PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان کا اعلیٰ تعلیم کا شعبہ


ترقی، رسائی اور شمولیت کی ایک دہائی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 AUG 2026 10:15AM by PIB Delhi

ہندوستان کے علمی ماحولیاتی نظام کی تعمیر: ترقی کی ایک دہائی

اعلیٰ تعلیم، علم پر مبنی معیشت کی جانب ہندوستان کے سفر کی بنیاد اور قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کا ایک اہم ستون ہے۔ اس پالیسی میں ایسے تعلیمی نظام کا تصور پیش کیا گیا ہے جو جامع اور کثیر موضوعاتی تعلیم کو فروغ دیتا ہے اور پائیدار ترقی کے ہدف (ایس ڈی جی) 4 کے مقاصد کو آگے بڑھاتا ہے۔ پائیدار ترقی کا ہدف (ایس ڈی جی) 4 جامع اور مساوی معیاری تعلیم کو یقینی بنانے اور سب کے لیے زندگی بھر سیکھنے کے مواقع کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔ وزارت تعلیم ہندوستان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کا سالانہ سروے منعقد کرتی ہے۔

وزارت تعلیم کی جانب سے ہر سال منعقد کیا جانے والا آل انڈیا سروے آن ہائر ایجوکیشن (اے آئی ایس ایچ ای) ملک بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں (ایچ ای آئی) سے متعلق جامع اعداد و شمار اور شواہد فراہم کرتا ہے۔ یہ اعداد و شمار این ای پی 2020 کے تحت اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کی پیش رفت کا جائزہ لینے، ابھرتی ہوئی خامیوں کی نشاندہی کرنے اور پالیسی سازی کے لیے مؤثر اقدامات طے کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم کا بڑھتا ہوا دائرۂ کار

اے آئی ایس ایچ ای کی رپورٹوں کے مطابق، گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے نیٹ ورک میں نمایاں توسیع ہوئی ہے۔

  • یونیورسٹیوں کی تعداد 2014-15 میں 760 سے بڑھ کر 2023-24 میں 1,289 ہو گئی، جو 69.6 فیصد کا اضافہ ہے۔
  • کالجوں کی تعداد 38,498 سے بڑھ کر 48,246 ہو گئی، جو 25.3 فیصد کا اضافہ ہے۔
  • اسٹینڈ الون اداروں کی تعداد 12,276 سے بڑھ کر 15,221 ہو گئی، جس میں تقریباً 24 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔

یہ توسیع ایک وسیع تر ادارہ جاتی بنیاد اور ملک بھر میں طلبہ و سیکھنے والوں کی خدمت کرنے کی بڑھتی ہوئی صلاحیتکی عکاسی کرتی ہے۔ اس سے اعلیٰ تعلیم تک رسائی مستحکم ہوئی ہے، وسیع تر شرکت کو فروغ ملا ہے اور ہندوستان کے مستقبل کے لیے ایک زیادہ قابلِ رسائی، متنوع اور جامع علمی ماحولیاتی نظام کی تشکیل میں مدد ملی ہے۔

طلبہ کے اندراج میں اضافہ: مساوات اور شمولیت کو فروغ

ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں طلبہ کے اندراج میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ اس میں 31.5 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو 2014-15 میں 3.42 کروڑ سے بڑھ کر 2023-24 میں 4.50 کروڑ ہو گیا۔

  • اعلیٰ تعلیم میں مجموعی شرحِ اندراج (جی ای آر) 2014-15 میں 23.7 فیصد تھی، جو بڑھ کر 2022-23 میں 29.5 فیصد اور 2023-24 میں مزید بڑھ کر 30 فیصد ہو گئی۔ یہ مسلسل اضافہ اعلیٰ تعلیم تک بڑھتی ہوئی رسائی اور اس میں وسیع تر شرکت کی عکاسی کرتا ہے اور 2035 تک مجموعی شرحِ اندراج (جی ای آر) کو 50 فیصد تک بڑھانے کے قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے ہدف کے حصول میں معاون ہے۔

2014-15 سے 2023-24 تک، تعلیم کی مختلف سطحوں پر طلبہ کے کل اندراج میں درج ذیل فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا:

