PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

واٹر اسمارٹ فارمنگ(پانی کے دانش مندانہ استعمال پر مبنی کاشت کاری) کے ساتھ  فی قطرہ زیادہ فصل (پر ڈراپ مور کراپ)


آبی کارکردگی کے ذریعے ہندوستانی زراعت میں تبدیلی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 AUG 2026 12:47PM by PIB Delhi

فی قطرہ زیادہ فصل۔پر ڈراپ مور کراپ  (پی ڈی ایم سی) اسکیم پانی کے استعمال کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور زرعی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے کے لیے مائیکرو آبپاشی کو فروغ دیتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت جولائی 2026 تک 115 لاکھ ہیکٹر سے زیادہ رقبے کو مائیکرو آبپاشی کے دائرے میں لایا جا چکا ہے۔ براہِ راست فائدہ منتقلی اور ڈیجیٹل نفاذ کے ذریعے فراہم کی جانے والی مالی امداد سے شفافیت میں بہتری آئی ہے اور کسانوں کے لیے سستی مائیکرو آبپاشی سہولیات تک رسائی آسان ہوئی ہے۔ آزادانہ مطالعات میں زیادہ پیداوار، پانی کی نمایاں بچت، کاشت کاری کے اخراجات میں کمی اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پی ڈی ایم سی پانی کے ہر قطرے کے مؤثر استعمال کے ذریعے وسائل کے مؤثر اور پائیدار زرعی نظام کو مضبوط بنا رہی ہے۔

فی قطرہ زیادہ فصل۔پر ڈراپ مور کراپ  (پی ڈی ایم سی) کے ذریعے آبپاشی کی کارکردگی میں بہتری

ہندوستان کے دستیاب آبی وسائل کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ زرعی آبپاشی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تاہم، خالص زیرِ کاشت رقبے کے صرف 50 فیصد حصے میں آبپاشی کی سہولیات دستیاب ہیں۔ اس لیے پانی کے استعمال کی کارکردگی کو بہتر بنانا قومی ترجیح بن گیا ہے۔

زراعت میں پانی کے استعمال کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مائیکرو آبپاشی ایک اہم حل ہے، کیونکہ اس کے ذریعے کم سے کم ضیاع کے ساتھ براہِ راست فصلوں تک پانی پہنچایا جاتا ہے۔ حکومت کھیت کی سطح پر پانی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینے کے لیے فی قطرہ زیادہ فصل۔پر ڈراپ مور کراپ  (پی ڈی ایم سی) اسکیم نافذ کر رہی ہے۔ یہ ایک مرکز کے زیرِ اہتمام اسکیم ہے، جس کے تحت مائیکرو آبپاشی کے نظام، یعنی ڈرِپ آبپاشی اور اسپرنکلر آبپاشی، کو فروغ دیا جاتا ہے۔

اس اسکیم کے تحت حکومت مائیکرو آبپاشی کے نظام کی تنصیب کے لیے فی مستفید زیادہ سے زیادہ پانچ ہیکٹر رقبے تک مالی امداد فراہم کرتی ہے۔ چھوٹے اور حاشیائی کسانوں کو کو لاگت کا 55 فیصد، جبکہ دیگر کسانوں کو 45 فیصد تک مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے 8,123.24 کروڑ روپے کی مالی امداد جاری کی گئی ہے۔ بعض ریاستی حکومتیں بھی اپنے بجٹ سے اضافی سبسڈی فراہم کرتی ہیں۔ کسان سات سال بعد اسی زمین کے لیے دوبارہ مالی امداد حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ پہل ابتدا میں جنوری 2006 میں مائیکرو آبپاشی کے لیے مرکزی اسپانسر شدہ اسکیم (سی ایس ایس) کے طور پر شروع کی گئی تھی۔ بعد ازاں، 2010-11 میں اسے نیشنل مشن آن مائیکرو ایریگیشن (این ایم ایم آئی) کے طور پر اپ گریڈ کیا گیا۔ مالی سال 2014-15 کے دوران، یہ ’’آن فارم واٹر مینجمنٹ‘‘ (او ایف ڈبلیو ایم) جزو کے تحت نیشنل مشن فار سسٹین ایبل ایگریکلچر (این ایم ایس اے) کا حصہ بن گئی۔ مالی سال 2015-16 سے مالی سال 2021-22 تک اسے باضابطہ طور پر ’’پر ڈراپ مور کراپ‘‘ (پی ڈی ایم سی) کا نام دیا گیا اور پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائی) کے بنیادی جزو کے طور پر نافذ کیا گیا۔ 2022-23 سے پی ڈی ایم سی کو پردھان منتری راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا (پی ایم-آر کے وی وائی) کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے۔

