ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
جناب بھوپیندر یادو نے چوتھے بھارت-جرمنی ماحولیاتی فورم میں ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں علم کو فروغ دینے، مؤثر حل کو وسیع پیمانے پر نافذ کرنےاور مضبوط ادارہ جاتی صلاحیت پیدا کرنے پر زور دیا
بھارت قابل تجدید توانائی کے فروغ میں ایک مثالی ملک ہے؛ جرمنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں: جرمنی کے ماحولیات کے وزیر عالی جناب کارسٹن شنائیڈر
بھارت اور جرمنی نے بین الاقوامی اہمیت کے حامل آبی علاقوں کے تحفظ اور دانشمندانہ استعمال سے متعلق مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 SEP 2026 2:56PM by PIB Delhi
ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے آج کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع میں کمی، آلودگی اور وسائل کی کمی جیسے ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مربوط اور باہمی تعاون پر مبنی حل درکار ہیں۔ چوتھے بھارت-جرمنی ماحولیاتی فورم (آئی جی ای ایف )کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب یادو نے کہا کہ فورم کا موضوع ‘‘مزید مضبوط لچک کے لیے مل کر’’موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھنے والے، وسائل کے مؤثر استعمال پر مبنی اور پائیدار ترقی کی راہیں استوار کرنے کے لیے مضبوط تعاون کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیر موصوف نے آج نئی دہلی میں جرمنی کے ماحولیات، موسمیاتی تحفظ، قدرتی تحفظ اور جوہری تحفظ کے وزیر عالی جناب کارسٹن شنائیڈر کے ساتھ اس تقریب کی مشترکہ صدارت کی۔

آئی جی ای ایف ماحولیاتی پالیسی کے شعبے میں بھارت اور جرمنی کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کا دو طرفہ فورم ہے اور 2008 سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس کا مشترکہ طور پر انعقاد حکومت ہند کی ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت اور جرمنی کی وفاقی وزارت برائے ماحولیات، موسمیاتی تحفظ، نیچر کنزرویشن اینڈ نیوکلیئر سیفٹی (بی ایم یو کے این)نے جرمن بزنس کے ایشیا پیسیفک کمیٹی (اے پی اے) اور فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف آئی سی سی آئی) کے اشتراک سے کیا۔
فورم سے خطاب کرتے ہوئے جناب یادو نے کہا کہ ماحولیاتی پائیداری کے مسئلے کو اب الگ تھلگ طور پر حل نہیں کیا جا سکتا اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے قابل مستقبل کی تعمیر کے لیے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت کے ترقیاتی تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماحولیاتی اہداف اور معاشی ترقی ایک دوسرے کے متضاد مقاصد نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے نیشنلی ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشن (این ڈی سی) کے تحت کیے گئے وعدوں کو مقررہ مدت سے پہلے ہی مسلسل پورا کر رہا ہے، جو ملک میں بڑے پیمانے پر جاری ماحولیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔

وسائل کے مؤثر استعمال اور سرکلر اکانومی کی معاشی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت کی سرکلر اکانومی میں 2050 تک 2 ٹریلین امریکی ڈالر سے زیادہ کی مارکیٹ ویلیو پیدا کرنے اور تقریباً ایک کروڑ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جی 20 صدارت کے دوران ریسورس ایفیشنسی اینڈ سرکلر اکانومی انڈسٹری کولیشن کا قیام وسائل کے مؤثر استعمال اور سرکلر اکانومی کو عالمی اقتصادی گفتگو کا حصہ بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم تھا۔
وزیر موصوف نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ صنعتوں کی منتقلی کے اگلے مرحلے میں اسٹیل، سیمنٹ اور کیمیکل جیسے توانائی کی زیادہ کھپت والے شعبوں سے کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے پیچیدہ چیلنج سے نمٹنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس منتقلی کے لیے اختراع، صاف توانائی، وسائل کے مؤثر استعمال، موزوں پالیسی فریم ورک اور پیداوار کے نئے طریقہ کار کی ضرورت ہوگی۔جناب یادو نے بھارت-جرمنی ماحولیاتی فورم سے اپیل کی کہ وہ ماحولیاتی فیصلے سازی کے لیے علم اور شواہد کی بنیاد کو مضبوط بنانے، موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع اور وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے عملی اور بڑے پیمانے پر قابل عمل طریقہ کار کو فروغ دینے اور نفاذ کے لیے مضبوط ادارہ جاتی صلاحیتیں پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علم، ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبوں میں بین الاقوامی تعاون اس منتقلی کو آگے بڑھانے میں انتہائی اہم ہوگا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عالی جناب کارسٹن شنائیڈر نے کہا کہ بھارت میں قابل جدید توانائی کے تیز رفتار فروغ اور ملک بھر میں سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز کی تنصیب نے اسے دنیا کے دیگر خطوں کے لیے ایک مثالی ملک بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت حقیقی معنوں میں مستقبل کا ملک ہے، جہاں تیز رفتار ترقی اور پیش رفت کا مضبوط جذبہ نمایاں ہے اور نوجوان آبادی میں اختراع کا متاثر کن جذبہ پایا جاتا ہے۔
جرمن وزیر نے کہا کہ بھارت اور جرمنی کے تعلقات کی بنیادیں مضبوط ہیں اور دونوں ممالک اس سال سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور جرمنی کا مشترکہ مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ پائیدار ترقی معاشی نمو کے ساتھ ساتھ آگے بڑھے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے اور آبی علاقوں کے تحفظ کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک مشترکہ پروجیکٹ تیار کریں گے اور علم و تجربات کا تبادلہ کریں گے۔

