اہم اصلاحات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے متوازن، ترقی پر مبنی ڈبلیو ٹی او اصلاحات کے لیے ہندوستان کی حمایت کا بھی اعادہ کیا جو کثیرالجہتی تجارتی نظام کو محفوظ اور مضبوط کرتی ہیں۔
اپنے افتتاحی کلمات میں، ٹریڈ پالیسی ریویو باڈی (ٹی پی آر بی) کی سربراہ اورسفیرنیلے پیپے تویتا لیوی نے ہندوستانی وفد کا خیرمقدم کیا اور 2047 تک وکست بھارت کے وژن کی طرف پیش رفت کرنے والی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں سے ایک کے طور پر ہندوستان کی قابل ذکر ترقی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ڈیجیٹل طور پر خدمات کی برآمدات اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اصلاحات میں ہندوستان کی قیادت کو تسلیم کیا جس نے مالی شمولیت اور تجارتی سہولت کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے ماہی گیری کی سبسڈی سے متعلق ڈبلیو ٹی او معاہدے کی ہندوستان کی قبولیت کا بھی خیرمقدم کیا، جس کی نشاندہی پچھلے دن اس کے انسٹرومنٹ آف ایکسپٹنس کے جمع ہونے سے ہوئی اور تمام پیشگی تحریری سوالات پر ہندوستان کے بروقت جوابات کی تعریف کی ، انہیں تجارتی پالیسی جائزہ میکانزم کے تحت شفافیت کا مظاہرہ قرار دیا۔
مباحثہ میں ذاتی طور پر حصہ لیتے ہوئے برازیل کے جناب گلرمی ڈی اگوئیار پیٹریاٹا نے ہندوستان کی ساختی اصلاحات، خاص طور پر گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کو قومی منڈی کو متحد کرنے، ڈیجیٹل تجارتی اصلاحات، برآمدی حکمت عملی کو بڑھانے اور حالیہ علاقائی تجارتی معاہدوں کے لیے سراہا۔ انہوں نے کم سے کم ترقی یافتہ ممالک (ایل ڈی سی) کے لیے ہندوستان کی ڈیوٹی فری ٹیرف ترجیحی اسکیم اور اُبھرتے ہوئے کثیرجہتی چیلنجوں کے درمیان ڈبلیو ٹی او میں اس کے دیرینہ تعاون کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ ہندوستان کا ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور ترقی پر مبنی اصلاحات ترقی پذیر ممالک اور ڈیجیٹل تبدیلی کو آگے بڑھانے والے ایل ڈی سی کے لیے قیمتی سبق پیش کرتی ہیں۔
میٹنگ کے دوران ڈبلیو ٹی او کے 65 اراکین ہندوستان کی تجارتی پالیسی کے مختلف پہلوؤں پر ہونے والی بحث میں حصہ لے رہے ہیں۔ متعدد اراکین نے ہندوستان کے ساتھ اپنے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کی اہمیت کو یاد کیا اور کثیرالجہتی تجارتی نظام میں ملک کی تعمیری شمولیت اور اس کی مضبوط معاشی استحکام کو بڑے پیمانے پر سراہا۔ اراکین نے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، کسٹم اور تجارتی سہولت جدید کاری، اختراع اور اسٹارٹ اپ اقدامات، علاقائی تجارتی معاہدوں کی توسیع اور ایم ایس ایم ایز کو عالمی ویلیو چینز میں ضم کرنے کی کوششوں میں ہندوستان کی کامیابیوں پر بھی روشنی ڈالی ۔ انہوں نے ماہی گیری کی سبسڈی سے متعلق ڈبلیو ٹی او معاہدے کی ہندوستان کی قبولیت کا بھی خیرمقدم کیا۔
متعدد اراکین نے تجارت اور سرمایہ کاری کے نظام ، تجارتی پالیسی اقدامات اور طریقوں، کوالٹی کنٹرول آرڈرز (کیو سی اوز) تجارتی علاج کے اقدامات اور ڈبلیو ٹی او کی جاری اصلاحات سے متعلق امور پر مزید وضاحت طلب کی۔
تجارتی پالیسی کے جائزے کے ساتھ ساتھ، ہندوستان نے ایک نمائش کا انعقاد کیا جس میں ہندوستانی مصنوعات کی متنوع رینج کی نمائش کی گئی، جس میں ملک کی کاریگری ، اختراع اور معیار کو اجاگر کیا گیا۔ "عالمی تنظیم تجارت کے مندوبین کو بطور یادگار جو روایتی 'پیپر میشے' (کاغذی لکدی کی مٹی) سے تیار کردہ کوسٹرز بطور تحفہ پیش کیے گئے، انہیں مہمانوں نے بے حد پسند کیا۔
بھارت کی تجارت سے متعلق پالیسی کی جائزہ میٹنگ 23 جولائی 2026 کو ختم ہو جائے گی۔ اس سے پہلے عالمی تجارتی تنظیم کے ممبران آپس میں مزید بات چیت کریں گے اور میٹنگ کے دوران سامنے آنے والی باتوں پر بھارت اپنا موقف واضح کرے گا۔
****
(ش ح۔ع و۔ ن ع)
U- 2931
(ریلیز آئی ڈی: 2305922)
وزیٹر کاؤنٹر : 7