پردھان منتری راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا (پی ایم-آر کے وی وائی)

2007-08 میں شروع کی گئی راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا زراعت اور متعلقہ شعبوں کی مجموعی ترقی کو فروغ دیتی ہے۔ پائیدار زراعت کو فروغ دینے کے لیے اکتوبر 2024 میں اس اسکیم کو پردھان منتری راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا (پی ایم-آر کے وی وائی) کے طور پر ازسرِ نو تشکیل دیا گیا۔ یہ ایک چھتری اسکیم کے طور پر کام کرتی ہے، جس کے تحت نو اسکیموں کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس میں پر ڈراپ مور کراپ (پی ڈی ایم سی)، زرعی میکانائزیشن، مٹی کی صحت کا انتظام، فصلوں میں  تنوع اور زرعی اسٹارٹ اپس کے لیے ایکسلریٹر فنڈ جیسے اجزا شامل ہیں۔

ازسرِ نو تشکیل شدہ اسکیم کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کے تحت ریاستی حکومتوں کو اپنی مخصوص اور مقامی زرعی ضروریات کی بنیاد پر ایک جزو سے دوسرے جزو میں فنڈز دوبارہ مختص کرنے کی لچک حاصل ہے۔ اس کا مقصد موسمیاتی لچک جیسے ابھرتے ہوئے مسائل سے نمٹنا، فصلوں کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانا اور ویلیو چین کی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ 2025-26 کے دوران پی ایم-آر کے وی وائی کے لیے مجموعی طور پر 8,957.72 کروڑ روپے جاری/منظور کیے گئے ہیں، جن میں سے 3,226.36 کروڑ روپے خصوصی طور پر پی ڈی ایم سی اسکیم کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

پی ڈی ایم سی کے کلیدی ترجیحی شعبے

پی ڈی ایم سی اسکیم فصلوں کی پیداوار اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے پانی کے دقیقی اور مؤثر انتظام کو فروغ دیتی ہے۔ یہ اسکیم غذائی اجزا کے استعمال کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے فرٹیگیشن کو بھی فروغ دیتی ہے اور پانی کی کمی اور زیرِ زمین پانی پر زیادہ دباؤ والے علاقوں کو ترجیح دیتی ہے۔

فرٹیگیشن سے مراد آبپاشی کے پانی کے ذریعے کھاد کو براہِ راست اس علاقے میں پہنچانے کا عمل ہے جہاں پودے کی زیادہ تر جڑیں موجود ہوتی ہیں۔ مزید برآں، پی ڈی ایم سی ٹیوب ویل، ریور لفٹ آبپاشی (دریا سے پانی اٹھانے والی آبپاشی) اور شمسی توانائی سے چلنے والے آبپاشی کے نظام کے ساتھ مائیکرو آبپاشی کے انضمام کی حمایت کرتی ہے۔ یہ آبی وسائل کے زیادہ سے زیادہ اور مؤثر استعمال کے لیے دیگر سرکاری پروگراموں کے ساتھ ہم آہنگی کی بھی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ یہ اسکیم زراعت اور باغبانی کے شعبوں میں مائیکرو آبپاشی سے متعلق سائنسی ترقی کو بھی فروغ دیتی ہے۔