  • پی ایچ ڈی: 1.17 لاکھ سے بڑھ کر 3.43 لاکھ (192.89 فیصد اضافہ)
  • پوسٹ گریجویٹ: 38.53 لاکھ سے بڑھ کر 57.85 لاکھ (50.15 فیصد اضافہ)
  • انڈر گریجویٹ: 2.71 کروڑ سے بڑھ کر 3.45 کروڑ (27.27 فیصد اضافہ)
  • ڈپلومہ: 25.08 لاکھ سے بڑھ کر 33.15 لاکھ (32.22 فیصد اضافہ)
  • سرٹیفکیٹ: 1.70 لاکھ سے بڑھ کر 2.08 لاکھ (22.55 فیصد اضافہ)
  • انٹیگریٹڈ: 1.41 لاکھ سے بڑھ کر 5.69 لاکھ (301.36 فیصد اضافہ)

  • گزشتہ دہائی کے دوران اعلیٰ تعلیم میں خواتین کے اندراج میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خواتین کے اندراج میں 42.2 فیصد اضافہ ہوا، جو 2014-15 میں 1.57 کروڑ سے بڑھ کر 2023-24 میں 2.24 کروڑ ہو گیا۔ یہ اضافہ اسی عرصے کے دوران مجموعی اندراج میں ہونے والے اضافے سے بھی زیادہ ہے۔ 2023-24 میں مختلف کورسز میں داخلہ لینے والی طالبات کی تعداد حسبِ ذیل رہی:
  • پی ایچ ڈی: 1.71 لاکھ؛ پوسٹ گریجویٹ: 32.53 لاکھ؛ انڈر گریجویٹ: 1.71 کروڑ؛ پی جی ڈپلومہ: 91,332؛ ڈپلومہ: 13.27 لاکھ؛ سرٹیفکیٹ: 1.10 لاکھ؛ اور انٹیگریٹڈ کورسز: 2.73 لاکھ۔
  • خواتین کی مجموعی داخلہ شرح (جی ای آر) 2014-15 میں 22.9 فیصد سے بڑھ کر 2023-24 میں 31.2 فیصد ہو گئی۔ اس طرح خواتین کی جی ای آر مسلسل ساتویں سال مردوں کی جی ای آر (28.9 فیصد) سے زیادہ رہی۔
  • اعلیٰ تعلیم سے فارغ ہونے والے طلبہ کی مجموعی تعداد 2014-15 میں 88.28 لاکھ تھی، جو 2023-24 میں 24.06 فیصد اضافے کے ساتھ بڑھ کر 1.09 کروڑ سے زیادہ ہو گئی۔ اس پیش رفت سے تعلیمی پروگراموں کی بہتر تکمیل، طلبہ کے تعلیمی نظام میں برقرار رہنے کی بہتر شرح، بڑھتے ہوئے اندراج اور ادارہ جاتی صلاحیت میں توسیع کی عکاسی ہوتی ہے۔ سرکاری اقدامات کی مدد سے یہ رجحان اعلیٰ تعلیم تک رسائی، مساوات، معیار اور کارکردگی میں ہونے والی پیش رفت کو نمایاں کرتا ہے۔

اعلیٰ تعلیم سے فارغ ہونے والے طلبہ کی مجموعی تعداد (ہائر ایجوکیشن آؤٹ ٹرن) سے مراد ان طلبہ کی کل تعداد ہے جو کسی مخصوص تعلیمی سال کے دوران اعلیٰ تعلیمی اداروں سے اپنی تعلیم مکمل کرکے فارغ ہوتے ہیں۔

  • اعلیٰ تعلیم میں صنفی برابری

اعلیٰ تعلیم میں صنفی برابری اشاریہ (جی پی آئی) میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ یہ 2014-15 میں 0.92 سے بڑھ کر 2023-24 میں 1.08 ہو گیا۔ اسی مدت کے دوران درج فہرست ذاتوں (ایس سی) کے لیے جی پی آئی 0.91 سے بڑھ کر 1.11، جبکہ درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے لیے 0.81 سے بڑھ کر 1.08 ہو گیا۔

  • جی پی آئی میں اضافہ خواتین کے حق میں بڑھتی ہوئی برابری کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ پیش رفت اعلیٰ تعلیم میں مساوات، شمولیت اور متوازن شرکت کو فروغ دینے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے مثبت اثرات کو اجاگر کرتی ہے۔

صنفی برابری اشاریہ (جی پی آئی)