فورم کے موقع پر جناب یادو اور عالی جناب شنائیڈر نے دو طرفہ ملاقات کی اور ماحولیاتی پائیداری اور موسمیاتی اقدامات کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں وزرا نے بین الاقوامی اہمیت کے حامل آبی علاقوں کے تحفظ اور دانشمندانہ استعمال سے متعلق مشترکہ ارادے کا اعلامیہ (جے ڈی آئی) پر بھی دستخط کیے۔ جناب یادو نے کہا کہ یہ مشترکہ جے ڈی آئی سائنسی فہم کو مضبوط بنانے، آبی علاقوں کے انتظام میں بہترین طریقہ کار کا تبادلہ کرنے، بحالی کے طریقہ کار وضع کرنے اور مقامی برادریوں کی شمولیت بڑھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔
اس سے قبل تقریب کے دوران جناب یادو نے فورم کے موقع پر منعقدہ بھارت-جرمنی بزنس فورم سے خطاب کیا۔ انہوں نے گرین ٹرانزیشن، بالخصوص قابل تجدید توانائی، توانائی ذخیرہ کرنے، گرین ہائیڈروجن، توانائی کی کارکردگی، پائیدار مینوفیکچرنگ اور متعلقہ ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت-جرمنی شراکت داری کی بنیاد مضبوط ہے اور دونوں ممالک کم کاربن اخراج، وسائل کے مؤثر استعمال اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھنے والی معیشتوں کی جانب منتقلی کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ معاشی لچک کو مضبوط بنانے کے لیے قریبی تعاون کر رہے ہیں۔

فورم نے دونوں ممالک کے درمیان ماحولیاتی اور موسمیاتی تعاون کے حوالے سے پالیسی سازوں، نجی شعبے کے نمائندوں، تھنک ٹینکس اور دیگر اہم متعلقہ فریقوں کے درمیان دو طرفہ تبادلے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ مختلف وزارتوں، کاروباری اداروں، ماہرین کے گروپوں اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے فورم میں شرکت کی۔ موضوعاتی اجلاسوں کے ذریعے فورم میں کم کاربن اخراج والی صنعتوں، آبی علاقوں، پہاڑوں اور جنگلات میں حیاتیاتی تنوع، کاروباری ماڈل کے طور پر وسائل کے مؤثر استعمال اور سرکلر اکانومی، اور پائیدار مالیات، گرین اسکلز اور سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے شعبوں میں چیلنجوں ، حل اور مواقع پر توجہ مرکوز کی گئی۔
فورم سے قبل اس سال موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع اور سرکلر اکانومی سے متعلق تین مشترکہ ورکنگ گروپس کے اجلاس منعقد ہوئے۔ متعلقہ ورکنگ گروپس نے حاصل ہونے والی پیش رفت اور باہمی دلچسپی کے شعبوں پر تبادلہ خیال کیا۔ بھارت اور جرمنی کے درمیان مضبوط اور بڑھتے ہوئے اقتصادی و صنعتی روابط اور پائیدار ٹیکنالوجیز اور گرین اکانومی کے شعبوں میں مزید گہرے تعاون کے امکانات کے تناظر میں اس فورم کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
******
ش ح۔ ش آ ۔ رب
U. No-2867
(ریلیز آئی ڈی: 2305477)
وزیٹر کاؤنٹر : 6