مائیکرو آبپاشی کے فوائد

مائیکرو آبپاشی پانی کو براہِ راست پودوں کی جڑوں تک پہنچا کر پانی کے مؤثر استعمال کو یقینی بناتی ہے، پانی کے ضیاع کو کم کرتی ہے اور آبپاشی کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔ یہ پانی، توانائی، کھاد اور محنت کے استعمال کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ پانی اور غذائی اجزا کے درست استعمال کے ذریعے فصلوں کی بہتر نشوونما اور زیادہ پیداواری صلاحیت کو فروغ دیتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی باغبانی کی فصلوں کی کاشت کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، فصلوں کی شدت میں اضافہ کرتی ہے اور کم زرخیز زمینوں کو بھی پیداواری استعمال میں لانے میں مدد دیتی ہے۔ زرعی مداخل کی لاگت کم کرکے اور کھیت سے حاصل ہونے والے منافع میں اضافہ کرکے، مائیکرو آبپاشی پائیدار زراعت کے فروغ، کسانوں کی روزی روٹی کو مستحکم کرنے اور طویل مدتی غذائی اور تغذیاتی تحفظ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

پی ڈی ایم سی کے ذریعے پورے ہندوستان میں مائیکرو آبپاشی کے فروغ میں پیش رفت

پی ڈی ایم سی کے آغاز سے جولائی 2026 تک 115 لاکھ ہیکٹر رقبے کو مائیکرو آبپاشی کے دائرے میں لایا جا چکا ہے۔ یہ ہندوستان کے خالص زیرِ کاشت رقبے کا تقریباً 8.11 فیصد ہے۔ 2025-26 کے دوران:

  • مہاراشٹر، کرناٹک، آندھرا پردیش، تمل ناڈو، گجرات اور راجستھان میں پی ڈی ایم سی کے تحت مائیکرو آبپاشی کے دائرے میں لائے گئے رقبے کا سب سے زیادہ حصہ درج کیا گیا۔
  • اس اسکیم سے 12.30 لاکھ کسان مستفید ہوئے۔
  • مستفید ہونے والوں میں تقریباً 20 فیصد خواتین تھیں۔

سیلابی آبپاشی سے ڈرِپ آبپاشی تک

آندھرا پردیش کے پالناڈو کے ایک کسان ایل اے ایم سرینواس راؤ نے ریاستی مائیکرو آبپاشی پروجیکٹ اور پی ڈی ایم سی اسکیم کے تحت ڈرِپ آبپاشی کو اپنایا۔ انہوں نے روایتی سیلابی آبپاشی کی جگہ اپنے دو ایکڑ پر محیط ایسڈ لائم کے باغ میں یہ نظام نصب کیا۔ نئے نظام نے فرٹیگیشن کے ذریعے پانی اور غذائی اجزا کے درست استعمال کو یقینی بنایا۔ اس کے نتیجے میں پیداوار 90 کوئنٹل فی ایکڑ سے بڑھ کر 105 کوئنٹل فی ایکڑ ہو گئی۔ کاشت کاری کی لاگت 3.0 لاکھ روپے سے کم ہو کر 2.4 لاکھ روپے رہ گئی۔ مارکیٹ کی قیمتیں مستحکم رہنے کے باعث ان کی خالص آمدنی 1.5 لاکھ روپے سے بڑھ کر 2.85 لاکھ روپے ہو گئی۔ اس طرح انہوں نے 1.35 لاکھ روپے کی اضافی آمدنی حاصل کی، جو پیداواری صلاحیت اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے مائیکرو آبپاشی کے فوائد کو نمایاں کرتی ہے۔