صنفی برابری اشاریہ (جی پی آئی) خواتین کی مجموعی داخلہ شرح (جی ای آر) اور مردوں کی مجموعی داخلہ شرح کے تناسب کو ظاہر کرتا ہے اور تعلیمی نظام میں خواتین کی مساوی شرکت کی عکاسی کرتا ہے۔

  • 1 کا جی پی آئی مردوں اور خواتین کے درمیان برابری کی نشاندہی کرتا ہے۔
  • 0 اور 1 کے درمیان جی پی آئی عام طور پر مردوں کے حق میں عدم مساوات کی نشاندہی کرتا ہے۔
  • 1 سے زیادہ جی پی آئی خواتین کے حق میں عدم مساوات کی نشاندہی کرتا ہے۔
  • مجموعی اندراج میں ایس سی طلبہ کے اندراج کا حصہ 2014-15 میں 13.44 فیصد سے بڑھ کر 2023-24 میں 15.5 فیصد ہو گیا۔ اسی مدت کے دوران ایس ٹی طلبہ کے اندراج کا حصہ 4.8 فیصد سے بڑھ کر 6.4 فیصد ہو گیا۔ دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کی شرکت بھی 32.8 فیصد سے بڑھ کر 40.1 فیصد ہو گئی، جو تمام سماجی زمروں میں اندراج کے حصے میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔
  • ایس سی طلبہ کے لیے جی ای آر 2014-15 میں 18.9 فیصد سے بڑھ کر 2023-24 میں 27.8 فیصد ہو گئی۔ ایس ٹی طلبہ کے لیے یہ شرح اسی مدت کے دوران 13.5 فیصد سے بڑھ کر 22.8 فیصد ہو گئی۔ ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی زمروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی بڑھتی ہوئی شرکت اعلیٰ تعلیم میں بڑھتی ہوئی شمولیت کی عکاسی کرتی ہے۔
  • بینچ مارک معذوری کے حامل افراد (پی ڈبلیو بی ڈی) کا اندراج 2014-15 میں 64,298 سے بڑھ کر 2022-23 میں 88,816 ہو گیا، جس میں 38.1 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔ اس عرصے کے دوران مردوں اور خواتین کے اندراج میں بالترتیب 54.4 فیصد اور 19.0 فیصد کا اضافہ ہوا۔
  • 2023-24 میں 54,080 پی ڈبلیو بی ڈی طلبہ نے اعلیٰ تعلیم میں داخلہ لیا، جن میں 34,080 مرد اور 20,000 خواتین شامل تھیں۔ پی ڈبلیو بی ڈی زمرے میں مردوں کا نسبتاً زیادہ اندراج اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں برقرار صنفی عدم توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسائی میں بہتری تمام جنسوں میں یکساں طور پر نہیں ہوئی ہے۔

سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (اسٹیم ۔ایس ٹی ای ایم ) میں اندراج

گزشتہ دہائی کے دوران اعلیٰ تعلیم میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) کے شعبوں میں اندراج میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

ایس ٹی ای ایم میں مجموعی اندراج 2014-15 میں 91.5 لاکھ سے بڑھ کر 2023-24 میں 1.02 کروڑ ہو گیا، جو اس مدت کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 11.5 فیصد اضافے کی نمائندگی کرتا ہے۔

یہ اضافہ ادارہ جاتی صلاحیت میں توسیع اور ایس ٹی ای ایم کے شعبوں میں طلبہ کی مسلسل دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔ سرکاری اقدامات، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، اختراع، تحقیق اور روزگار کے بڑھتے ہوئے مواقع کے ذریعے ایس ٹی ای ایم شعبے ہندوستان کی علمی معیشت کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم میں غیر ملکی طلبہ کا اندراج

  • غیر ملکی طلبہ کا اندراج 2014-15 میں 42,293 سے بڑھ کر 2023-24 میں 58,134 ہو گیا، جو گزشتہ دہائی کے دوران تقریباً 37.5 فیصد کا اضافہ ہے۔ یہ اضافہ اعلیٰ تعلیم کے لیے ایک ترجیحی منزل کے طور پر ہندوستان کی بڑھتی ہوئی کشش کی عکاسی کرتا ہے۔
  • یہ رجحان اعلیٰ تعلیم کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی کاری، تعلیمی تعاون میں اضافے اور ہندوستانی تعلیمی اداروں کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی شناخت کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

اعلیٰ تعلیم میں فیکلٹی کی ترقی

اعلیٰ تعلیم میں تدریسی عملے کی تعداد 2014-15 میں 14.73 لاکھ سے بڑھ کر 2023-24 میں 17.32 لاکھ ہو گئی۔ اس طرح اس عرصے کے دوران تدریسی عملے کی تعداد میں مجموعی طور پر 2.59 لاکھ، یعنی تقریباً 17.6 فیصد کا اضافہ ہوا۔

  • 2014-15 اور 2023-24 کے درمیان خواتین تدریسی عملے کی تعداد میں 36.7 فیصد اضافہ ہوا، جو اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں خواتین کے لیے روزگار کے بڑھتے ہوئے مواقع کی عکاسی کرتا ہے۔
  • 2022-23 اور 2023-24 دونوں برسوں میں مجموعی تدریسی افرادی قوت میں مرد اساتذہ کا حصہ خواتین اساتذہ کے مقابلے میں زیادہ رہا۔
  •  2022-23 میں خواتین اساتذہ کا حصہ 44.3 فیصد تھا، جو 2023-24 میں معمولی اضافے کے ساتھ 44.9 فیصد ہو گیا۔

بنیادی ڈھانچے کی سہولیات

2014-15 اور 2023-24 کے درمیان اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بنیادی ڈھانچے کی سہولیات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ تمام اقسام کے اداروں میں مادی اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، ماحول دوست بنیادی ڈھانچے اور خواتین اور بینچ مارک معذوری کے حامل افراد (پی ڈبلیو بی ڈی) کے لیے علیحدہ سہولیات تیار کی گئی ہیں۔ 2023-24 میں:

  • 94 فیصد یونیورسٹیوں، 95 فیصد کالجوں اور 91 فیصد اسٹینڈ الون اداروں میں کھیل کے میدان کی سہولت موجود تھی۔
  • 98 فیصد یونیورسٹیوں، 98 فیصد کالجوں اور 98 فیصد اسٹینڈ الون اداروں میں کتب خانے کی سہولت موجود تھی۔
  • 89 فیصد یونیورسٹیوں، 85 فیصد کالجوں اور 94 فیصد اسٹینڈ الون اداروں میں لیبارٹری کی سہولت موجود تھی۔

اس کے علاوہ، بیشتر یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسٹینڈ الون اداروں میں صحت مراکز، ہنرمندی کے فروغ کے مراکز، کمپیوٹر مراکز، آڈیٹوریم اور کانفرنس ہال جیسی سہولیات بھی موجود تھیں۔

مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اعلیٰ تعلیمی ماحولیاتی نظام کی جانب

گزشتہ دہائی کے دوران ہندوستان کے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں نمایاں توسیع ہوئی ہے، جس میں تعلیمی اداروں کی تعداد، طلبہ کے اندراج، تدریسی عملے کی تعداد اور اعلیٰ تعلیم سے فارغ ہونے والے طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی داخلہ شرح، خواتین کی شرکت، صنفی برابری اور ایس سی، ایس ٹی اور دیگر پسماندہ طبقات کی شمولیت میں بہتری اعلیٰ تعلیم تک بہتر رسائی اور زیادہ مساوی مواقع کی عکاسی کرتی ہے۔

ایس ٹی ای ایم شعبوں اور غیر ملکی طلبہ کے بڑھتے ہوئے اندراج سے ہندوستان کے علمی ماحولیاتی نظام کی بڑھتی ہوئی مضبوطی اور عالمی کشش کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ تمام کامیابیاں مجموعی طور پر قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے تحت معیار، شمولیت اور بہترین کارکردگی کو فروغ دینے کے لیے کیے گئے اقدامات کے مثبت اثرات کو اجاگر کرتی ہیں۔

حوالہ جات

وزارت تعلیم

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2282525&reg=48&lang=1

https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s392049debbe566ca5782a3045cf300a3c/uploads/2025/06/202506041473712372.pdf

https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s392049debbe566ca5782a3045cf300a3c/uploads/2026/07/20260708401535366.pdf

https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s392049debbe566ca5782a3045cf300a3c/uploads/2026/07/202607131602421770.pdf

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے کلک کریں

***

UR-2767

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2304644) وزیٹر کاؤنٹر : 8