پانی کے مؤثر استعمال کو مزید فروغ دینے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے حکومت نے پی ڈی ایم سی اسکیم کے تحت نئی لچک متعارف کرائی ہے۔ اس اقدام کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو ’’دیگر مداخلتوں‘‘ کے جزو کے تحت مائیکرو(مقامی) سطح پر پانی ذخیرہ کرنے اور تحفظ سے متعلق سرگرمیاں انجام دینے کی اجازت دی گئی ہے، جن میں ڈگیوں (پانی ذخیرہ کرنے کے بڑے ٹینک یا کھیت کے تالاب) اور پانی ذخیرہ کرنے کے دیگر نظاموں کی تعمیر شامل ہے۔ چونکہ ان نظاموں کو مقامی ضروریات کی بنیاد پر انفرادی اور اجتماعی، دونوں استعمال کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے، اس لیے یہ مائیکرو آبپاشی کے لیے پانی کی قابلِ اعتماد اور پائیدار دستیابی یقینی بنانے میں مدد کرتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ نظرِ ثانی شدہ رہنما خطوط میں پانی کے تحفظ سے متعلق ان منصوبوں کے لیے فنڈنگ کی سابقہ پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ اس سے قبل ایسی سرگرمیوں کے لیے عام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو مختص کل رقم کا زیادہ سے زیادہ 20 فیصد تک فنڈ استعمال کیا جا سکتا تھا، جبکہ شمال مشرقی ریاستوں، ہمالیائی ریاستوں اور جموں و کشمیر و لداخ کے مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے لیے یہ حد 40 فیصد تھی۔ اب ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو اپنی مخصوص مقامی ضروریات کی بنیاد پر ان حدود سے تجاوز کرتے ہوئے فنڈز مختص کرنے کی لچک حاصل ہے۔

پی ڈی ایم سی کے تحت مائیکرو آبپاشی کے نظام کی اقسام

پی ڈی ایم سی کے تحت مائیکرو آبپاشی کے دو بڑے نظام ہیں:

ڈرِپ آبپاشی کا نظام

ڈرِپ آبپاشی کی ٹیکنالوجی میں لیٹرل ٹیوب میں نصب یا نلیوں کے اندر لگائے گئے ایمیٹرز کے ذریعے پودوں کے جڑوں کے حصے میں آبپاشی کی جاتی ہے۔ آسان الفاظ میں، یہ فصلوں کو پانی دینے کا ایسا طریقہ ہے جس میں پتلی پائپوں یا نلیوں پر نصب چھوٹے آؤٹ لیٹس، جنہیں ایمیٹرز کہا جاتا ہے، کے ذریعے پانی آہستہ آہستہ اور براہِ راست پودوں کی جڑوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس سے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ پودے کے اردگرد صرف مطلوبہ حصے کو پانی ملے، جس سے پانی کے ضیاع میں کمی اور آبپاشی کی کارکردگی میں بہتری آتی ہے۔

ڈرِپ آبپاشی کے نظام کی دو اقسام ہیں:

آن لائن ڈرِپ آبپاشی: ہر پودے کو پائپ کے ساتھ نصب چھوٹے ڈرِپرز کے ذریعے پانی فراہم کیا جاتا ہے، جہاں بھی پودا موجود ہو۔ اس لیے یہ نظام غیر مساوی فاصلے پر کاشت کی گئی فصلوں کے لیے موزوں ہے۔

اِن لائن ڈرِپ آبپاشی: پانی پائپ میں مقررہ وقفوں پر نصب ڈرِپرز کے ذریعے خارج ہوتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے تمام پودوں کو یکساں طور پر پانی فراہم کیا جاتا ہے۔

اسپرنکلر آبپاشی کا نظام

اسپرنکلر آبپاشی میں پائپوں کے ایک نیٹ ورک سے منسلک نوزلز کے ذریعے دباؤ کے تحت پانی ہوا میں خارج کیا جاتا ہے۔ یہ نظام بارش کی نقل کرتا ہے اور فصلوں کو یکساں طور پر پانی فراہم کرتا ہے۔ اسپرنکلر آبپاشی کے نظام ان فصلوں کی آبپاشی کے لیے موزوں ہیں جہاں پودوں کی کثافت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ نظام بڑے پیمانے پر اناج، دالوں، بیجوں، مصالحہ جات اور دیگر کھیتی کی فصلوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اسپرنکلر آبپاشی کے نظام کو مزید درج ذیل اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے:

پورٹیبل اسپرنکلر: اس نظام میں مرکزی اور ذیلی مرکزی پائپوں کو ضرورت کے مطابق کھیت کے مختلف حصوں میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح فصل کی پانی کی ضروریات کے مطابق آبپاشی کی جا سکتی ہے۔ ان کا استعمال ہموار علاقوں کے ساتھ ساتھ لہردار زمینوں میں بھی کیا جا سکتا ہے۔

مائیکرو اسپرنکلر: مائیکرو اسپرنکلر کم رداس والے اسپرنکلر ہوتے ہیں۔ ان کا استعمال زیادہ تر پتوں والی سبزیوں، نرسریوں اور پودوں پنیری کو سخت حالات کے لیے تیار کرنے میں کیا جاتا ہے۔ آبپاشی فراہم کرنے کے علاوہ، مائیکرو اسپرنکلر پودے کے قریب مائیکرو کلائمیٹ کے حالات کو تبدیل کرنے میں بھی مدد کرتے ہیں۔

منی اسپرنکلر: ان کا استعمال عام طور پر قریب قریب اگائی جانے والی فصلوں، جیسے مونگ پھلی، آلو، پیاز، ادرک اور کم قد والی چارہ فصلوں وغیرہ کے لیے کیا جاتا ہے۔ منی اسپرنکلر ٹھنڈ سے تحفظ کے لیے بھی موزوں ہیں۔ ان کا آبپاشی رداس مائیکرو اسپرنکلر کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

نیم مستقل اسپرنکلر: اس نظام میں مرکزی اور لیٹرل پائپ مستقل طور پر زمین کے اندر نصب کیے جاتے ہیں۔ رائزر پائپوں سے منسلک اسپرنکلر نوزلز کو مختلف مقامات پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح فصل کی پانی کی ضرورت کے مطابق کھیت کے مختلف حصوں میں آبپاشی کی جا سکتی ہے۔

بڑے حجم والے اسپرنکلر (رین گن): ان کا استعمال ان مقامات پر کیا جاتا ہے جہاں ایک یا دو اسپرنکلرز کے ذریعے بڑے رقبے کو سیراب کرنا مقصود ہو۔ ان اسپرنکلرز کی پانی خارج کرنے کی شرح 10,000 لیٹر فی گھنٹہ سے 32,000 لیٹر فی گھنٹہ تک ہوتی ہے، جبکہ ان کا پھینکنے کا رداس 24 میٹر سے 36 میٹر تک ہوتا ہے۔ ان نظاموں کو چلانے کے لیے زیادہ دباؤ اور زیادہ اخراج کی صلاحیت رکھنے والے پائپوں اور پمپوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ کم وقت میں بڑے رقبے پر پھیلی فصلوں کی آبپاشی کے لیے انہیں ترجیح دی جاتی ہے۔

پی ڈی ایم سی کا نفاذی ڈھانچہ

چونکہ پی ڈی ایم سی کو پردھان منتری راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا (پی ایم-آر کے وی وائی) کے تحت نافذ کیا جاتا ہے، اس لیے یہ اسکیم کے مجموعی ادارہ جاتی ڈھانچے کے مطابق کام کرتا ہے۔ قومی سطح پر، نیشنل اسٹیورڈشپ کونسل (این ایس سی) رہنمائی اور منصوبہ بندی کے لیے تزویراتی سمت فراہم کرتی ہے۔

ریاستی سطح پر یہ ڈھانچہ تین سطحی نظام کے ذریعے کام کرتا ہے۔ سب سے اوپر ریاستی سطح کی منظوری کمیٹی (ایس ایل ایس سی) منصوبوں کی منظوری دیتی ہے۔ بین شعبہ جاتی ورکنگ گروپ (آئی ڈی ڈبلیو جی) مختلف محکموں کے درمیان منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔

ضلعی سطح پر ضلعی سطح کی عمل درآمد کمیٹی (ڈی ایل آئی سی) اسکیم کے نفاذ کی نگرانی کرتی ہے اور مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بناتی ہے۔

اثرات کی تشخیص کے مطالعات

آزادانہ مطالعات نے پی ڈی ایم سی اسکیم کے مثبت اثرات کو اجاگر کیا ہے۔ 2020-21 کے دوران نیتی آیوگ کی جانب سے کیے گئے ایک جائزے میں اس اسکیم کو قومی ترجیحات سے ہم آہنگ پایا گیا۔ ان ترجیحات میں پانی کے استعمال کی کارکردگی کو بہتر بنانا، فصلوں کی پیداوار میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ شامل ہیں۔ مطالعے میں کسانوں کی آمدنی میں 10 فیصد سے 69 فیصد تک اضافے کی اطلاع دی گئی۔ پانی کے استعمال کی کارکردگی میں 30 فیصد سے 70 فیصد تک بہتری بھی پائی گئی۔ اس اسکیم سے براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے۔

مزید برآں، اقتصادی سروے 2020-21 میں مائیکرو آبپاشی سے حاصل ہونے والے وسیع پیمانے پر وسائل کے فوائد کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ سروے کے مطابق پانی کی 20 فیصد سے 48 فیصد تک بچت، توانائی کی 10 فیصد سے 17 فیصد تک بچت، مزدوری کی لاگت میں 30 فیصد سے 40 فیصد تک کمی اور کھاد کی 11 فیصد سے 19 فیصد تک بچت ہوئی۔ فصلوں کی پیداوار میں 20 فیصد سے 38 فیصد تک اضافے کی بھی اطلاع دی گئی۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، احمد آباد (آئی آئی ایم اے) کی جانب سے چھ ریاستوں میں 2023 میں کیے گئے ایک علیحدہ مطالعے میں اسکیم کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔ مطالعے سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ کسان بنیادی طور پر زیرِ زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح سے نمٹنے، اپنی مخصوص فصلوں کی ضروریات پوری کرنے اور طویل مدتی زرعی فوائد حاصل کرنے کے لیے مائیکرو آبپاشی کو اپناتے ہیں۔

زراعت کے لیے پانی کے مؤثر استعمال پر مبنی مستقبل کی تعمیر

پر ڈراپ مور کراپ (پی ڈی ایم سی) نے مائیکرو آبپاشی کی ٹیکنالوجیز کے ذریعے پانی کے مؤثر استعمال کو فروغ دے کر ہندوستان میں آبپاشی کے طریقۂ کار کو تبدیل کیا ہے۔ اس اسکیم نے پانی کے استعمال کی کارکردگی، فصلوں کی پیداوار اور کسانوں کی آمدنی میں بہتری لاتے ہوئے جدید آبپاشی تک رسائی کو وسعت دی ہے۔

مضبوط ادارہ جاتی نظام، ڈیجیٹل نفاذ اور دیگر سرکاری پروگراموں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے پی ڈی ایم سی نے ملک بھر میں پائیدار آبپاشی کے طریقوں کو مضبوط کیا ہے۔ چونکہ ہندوستان کو اپنے آبی وسائل پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، اس لیے پی ڈی ایم سی وسائل کے مؤثر استعمال پر مبنی پائیدار زراعت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

حوالہ جات
زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت

https://pdmc.da.gov.in/

https://www.pmksy.gov.in/microirrigation/Archive/August2015.pdf

https://horticulturedept.ap.gov.in/Horticulture/NewSuccessStories.aspx

https://rkvy.da.gov.in/static/download/pdf/PM_RKVY_Guidelines_2024.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2179856&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2061649&reg=48&lang=2

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/186/AS23_qnphui.pdf?source=pqals

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/185/AU448_bMl0qu.pdf?source=pqals

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/182/AU2428_kPCRmr.pdf?source=pqals

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=159085&ModuleId=3&reg=17&lang=6

https://sansad.in/getFile/lsapps/loksabhaquestions/annex/187/AU3949_3xRqy3.pdf?source=lsapps

https://sansad.in/getFile/lsapps/loksabhaquestions/annex/184/AU2767_zvN42a.pdf?source=lsapps

https://www.iima.ac.in/sites/default/files/2024-09/3.%20Micro%20Irrigation_Final%20Report_2023_final_compressed_compressed_compressed_compressed.pdf

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/13/AU2359.pdf?source=pqals

فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن

https://www.fao.org/4/a1336e/a1336e16.pdf

حکومت پنجاب

https://tupkasinchayee.punjab.gov.in/home/mischeme

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں

پی آئی بی ریسرچ

***

UR-2750

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2304514) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati